پاکستانپہلا صفحہ

سپریم کورٹ:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار

2011 سے 2015 کے دوران لندن میں لیز پر اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام پر جائیدادیں حاصل کیں تھیں،الزام

اسلام آباد(سہب حال) عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کی، جہاں جسٹس قاضی فیض عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک حکومتی وکیل فروغ نسیم کے دلائل پر جواب الجواب دیے۔

قاضی فیض عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک حکومتی وکیل کے دلائل مکمل،فیصلہ محفوظ

دلائل کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا اور 4 بجے کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست کو منظور کرلیا۔عدالت عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جاری کیے گئے شوکاز نوٹس بھی واپس لے لیے۔

سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سنایا

مختصر فیصلے میں تین ججز نے اضافی نوٹ لکھا جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے سے اختلاف کیا، اس کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔عدالت کی جانب سے یہ فیڈرل بورڈ آف (ایف بی آر) 7 روز میں جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کو نوٹس جاری کرے، نوٹس ہر پراپرٹی کا الگ الگ بھجوایا جائے۔فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کی کارروائی بنتی ہو تو سپریم جوڈیشل کونسل مجاز ہوگی، چیئرمیں ایف بی آر اپنے دستخط سے رپوٹ رجسٹرار سپریم کورٹ کو جمع کرائیں۔

2011 سے 2015 کے دوران لندن میں لیز پر اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام پر جائیدادیں حاصل کیں تھیں،الزام

یاد رہے کہ گزشتہ برس مئی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کیے گئے ریفرنس میں الزام لگایا تھا کہ انہوں نے 2011 سے 2015 کے دوران لندن میں لیز پر اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام پر جائیدادیں حاصل کیں تھیں لیکن انہیں ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا تھا۔ بعدازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الزامات کا مقابلہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ فلیٹس کے بینیفشل اونر نہیں ہیں۔

کچھ طاقتیں انہیں کسی نہ کسی طریقے سے آئینی عہدے سے ہٹانا چاہتی ہیں،فائز عیسی

اس درخواست کے ذریعے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں استدعا کی تھی کہ کچھ طاقتیں انہیں کسی نہ کسی طریقے سے آئینی عہدے سے ہٹانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر مملکت عارف علوی نے ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے قبل اپنی آزادانہ رائے قائم نہیں کی تھی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ وزیراعظم، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل نے انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 116 (بی) کو توڑ مروڑ کر پیش کیا تھا اور غلطی سے اسے ان کی اہلیہ اور بچوں پر لاگو کردیا جبکہ اس قانون کا اطلاق صرف منحصر اہلیہ اور ان بچوں پر اطلاق ہوتا ہے جو چھوٹے ہوں اور والد پر انحصار کرتے ہوں۔

سرکاری ایجنسیوں بشمول ایف آئی اے نے آئین کے آرٹیکل 4 اور 14 کی واضح خلاف ورزی کی

درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سرکاری ایجنسیوں بشمول ایف آئی اے نے خفیہ طور پر درخواست گزار اور ان کے خاندان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 4 اور 14 کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے معلومات حاصل کیں اور انہیں تحقیقات سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا نہ ہی انہیں جواب دینا کا کوئی موقع فراہم کیا گیا۔جسٹس قاضیٰ نے عدالت سے درِخواست کی تھی کہ حکومت کی جانب سے ان کے خاندان کی جائیدادوں کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو غیرقانونی قرار دیا جائے، ساتھ ہی  انہوں نے کہا تھا کہ درخواست گزار جج اور ان کے اہل خانہ کے خلاف تحقیقات غیر قانونی تھیں۔

گزشتہ سال مئی سے رواں سال جون تک اس کیس کی 40 سے زیادہ سماعتیں ہوئیں

 گزشتہ سال مئی سے رواں سال جون تک تقریباً 13 ماہ چلنے والے اس کیس کی 40 سے زیادہ سماعتیں ہوئیں جس کے دوران ایک اٹارنی جنرل نے ججز سے متعلق بیان پر نہ صرف استعفیٰ دیا بلکہ فروغ نسیم بھی کیس میں حکومت کی نمائندگی کرنے کے لیے وزیرقانون کے عہدے سے مستعفی ہوئے، یہی نہیں بلکہ یہ کیس تاریخی لحاظ سے اس لیے بھی اہم رہا کیونکہ اس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ حاضر سروس جج جسٹس عیسیٰ عدالت میں پیش ہوئے۔

گزشتہ روز حکومتی وکیل فروغ نسیم نے اپنے دلائل مکمل کیے تھے جس پر عدالت نے ان سے تحریری معروضات جمع کروانے کا کہا تھا جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

عدالت عظمیٰ میں ہونے والی آج کی سماعت کی تفصیل

آج (جمعہ) کو کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سب سے پہلے وفاقی حکومت کے وکیل فروغ نسیم نے کچھ دستاویزات جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس ریکارڈ کی دستاویز سربمہر لفافے میں عدالت میں جمع کروائیں۔

  • مزید یہ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کی جانب سے بھی زرعی زمین اور پاسپورٹ کی نقول عدالت میں جمع کروائی گئیں۔
  • اس پر سربراہ بینچ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم ابھی اس لفافے کا جائزہ نہیں لیتے اور نہ ہی اس پر کوئی آرڈر پاس کریں گے۔
  • ‏انہوں نے کہا کہ معزز جج (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) کی اہلیہ تمام دستاویز ریکارڈ پر لاچکی ہیں، آپ اس کی تصدیق کروائیں، ہم ابھی درخواست گزار کے وکیل منیر اے ملک کو سنتے ہیں۔

سمجھ نہیں آرہا حکومت کا اصل میں کیس ہے کیا، منیر اے ملک

 ان کا اصل کیس وہ نہیں جو ریفرنس میں ہے،فروغ نسیم

  • منیر اے ملک نے اپنے جواب الجواب میں کہا کہ افتخار چوہدری کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل پر بدنیتی کے الزامات تھے، ‏سپریم جوڈیشل کونسل نے بدنیتی پر کوئی فیصلہ نہیں دیا تھا، توقع ہے کہ مجھے جوڈیشل کونسل کی بدنیتی پر بات نہیں کرنا پڑے گی۔
  • منیر اے ملک نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہا حکومت کا اصل میں کیس ہے کیا، فروغ نسیم نے کہا ان کا اصل کیس وہ نہیں جو ریفرنس میں ہے، برطانوی جج جسٹس جبرالٹر کی اہلیہ کے خط اور ان کی برطرفی کا حوالہ دیا گیا، جسٹس جبرالٹر نے خود کو اہلیہ کی مہم کے ساتھ منسلک کیا تھا۔

بدقسمتی سے فروغ نسیم غلط بس میں سوار ہوگئے ہیں، منیر اے ملک

  • انہوں نے کہا کہ ‏جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کبھی اہلیہ کی جائیدادیں خود سے منسوب نہیں کیں، الیکشن اور نیب قوانین میں شوہر اہلیہ کے اثاثوں پر جوابدہ ہوتا ہے۔
  • اپنے جواب الجواب میں منیر اے ملک نے کہا کہ فروغ نسیم نے کہا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ آنے میں دیر کر دی، ‏بد قسمتی سے فروغ نسیم غلط بس میں سوار ہوگئے ہیں۔
  • انہوں نے کہا کہ حکومت ایف بی آر جانے کے بجائے سپریم جوڈیشل کونسل آگئی، ایف بی آر اپنا کام کرے ہم نے کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی۔
  • منیر اے ملک بولے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی اور عدلیہ کی عزت کی خاطر ریفرنس چیلنج کیا، ‏چاہتے ہیں کہ عدلیہ جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دے۔
  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے احکامات اور شوکاز نوٹس میں فرق ہے۔
  • سماعت کے دوران جسٹس عیسیٰ کے وکیل نے ریفرنس میں لگائے گئے جائیدادوں کے الزامات پر کہا کہ لندن کی جائیدادوں کی تلاش کے لیے سرچ انجن 192 ڈاٹ کام کا استعمال کیا گیا، اس پر سرچ کرنے کے لیے ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آن لائن ادائیگی کی رسید ویب سائٹ متعلقہ بندے کو ای میل کرتی ہے، ضیاالمصطفیٰ نے ہائی کمیشن کی تصدیق شدہ جائیداد کی تین نقول حاصل کیں، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ جن سیاسی شخصیات کی جائیدادیں سرچ کیں اس کی رسیدیں بھی ساتھ لگائی ہیں، حکومت رسیدیں دے تو سامنے آجائے گا کہ جائیدادیں کس نے سرچ کیں۔

منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ صحافی عبدالوحید ڈوگرنے ایک جائیداد کا بتایا تھا، تاہم اگر سرچ انجن پر اثاثہ جات ریکوری یونٹ (اے آر یو) نے جائیداد تلاش کیں تو رسیدیں دے دیں۔

اس پر عدالتی بینچ کے رکن جسٹس فیصل عرب بولے کے اے آر یو نے بظاہر صرف سہولت کاری کا کام کیا ہے۔

حکومت فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ لکھنے والے جج کو ہٹانا چاہتی ہے، منیر اے ملک

سماعت کے دوران منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کہتی ہے کہ دھرنا کیس کے فیصلے پر ایکشن لینا ہوتا تو دونوں ججز کے خلاف لیتے لیکن حکومت صرف فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ لکھنے والے جج کو ہٹانا چاہتی ہے۔

’’یہاں یہ بات واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 6 فروری 2019 کو فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سنایا تھا اور اس کیس میں عدالت عظمیٰ نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، خفیہ ایجنسیوں اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں ‘‘

انہوں نے کہا کہ یہ الزام عائد کیا گیا کہ جسٹس عیسیٰ نے جان بوجھ کر جائیدادیں چھپائیں جبکہ عدالتی کمیٹی کہتی ہے کہ غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے سے متعلق قانون میں بھی ابہام ہے۔

جسٹس عیسیٰ کے وکیل کی بات پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کا مؤقف تھا کہ ریفرنس سے پہلے جج کی اہلیہ سے دستاویز لی جائیں، گزشتہ روز کی سماعت کے بعد آپ کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے۔

  •  کیا ہم ایسا قانون چاہتے ہیں کہ ایک ادارہ دوسرے کی جاسوسی کرے؟  منیر اے ملک
  •  جج کے بنیادی حقوق زیادہ اہم ہیں، یا ان کا لیا گیا حلف؟      جسٹس یحییٰ آفریدی
  • عدالت درخواست کو انفرادی شخص کے حقوق کی پٹیشن کے طور پر نہ لے۔ منیر اے ملک
  • اس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ جسٹس فائز عیسی گزشتہ دنوں سپریم کورٹ آئے تھے
  • کیا جج نے بنیادی حق استعمال کرکے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی،جسٹس یحییٰ آفریدی
  • کیا اس طرح جسٹس عیسیٰ کا عدالت آنا ضابطہ اخلاق کے منافی نہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی
  •  اس بات کا انحصار اس پر ہے کہ جج اپنی ذات کے لیے آئے یا یا عدلیہ کے لیےآئے تھے،منیر اے ملک
  • آج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر ہے تو کل نجانے کس کے خلاف ہو،منیر اے ملک
  •  سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل حامد خان نے دلائل دینا شروع کیے اور کہا کہ اسلام ہر مرد اور عورت کو جائیداد رکھنے کا حق دیتا ہے۔
  • اس موقع پر حامد خان نے قرآن پاک کی سورۃ النسا کا بھی حوالہ دیا۔

‏قوائد میں جن ایجنسیوں کا ذکر ہے وہ پہلے سے قائم شدہ ہیں،رضا ربانی

  • سماعت کے دوران سندھ بار کونسل کے وکیل رضا ربانی نے بھی دلائل دیے
  •  ‏قوائد میں جن ایجنسیوں کا ذکر ہے وہ پہلے سے قائم شدہ ہیں،رضا ربانی
  • جتنی بھی ایجنسیاں موجود ہیں انکو قانون کی سپورٹ بھی حاصل ہے،جسٹس منصور علی 
  • تاہم اس کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ اے آر یو کو لامحدود اختیارات دیئے گئے
  • نوٹیفیکیشن کے مطابق اے آر یو کو کابینہ کے فیصلے کا تحفظ حاصل ہے،رضا ربانی
  • ‏اے آر یو یونٹ کے لیے قانون سازی نہیں کی گئی۔رضا ربانی
  •  تاثر دیا گیا کہ آے ار یو قانونی فورس ہے،رضا ربانی
  • حکومت کے مطابق وزیر اعظم ادارہ بنا سکتے ہیں،رضا ربانی
  • تاہم وزیراعظم وزارت یا ڈویژن بنا سکتے ہیں،رضا ربانی
  • بعد ازاں بار کونسل کے وکلا کے بھی دلائل مکمل ہوگئے،رضا ربانی

جس کے بعد عدالت میں کیس کی سماعت مکمل ہوگئی

  • اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے یہ ریمارکس دیے گئے کہ یہ ہمارے لیے بڑا اہم معاملہ ہے، ہمیں سوچنے کا وقت دیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن کا عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ ریفرنس مکمل خارج کردیں؟
  • ساتھ ہی سپریم کورٹ نے سماعت مکمل ہونے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، جس کا مختصر فیصلہ 4 بجے کے بعد سنا دیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا بیان

گزشتہ روز کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ان 3 آف شور جائیدادوں کی خریداری کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ثبوت فراہم کردیے تھے جس کی منی ٹریل ان کے شوہر کے خلاف صدارتی ریفرنس میں اہم ہے۔

ان ثبوتوں پر جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ ریمارکس دیے تھے کہ جائیدادوں کے لیے (رقم کے) ذرائع کے حوالے سے جو مواد فراہم کیا گیا ہم اس سے کافی مطمئن ہیں۔

  • واضح رہے کہ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنے نام سے متعلق بھی واضح کیا تھا اور بتایا تھا اور پیدائش کا سرٹیکفیٹ بھی عدالت میں دکھایا تھا جس میں ان کا پہلا نام موجود تھے۔
  • انہوں نے کہا تھا کہ لوگوں نے ان کا نام ‘سرینا’ ہونے پر مذاق اڑیا جبکہ اسپیشن (ہسپانوی) زبان میں زرینا کو ‘سرینا’ کہا جاتا ہے
  • ساتھ ہی جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے بتایا تھا کہ ان کا نام شناختی کارڈ پر سرینا عیسیٰ ہے، ان کی والدہ اسپین ہیں جبکہ ان کے پاس اسپینش پاسپورٹ ہے۔
  • اہلیہ جسٹس عیسیٰ نے کہا تھا کہ یہ الزام لگایا گیا کہ میں نے جج کے آفس کا غلط استعمال کیا، جب میرے خاوند وکیل تھے تو مجهے پاکستان کا 5 سال کا ویزا جاری ہوا۔
  • انہوں نے وضاحت کی تھی کہ مجھے 5 سال کا ویزا اس وقت ملا جب میرے خاوند جج نہیں تھے، میرا ویزا ختم ہوا تو نئے ویزے کے لیے اپلائی کر دیا پھر جب دوسرا ویزا جاری ہوا تو وہ سپریم کورٹ کے جج نہیں تھے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ جنوری 2020 میں مجھے صرف ایک سال کا ویزا جاری ہوا، یہ ویزا جاری کرنے سے پہلے مجھے ہراساں کیا گیا، ہراساں کرنے کے لیے کم مدت کا ویزا جاری کیا گیا۔

عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ آبدیدہ بھی ہوئی تھیں تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ ان کے شوہر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انہیں مشورہ دیا کہ انہیں (اس معاملے میں) نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ ریفرنس ان سے متعلق ہے لیکن زرینا عیسیٰ نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا اور ان کے خاندان کا نام صاف ہو، ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ اپنوں نے ایسا کیس بنایا جیسے ماسٹر مائنڈ کرمنل (مجرم) ہوں۔

سپریم کورٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے جائیدادوں کے بارے میں اہلیہ جسٹس عیسیٰ نے کہا تھا کہ پہلی جائیداد 2004 میں برطانیہ میں خریدی، برطانیہ میں جائیداد کی خریداری کے لیے پاسپورٹ کو قبول کیا گیا۔

انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا تھا کہ وہ کراچی میں امریکن اسکول میں وہ ملازمت کرتی رہیں، ریحان نقوی ان کے ٹیکس معاملات کے وکیل تھے، ان کی جانب سے گوشوارے جمع کروانے پر حکومت نے انہیں ٹیکس سرٹیفکیٹ جاری کیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میرا ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کردیا گیا، ایف بی آر سے ریکارڈ کی منتقلی کا پوچھا تو کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

زرینا عیسیٰ نے کہا تھا کہ ‏کلفٹن بلاک 4 میں جائیداد خریدی، بعد ازاں کلفٹن کی جائیداد فروخت کردی گئی، اس کے علاوہ شاہ لطیف میں خریدی گئی ایک اور جائیداد بھی فروخت کر دی گئی۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ان کی زرعی زمین ان کے نام پر ہے، زرعی زمین کا خاوند سے تعلق نہیں ہے، زرعی زمین والد سے ملی ہے، یہ زمین سندھ کے ضلع جیکب آباد اور ڈیرہ مراد جمالی بلوچستان میں ہے، ان زرعی زمین کی دیکھ بھال ان کے والد کرتے تھے جبکہ حکومت کو میری زمین کے بارے میں پتا تھا۔

اپنے بیان کے دوران انہوں نے لندن کی جائیدادوں اور پاکستان سے رقم منتقلی کے بارے میں بھی سب کچھ بتایا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے 2003 سے 2013 کے درمیان جائیدادیں خریدیں اور اسیٹنڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ذریعے 7 لاکھ پاؤنڈ کی رقم منتقل کی جو ان کے نام پر منتقل کی گئی، اس کے علاوہ ‘بینک نے ہرٹرانزیکشن کی رپورٹس اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو دی’۔

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ پہلی جائیداد 2004 میں ان کے نام پر 2 لاکھ 36 ہزار پاؤنڈز، دوسری جائیداد 2013 میں ان کے اور ان کے بیٹے کے نام پر 2 لاکھ 45 ہزار پاؤنڈز جبکہ تیسری جائیداد ان کی بیٹی کے نام پر 2 لاکھ 70 ہزار پاؤنڈز میں خریدی گئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا معاملہ گزشتہ برس سال میں شروع ہوا تھا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔

اس حوالے سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردارکشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔

صدر مملکت کو اپنے دوسرے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ انہوں نے لندن میں موجود جائیدادوں سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔

جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو 2 ریفرنسز میں شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیداد ظاہر نہ کرنے کے صدارتی ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا تاہم یہ ریفرنس بعد میں خارج کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں7 اگست 2019 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف ریفرنس ذاتی طور پر چیلنج کیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ میرے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ میری درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔

صدارتی ریفرنس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سپریم کورٹ کا 7 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس کے تحلیل ہوجانے کے بعدعدالت عظمیٰ کے 10 رکنی فل کورٹ نے 14 اکتوبر کو سماعت کا آغاز کیا تھا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

211 Comments

  1. I like the helpful information you supply for your articles.
    I will bookmark your blog and take a look at again right here frequently.
    I am relatively certain I will be told plenty of new stuff proper here!

    Good luck for the following!

  2. This design is spectacular! You most certainly know how to keep a reader
    amused. Between your wit and your videos, I was almost moved to start my own blog (well, almost…HaHa!) Wonderful job.

    I really enjoyed what you had to say, and more than that, how
    you presented it. Too cool!

  3. Hi there this is somewhat of off topic but I was wondering if blogs use WYSIWYG editors or if you have to manually code with HTML.

    I’m starting a blog soon but have no coding expertise so I wanted to get advice from someone with experience.

    Any help would be enormously appreciated!

  4. Hey just wanted to give you a quick heads up.

    The words in your post seem to be running off the screen in Opera.
    I’m not sure if this is a formatting issue or something to do
    with browser compatibility but I figured I’d post to let you know.
    The layout look great though! Hope you get the issue resolved soon. Many thanks

  5. Simply want to say your article is as surprising. The clarity in your post is just great and i could suppose you’re an expert on this subject.
    Well with your permission let me to seize your RSS feed
    to stay updated with impending post. Thank you a million and please carry on the rewarding work.

  6. I do not know whether it’s just me or if everyone else experiencing problems
    with your blog. It appears like some of the written text within your content
    are running off the screen. Can someone else please provide feedback and let me know
    if this is happening to them too? This could be a problem with my browser because I’ve had this
    happen before. Cheers

  7. I do accept as true with all of the concepts you have
    offered to your post. They are very convincing and can certainly work.

    Nonetheless, the posts are very quick for newbies.
    May you please prolong them a little from subsequent time?
    Thanks for the post.

  8. The other day, while I was at work, my cousin stole my iPad and tested to see if it can survive a twenty five foot drop,
    just so she can be a youtube sensation. My iPad is now destroyed and she has 83 views.
    I know this is completely off topic but I had to
    share it with someone!

  9. you are truly a just right webmaster. The website loading pace is amazing.

    It sort of feels that you’re doing any distinctive trick.

    Moreover, The contents are masterwork. you have
    performed a wonderful activity in this matter!

  10. Hello! This post could not be written any better! Reading
    through this post reminds me of my good old room mate! He always kept chatting about this.
    I will forward this write-up to him. Pretty sure he will have a good read.
    Thanks for sharing!

  11. Hey I am so delighted I found your site, I really found
    you by error, while I was researching on Google for something else, Nonetheless I am
    here now and would just like to say kudos for a marvelous post and a all round enjoyable blog (I also love the theme/design),
    I don’t have time to browse it all at the minute but I have bookmarked it and also included your RSS feeds, so
    when I have time I will be back to read more, Please do keep up the superb work.

  12. Its like you read my mind! You appear to grasp
    a lot approximately this, such as you wrote the guide in it or something.
    I think that you can do with a few p.c. to power the message house a bit, but other than that, this is magnificent blog.
    An excellent read. I’ll definitely be back.

  13. Hiya! I know this is kinda off topic nevertheless I’d figured I’d ask.

    Would you be interested in trading links or maybe guest authoring a blog
    article or vice-versa? My site covers a lot of the same subjects as yours and I believe we could greatly benefit from each other.
    If you might be interested feel free to send me an email.
    I look forward to hearing from you! Fantastic blog by
    the way!

  14. Superb blog! Do you have any hints for aspiring writers?
    I’m hoping to start my own blog soon but I’m a
    little lost on everything. Would you suggest starting with a free platform like
    Wordpress or go for a paid option? There are so many options out there
    that I’m totally overwhelmed .. Any recommendations?
    Kudos!

  15. Подключение к Интернету могут обеспечить полно большое наличность портативных девайсов благодаря наличию в устройстве соответствующего специального разъёма чтобы карты связи оператора. При этом возникают некоторые неудобства в применении, если приходится почти каждое портативное детище беспричинно облюбовать ради каждого из них SIM-карту с подходящим тарифным планом alias вертеть ее с одного приспособления для другое. В этом в случае чтобы эффективности использования времени и средств значительно лучше обеспечить единое интернет-соединение, около котором постоянно устройства будут пользоваться высокоскоростное подключение.

    Сообразно этой причине портативные 3G/4G модемы и мобильные рутеры станут лучшей альтернативой чтобы беспроводного подключения к Всемирной паутине.

    Подключить беспроводной интернет за 1 гривну >>

    3G USB-модем: описание характеристик и достоинств

    3G USB-модем – это девайс для обеспечения доступа к Интернету для высокой пропускной способности. По внешнему виду 3G USB-модемы выглядят ровно flash-накопители. Преимуществом модемного подключения является необходимость использования внешней антенны в регионах с низким уровнем приема цифрового сигнала. Значительную пакет времени 3G USB-модем находится в комплекте с компьютером сиречь ноутбуком. Только и в других случаях, модемы поставляются с соответствующим драйвером.

    Использование модема порядком простое: воеже нет в Интернет, необходимо подключить его к ПК, после автоматический установить драйвер, затем чего установить дистанционное скопление, конец! 3G USB модемы можно задействовать в качестве резервного доступа к домашней сети. Ради этого нуждаться подключить USB-модем к настольному маршрутизатору и выполнить соответствующие настройки. USB 3G модем также может прислуживать для связи через USB-кабель с графическими планшетами. Однако не безвыездно пользователи устройств с Android могут быть готовы к работе с 3G USB-модемом.

    Также USB-модем применяют, если необходимо подключить к интернет порядочно устройств.

  16. Совершенно очевидно, что при подключении к всемирной паутине выбор интернет-провайдера играет ключевую роль, поскольку именно от возможностей оператора зависит качество и надежность вашего доступа к сети.
    В статье какой интернет выбрать предлагаем определиться с интернетом.

    При выборе провайдера необходимо обязательно учитывать:

    – скоростные возможности;
    – перечень доступных сервисов;
    – наличие выгодных тарифных планов;
    – уровень технического обслуживания.

    Провайдер занимает одну из лидирующих позиций среди провайдеров всеукраинского масштаба. Наше покрытие охватывает значительную часть Киева и продолжает расширяться с каждым днем.

    Лучшие тарифные планы от позволяют клиентам выбрать наиболее подходящий им комплект услуг: от наиболее лаконичного варианта до максимально функционального пакета. Таким образом, пользователь имеет возможность оплачивать только те сервисы, которые ему действительно необходимы. Кроме того, абонент может выбрать интернет-доступ в формате «Интернет+ТВ», а также организовать домашнюю Wi-Fi сеть.

    При недостаточном количестве средств на счету клиента, ему предоставляется кредитный период, открывающий доступ к Интернету на четыре дня.

    Мы обеспечиваем своим клиентам круглосуточную консультационную и техническую поддержку. Специалисты нашей компании осуществляют своевременное профилактическое обслуживание оборудования с целью исключения возможных сбоев и неполадок.

  17. Top 5 Trang Internet Tỷ Lệ Kèo Bóng Đá Tốt Nhất 2021Tỷ Lệ Bóng Đá game thien diaHai trận đấu của lượt cuối mỗi bảng bắt buộc phải thi đấu cùng giờ. Kết thúc vòng bảng, đội nhất, nhì các bảng và 4 đội xếp thứ ba có thành tích tốt nhất sẽ giành quyền vào vòng sixteen đội.

  18. hey there and thank you for your info ? I have definitely picked up something new from right here. I did however expertise several technical points using this website, since I experienced to reload the website lots of times previous to I could get it to load properly. I had been wondering if your web host is OK? Not that I’m complaining, but slow loading instances times will sometimes affect your placement in google and could damage your quality score if ads and marketing with Adwords. Anyway I am adding this RSS to my email and can look out for much more of your respective intriguing content. Ensure that you update this again soon..

  19. Good V I should certainly pronounce, impressed with your website. I had no trouble navigating through all tabs as well as related info ended up being truly easy to do to access. I recently found what I hoped for before you know it in the least. Reasonably unusual. Is likely to appreciate it for those who add forums or anything, website theme . a tones way for your customer to communicate. Excellent task..

  20. The following time I learn a blog, I hope that it doesnt disappoint me as a lot as this one. I mean, I do know it was my option to learn, however I truly thought youd have something attention-grabbing to say. All I hear is a bunch of whining about one thing that you can repair when you werent too busy in search of attention.

  21. Hey! I understand this is kind of off-topic but I needed
    to ask. Does running a well-established blog such as yours take a massive amount work?
    I am completely new to running a blog however I do write in my journal daily.

    I’d like to start a blog so I can easily share my own experience and thoughts online.
    Please let me know if you have any kind of recommendations or tips for brand new aspiring bloggers.
    Appreciate it!

  22. Hello there I am so glad I found your webpage, I really found
    you by accident, while I was looking on Digg for something else, Anyhow I am here now
    and would just like to say cheers for a marvelous post and a all round interesting
    blog (I also love the theme/design), I don’t have time to read through it all at the moment but I have saved
    it and also added in your RSS feeds, so when I have time I
    will be back to read much more, Please do keep up the
    great b.

  23. Having read this I believed it was really informative. I appreciate you finding the time and effort
    to put this article together. I once again find myself spending a significant amount of time both reading and posting comments.
    But so what, it was still worth it!

  24. پنگ بیک: gay dating sites in spain
  25. hello there and thank you for your information ? I have certainly picked up anything new from right here. I did however expertise some technical issues using this web site, since I experienced to reload the web site many times previous to I could get it to load correctly. I had been wondering if your web host is OK? Not that I am complaining, but sluggish loading instances times will very frequently affect your placement in google and could damage your quality score if ads and marketing with Adwords. Anyway I?m adding this RSS to my email and could look out for much more of your respective exciting content. Make sure you update this again very soon..

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close