بلوچستانپاکستان

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کا حکومت سے علیحدگی کا اعلان

بلوچستان کا پورا حصہ دینا ہوگا، آج نہیں تو کل دینا ہوگا،بلوچستان آپ کا قرض دار نہیں،حساب کرلیں

اسلام آباد(سہب حال) بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ کیے گئے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ میں آج ایوان میں پی ٹی آئی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہم ایوان میں موجود رہیں گے اور اپنی بات کرتے رہیں گے۔

ان نکات میں سے ایک بھی نکتہ غیرآئینی او غیرقانونی ہے،سردار اختر مینگل

سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ  پی ٹی آئی کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہوا، ہم نہیں بنی گالا گئے بلکہ وہ کوئٹہ آئے، دو معاہدے ہوئے، ایک 8 اگست 2018 کو ہوا اس میں شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، سردار یار محمد رند کے دستخط ہیں اور لاپتہ افراد اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سمیت تمام مسائل پر انہوں نے من و عن اتفاق کیا۔ اس کے بعد صدارتی الیکشن کے موقع پر بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے معاہدہ ہوتا ہے جس میں صحت، تعلیم، پانی، توانائی، ملازمت، گوادر کا مسئلہ، انفرااسٹرکچر فیڈرل پی ایس ڈی پی سمیت دیگر باتیں شامل تھیں، کوئی ایک شخص ہاتھ اٹھا کر کہہ دے کہ ان نکات میں سے ایک بھی نکتہ غیرآئینی او غیرقانونی ہے۔انہوں نے کہاکہ ‘اگر یہ مطالبات غیرآئینی ہیں تو اس جرم کے ذمے دار صرف ہم نہیں ہیں، ہم نے مطالبہ کیا، اگر اس کے جرم میں ہمیں سزائے موت دی جاتی ہے تو اس پر دستخط کرنے والوں کو بھی ہمارے ساتھ سزائے موت دی جائے، اس میں آپ کے موجودہ صدر بھی ہیں، کیوں عملدرآمد نہیں ہوتا’۔

آئین میں ترامیم کر کے دے دیں، مفتوحہ بلوچستان یا مقبوضہ بلوچستان،مینگل

سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ‘یا تو یہ کہہ دیں کہ نوگو ایریا ہے بلوچستان، یا ممنوعہ علاقہ ہے، اگر ممنوعہ نہیں کہہ سکتے تو مفتوحہ کہہ دیں، اگر مفتوحہ نہیں کہہ سکتے تو مقبوضہ کہہ دیں، پھر وہ چیزیں جو کچھ آپ کر رہے ہیں اس میں بالکل جائز ہوتی ہیں، پھر بلوچستان کا کوئی بے وقوف ہی ہو گا جو آپ سے گلا کرے گا، ان تینوں میں سے ایک نام آئین میں ترامیم کر کے دے دیں، مفتوحہ بلوچستان یا مقبوضہ بلوچستان’۔

‘ہم سے اس ملک کے شہری جیسا سلوک کیا جائے’مینگل 

سردار اختر مینگل کا کہنا تھاکہ یہ ذہنیت 1947 سے چلی آ رہی ہے، یہ وہ مائنڈ سیٹ ہے جس نے بلوچستان اور چھوٹے صوبوں کو اس ملک کی کالونی سمجھا ہوا ہے لیکن ہم کالونی نہیں ہیں، اگر ہمیں اس ملک کا حصہ سمجھا جاتا ہے تو ہم سے شہری جیسا سلوک کیا جائے۔

بلوچستان کے لوگوں کے خون پر بات نہیں ہوتی۔سردار اختر مینگل

سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی میں یہ نقطعہ بھی اٹھایا کہ بوسنیا اور فلسطین کےلئے احتجاج کرتے ہیں، ٹماٹر ، چینی پر بحث ہوتی ہے لیکن بلوچستان کے لوگوں کے خون پر بات نہیں ہوتی۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا بلوچستان کے لوگوں کے خون کا رنگ ٹماٹر سے زیادہ سرخ نہیں ہے اس لئے اس پر بات نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں، کشمیر تو جب ملے گا سو ملے لیکن جو آپ کے ہاتھ میں ہے اور جو جا رہا ہے اس کے لیے تو کمیٹی بناؤ، کیوں نہیں کمیٹیاں بناتے۔اختر مینگل نے کہا کہ اس ملک میں افغانستان امن کانفرنس بلائی جا سکتی ہے تو بلوچستان امن کانفرنس کیوں نہیں بلائی جا سکتی۔

لاپتہ شخص کی بہن نے تھک ہار کر خود کشی کرلی،ایف آئی آرکس کے خلاف کاٹوں

اختر مینگل نے کہا کہ دو دن پہلے کا واقعہ ہے کہ ایک لڑکی جس کا بھائی چار سال سے غائب ہے، وہ احتجاج کرتے کرتے اتنی تھک گئی کہ دو دن پہلے اس نے خودکشی کر لی، اس کی ایف آئی آر کس پر کاٹوں، اپنے آپ پر کہ میں نے اسے کہا کہ انتظار کرو، اپنے پارٹی کے نمائندگان پر اس کی ایف آئی آر کٹواؤں کہ میں نے ان سے کہا کہ تمہارا بھائی آئے گا یا ان لوگوں نے جنہوں مجھے یہ آسرا دیا کہ ان سب کے بھائی، بیٹے اور والد آئیں گے، ان پر ایف آئی آر کاٹوں یا حسب روایت ان سب پر مٹی پادوں۔

آئی ڈی پی کیمپوں میں جاکر پوچھا جائے کہ کون ذمہ دار ہے

انھوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ آج دن تک بتائیں کہ بلوچستان پر پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفکیشن ہوا تھا،اگر نوٹیفکیشن ہوا تو کیا ایک میٹنگ بھی بلائی گئی یا ٹی او آرز بنائے گئے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ گوادر کے ماہی گیروں کے ساتھ تو تعاون کیا جائے،آئی ڈی پی کیمپوں میں جاکر پوچھا جائے کہ کون ذمہ دار ہے۔

بلوچستان آپ کا قرض دار نہیں،حساب کرلیں

انھوں نے انکشاف کیا کہ ہم پر الزام لگایا جارہا ہے کہ ہم 10 ارب روپے میں بک گئے، آپ کو بلوچستان کا پورا حصہ دینا ہوگا، آج نہیں تو کل دینا ہوگا،بلوچستان آپ کا قرض دار نہیں،حساب کرلیں تو آپ کا ایک ایک بال بلوچستان کا قرض دار ہوگا

حکمرانوں سے ہاتھ ملایا،جب بھی ووٹ مانگا دیا لیکن آپ نے کیا دیا،مینگل

سردار اختر منگل نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، خدا کے لیے بلوچستان کو ساتھ لےکر چلنا چاہتےہیں تو ان معاہدوں پرعمل کریں۔ی ٹی آئی سے تعلق پر اختر مینگل نے کہا کہ ہم نے حکمرانوں سے ہاتھ ملایا،جب بھی ووٹ مانگا دیا لیکن آپ نے کیا دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہاتھ ملایا آپ کے ساتھ، گلہ نہیں کر رہے، صدر، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین سینیٹ سمیت ہر موقع پر ووٹ دیا۔

ملک کے موجودہ بجٹ سے فائدہ کسے پہنچ رہا ہے،سردار اختر مینگل

سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ عوام دوست بجٹ آج تک نہ اس ملک میں آیا ہے اور نہ ہی کبھی آنے کے امکانات ہیں۔ اس ملک کے موجودہ بجٹ سے فائدہ کسے پہنچ رہا ہے، کیا غریب کو فائدہ ملے گا، غریبوں کے لیے روزگار کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔۔۔؟

آج تک کسی کو انصاف نہیں ملا، کوڑیوں کے بھاؤ یہاں انصاف بکا ہے،مینگل

سردار اختر مینگل نے کہا کہ اس ملک میں آج تک کسی کو انصاف نہیں ملا، کوڑیوں کے بھاؤ یہاں انصاف بکا ہے اور خریدار بھی ہم ہیں، ہم نے اس عوام کو مجبور کیا ہے کہ وہ انصاف لیں نہیں، انصاف کو خریدیں اور منڈیوں میں جس طرح انصاف بکتا ہے شاید ہی اس ملک کے علاوہ کہیں بکتا ہو۔

چندہ کریں گے، ہم مولانا صاحب سے کہیں گے تمام مسجدوں میں اعلان کردیں

سردار اختر مینگل نے کہا کہ اگر آپ لوگوں کے پاس کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہیں، قلم نہیں ہیں، ہم سب فراہم کریں گے، چندہ کریں گے، ہم مولانا صاحب سے کہیں گے تمام مسجدوں میں اعلان کردیں کہ کاغذ اور چندے اکٹھے کر کے آپ لوگ ان سے نوٹ فرمائیں۔

ورثے کے چکر میں کھینچتے لے جائیں تو بات 1947 تک پہنچ جائے گی،مینگل

انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ایک روایت رہی ہے کہ ہر حکومت پچھلی حکومت کو مورد الزام ٹھہراتی ہے، میں موجودہ حکومت کی بات نہیں کرتا، پچھلی حکومتوں نے بھی یہی کیا ہو گا، اس سے پچھلی حکومتوں نے بھی یہی کیا ہو گا کہ یہ بدحال معیشت ہمیں ورثے میں ملی ہے، خالی خزانہ ہمیں ورثے میں ملا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ اسے ورثے کے چکر میں کھینچتے لے جائیں تو بات 1947 تک پہنچ جائے گی کیونکہ ورثہ تو وہاں سے شروع ہوتا ہے، پھر تو آپ کہیں گے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں پاکستان خالی اور کھوکھلا کر کے دیا ہوا تھا۔

لیکن بلوچستان کو صرف ’10 ارب کا پیکٹ’ دیا گیا ہے،سردار اختر مینگل

اختر مینگل نے کہا کہ کہا جارہا تھا کہ 18ویں ترمیم کو ختم کیا جائے گا یہ کس کی پالیسی ہے، حکومت کی پالیسی ہے، ان کے اتحادیوں کی پالیسی ہے یا کسی اور کی پالیسی ہے۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کی رقم کو کم کردیا گیا ہے اور اس کے بدلے میں تمام صوبوں کو پیکج دیے گئے ہیں لیکن بلوچستان کو صرف ’10 ارب کا پیکٹ’ دیا گیا ہے۔

تفتان کی سرحد کو کھولنے کی اجازت کس نے دی تھی؟

انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے تفتان کے بارڈر کو کھول دیا، شاید کسی عقل مند نے کہا ہو گا کہ آنے دو ان لوگوں کو، یہ جب آئیں گے تو کورونا آئے گا، جس طرح افغان مہاجرین آئے تھے تو ان کے ساتھ ڈالر تھے تو ان کے ساتھ بھی ڈالر آئیں گے’۔اختر مینگل نے سوال کیا کہ تفتان کی سرحد کو کھولنے کی اجازت کس نے دی تھی؟ کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے تھیں، کوئی نارمل بندہ بھی حکومت کی جانب سے لگائے گئے ٹینٹوں میں نہیں رہ سکتا تھا۔

عمران خان نے کندھے سے کندھا ملا کر کہا کہ بلوچستان میں ظلم و زیادتیاں ہوئی ہیں

بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل کے سربراہ نے کہا کہ 2012 میں جب میں سپریم کورٹ میں پیش ہوا تو عمران خان صاحب نے کندھے سے کندھا ملا کر کہا کہ بلوچستان میں ظلم و زیادتیاں ہوئی ہیں، لاپتہ افراد کا مسئلہ غلط ہے اور جو ان کے ذمے دار ہیں، میں ان کو کٹہرے میں لاؤں گا جبکہ اس سے پہلے میاں نواز شریف نے بھی یہی کہا۔

انٹرنیٹ پچھلے 8 سال سے بلوچستان میں بند کردیا گیا ہے،سردار اختر مینگل

بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل کے سربراہ نے مزید کہا کہ کورونا کی وجہ سے پورے ملک میں آن لائن کلاسز ہو رہی ہیں لیکن بلوچستان میں نہیں ہو رہیں کیونکہ انٹرنیٹ پچھلے 8 سال سے بلوچستان میں بند کردیا گیا ہے، وہاں کوئی تھری جی یا فور جی سروسز دستیاب نہیں۔

اگست 2018 میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے

خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں بی این پی مینگل کے چار ارکان ہیں جب کہ بی این پی مینگل کا سینیٹ میں ایک رکن ہے۔واضح رہے کہ اگست 2018 میں بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل اور تحریک انصاف نے مرکز میں حکومت سے اتحاد کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔اس یادداشت کے تحت چھ نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کیا گیا جس میں لاپتہ افراد کی بازیابی، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، وفاقی حکومت میں بلوچستان کے لیے 6فیصد کوٹا پر عملدرآمد، افغان مہاجرین کی فوری واپسی اور صوبے میں پانی کے بحران کے بحران کے حل کے لیے ڈیم کا قیام شامل تھا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

3 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close