بلاگپہلا صفحہ

بستی کے فیصلہ ساز اور مفلس رعایا

ڈاکٹر رؤف قیصرانی

بستی کے فیصلہ ساز اور مفلس رعایا

ایک بستی میں اعلان ہوتا ہے کہ انسانوں کے اس جنگل میں مصوری کا مقابلہ ہو رہا ہے اور بہترین پینٹنگ کو بہترین انعام بھی دیا جائے گا۔ اور ہر بستی سے ایک مصور تصویر تخلیق کرے گا اور انعام کے طور پر اس انسان نما جنگل کی بادشاہی اس بستی کے حصے میں آئے گی جس بستی کا مصور یہ تصویری مقابلہ جیتے گا۔ جنگل میں بے پناہ بستیاں اور شہر آباد ہیں۔ ہر بستی سے بہترین مصوروں کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ اور اس مقابلے کیلیے بھرپور تگ و دو کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ہر بستی کے لوگ پوری قوت سے اس کمپین میں حصہ لیتے ہیں کہ یہ اعزاز اور حاکمیت ان کے حصے میں آئے۔ کافی زیادہ بستیوں کے پاس ڈسپلنڈ اور تربیت یافتہ آرٹسٹ موجود ہیں۔ اور کچھ بستیوں میں آرٹسٹ تو موجود ہیں لیکن وہاں یہ فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ یہ کام کس کے ذمے لگایا جائے۔ ہمارا بستی بھی ان چند بدقسمت شہروں میں شامل ہے جہاں آرٹسٹوں کی بہتات کے باوجود زر کے لالچ میں مبتلا کچھ طاقتور اپنی مرضی کا مصور اس کام میں لانا چاہتے ہیں۔
کافی زیادہ تگ و دو اور بحث مباحثے کے بعد ایک مخبوط الحواس رنگ ساز کو یہ کام سونپنے کی تیاری کی جاتی ہے۔ اس رنگ ساز کی کوالٹی یہ ہے کہ ایک تو یہ کافی زیادہ زبان دراز ہے اور دوسرا اس شہر کے طاقتور فیصلہ سازوں کے سامنے ہر وقت دوزانوں بیٹھا ان کی ناک پر بیٹھی مکھی کو خوبصورت کالا تل ثابت کرتا رہتا ہے۔
کچھ سر پھرے خود کو فلاسفر ظاہر کرتے دیوانے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں۔ اور عوام کو سمجھانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ اس مقابلے کی تیاری اور شمولیت پر بہت زیادہ خرچ آئے گا اس لیے یا تو اس میں شمولیت سے کنارہ کشی کی جائے یا پھر پروفیشنل مصور کو اس مقابلے میں اتارا جائے۔ بستی کے لوگ پہلے ہی کافی مفلوک الحال ہیں ان کے پیسوں کو صحیح جگہ استعمال کیا جائے۔ لیکن فیصلہ ساز کیونکہ طاقت کے حامل ہیں اس لیے وہ دھونس دھمکی اور پروپیگنڈے کی یلغار سے شہر بھر کو مرعوب کر کے اپنا فیصلہ منوا لیتے ہیں اور رنگ ساز کو تصویر بنانے پر لگا دیتے ہیں۔ رنگ ساز اور فیصلہ سازوں میں طے پاتا ہے کہ اس کمپیٹیشن میں شمولیت کیلیے کاسٹ اسٹیمیٹ ڈبل سے بھی زیادہ بتایا جائے اور اوپر والی رقم فیصلہ سازوں کے حصے میں آئے گی کیونکہ انہوں نے اس بے ہنر بے روزگار کو راتوں رات ایک مشہور ترین ہستی بنا دیا ہے اس لیے پیسے پر صرف ان کا حق ہے۔ ہاں مگر اس رنگ ساز کی ضرورتوں کا خوب خیال رکھا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد بستی بھر سے چندہ جمع کرنے کیلیے درباری ٹائپ لکھاریوں، شعراء، حکماء اور مبلغین کے جتھے تشکیل دیے جاتے ہیں کہ وہ عوام میں یہ کمپین کریں کہ اس چندہ مہم میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالیں تاکہ وہ ایک تابناک تاریخ رقم کر سکیں۔ اس کے علاوہ اس پپٹ ریکروٹمنٹ کے ذمے یہ کام بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنی فن کاریوں سے طاقتوروں کو عوام میں مقبول بنائیں۔
یہ بے ضمیر ٹولہ چنڈ ٹکوں کے عوض قلم، تسبیح اور تعویذ کو بستی کی اشرافیہ کے پاوں میں رکھ کر دو نوالوں کے عوض غضب ناک سازشی ماحول ترتیب دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اب ہر طرف بستی کے لاچار و لباس مفلس میں ملبوس رعایا ایک مصنوعی رومانس میں آ جاتے ہیں اور بستی کی جیت کیلیے دامے، درمے اور سخنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ تن کا لباس اور منہ کا نوالہ اس مقابلے کی جیت کی خواہش میں بخوشی فیصلہ سازوں کو پیش کر دیتے ہیں۔ اس رنگ ساز اور عطائی مصور کو ایک تصوراتی مسیحا گرداننے لگتے ہیں۔ مبلغین اور مبصرین کی کمپین کامیاب ٹھہرتی ہے اور دھرتی واس دیوانے نامراد ٹھہرتے ہیں۔
رنگ ساز عطائی مصور ایک تصویر بنانا شروع کر دیتا ہے۔ تصویر بناتے ہوئے ہوئے وہ ایک عجیب مخمصے میں مبتلا ہے۔ وہ ایک خون میں لتھڑے وجود، پاش پاش لباس اور بکھرے بالوں میں مصنوعی رنگ بھر کے ایک خوبصورت پینٹنگ تخلیق کرنے کا خواہاں ہے۔ رنگوں کے اسٹروک پہ اسٹروک لگائے جارہا ہے لیکن تصویر ہے کہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ کبھی رنگ بدلتا ہے کبھی کینوس میں نقص تلاشتا ہے اور کبھی اپنے تصور کو دوش دیتا ہے لیکن مسلسل ناکامیوں کے باوجود ایک جہد مسلسل کے ذریعے بورڈ کے سامنے بیٹھا ہے۔ تصویر کو خوبصورت دیکھنے کا مشتاق ایک مجمع اس مصور کی ضروریات کا خاص خیال رکھتا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ وقت بدلتا ہے، ترجیحات بدلتی ہیں اور جنگل کی دوسری بستیاں اپنے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور ایک مہذب فلاحی سماج کی تشکیل کو اپنی ترجیح بنا لیتی ہیں۔ اس طرح کے مصنوعی مقابلوں کی ان بستیوں میں ثانوی حیثیت ہو جاتی ہے۔ وقت پر لگائے دوڑ جاتا ہے اور کافی ساری بستیاں خود مکمل کو بدل لیتی ہیں۔ زمیں سے بندھے قدم اٹھتے ہیں، ستاروں پہ کمندوں کے شعری استعارے حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ پانی اور ہواوں کے رخ موڑ دیے جاتے ہیں۔ اور جنت عرضی کے رومانوی تصور کو تعبیر ملتی ہے۔ اور جنگل نما دنیا کی کچھ بستیاں بام عروج کو چھو لیتی ہیں۔
لیکن ہماری بستی کو اسی مقابلے کے نام پر اب بھی لوٹا جا رہا ہے۔ بستی کے لوگوں کے جسم ڈھانچوں میں بدل گئے ہیں۔ بد بختی کے خونخوار پنجے میری بستی کی گردن میں پیوست ہیں۔ نا تصویر بن رہی ہے، نا مقابلہ باقی بچا ہے لیکن فیصلہ سازوں نے تصویر بنانے کی ٹھانی ہوئی ہے۔ رنگ ساز کی جگہ کمہار نے لے لی ہے لیکن تصویر بنانے کے نام پر بستی والوں سے پیسا لیا جا رہا ہے۔ تقدیر بدل گئی ہے لیکن فیصلہ سازوں کی اولادوں کی، درباری ملاوں، دانشوروں اور مبلغین کی۔ پستی کی گہرائیوں میں غوطہ زن عوام اب بھی اپنی بستی کی شہرتوں کے تصوراتی رومانس میں بھوک ننگ اور بیماری جیسے عفریتوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت عوام کو نکما، کاہل اور کام چور بنایا جاتا ہے۔وہ اسباب کی دنیا میں دوڑتے برق رفتار گھوڑے کو مقدر اور تقدیر کے رسے سے باندھنے پر بضد ہیں۔ خوف، لالچ، کینہ اور نفرت جیسے منفی رویے اب ہماری بستی کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ اس انسانوں کے جنگل میں اب ہمارے فیصلہ ساز باقی ترقی یافتہ بستیوں کے احکامات کی بجا آوری اور اپنی عوام کو دبانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہم بستی کے افتخار کی حقیقی خواہش کا اظہار تک نہیں کر سکتے۔ ایک خوف بے نشاں ہے جو رگوں میں سرایت کر چکا ہے۔ اک بے سمت سفر ہے کہ چلے جا رہے ہیں۔ منزل ہے کہ راستوں کے ساتھ طویل تر ہوتی جا رہی ہے۔
ایک بات مگر اقتدار کے مسند نشینوں کو سمجھنی چاہیے کہ اپنی بستی کی عوام کو آپ فیک تصویری مقابلے میں الجھا لیں، تجارت پیشہ مبلغ اور مبصر کے ذریعے عوام کو بیوقوف بنا لیں آپ کا اختیار ہے، لیکن اس سے آپ بھی ہر جگہ نامراد ٹھہریں گے۔ پیسہ کی ظاہری چمک اور کوٹھیوں، بنگلوں سے کہیں برتر ہے کہ ان لاچار و بے کسوں کے دل میں چھونپڑیاں آباد کریں۔ فی زمانہ رائج خوشحالی کے معیارات کو اپنائیں۔ سائنس کے پاوں پکڑ کر معافی مانگیں اور آئیندہ اس کو ماتھے کا جھومر بنا لیں۔ رجعتی رجحانات کو سازشوں کے جال بننے میں استعمال کی بجائے دفن کر دیں۔ رنگ ساز کس رنگ ساز رہنے دیں اس سے مصوری کا کام مت لیں۔ پلمبر سے رنگائی کا کام مت کروائیں اور درزی کے ذمے سنگ تراشی نا لگائیں۔ ہم اس بستی کی مٹی سے وفا نبھاہیں اور اس کو سرفراز کریں۔
یاد رکھیں شاطرانہ سازشیں اور ان کے بنت کار ہمیشہ تاریخ میں بدنام اور رسوا حیثیت سے جگہ پاتے ہیں۔ سازش چاہے جتنی بھی گہری کیوں نا ہو ایک نا ایک دن عیاں ضرور ہوتی ہے۔ پھر سورج کی روشنی شاہد ہے کہ اس طرح کے ننگ انسانیت اقدامات اور کردار رات کی تاریکی میں بھی بدنام رسوا ہوتے ہیں اور دن کے اجالے میں ذلت ان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔

میرے سہمے ہوئے لوگوں کو بتایا جائے
چیخ اٹھنے سے بھی ماحول کا ڈر جاتا ھے

ڈاکٹر رؤف قیصرانی کا بنیادی تعلق کوہ سلیمان تونسہ شریف سے ہے،شاعر اور کالم نگار ہیں۔خطے میں پولیٹیکل معاملات ہوں یا انسانی حقوق ہمیشہ آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں۔انکے لکھنے کا انداز الگ تھلگ اور منفرد ہے جو انکی شخصیت کو نمایاں کرتا ہے۔
ڈاکٹر رؤف قیصرانی
ڈاکٹر رؤف قیصرانی
ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close