بلوچستانپہلا صفحہتاریخکوئٹہکوئٹہ ڈویژن

شال کی یادیں (1) زرک میر

سہب حال

نواب بگٹی نے کہا تھا کہ شال یروشلم ہے ۔کوہ سلیمان چلتن ہربوئی شاشان اور کوہ باتل کا سیاسی سنگم ہے یہ ہماری پہچان ہے ۔ شال کی سیاسی تاریخ یوں تو بہت پرانی اور وسیع ہے۔ اور اس میں کئی نسلوں قوموں طبقوں اور گروہوں کی جدوجہد کی تاریخ دفن ہے ۔ہم نے بھی اپنی زندگی کے کچھ سال شال میں گزارے اورغم روزگار کیساتھ ساتھ سیاست میں بھی ایک ناظر کی حیثیت سے شامل رہے ۔ کوشش کرونگا کہ اس تحریر میں قسط وار اپنی یاداشت بیان کرسکوں۔بالخصوص 90 کی دہائی سے سیاسی اتارچڑھاؤ ۔ پشتون اور ہزارہ کیساتھ تضاد ، اسٹیبلشمنٹ کیساتھ تضادات سمیت سیاسی پارلیمانی اور مزاحمتی تحریک کا اپنے طورپر احاطہ کرنے کی کوشش کرونگا ۔ایک دوست کی تجویز پر یہ تحریر لکھنے کی سعی کی ہے۔

نواب مری کی افغانستان واپسی کیلئے ائیرپورٹ جانا میرا پہلا سیاسی سفر تھا جو میں نے لاشعوری طورپر والد کے ساتھ جاکر شروع کیا۔والد صاحب مجھے لے گئے ۔ مجھے یاد ہے کہ ماما فیروز لہڑی کی تین چار بسیں بھی قافلے میں شامل تھیں جن پر جے ڈبلیو پی کے جھنڈے لگے تھے کہ ماما فیروز اس وقت نواب بگٹی کے انتہائی قریب تھے تاوقتیکہ جنرل مشرف آئے اور ریفرنڈم کرایا تو ماما اپنا دیرینہ سیاسی تعلق برقرار نہ رکھ سکے کہ وہ ہمارے واحد بڑے ٹرانسپورٹر ہیں مشرف کا کافی دبائو تھا اس لئے کاروباری حلقوں کو اپنے مستقبل کی فکر پڑ گئی تھی۔(اعلانیہ نہ سہی لیکن یہ تعلق اور قربت تادیر جاری رہا ۔اس قربت کو ذہن میں لاتے ہوئے طلال بگٹی نے لانگو لہڑی قبائلی جنگ میں لہڑی قبیلے کو مدد وکمک کی پیشکش کی جس پر وضاحتیں بھی سامنے آئیں ۔ )

میں انہی بسوں میں سے ایک بس میں بیٹھ گیا ۔ ائیر پورٹ پر گئے لیکن شام سے رات ڈھلنے لگی ۔ اچانک جہاز کی بتی فضاء میں سرخ نظر آئی یہاں زمین پر موجود قافلے تھکے ماندے تھے لیکن جہاز کی بتی دیکھ کر سب کھڑے ہوگئے اور نعرے بازی شروع ہوگئی اور سب کہنے لگے ” مری مینگل آئیں گے انقلاب لائیں گے ” لیکن سراسیمگی سی پھیل گئی اورمیں والد صاحب کیساتھ ایک میدان میں بیٹھا یہ مناظر دیکھ رہاتھا تو کہاجانے لگا کہ جہاز نہیں اتر سکا ۔ بتایاگیا کہ اب ۔جب مناسب ہوگا تو جہاز کو اترا جائیگا ۔جہاز اسلام آباد لے جایا گیا۔ اسی اثناء میں پشتونوں کے غیبیزئی قبیلے کے لوگ اپنی اسلحہ بند گاڑیوں میں پہنچ گئے سب کھڑے ہوگئے اورحیران رہ گئے کہ پشتون کیوں آئے ہیں ۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ محمود اچکزئی کے مخالفین ہیں جو نواب مری کے استقبال کیلئے آئے ہیں اور خیر سگالی چاہتے ہیں کہ اس وقت بلوچ پشتون مسئلہ زوروں پر تھا ۔ نواب خیر بخش مری کے استقبال کیلئے ہر علاقے سے لوگ آئے تھے ۔ مری تو کافی تعداد میں تھے ۔

خیر نواب مری اس رات نہ آسکے ۔ کہاگیا کہ اگلی صبح آئیں گے ۔اسی اثناء میں ائیر پورٹ کے اندر کارکنوں نے جاکر کچھ ہلڑ بازی مچائی جس پر کچھ کو گرفتار بھی کیاگیا لیکن ریاست استقبال میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنا نہیں چاہتی تھی کہ اس وقت کی حکومت ہی نواب خیر بخش کو واپس لانا چاہتی تھی ۔ تاج جمالی وزیر اعلیٰ تھے جو نواب خیر بخش کے ذاتی دوست بھی تھے جبکہ صوبائی حکومت کے سینئر وزیر نواب اسلم رئیسانی بھی اس میں پیش پیش رہے وہ بھی افغانستان جاکر نواب کیساتھ واپس آنےوالوں میں جہاز میں موجود تھے ۔اب چونکہ نواب صاحب کا جہاز اتر نہ سکا اورجب تک نواب مری شال پہنچیں ہم شال کی سیاسی رجحانات پر بات کرتے ہیں ۔

شال کو ہم بلوچ سیاست کے حوالے سے دو بڑے حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔اول اور بڑا حصہ سریاب ہے جو کہ گڑھ ہے جبکہ دوسری جانب ہدہ کلی اسماعیل اور پھر ائیر پورٹ کے کچھ علاقے بھی انہی کیساتھ سیاسی رجحان رکھتے آئے ہیں جبکہ بروری میں چند قبائل آباد تھے جن کا سیاسی رجحان سریاب کیساتھ زیادہ میل کھاتا تھا جہاں اب سب سے زیادہ نئی آبادیاں بنی ہیں جن میں ہزارہ سمیت مختلف نسلوں اور قوموں کی آبادیاں شامل ہیں جہاں اب بروری کسی سیاسی تبدیلی کی پوزیشن میں نہیں تاہم موجود مقامی آبادی اب بھی سیاسی حوالے سے متحرک ہے۔

سریاب آبادی اور علاقے کی مناسبت سے سیاسی قلعہ رہا ہے اور اب تک ہے تبدیلی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ تاہم ہدہ اور کلی اسماعیل کو جو بات سریاب سے الگ کرتی ہے وہ ہے سیاسی وابستگیوں میں واضح فرق ۔ یعنی 90 کی دہائی میں جب بلوچ سیاست بی این ایم کے دو گروپوں کی صورت میں سامنے آگئی تو کوئٹہ کے یہ علاقے بھی تقسیم ہوگئے ۔یعنی سریاب اخترمینگل کیساتھ جڑ گیا (نظریاتی اور کامریڈوں کی بات الگ ہے یہاں اکثریتی حوالے سے بات ہورہی ہے جبکہ نواب مری کی مزاحمتی سیاست اور نواب بگٹی کی حمایت الگ تھی ۔ منطرعام پارٹیاں یہی دونوں بی این ایم مینگل اور حئی تھیں ) جبکہ ہدہ اور کلی اسماعیل اکثریتی طورپر بی این ایم حئی گروپ کیساتھ جڑے رہے ۔ ہدہ اور کلی اسماعیل میں انتہائی اہم اور معتبر نام نیپ سے لے کر 90 کی دہائی اور اب تک سیاسی تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔

کامریڈ مولاداد سرپرہ (جن کی صحت یابی کا متمنی ہوں) کامریڈ غلام رسول کامریڈ عنایت اور لانگو قبیلے میں انتہا ئی قربانی دینے والے لوگ شامل تھے بعد میں کامریڈ نیاز وغیرہ بھی شامل ہوگئے ۔ یعنی ہدہ اور کلی اسماعیل ایک ساتھ ایک ہی سیاسی رجحان رکھتے تھے ۔ یہاں بھی نواب مری کے حامی کافی تھے لیکن چونکہ وہ سیاسی حوالے سے کسی پلیٹ فارم اور جھنڈے تلے نہیں تھے اسی طرح نواب بگٹی کو بھی اچھی خاصی حمایت حاصل تھی ہدہ اور کلی اسماعیل میں لیکن منظرعام کی پارٹیوں بی این ایم حئی اور اختر کے حوالے سے ہدہ اور کلی اسماعیل کے عوام میری نظر میں بی این ایم حئی کے حامی تھے جبکہ سریاب میں مینگل گروپ انتہائی مضبوط رہا ۔

ایک دلچسپ واقعہ کہ نیپ کا دور تھا سردار عطاء اللہ مینگل شال آئے ہوئے تھے تو انہیں تنظیم سازی کیلئے بارہا ہدہ اور کلی اسماعیل بلایاگیا تو ایک جگہ انہوں نے کہا کوئی ہمیں سریاب بھی دعوت دے تاکہ انگور اور سیب کھاسکیں ہدہ اور کلی اسماعیل میں چائے پر ہی گزارہ ہے ” جس پر بعد میں سردار عطاء اللہ مینگل کو سریاب بلایا گیا اور اس پروگرام کا اعلان ہدہ میں ہی کیاگیا ۔

ہدہ اورکلی اسماعیل نے پشتون کیساتھ تضاد میں انتہائی اہم مورچے کا کردار ادا کیا کیونکہ یہ علاقے شہر کے وسط کے علاقے تھے اور پشتون آبادیوں کیساتھ منسلک بھی ۔ پشتونوں کیساتھ بڑا تصادم بھی عالمو چوک پر ہوا جو کلی اسماعیل کا ہی حصہ ہے جس میں پشتونوں نے حملہ کرکے ہدہ اور کلی اسماعیل کے نکالے گئے مظاہرین پر حملہ کردیا جس میں لانگو قبیلے سمیت دیگر قبائل اور سیاسی کارکن قتل ہوئے اور کئی زخمی ہوئے ان زخمیوں میں ایک بعد میں نواب مری کے انتہائی اہم ساتھی اور نامور مزاحمتی رہنماء امیر بخش لانگو بھی شامل تھے جن کو اس وقت گہرے زخم آئے تھے بعد میں اس واقعہ کا بدلہ جناح روڈ پر پشتونخوامیپ کے دفتر پر حملے کی صورت میں لیاگیا ۔ تاہم واقعہ کی نہ تو کسی نے ذمہ داری قبول کی اور نہ ہی یہ ممکن تھا کہ اس وقت سیاسی تنظیمیں ہی متحرک تھیں ۔

افوائیں اڑتی رہیں کہ نواب بگٹی نے اقدام اٹھایا کئی من چلوں نے ثناء اللہ زہری اور اسرار تک کانام لیا بعد میں عقدہ کھلا تو پتہ چلا کہ معاملہ کچھ اور ہی تھا ۔ بہر صورت ہدہ اور کلی اسماعیل جو دو الگ الگ علاقے ہیں اور الگ شناخت رکھتے ہیں لیکن دونوں جغرافیائی طورپر منسلک ہیں درمیان میں سمنگلی روڈ دونوں علاقوں کو تقسیم کرتا ہے لیکن سیاسی رجحان ایک ہی ہے دونوں علاقوں کا ۔ میری رہائش اور مشاہدہ زیادہ تر ہدہ کی طرف تھا اور میں بعد میں بی این ایم حئی کا حامی بھی رہا جس سے ہدہ کی طرف مائل ہونا فطری تھا ۔ چنانچہ ہدہ کی آبادی مکس ہے جہاں منو جان روڈ پرہمارے مختلف قبائل رہتے ہیں اسی طرح ہدہ بھی مختلف قبائل کی رہائش گاہ ہے ۔

زہری نیچاری سرپرہ بگٹی ملازئی دہوار محمد حسنی اور جمالی وغیرہ ہدہ میں رہتے ہیں (برسرسبیل زرک زہری کا تذکرہ بھی ہو جو ہدہ میں بابو نوروز اسٹیڈیم کے سامنےبڑے سے گھر میں اپنی غیر ملکی اہلیہ ثنے (شنے) زہری اور اپنے ایک عدد پیارے گدھے کیساتھ رہتے ہیں کیونکہ انہیں گدھے پالنے کا شوق ہے یہ گھر میر نبی بخش زہری کے دور کا ہے جو زرک کے حصے میں آیا ہے )۔ اسی طرح اسٹیڈیم کے گیٹ کے سامنے جمالی ہائوس ہے جو قدیم ہے اور قدیم طرز سے انتہائی خوبصورت انداز میں بنا ہے جہاں جمالی خاندان رہتا ہے ۔ منوجان روڈ پر کاسی قبیلے کی زمینیں زیادہ ہیں لیکن اب ہمارے قبائل بہت زیادہ رہتے ہیں ۔ جبکہ کلی اسماعیل بنیادی طورپر میروانی قبیلے کی ملکیت ہے اور یہ اسماعیل نام بھی میروانیوں سے منسوب ہے ۔ کلی اسماعیل سے لے کر آرڈیننس ڈپو تک میروانیوں کی ملکیت کا دعویٰ بھی کورٹ میں چل رہاتھا تاہم اب کلی اسماعیل میں اکثریتی قبیلہ لانگو قبیلہ ہے جو غیور قبیلہ ہے جس نے شال میں پشتون کیساتھ تضاد سمیت مجموعی سیاسی ومزاحمتی تحریکوں میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ۔ اس حوالے سے انتہائی معتبر نام قابل ذکر ہیں ۔

(کل مضمون کا آغاز نواب خیر بخش مری کے استقبال سے دوبارہ شروع کرینگے ۔ہدہ اور سریاب کا سیاسی تعارف بھی ساتھ ساتھ ہوتا رہے گا ۔ غلطیوں اور رہ گئی چیزوں کی نشاندہی لازمی کریں ۔ فی الحال اتنا ہی )

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close