بلوچستان

سانحہ ڈنک تربت،مرکزی ملزم سمیر سبزل کی عدم گرفتاری،عوام سراپا احتجاج

47 ڈگری گرمی کے باوجود برمش بلوچ کو انصاف دلانے کیلئے سینکڑوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے

سانحہ ڈنک تربت،مرکزی ملزم سمیر سبزل کی عدم گرفتاری،عوام سراپا احتجاج

تربت (سہب حال)  بلوچستان کے شہر تربت میں سانحہ ڈنک کیخلاف  پر امن احتجاج میں سینکڑوں کی تعداد میں بچے جوان بوڑھے ہوئے خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔شہر کے وسط میں واقع شہید فدا چوک پر مظاہرین نے دھرنا بھی دیا،مختلف سیاسی اور سماجی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس احتجاج میں شامل ہوئے اور  خطاب بھی کیا۔ڈنک واقعے میں متاثرہ خاندان کے افراد نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔

عوامی سیلاب کا مجرموں اور انکے حمایت کرنے والوں کیخلاف نفرت کا اظہار

تربت احتجاج شریک مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ عوامی سیلاب مجرموں اور ان کی حمایت کرنے والوں کیخلاف نفرت کا اظہار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تربت شہر اور گرد و نواح میں چوری اور ڈکیتی کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے جن میں لوگوں کو مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ جانی نقصانات بھی اٹھانے پڑرہے ہیں لیکن متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے پیش رفت دیکھنے میں نہیں آسکی ہے۔

واقعہ میں ملوث اصل کرداروں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ڈنک واقعہ میں ملوث اصل کرداروں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ مکران بھر میں سادہ لباس غیر سرکاری مسلح افراد کچھ اہم شخصیات کی سیکورٹی پر مامور افراد کو غیر مسلح کیا جائے۔

مظاہرے میں جانبحق خاتون  کی بہن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے گھر پر حملہ ہوا ہے تو کل کسی اور کے گھر پر ہوگا لہٰذا واقعے میں ملوث اصل مجرمان کو کٹہرے میں لاکر انصاف کے تقاضے پورے کیئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ انصاف نہ ملنے تک ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

مسلح افراد نے ایک گھر میں گھس کر ڈکیتی کے دوران مذاحمت پر خاتون کو قتل دیا تھا 

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے تربت کی تحصیل ڈنک میں رات کو مسلح افراد نے ایک گھر میں گھس کر ڈکیتی کی کوشش کی۔ اس دوران مزاحمت پر مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون موقع پر جان کی بازی ہار گئیں  تھیں جبکہ اس کی چار سالہ بیٹی برمش زخمی ہوئیں جو تاحال کراچی کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں ۔علاقہ مکینوں نے مسلح افراد کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کردیا تھا

ڈنک واقعہ کے خلاف سوشل میڈیا میں بھی سخت ردعمل

ڈنک واقعہ کے خلاف سوشل میڈیا میں بھی سخت ردعمل دیکھنے میں آیا اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا ۔حکومت اور سیاسی پارٹیوں کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔یاد رہے کہ برمش بلوچ کے لئے انصاف کی آواز پر ریلی سب سے پہلے گوادر میں نکالی گئی اور برمش بلوچ کو انصاف فراہم کرنیکا مطالبہ کیا گیا۔اس ریلی کے بعد برمش کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے بلوچستان بھر میں پر امن ریلیاں اور جلسے جلوس نکالے جارہے ہیں

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹیوٹر پر برمش بلوچ کے ساتھ اظہار یکجیتی کچھ اس انداز میں کیا گیا

 

بلوچستان کے معروف آن لائن جریدے ’’ حال حوال ‘‘ میں ایک مضمون لکھا گیا ہے جس کے مطابق ’’ سلیمان ہاشم لاقانونیت کی فضا، ریاستی اداروں کی مبینہ چشم پوشی کی وجہ سے تربت کیچ میں دوبارہ ڈاکو، چور، رہزن اور قاتل سر اٹھا رہے ہیں۔ بلوچ اقدار اور روایات کی دھجیاں اڑائی گئیں ہیں۔ سیاسی، صحافتی حلقے اور سول سوسائٹی اپنا کردار ادا کریں۔ اس سلسلے میں آج گوادر کے نوجوانوں نے ظفر عیسیٰ کی قیادت میں جاوید کمپلکس سے گوادر پریس کلب تک ایک احتجاجی ریلی نکالی جس میں درجنوں افراد نے حصہ لیا۔ جب یہ ریلی گوادر پریس کلب پہنچی تو مظاہرین نے برابر نعرے لگا کر ڈنک تربت کے علاقے کی شیر زال خاتون کے قاتلوں اور ننھی منی بچی برمش کو زخمی کرنے والے غنڈوں اور ڈاکوؤں کے سرغنہ کو فوری گدفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔‘‘

’’ ذولفقار علی زلفی ‘‘ کی وال پر ایک آرٹیکل لکھا گیا ہے جسمیں کہا گیا ہے کہ ’’سانحہ ڈنک کے خلاف بلوچ سراپا احتجاج ہیں ـ احتجاج کا دائرہ مسلسل پھیلتا جارہا ہے ـ شنید ہے بروزِ جمعہ کراچی کے بلوچ بھی اس سانحے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے جارہے ہیں ـ کوئٹہ سے بھی ممکنہ مظاہرے کی اطلاع آرہی ہے ـ گمان غالب یہی ہے کہ خضدار اور مستونگ بھی عنقریب اس کاروان کا حصہ بنیں گے ـ‘‘

فیس بک صارف ‘‘ مہر جان ‘‘ نے لکھا ہے کہ ’’سمیر ڈیتھ اسکواڈ کا سرغنہ جنہوں نے تربت میں اک گھر پہ حملہ کرواکےاک خاتون کو مزاحمت پہ شہید کیا گیا اور بچی کو زخمی۔۔۔۔۔ بلوچستان کے فنانس منسٹر کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے جب فنانس منسٹر کے خلاف سوشل میڈیا پہ آواز اٹھی تو فنانس منسٹر کا یہ کہنا تھا کہ وہ پی سی ہوٹل گوادر میں بیٹھے تھے کہ ان کے پاس یہ مجرم سیلفی لینے آیا تھا لیکن اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ لوگ پی سی ہوٹل کی بجاۓ تربت کے ڈی سی آفس میں بیٹھے ہیں اب اک جرائم پیشہ فرد کا فنانس منسٹر اور ڈی سی آفس میں کیا کام ‘‘

یہ بھی پڑھیئے

سانحہ توتک سے لیکر سانحہ تربت تک تمام سیاسی پارٹیاں اور حکومتیں بے بس

سانحہ کیچ کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی،ڈاکٹر عبدالمالک کی پریس کانفرنس

گزشتہ دنوں نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے  نے کہا تھا کہ  ریاست کے اندر ریاست بنانے اور پرائیویٹ لشکر چلانے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیئے، سیاہ شیشوں والی گاڑیاں کلاشنکوف لیئے اور جھنڈا سامنے رکھ کر عین سڑک کے درمیان کھڑے ہوکر روڑ بلاک کرتے رہتے ہیں، آخر یہ کیسے طاقتور لوگ ہیں کہ جنہوں نے پرائیوٹ لشکر بنا رکھے ہیں

خیال رہے کہ ڈنک واقعے کے بعد تربت سمیت بلوچستان میں حکومتی اداروں کو ڈیتھ اسکواڈوں کے سربراہی کا الزامات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ماضی میں بھی کچھ اداروں پر بھی اس نوعیت کے الزامات لگائے جاچکے ہیں۔

مسلح جھتوں نے کیچ سمیت پورے بلوچستان کو یرغمال بنا لیا

بلوچستان نیشنل پارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ جب سے حکومت بزور بندوق وجود میں آئی ہے مسلح جھتوں نے کیچ سمیت پورے بلوچستان کو یرغمال بنا کر اغواء برائے تاوان، سیاسی کارکنوں کو لاپتہ کرنا، بلوچ ماؤں اور بچیوں کی بے حرمتی کرکے ان کو شہید کرنا، بھرے بازار میں چوری ڈکیتی رہزنی اور لوٹ مار شروع کر رکھی ہے۔

صوبائی وزیرداخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کا بیان

دوسری جانب ’’ روزنامہ انتخاب ‘‘ میں شائع کی گئی ایک خبر کے مطابق  صوبائی وزیرداخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ ’’ سانحہ تربت ہزارہ ٹاؤن کے واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ہماری عدالتیں آزاد ہیں بہت جلد انصاف مل جائے گا مختلف سیاسی پارٹیوں نے تربت واقعے کو غلط رنگ دے رہے ہیں ان پارٹیوں کا آخری سانسیں چل رہی ہیں انہوں نے ہمیشہ لاشوں پر سیاست کیا ہے عوام اب باشعور ہیں کسی کے بہکاوے میں نہیں آئینگے

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close