بلوچستانپہلا صفحہ

بلوچستان میں نئی سیاسی پارٹی بنانے کی بازگشت،پریشر گروپ بنانے پر بھی غور۔۔! آخری قسط

نوکری کے دوران بیانیہ کچھ ریٹائرمنٹ پر کچھ ،اب چلے ہوئے کارتوس نئی بندوقوں میں نہیں لگتے

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی رشید بلوچ کی اس پوسٹ کے بعد متعدد کمنٹس دیکھنے میں آئے کس نے کیا کیا کہا اور لکھا  آیئے دیکھتے ہیں۔

سینئر صحافی،ادیب اور شاعر عابد میر نے اپنے  مختصر کمنٹ میں لکھا ہے کہ ’’ریٹائرمنٹ کے بعد انقلابی‘‘

محمد امین مگسی نے تنقیدی انداز میں کچھ اس طرح کہتے ہیں ’’بنائیں بنائیں ایک نہیں دو تین چار نئی جماعتیں بنائیں ، ویسے بھی بلوچستان میں سیاسی پارٹیوں کی شدید قلت ہے ‘‘

سینئر صحافی شاہد رند اپنی رائے کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں ’’ بلوچ کا المیہ نوکری کے دوران بیانیہ کچھ ریٹائرمنٹ پر کچھ بھائی معذرت اب چلے ہوئے کارتوس نئی بندوقوں میں نہیں لگتے اور ہاں مکران میں قوم پرستی کی سیاست کے سرخیل اب وفاق کی جماعتوں کا حصہ ہے قوم پرست سیاست کے شئیر میں پارلیمانی تین جماعتوں کے بعد اگر چوتھی بنی تو پھر اللہ ہی حافظ ‘‘

شیر احمد قمبرانی لکھتے ہیں ’’جناب کہور خان کی کچھ باتوں سے ہمیًں تضاد ہے کچھ حقیقت پر لیکن شاید نہیں قوم پرست پارٹی سامنے اجائے اور اس کی سرپرستی نوجوان طبقہ کے ھاتھ میں ہو اور تھنک ٹینک صرف ان کے ساتھ مشاورت کی حد تک ہو پارٹی ممبر ضرور ہونگے لیکن کمان کسی نوجوان کے ہاتھ میں ہوگا ‘‘
ڈاکٹر منظور رند اپنے ٹیوٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’دانشوروں کا ایک نیا سیاسی فورم بلوچستان کے سیاسی خلا کو ختم کرسکتا ہےکیونکہ موجودہ قوم پرست قیادت اپنے قبائلی اور مالی مفادات کے لئے جدوجہد کر رہی ہے ‘‘
شہزادہ علاؤالدین بلوچ کے مطابق ’’چلے ہوئے کارتوس اب کیا کرسکتے ہیں؟جب کام و خدمت کرنے کا وقت تھا تو گالی گلوچ اور نفرت کا اظہار ،اب مصروفیات کے لیے ہمیں بے وقوف بنانے و لالی پاپ دینے کا وقت گزر چکا ہے ‘‘
میر چنگیز مری نے شہزادہ علاؤالدین بلوچ کو ٹیگ کرکے لکھا ہے کہ ’’ واہ سر آپ نے بہترین عکاسی کی یہ وہی کہور ہے جب عروج پر تھے تو جالب و رازق کے غداری کے ساتھ انکا بھی نام تھا ‘‘

نعمان حبیب بنگلزئی کمنٹ کرتے ہیں  کہ ’’ ایک نئی سیاسی پارٹی کی جگہ ہمیشہ ہوتی ہے پر اس وقت ہمیں ایک نوجوانوں کے سرپرستی میں چلنے والی پارٹی کی ضرورت ہے جو روایتی سیاست کو رد کرتے ہوئے اپنے اور اپنی آنے والی نسل کی بقاء کیلئے سوچے اور اقدام اٹھائے ‘‘

اسلم بلوچ لکھتے ہیں کہ ’’ رپورٹ تو بھائی لوگوں کی ہے۔ اب اندرون خانہ کچھ پتہ نہیں کہ وہ یہ سب کیوں دیکھ رہیے ہیں۔ ان کے ایجنڈا کا حصہ ہے یا وہ یہ سب نہیں دیکھنا چاہتے۔ البتہ ان کی پوری پوری نظر ہے اس پہ‘‘

بہرام بلوچ کے کمنٹس کچھ اسطرح ہیں ’’ کسی نئی پارٹی کے قیام ،نیشنل پارٹی یا بی این پی مینگل میں شمولیت سے بہتر ہوگا کہ ایک پریشر گروپ قائم کیا جائے جو نیشنل پارٹی اور بی این پی مینگل کے درمیان نزدیکی کی راہ ہموار کرتے ہوئے ابتدائی مرحلے میں بلوچستان کےاجتماعی معاملات میں چند نکات پر اتحاد کی شکل میں دونوں پارٹیوں کے درمیان نزدیکی پیدا کرنے کی کوشش کرے ‘‘

شاہد رند نے بہرام بلوچ کو ٹیگ کرکے لکھا ہے کہ ’’ یہ کام نہ ہونے والی بات ہوئی ‘‘
لال بخش بلوچ نے کمنٹ کو شاعری کی صورت میں کچھ اس طرح پیش کیا ہے 
’’ عشق اور سکون دونوں ایک ساتھ 
رہنے دو غالب کوئی عقل کی بات کرو ‘‘

شہزادہ علاؤالدین بلوچ نے کمنٹ میں لکھا ہے کہ ’’پارٹی بنانا کوئی بڑی بات نہیں مگر عوام کا اعتماد اور منظم کرنے کے لئے جو جذبہ چاہیں وہ مشکل دیکھ رہا ہے۔‘‘

ضیاء ظہور بلوچ اپنے کمنٹ میں تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’ بلوچستان عوامی پارٹی بہترین آپشن ہے کیونکہ قوم پرستی سے لیکر وہ دیگر ہر پرستی والے خصوصیات سے مزین پارٹی ہے ۔بلوچستان کے اکثر سیاست دان موقع و مناسبت کی سیاست کرتے ہیں تو بلوچستان عوامی پارٹی بنی اسی مقصد کے لئے ہے۔بلوچ بیوروکریٹ سروس کے دوران اللہ کی کوئی اور مخلوق ہوتی ہے مگر جونہی ریٹائر ہو جاتا ہے گویا اس میں قوم پرست والی سافٹ وئیر انسٹال ہو جاتا ہے ‘‘
 
احمد جان نے نئی بننے والی سیاسی پارٹی یا پریشر گروپ کے بارے میں لکھا ہے کہ  ’’یہ چلے ہوئے کارتوس ہے بھائی!!! انہوں نے ہی بلوچستان کی سب سے زیادہ متحرک ومنظم طلباء تنظیم کو تقسیم کرکے بلوچستان کے اندر برادر کشی کو پہلی دفعہ فروغ دیا ۔انہوں نے کج روی اور کج بحثی کو فروغ دیکر معصوم نوجوانوں کو فضول کے سیاسی اصطلاحات(کہیں ایسا تو نہیں کتابچہ لکھ کر) میں کنفیوز کر کے گمراہ کیا ۔اب بھی یہ لوگ موجودہ پارٹیوں سے کچھ لوگوں کو الگ کرکے ایک نیا ڈرامہ کرینگے ’’
ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close