بلوچستانپہلا صفحہتاریخکوئٹہکوئٹہ ڈویژن

شال کی یادیں (4) زرک میر

سہب حال

ہم تین دن سے نواب خیر بخش مری کے استقبال کے لئے شال میں ہیں

ہم تین دن سے نواب خیر بخش مری کے استقبال کے لئے شال میں ہیں لیکن نواب کا جہاز پہلے دن شام کو شال پہنچا تو وہی فضائوں سے ہی واپس چلا گیا اب دوسرا دن ہے جہاں اس عظیم اجتماع اور استقبال میں لوگ جوق در جوق آرہے ہیں ۔ جس رشتہ دار نوجوان کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی وہ جہاز کی آمد کا وقت معلوم کرے اور پھر نواب خیر بخش کے قافلے کے بارے میں معلومات کرکے ہمیں آگاہ کرے تاکہ ہم یہاں سے شامل ہوسکیں ۔

ان یادوں میں یقینا چھوٹے موٹے عشق کے قصے بھی شامل ہیں 

اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ہم نے سریاب کی سیر کی تھی اور کچھ واقعات کا ذکر کیا تھا اس دوران مری آباد کا بھی ذکر آیا تھا لیکن مختصر۔ تو میرے ایک دوست اور کہلائے جانے والے کامریڈ نے مجھے میسج کیا اور کہنے لگے مری آباد سے ناانصافی کی ہے کچھ تفصیل سے ذکر کریں تاکہ اس اہم علاقے اور یہاں کے لوگوں (مقامی وغیر مقامیوں ) کے بارے میں کچھ یادیں تازہ ہو سکیں ۔ پھر ازرہ مذاق کہنے لگے ” شال میں جو سال ہم نے ساتھ پڑھتے ہوئے گزارے ہیں ان کا احوال بھی لکھنا اور چھوٹے موٹے عشق کے قصے بھی بیان کرنا تو میں نے کہا سچ تو یہ ہے کہ ان یادوں کو لکھنے کا مقصد ہی بچپن اور نوجوانی کی ان یادوں کودوبارہ تازہ کرنا ہے جوشال کیساتھ وابستہ ہیں ۔ان یادوں میں یقینا چھوٹے موٹے عشق کے قصے بھی شامل ہیں ۔

ہم دونوں کبھی کسی پارٹی میں رہے نہ کسی تنظیم میں

یہ کامریڈ میرے ساتھ شال میں رہے ہیں ہم دونوں کبھی کسی پارٹی میں رہے نہ کسی تنظیم میں ۔طالب علم رہ کر بھی پارٹیوں کے معاملات پر نظررہی ۔ طلباء تنظیموں کی ممبر شپ بھی نہیں لی اورآج اس بات کی خوشی ہے کہ کسی پارٹی اور تنظیم کا حصہ نہیں رہے ۔ البتہ اکثریتی دوست بی این ایم حئی کے حامی تھے تو ہم محض ان کی وجہ سے حمایت کرتے اور جلسوں میں شریک ہوتے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ میں اور یہ کامریڈ مل کر دوستوں اور پارٹیوں پر ایسے ایسے لطیفے بناتے اور جملے کستے طنز کرتے کہ یہ بیزار آکر کہتے کہ ہم ان کے جلسوں میں آئندہ نہ آئیں ۔ ایک دن کلی اسماعیل میں بی این ایم حئی کا جلسہ تھا ہم ہدہ سے ساتھیوں کیساتھ کلی اسماعیل جارہے تھے ڈاکٹر حئی کچھ فاصلے پر الگ قافلے کیساتھ آرہے تھے تو آگے ہدہ شریف کے مزار پر کافی رش تھا تو ہم نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہاں رک کر ڈاکٹر حئی صاحب کو اس رش سے بخیر خوبی پاس کرائیں کہیں ڈاکٹرصاحب یہاں رش دیکھ کران سے خطاب نہ کرنے لگ جائیں ۔ جس پر ہمارے گروپ میں کافی قہقے لگے ۔

نواب خیر بخش مری کے جہاز کے آنے میں ابھی بھی وقت تھا

چونکہ نواب خیر بخش مری کے جہاز کے آنے میں ابھی بھی وقت تھا جس کی وجہ سے رشتہ دار نوجوان ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا کہ ہمیں قافلے کے بارے میں اطلاع دے سکے ۔ لہذا اس موقع سے فائدہ اٹھا کرایک تو کامریڈ کی فرمائش پر مری آباد کے بارے میں کچھ مزید بات کرینگے جبکہ دوسری طرف مری آباد سے ہوکرجلدی دوبارہ ہدہ آئیں گے کہ کہیں عظیم قافلے اور اجتماع سے رہ نہ جائیں ۔

مری آباد شال کا مشرقی علاقہ آغاز سے ہی مری خانہ بندوشوں کا مسکن رہا ہے

مری آباد شال کا مشرقی علاقہ اور کوہ مردار کے دامن میں واقع ہے ۔یہ آغاز سے ہی مری خانہ بندوشوں کا مسکن رہا ہے ۔ اس پہاڑ کی دوسری طرف زڑخو دشت کا علاقہ ہے جو کہ ساتکزئی قبیلے کی ملکیت ہے ان کا پہاڑ کے اس طرف یعنی شال کی طرف مری آباد پر بھی دعویٰ ہے اور اس حوالے سے انہوں نے دعویٰ بھی دائر کررکھا تھا اسی طرح مری آباد سے شمال کینٹ کی جانب کا علاقہ بنیادی طورپر یاسین زئی قبیلے کا ہے ۔مری خانہ بدوش کوہ مردار کے دامن میں رہ رہے تھے ان میں سے بعض افراد بعد میں دبئی چلے گئے اور وہاں اچھا خاصا کاروبار کیا ۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ مری نہیں ہیں

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ مری نہیں ہیں اصل میں براہوئی قبیلے قمبراڑی سے تعلق رکھتے ہیں ۔چونکہ جنرل شیروف مری کے قریب رہے تھے اور نصیر آباد میں نہری زمینوں پر جومزاحمتی تحریک تھی اس میں شامل رہے بعد میں ان کو وہاں زمینیں بھی ملیں اور کچھ انہوں نے خریدیں۔ یہ طبقہ میں خوشحال طبقہ تھا جنرل شیروف مری کی قربت کی وجہ سے یہ مری کہلانے لگے اور بعد کے وقتوں میں یہ اپنی قمبراڑی شناخت کو بھی سامنے لاتے رہے ۔ مری آباد میں ان کے علائوہ پرکاڑی کھیازئی اور پشتونوں کی بھی بڑی آبادی تھی ۔ مری خانہ بدوش متعدد خاندان اب بھی شہر کی سڑکوں پر اپنی مویشیاں چراتے مری آباد کی جانب جاتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں جو کینٹ اور مری آباد کے درمیان میں مختصر سی جگہ پر اب بھی رہ رہے ہیں ۔

شال کو انگریز نے ایک بہت بڑی چھائونی میں بدل دیا تھا

ہزارہ کی مری آباد میں آمد انگریز کے وقت سے نظرآتی ہے جب شال کو انگریز نے ایک بہت بڑی چھائونی میں بدل دیا تھا ۔ اس سے قبل بھی یہ ایک شہر تھا اور افغانستان سے قریب ہونے کے بعد کچھ ہزارہ خاندان شال میں موجود تھے ۔انگریز سے قبل کاسی قلعہ اور آرڈیننس ڈپو جوکہ خان قلات کا قلعہ تھا اور کچھ ٹھیلے موجود تھے سریاب اور کلی اسماعیل کے علاقوں میں آبادی تھی ۔ انگریز نے اس شہر کو ایک دفاعی شہر بنایا اور بڑی چھائونی بنائی تاکہ سوویت روس سے دفاع کیاجاسکے ۔ظاہر ہے پھر اس شہر میں پنجاب سندھ کے پی کے ایران اور افغانستان سے لوگ آنا شروع ہوگئے ۔

ہزارہ جب شروع میں ہی یہاں آئے تو انہیں انگریز کی فوج میں بھی بھرتی کیا گیا

کہتے ہیں کہ ہزارہ جب شروع میں ہی یہاں آئے تو انہیں انگریز کی فوج میں بھی بھرتی کیا گیا ۔ اسی طرح جیکب آباد سے کوئٹہ زاہدان چمن اور ژوب تک ریلوے لائن کیلئے بھی لیبر کی جو ضروریات تھیں وہ بھی باہر سے مزدور لا کر پوری کی گئیں ۔ چنانچہ چھائونیاں شہر بناتے ہیں اور جہاں جہاں فوج جاتی ہے وہاں ریل جاتی ہے اور جب یہ دونوں مل جاتے ہیں تو شہر بساتے ہیں اور آبادیاں بناتے ہیں جن کی وفاداری بھی فوج کیساتھ ہی ہوتی ہے ۔ نواب خیر بخش مری نے 2003 میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان کے حکمران کہتے ہیں اقتصادیات اور فوج ہمارے ستون ہیں، بتایاجائے کہ فوج کیسے ستون ہوسکتی ہے ۔نواب مری نے عمومی ریاست کے بارے میں ایسا موقف دیاتھا جبکہ اس ریاست اور انگریز کی نوآبادیات میں فوج کے ستون ہونے میں کوئی شک کہ فوج ہی ان کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے جو کہ ان کی فکر سے لے کر معیشت تک سب چیزوں کا تعین کرتی ہے۔

شال میں آپ کو بھانت بھانت کے زبان مذہب اور نسل کے لوگ ملیں گے

ایسی ریاستوں کا دارومدار ہی فوج پر ہوتی ہے چنانچہ یہ ریت انگریز کی تھی جس نے فوجی چھائونیاں بنائیں اور ان کا انتظام پھر باہر کے لوگوں کے کنٹرول میں دیا ۔ شال میں آپ کو بھانت بھانت کے زبان مذہب اور نسل کے لوگ ملیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چھائونی بنی تو ہر ہنراو فن اور صلاحیتوں کے لوگوں کی ضرورت رہی اور مانگ رہی اور وہ شال آتے گئے ۔(بقول نواب مری ہم بے ہنر بے تعلیم اور کم ترقیافتہ واقع ہوئے ہیں ) شال کے مری آباد میں بھی ہزارہ یونہی آباد ہوتے گئے لیکن روس کے انہدام کے بعد افغانستان سے مہاجرین کا بہت بڑا سیلاب آیا اور اس سیلاب کا بوجھ اس شہر نے برداشت کیا جہاں افغان مہاجرین میں سے بڑی تعداد ہزارہ مہاجرین کی رہی جو مری آباد اور بعد میں بروری میں آباد ہوتی گئی بروری میں ان کی آبادی ہزارہ ٹائون کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ چنانچہ ہزارہ محنت کش تھے جنہوں نے ہر طرح کا محنت طلب کام بھی کیا اور اپنے وجود کو یہاں ناگزیر بنایا ۔ یہ شہر کے عین وسط میں آباد ہونے سے تعلیم حاصل کرنے لگے ۔

ہزارہ برادری کے لوگ انگریزکے دور میں ہی فوج کے اہم عہدوں پر فائز رہے

اندازہ لگایئے کہ ہم میں سے آج تک فوج میں کوئی جنرل کے عہدے پر نہیں پہنچ سکا ( جنرل قادر زہری کو آج کے سکول طلباء کی طرح پروموٹ کرکے جنرل بنایاگیا )لیکن ہزارہ برادری کے لوگ انگریزکے دور میں ہی فوج کے اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ ایک جگہ میں نے پڑھا کہ مکران پر اس وقت کے ایک فوجی آپریشن کی قیادت بھی ایک ہزارہ فوجی آفسر نے کی ۔ جنرل موسیٰ پاکستان کے قیام کے وقت سے فوج میں رہے اور بعد میں 1965 میں فوج کی قیادت کرتے ہوئے بھارت سے جنگ جیتنے پر ہیرو قرار پائے جو جنرل کے عہدے پر پہنچ گئے جنہیں بعد میں بلوچستان کا گورنر بنایا گیا ۔ اسی طرح بیوروکریسی میں بھی ہزارہ برادری کے افراد اہم عہدوں پررہے ۔جنرل موسیٰ نے ہزارہ برادری کے تشخص اور بلوچستان میں ان کی حیثیت منوانے کیلئے کام کیا اور انہیں شال کی شہری کی وہ حیثیت دلوائی جو بلوچ اور پشتون کو حاصل ہے جسے بعد میں نیپ نے نئے قانون میں بدل کر ہزارہ کو لوکل حیثیت دی ۔ یہ ایک اہم بات تھی کہ جہاں پارسی پنجابی سمیت متعدد کمیونٹیز کو یہ حیثیت نہیں رہی ۔ پارسی تو دعویٰ رکھتے ہیں کہ یہ شہر ان کا ہی بسایا ہوا ہے ۔ خیر اس شہر پر بلوچ پشتون پارسیوں سمیت کئی کمینوٹیز کا دعویٰ ہے اور اس کے قیام کے حوالے سے کئی اساطیری قصے( متھ) موجود ہیں ۔

پشتون شال اور شال کے شمال میں افغانستان تک آباد ہیں

افغانستان کے شورش اور اس سے قبل جوں جوں ہزارہ برادری کی آبادی افغانستان سے شال منتقل ہوتی گئی تو ہزارہ برادری کی پرانی آبادی کو نئے آنے والے ہزارہ مہاجرین نے اکثریت کی بناء پر مات دیدی( کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی ضروریات بھی یہی ہزارہ پوری کرتے رہے جو افغانستان سے آتے رہے اور اب تک آرہے ہیں ) اس صورتحال میں ان کی مری آباد کی مقامی آبادی کیساتھ مخاصمت بڑھانے لگی ۔ چھری چاقوؤں کے حملے بڑھ گئے تھے اور پھر ملائوں کے افغانستان میں بڑھتے رسوخ نے یہاں بھی گہرے اثرات چھوڑے ۔ ایک تو مقامی بلوچ اور ہزارہ آبادی میں رنگ ونسل کا فرق پھر ہزارہ مہاجرین کی جانب سے توسیع پسندی اوراس کے لئے جارحانہ رویئے رکھنے کے عمل نے حالات مزید خراب کرنے شروع کردیئے تھے ۔پشتونوں کیساتھ بلوچوں کے تضاد کی بنیادی وجہ پشتونوں کی جانب سے غیر پشتون علاقوں پر صوبے کا مطالبہ اور اشتعال انگیز نعرے تھے جبکہ بعد میں افغان مہاجرین کی آمد نے اس تضاد کو مزید گہرا کردیا تھا ۔ پشتونوں کیساتھ تو رنگ نسل اور مذہبی فرقے جیسی تفریق بھی نہیں تھی اور پھر پشتون شال اور شال کے شمال میں افغانستان تک آباد ہیں یہاں ہزارہ مہاجرین سے پشتون مہاجرین کے آنے اور آباد ہونے کا جواز اور منطق ہر طرح سے موجود تھی ۔پشتون مہاجرین چمن سے کوئٹہ تک مختلف علاقوں میں پھیل گئے اس کے مقابلے میں ہزارہ مہاجرین کی پوری تعداد شال آکر آباد ہوگئی ۔

 دیواروں پر ” افغان بھگوڑوں کو نکال دو” تک لکھاگیا

بلوچ کی جانب سے ہزارہ مہاجرین کی توسیع پسندی اور گلی کوچوں میں چاقو بازی اور مقامیوں کو ڈرانے دھمکانے کے عمل کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا گیا ۔اس وقت سارا زور پشتون تضاد پر تھا اور اس حوالے سے افغان مہاجرین کا ایشو نمایاں رہا جس کو ہزارہ اپنے خلاف قطعی نہیں سمجھتے رہے حالانکہ افغان مہاجرین میں وہ بھی شامل تھے نہ تو انہوں نے اس کا سیاسی جواب دیا اورنہ بلوچ اس کا مطلب ہزارہ مہاجرین لیتے رہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہزارہ کیساتھ تضاد میں مذہبی فرقہ بازی بھی در آئی تھی اور بلوچ سیاسی جماعتیں ترقی پسند لبرل اور سیکولر خیالات کے حوالے سے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کرتی رہیں کہ وہ ہزارہ مہاجرین کی مخالفت نہیں کرتے مبادلہ اس کا مطلب کہیں مذہبی فرقہ بازی نہ لیاجائے اوران کے سیکولر خیالات کو گزند نہ پہنچے دوسری طرف انہی بلوچ سیاسی پارٹیوں نے پشتونوں کیساتھ کھلم کھلا اس تضاد کو نمایاں کیا جہاں دیواروں پر ” افغان بھگوڑوں کو نکال دو” تک لکھاگیا جواب میں پشتونخوامیپ نے بھی اس کا بدلہ ” بلوچستان کو تقسم کرو ،بولان تا چترال بشمول سبی پشتون صوبہ بنائو” نعرہ لکھ کر لیا ۔ بعد کے وقتوں میں نواب خیر بخش مری نے پشتون تضاد پر بھی فکری انداز سے بات کی اور افغان مہاجرین بالخصوص ہزارہ مہاجرین کے بارے میں بھی کھل کر بات کی ۔

سب کی آنکھوں کے سامنے یہ سینکڑوں خاندان دربدر ہوگئے 

1995 میں ایک جلسہ عام میں نواب مری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ یہاں کا اصل باشندہ بلوچ ہے یا ہزارہ جسے لوکل قرار دیاگیا ۔ اسی سبب جب ہزارہ برادری پر سریاب میں 2002 میں پہلا مسلح اندوہناک حملہ ہوا اور جب ہزارہ پولیس کیڈٹ چھٹیاں ختم کرکے مری آباد سے کسٹم سریاب میں قائم پولیس ٹریننگ سینٹر واپس جارہے تھے کہ کیچی بیگ کے قریب ان کی بس کوسٹر پر فائرنگ کی گئی جس سے 17 پولیس کیڈٹ ہزارہ مارے گئے جب لاشیں سول ہسپتال سے اٹھائی گئیں تو مشتعل ہزارہ احتجاجی مظاہرین نے نواب خیر بخش مری کے خلاف نعرے بازی کی اور اس وقت بلوچ مزاحمتی تنظیم بی ایل اے کا احیاء ہوا تھا ان ہر دو کے خلاف نعرے بازی ہوئی ۔ وہ سمجھے تھے کہ شاہد ہم یہاں سے ٹارگٹ ہوئے ۔ بعد میں ان کی غلط فہمی جلد دور ہوگئی ان کی یہ غلط فہمی دور تو ہوگئی لیکن ہزارہ برادری کی اسلامی شدت پسندتنظیم لشکر جھنگوی کے ہاتھوں نشانہ بنانے کا بدلہ مری آباد کی مقامی آبادی سے لیا گیا جہاں سریاب حملے کے بعد سے ہی ٹینشن شروع ہوگئی جو ہزارہ برادری پر اسلامی شدت پسند لشکر جھنگوی کے ہاتھوں ہر حملے کےبعد بڑھتی گئی اور پھر مری آباد کی پوری مقامی بلوچ آبادی کی مری آباد بدری پر منتج ہوئی ۔افسوس کہ کسی سیاسی پارٹی اور قوت نے اس کی مخالفت نہیں کی اور نہ اس پر کوئی ردعمل دیا ۔سب کی آنکھوں کے سامنے یہ سینکڑوں خاندان دربدر ہوگئے ۔ مری خاندانوں سمیت حبیب جالب جیسے لبرل رہنماء اور معروف ٹی وی پروڈیوسر عطاء اللہ بلوچ کے خاندان سمیت دیگر بلوچ اور پشتون خاندان مری آباد سے نکال دیئے گئے (درمحمد پرکانی اور جان محمد لہڑی کا خاندان بھی وہی آباد تھا ۔اس صورتحال کے مزید پہلو آگے چل کرمضمون میں شامل کئے جائیں گے)

بلوچستان میں پہلا شیعہ سنی باقاعدہ جھگڑا بولان میں ہوا

غالبا شال میں ہزارہ بلوچ ہزارہ پولیس اور دیگر کمیونٹیوں کیساتھ تضاد اپنی جگہ لیکن بلوچستان میں پہلا شیعہ سنی باقاعدہ جھگڑا بولان میں ہوا جہاں ہزارہ برادری کی کوئلہ کانوں پر کام کرنے والوں کی بستیاں قائم ہیں۔ 1994میں بولان کے علاقے مچھ شہر میں محرم کا جلوس بازار سے گزر رہا تھا کہ جامع مسجد کے قریب سے جلوس کے گزرنے پر جامع مسجد میں موجود لوگوں اور جلوس کے شرکاء کے درمیان لڑائی شروع ہوئی ۔اس دوران ایک دوسرے پر فائرنگ بھی کی گئی اور پھترائو بھی ہوا جس سے مچھ میں دو یا تین دن کیلئے تاریخ کا پہلا کرفیو لگا اس واقعہ کے بعد مچھ انتہائی حساس رہا کیونکہ کوئلہ کانوں میں ہزارہ محںت کشوں اور مالاکنڈ کے لوگوں کے علائوہ کوئی لیبر نہیں آتا تھا جس سے ہزارہ برادری وہاں آباد رہی اور اب تک آباد ہے ۔ اس حوالے سے ایک واقعہ سنیئے ۔ آغا خان ہسپتال کراچی میں ایک مریض داخل تھا اس کیساتھ میں موجود تھا ۔ ڈاکٹروں کے سامنے میں نے مریض سے براہوئی میں بات کی تو ایک ڈاکٹر جو ہزارہ تھا مجھ سے براہوئی میں بات کرنے لگا تو میں حیران رہ گیا ۔پوچھنے پر بتانے لگے کہ وہ مچھ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مچھ کا واقعہ انہوں نے مجھے بتایا ۔ تین دن تک مریض کے ایڈمٹ ہونے پر ہزارہ ڈاکٹر نے کافی مدد کی اور براہوئی میں یوں بات کرتے گئے کہ مجھے اس کے معصوم چہرے سے براہوئی کے الفاظ ساروانی لہجے میں سن کر بے انتہاء مسرت ہوئی ۔ ہمارے ساتھ دو دفعہ کھانا بھی کھایا اور چائے بھی پی ۔ میں نے اسے کہا ڈاکٹر آپ نے براہوئی کیسے سیکھی تو کہنے لگے یار مچھ میں گھر سے نکلتے ہی براہوئی شروع ہوجاتی تھی کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ یہ میری زبان نہیں ۔ پھر اس نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا کہ رشتہ دار کی شادی پر مچھ سے کچھ ہزارہ افغانستان گئے تو وہاں شادی میں جب بھی ان کو آپس میں ایسی بات کرنی ہوتی جو کہ افغانستان والوں سے چھپ کر کرنی ہوتی تو یہ مچھ کے ہزارہ آپس میں براہوئی میں بات کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ آغان خان میں جو بھی اس علاقے سے آتا ہے تواس سے براہوئی میں بات کرتا ہوں تو وہ حیران رہ جاتا ہے ۔ مقامی پرانی ہزارہ برادری نیپ میں رہی براہوئی زبان سیکھی اور ہر طرح سے شال کے عوام کیساتھ جڑے رہے لیکن بعد میں پشتون اور ہزارہ مہاجرین کے آنے سے ان ہر دو کے بلوچ کیساتھ تضاد گہرے ہوتے گئے کیونکہ وہ جنگ کے باعث یہاں آئے تھے اور ان کے رجحان میں بھی توسیع پسندی تھی۔ انہوں نے یہاں یہاں ڈٹ کر رہنے کی سعی کی جس سے شہر اور شہر کے لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑا ۔
(مری آباد کا موضوع کچھ طویل ہوگیا جبکہ ابھی تک اس کے مزید گوشے رہتے ہیں لیکن ان کا ذکر بعد میں کرتے رہیں گے کیونکہ کل ہم نواب خیر بخش مری کے قافلے کا احوال لکھیں گے تاکہ ائیر پورٹ سے شروع ہونے والا جو جذبہ تھا جس کا اظہار بلند نعروں کے ذریعے کیا جارہاتھا وہ مری ہائوس پہنچتے پہنچتے کیا رخ اختیار کرتے گئے اس پر کچھ لکھیں گے جو کہ اس اجتماع کا ایک دلچسپ پہلو ہے )

 

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

29 Comments

  1. I just wanted to type a simple comment to be able to appreciate you for these splendid ways you are giving on this site. My considerable internet research has at the end of the day been honored with wonderful tips to go over with my partners. I ‘d admit that we site visitors actually are undoubtedly endowed to exist in a good community with very many wonderful individuals with valuable techniques. I feel somewhat privileged to have come across your website and look forward to many more exciting times reading here. Thank you once again for all the details.

  2. I intended to post you this little bit of note to finally say thanks a lot as before for those striking pointers you have documented at this time. It was really wonderfully open-handed with you to offer extensively precisely what a few individuals could possibly have offered for sale for an e-book to help make some money on their own, most importantly given that you might have tried it in case you wanted. Those good ideas in addition acted to provide a good way to be certain that other people have a similar zeal like mine to know the truth great deal more when it comes to this issue. I’m certain there are numerous more pleasant moments in the future for individuals that discover your website.

  3. I and also my friends were found to be examining the great secrets from the blog while at once developed a horrible feeling I never thanked you for those secrets. These ladies ended up totally stimulated to read them and have in effect absolutely been loving them. Thanks for getting really kind and then for choosing these kinds of essential information most people are really eager to be aware of. Our own sincere apologies for not expressing appreciation to sooner.

  4. I am writing to make you know what a fine experience our daughter gained viewing yuor web blog. She came to find plenty of things, which included how it is like to possess an excellent teaching style to let folks easily master selected complicated subject matter. You truly surpassed people’s desires. Many thanks for rendering these warm and friendly, dependable, revealing and also unique tips on this topic to Evelyn.

  5. Needed to create you a tiny note to be able to say thank you over again considering the unique opinions you’ve shown on this site. It’s so tremendously open-handed with people like you to give unreservedly exactly what a few individuals might have offered as an ebook to generate some profit for their own end, and in particular considering the fact that you might have done it if you desired. The solutions as well worked like a good way to know that other people online have the same fervor similar to my personal own to know lots more with reference to this matter. I believe there are many more pleasurable periods up front for individuals who browse through your website.

  6. Thank you for your own efforts on this web site. My mother take interest in participating in internet research and it’s obvious why. A lot of people notice all relating to the lively ways you render functional tricks on your web blog and in addition cause participation from other individuals on this area so my child is really learning so much. Take pleasure in the rest of the year. You are conducting a terrific job.

  7. I together with my pals came reading the good things located on your web site and at once got an awful feeling I had not thanked the web site owner for those techniques. Most of the ladies ended up as a result glad to read all of them and have seriously been taking advantage of those things. Appreciation for getting indeed helpful and then for using such beneficial useful guides millions of individuals are really wanting to be aware of. My sincere regret for not expressing appreciation to earlier.

  8. Thanks a lot for giving everyone an extremely memorable chance to discover important secrets from this site. It’s usually so lovely and also packed with a good time for me personally and my office peers to visit your website not less than three times every week to find out the fresh items you have got. And lastly, I’m just actually motivated for the great opinions you serve. Selected 3 facts in this posting are indeed the most efficient we have ever had.

  9. Thank you a lot for providing individuals with an extraordinarily splendid opportunity to read articles and blog posts from this website. It really is so lovely and packed with a lot of fun for me personally and my office friends to visit the blog particularly 3 times a week to find out the newest guides you will have. And definitely, we’re actually happy considering the tremendous creative ideas served by you. Selected 1 facts on this page are clearly the most suitable I’ve had.

  10. I happen to be writing to make you be aware of what a notable experience my cousin’s daughter encountered going through yuor web blog. She mastered so many pieces, not to mention what it’s like to have an excellent teaching spirit to let other folks with ease thoroughly grasp a number of extremely tough subject matter. You actually surpassed my expected results. Many thanks for producing these interesting, trusted, revealing and as well as unique tips on your topic to Tanya.

  11. I together with my guys were actually looking at the nice suggestions on your web page then then I got a horrible feeling I had not thanked the web site owner for those strategies. The guys were consequently stimulated to study them and have in effect very much been tapping into those things. Appreciation for genuinely simply helpful and then for considering varieties of superior topics millions of individuals are really desperate to discover. My honest regret for not expressing gratitude to sooner.

  12. I and also my pals were analyzing the best recommendations on your web blog and then I got an awful feeling I never thanked the blog owner for those techniques. The men are already so stimulated to read through them and have in effect seriously been making the most of these things. We appreciate you simply being simply kind and for obtaining this kind of helpful things most people are really desperate to be aware of. Our honest apologies for not expressing gratitude to sooner.

  13. I simply wished to thank you very much yet again. I’m not certain what I would’ve created without the type of tricks shown by you concerning such field. This has been the alarming setting in my circumstances, however , finding out your skilled technique you resolved that forced me to leap with delight. I will be happier for this assistance as well as hope that you find out what an amazing job you are always accomplishing educating other individuals via your webblog. Probably you haven’t come across any of us.

  14. My husband and i ended up being really comfortable Louis managed to complete his researching through the entire ideas he had while using the weblog. It is now and again perplexing just to find yourself freely giving tips which usually people today have been trying to sell. And now we grasp we now have the writer to be grateful to for this. The illustrations you have made, the straightforward website navigation, the friendships you can give support to instill – it’s all superb, and it is leading our son and the family reason why that content is thrilling, and that’s extremely mandatory. Thanks for the whole thing!

  15. I enjoy you because of all your labor on this web page. Debby really likes going through investigations and it’s simple to grasp why. A lot of people know all about the powerful way you render good guides through your blog and therefore boost response from others on that article while our daughter is now understanding a great deal. Take advantage of the rest of the new year. You are always conducting a superb job.

  16. I must express my passion for your generosity in support of persons that absolutely need assistance with this particular matter. Your real commitment to getting the message along became amazingly functional and has enabled workers just like me to get to their goals. Your amazing warm and helpful facts entails a lot a person like me and far more to my office colleagues. Many thanks; from everyone of us.

  17. I together with my buddies have been taking note of the nice tricks on your web site and so instantly I had an awful suspicion I had not expressed respect to the website owner for those techniques. Those women are already certainly very interested to read all of them and now have actually been taking pleasure in these things. Many thanks for turning out to be simply kind and then for making a decision on these kinds of fine themes most people are really desperate to learn about. My sincere regret for not expressing appreciation to you earlier.

  18. I want to show my thanks to this writer for rescuing me from this type of predicament. Right after checking throughout the world-wide-web and getting suggestions which are not helpful, I assumed my life was well over. Existing without the presence of solutions to the issues you have fixed as a result of your entire guideline is a serious case, and those which might have in a wrong way affected my entire career if I had not discovered your web blog. Your primary talents and kindness in taking care of every part was tremendous. I’m not sure what I would have done if I had not come upon such a thing like this. I am able to at this point look forward to my future. Thanks for your time so much for your specialized and result oriented guide. I will not think twice to propose the blog to any person who should have guidance on this subject matter.

  19. I have to express some thanks to the writer for bailing me out of this type of condition. Because of surfing throughout the the web and finding tips which are not pleasant, I thought my life was well over. Existing devoid of the strategies to the problems you’ve sorted out by way of your good guide is a critical case, and those that would have in a wrong way damaged my career if I hadn’t come across your web blog. Your good natural talent and kindness in handling a lot of things was crucial. I don’t know what I would’ve done if I hadn’t encountered such a stuff like this. I’m able to now relish my future. Thanks very much for this expert and effective help. I will not be reluctant to suggest your web blog to anybody who would like counselling about this subject.

  20. Thank you so much for giving everyone a very brilliant chance to read in detail from this site. It can be very awesome and also full of a lot of fun for me and my office acquaintances to visit the blog on the least three times every week to learn the latest guides you have got. And indeed, I’m also usually amazed with all the awesome hints you serve. Selected 4 ideas on this page are unquestionably the simplest we have all ever had.

  21. I am only commenting to make you be aware of of the perfect discovery my cousin’s daughter enjoyed reading through the blog. She came to find too many details, with the inclusion of what it is like to have a wonderful giving mindset to have the rest just gain knowledge of certain tricky subject matter. You undoubtedly surpassed our own expectations. Thanks for supplying those insightful, healthy, edifying not to mention fun tips about that topic to Tanya.

  22. I together with my buddies happened to be going through the nice advice on your website and so then I had an awful feeling I had not thanked the website owner for them. My boys were definitely very interested to see them and now have truly been having fun with them. I appreciate you for simply being simply kind and also for deciding on this form of cool guides most people are really eager to learn about. My very own honest apologies for not expressing gratitude to you sooner.

  23. Thank you a lot for providing individuals with such a pleasant opportunity to read articles and blog posts from here. It is usually so excellent and also jam-packed with a good time for me personally and my office mates to visit your site at minimum three times per week to study the newest things you have got. Of course, I’m so always fascinated concerning the impressive guidelines served by you. Some 1 areas in this article are completely the simplest I’ve ever had.

  24. I together with my guys were actually viewing the good guides located on your web site and so all of the sudden got an awful suspicion I never thanked you for those secrets. All of the men had been certainly glad to study all of them and have seriously been loving those things. Thanks for truly being indeed considerate and also for making a decision on this kind of very good information most people are really needing to be aware of. Our own sincere regret for not expressing appreciation to sooner.

  25. My husband and i have been quite lucky when Edward could complete his web research using the ideas he discovered from your very own site. It is now and again perplexing to simply find yourself giving for free tips and tricks that other people may have been selling. And we all keep in mind we have got the writer to thank for that. These explanations you made, the straightforward website navigation, the relationships you can assist to engender – it is most powerful, and it’s really aiding our son in addition to our family imagine that the subject matter is enjoyable, and that’s quite essential. Thank you for all the pieces!

  26. Thanks for all your valuable efforts on this web site. Kate delights in carrying out investigation and it’s really easy to see why. Most of us know all about the lively tactic you offer very useful tips and hints on your blog and boost response from other ones about this content then my princess is in fact being taught a lot. Take pleasure in the rest of the new year. You are performing a brilliant job.

  27. I am only writing to let you understand what a magnificent discovery my friend’s princess went through checking the blog. She came to understand many things, most notably what it is like to have an awesome giving nature to get other folks completely comprehend a variety of multifaceted subject matter. You really exceeded visitors’ desires. I appreciate you for offering the powerful, trusted, informative not to mention easy guidance on your topic to Emily.

  28. A lot of thanks for all of the efforts on this web page. Betty delights in conducting research and it is obvious why. Most of us learn all of the dynamic method you offer invaluable tips and hints by means of your web site and even recommend response from people on the situation while our favorite simple princess is now discovering so much. Enjoy the rest of the year. You are performing a wonderful job.

  29. I have to show my love for your generosity for all those that really need guidance on your topic. Your special dedication to getting the solution all over became astonishingly practical and have always empowered somebody much like me to arrive at their ambitions. Your invaluable information denotes much a person like me and even more to my office workers. Best wishes; from all of us.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close