بلوچستانپہلا صفحہ

شال کی یادیں (11) زرک میر

سہب حال

"شال کی یادیں ” میری بچپن کی یادیں ہیں

سچ پوچھیئے تو ”شال کی یادوں“ کا جو سلسلہ شروع کیا ہے جو اب تک خالصتا سیاسی یادوں پر مشتمل ہے اس سے میری محبت کی داستان اور دوسرے موضوعات پر لکھنے کا سلسلہ رک سا گیا ہے ۔ میں خود شال کی یادوں کے "سلسلے” میں اس قدر ڈوب گیا ہوں کہ ”شیتل کی گہری محبت“ کے سوا کچھ یاد نہیں رہتا، کیونکہ "شال کی یادیں ” میری بچپن کی یادیں ہیں اور میں نے بچپن میں سمجھ بوجھ کا آغاز اپنے تئیں سیاسی حوالے سے ہی کیا، بعد میں محبت کی وادی میں یوں گیا کہ زندگی محبت کی ہوکررہ گئی لیکن سیاست سے دلچسپی بھی یونہی چلتی رہی

میرے جسم میں یوں ٹھنڈ پڑ گئی کہ جیسے میں شیتل سے بغل گیر ہوگیا ہوں

سیاست جیسے سخت اور خشک موضوع میں محبت کی یادیں یو ں بھی آج در آئیں کہ میں ”شال کی یادوں“ کی یہ گیارہویں قسط میری محبت اور شتیل کیساتھ محبانہ ملاپ کی قیام گاہ گڈانی میں لکھ رہا ہوں ۔ آج چار بجے گڈانی پہنچا تو پسینے سے شرابور جب میں ساحل پر اترا اور یوں سمندر کو دیکھنے لگا تو لہریں تیزی سے میری جانب آتی دکھائی دیں کہ ان سے انسیت محبت اور سنگتی کی بھی ایک تاریخ ہے، ان کے ساتھ ہی ایک خنک ہوائوں سے خوشگوار ٹھنڈک محسوس ہوئی جس سے میرے جسم میں یوں ٹھنڈ پڑ گئی کہ جیسے میں شیتل سے بغل گیر ہوگیا ہوں

کاش آج شیتل میرے ساتھ ہوتی تویہ تحریر مزید یادگار بن جاتی

گڈانی کی ساحل پر یہ قسط لکھ کر بہت لطف آرہا ہے۔ ایک برازیلی خستہ حال بحری جہاز کافی عرصہ سے لنگر انداز ہے میں اس کے اوپری حصے پر بیٹھ کر سمندر کو دوردور تک دیکھ کر پرانی یادوں کو یاد کرنے کی کوشش کررہاہوں اور لکھ رہا ہوں اس لئے آج سیاسی یادوں پر رومانویت کی کیفیت زیادہ طاری ہے اس لئے میں کوشش کررہا ہوں کہ ان سیاسی یادوں کی طرف آؤں اور پھر بھی کچھ بے ربط اور بے ساختگی ہوئی تو معذرت چاہونگا (آج میں گڈانی ساحل کی تصویر دینے پر مجبور ہوں ) کاش آج شیتل میرے ساتھ ہوتی تویہ تحریر مزید یادگار بن جاتی جو میرے لکھنے پر میرے کندھوں پر آکر اپنی ٹھوڑی رکھ کر میرے لکھے الفاظ زور زور سے پڑھتی اور کہتی سب کچھ غلط لکھا ہے ،تمہیں تو بالکل لکھنا نہیں آتا بدھو ۔ میں یوں مڑ کر اسے دیکھ کر مسکراتا اسے "کس” کرتا تو وہ شرماتی ہوئی ” یا ” بول کر پیچھے ہٹتی

دونوں سیاسی کی دوستی یونہی جاری رہی جو بعد میں رشتہ داری میں بدل گئی

خیر اب آتے ہیں موضوع کی طرف ۔ بلوچستان کی سیاست ایک طرز پر نہیں رہی ہے کبھی مسلح گوریلہ جدوجہد عروج پر رہی ہے تو کبھی سیاسی وپارلیمانی قوتیں اپنی طاقت کا بھرپوراظہار کرتی رہی ہیں ۔ نیپ کے خاتمے اور حیدر آبا دسازش کیس سے بریت کے بعد سیاست کے کئی زوایئے بنے،اور ان سب کا ماخذ نیپ تھا ،جس سے یہ سب نکلے، نواب خیر بخش مری جو پہلے ہی مسلح مزاحمت کے حامی تھے وہ افغانستان چلے گئے، سردار عطاء اللہ مینگل علاج کی غرض سے لندن چلے گئے دونوں سیاسی کی دوستی یونہی جاری رہی جو بعد میں رشتہ داری میں بدل گئی جہاں سردار عطاء اللہ مینگل کے بڑے صاحبزادے جاوید مینگل کی شادی نواب خیر بخش کی صاحبزادی زینب سے ہوئی۔ یہ شادی افغانستان میں انجام پائی ۔ سردارعطاء اللہ مینگل گوکہ لندن چلے گئے لیکن علامتی طورپر شیر باز مزاری کی بنائی ہوئی پارٹی سے وابستگی رکھی،میر غوث بخش بزنجو نے الگ راہ اپنا لی اور ”پاکستان نیشنل پارٹی“ کے نام سے پارٹی بنا لی،جس میں بلوچستان کی اہم قبائلی شخصیات چیف آف جھالاوان سردار ثناء اللہ زہری اسرار زہری، چیف آف ساراوان نواب اسلم رئیسانی ولشکری رئیسانی سمیت رازق بگٹی ڈاکٹر حکیم لہڑی اور بی ایس او کے دیگر اہم سمجھے جانے والے رہنماء شامل تھے

میر غوث بخش بزنجو کو لینن ایوارڈ سے نوازہ گیا

اس کے علاوہ سندھ اور پنجاب سے نظریاتی اور فکری کارکن (سوشلسٹ اور نیشنلسٹ ذہن رکھنے والے بھی) پارٹی میں شامل تھے لیکن اس کے باوجود پی این پی بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی بڑی تاریخ نہیں بنا سکی،ایک تو میر غوث بخش بزنجو حیدر آباد سے رہائی کے بعد دس سال تک حیات رہے اس پارٹی میں محض ان کی بھاری بھر کم شخصیت تھی جو خطے میں اپنی ایک الگ اور منفرد پہچان رکھتی تھی۔ میر غوث بخش بزنجو کو لینن ایوارڈ سے نوازہ گیا ،سوویت یونین اور افغان انقلابیوں کے ہاں میر کی بڑی عزت کی جاتی تھی ، جبکہ بنگلہ دیشن کی حکومت نے بھی انہیں بہت اہمیت دی اور ایوارڈ سے نوازا ۔اب بھی میر حاصل کو وہاں مدعو کیاجاتا ہے، پنجاب کے نظریاتی حلقوں میں بھی ان کی بڑی پذیرائی رہی تاہم بعد میں ان کی پارٹی کا مزاج بلوچستان کی ثقافتی سیاسی اور قبائلی ساخت میں میل نہیں کھا پایا۔ جو روایتی مسلح مزاحمتی روایات پربھی استوار ہے ۔تاہم میر غوث بخش بزنجو کی حیثیت مسلمہ ہے اور وہ بلوچستان کے انتہائی معتبر حوالہ ہیں، سردار عطاء اللہ مینگل انہیں اپنا ”سیاسی استاد“ تسلیم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں سیاست کے پرخارزار میدان میں میر بزنجو ہی لے آئے،(نواب مری سے جب میر بزنجو کے استاد ہونے کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے کہا "استاد نہیں جی ہم انہیں غونثی غونثی کہتے تھے بس ) میر بزنجو نے کہا کہ وہ تمام سرداروں کو سیاست میں لاکر ایک بڑی قوت بنانا چاہتے تھے اور وہ سردار عطاء اللہ مینگل کی سیاسی بصیرت کے معترف تھے لیکن 1988کے الیکشن میں میر بزنجو کو مکران سے شکست کے سیاسی ذمہ دار بھی سردار مینگل کو ہی سمجھا جاتا ہے جن کی مخالفت سے میر بزنجو الیکشن ہار گئے تھے میر بزنجو اس حوالے سے سخت نالاں تھے،بعض کہتے ہیں کہ انہیں اس سیاسی شکست کا شدید صدمہ پہنچا جہاں سردار مینگل ودیگر کی حمایت سے منظور گچکی میر بزنجو کوقومی اسمبلی کی نشست سے شکست سے دوچار کرگئے جو میر صاحب کیلئے بالکل غیر یقینی بات تھی ۔میر بزنجو کو لیاری اور مکران میں بڑے پیمانے پر حمایت حاصل تھی ۔

پی این پی سے نیشنل پارٹی تک کا سیاسی سفر بھی دلچسپ ہے

آج نیشنل پارٹی اپنے آپ کو میر بزنجو کی فکر کا سیاسی وارث قرار دیتی ہے جس کی سیاست ماضی میں اینٹی سردار رہی اور اب میر بزنجو کی فکر کی بناء پر سرداروں کو ایک بار پھر یکجا کرنے کی کوشش کررہی ہے جن کو ڈاکٹر مالک (wining horses) کہتے ہیں، پی این پی سے نیشنل پارٹی تک کا سیاسی سفر بھی دلچسپ ہے، میر غوث بخش بزنجو کے11 اگست 1989 کو انتقال کے بعد ان کی پارٹی پر میر بزنجو کی فکر کے دانشور حاوی رہے جن کا تعلق پنجاب سندھ اور بلوچستان سے تھا جن میں رازق بگٹی حکیم لہڑی اور راحت ملک وغیرہ تھے، لیکن میر صاحب کے خاندانی وسیاست کے روایتی خاندانی وارث میر حاصل خان اور طاہر بزنجو بھی پارٹی میں رہے لیکن پارٹی بعد میں مزید غیر فعال ہوتی گئی لیکن چیف آف جھالاوان سردار ثناء زہری،اسرار زہری اورنواب اسلم رئیسانی ولشکری رئیسانی الیکشن اس پارٹی کے پلیٹ فارم سے لڑ تے رہے جہاں سردار ثناء زہری اسرار زہری اور لشکری رئیسانی نے 1993کے انتخابات میں کامیابی بھی حاصل کی،لیکن پارٹی سیاسی سطح پر غیر فعال اور کسی سیاسی پیشرفت کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ حکیم لہڑی نے بھی اپنا دھڑا الگ کرلیا تھا ۔ بالآخر 1996 میں پی این پی کا بی این ایم اختر سے انضمام کیا گیا دلچسپ بات یہ ہے کہ اس انضمام کی کوششوں میں ڈاکٹر حکیم لہڑی پیش پیش رہے جنہوں نے نواب خیر بخش مری کی واپسی پر سیاسی کوششیں شروع کردیں، نواب خیر بخش مری اور سردار عطاء اللہ مینگل کو اپنے جلسہ منعقدہ سریاب روڈ میں مدعو کرکے اس انضمام اور اس ضمن میں نئی پارٹی کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی ۔

نواب خیر بخش مری خود کسی پارٹی میں نہیں جانا چاہتے تھے

ڈاکٹر حکیم لہڑی نے بعد میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ میری اور دیگر بہت سارے دوستوں کی کوشش تھی کہ پی این پی کے دھڑوں کی بی این ایم اختر سے انضمام کرایا جائے اور ایک بڑی پارٹی بنائی جائے جس کے سربراہ نواب خیر بخش مری ہوں لیکن بعد میں میری کوششوں سے انضمام کے امکانات روشن تو ہوئے لیکن مجھے پیچھے دھکیلا گیا اور نواب خیر بخش مری کو سربراہ بنانے کی ہماری کوششیں رائیگاں گئیں اور سردار عطاء اللہ مینگل کو سربراہ بنایا گیا۔ یہاں ڈاکٹر حکیم لہڑی کی بات سے اختلاف کیاجاسکتا ہے کہ نواب خیر بخش مری نے ان کے ہی جلسے میں سب کچھ واضح کردیا تھا کہ انہیں پارلیمانی اور جلسہ جلوس کی سیاست نہیں کرنی ۔ نواب خیر بخش مری خود کسی پارٹی میں نہیں جانا چاہتے تھے اور نہ ہی انہوں نے بی این پی کی سربراہی کے لئے کوئی حامی بھری تھی ،یہ بات میں نے نواب خیر بخش سے خود کراچی میں ایک ملاقات کے دوران پوچھا تو انہوں نے کہا میں خاموش تھا اور ہوں میرے بارے میں براہوئی کی ” لیلی مور“ کی طرح کئی طرح کی باتیں کی جاتی تھیں اور اب بھی کی جارہی ہیں۔ جب پی این پی کے دونوں دھڑوں کا بی این ایم اختر سے 1996میں انضمام ہوا اور سردار عطاء اللہ مینگل کو اس کا سربراہ بنایاگیا تو پی این پی کے رازق بگٹی پنجاب اور سندھ کے کامریڈوں پر مشتمل دھڑے نے انضمام کی مخالفت کی اور پی این پی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا لیکن سردار ثناء اللہ زہری اور اسرار زہری تو حاصل بزنجو والوں کیساتھ بی اپن پی کا حصہ بن گئے لیکن رئیسانی برادران نے خاموشی سے اپنی راہیں پی این پی سے الگ کرلیں۔

1993کے الیکشن میں بی این ایم اختر،حئی سمیت جے ڈبلیو پی اور پی این پی نے حصہ لیا

متحدہ بی این پی کی حکومت اور خاتمے اورپارٹی ٹوٹنے پر الگ سے نظر ڈالیں گے کیونکہ اس سلسلے کو یوں آگے لے جانے سے پچھلی یادیں رہ جائیں گی چنانچہ ہم واپس 1993میں آتے ہیں۔1993کے الیکشن میں بی این ایم اختر اور حئی سمیت جے ڈبلیو پی اور پی این پی نے حصہ لیا ۔ نواب خیر بخش مری کے دوصاحبزادوں جنگریز مری(سبی) اور گزین مری (کوہلو)نے انتخابات میں حصہ لیا اور دونوں نے کامیابی حاصل کی جبکہ اخترمینگل کی پارٹی کو صوبائی کی محض دونشستیں ایک وڈھ خضدار کی اور ایک شال سریاب کی نشست ملی جہاں وڈھ خضدار سے خود سردارا خترمینگل کامیاب ہوئے اور سریاب والی نشست پر بی ایس او کے سابق چیئرمین وحید بلوچ نے کامیابی حاصل کی۔ وحید بلوچ کی نشست پر کامیابی خالصتا کارکنوں کی محنت کانتیجہ تھا۔ اس کے علائوہ خضدار وڈھ کی قومی اسمبلی کی نشست سے بھی اخترمینگل کے امیدوار اور بی ایس او کے سابق رہنماء ایوب جتک نے کامیابی حاصل کی۔ اس وقت بی این ایم اختر کے جنرل سیکرٹری اسد بلوچ تھے۔ دوسری طرف جے ڈبلیو پی نے ڈیرہ بگٹی بولان اور دالبندین سے صوبائی کی نشستیں جیتیں اور ڈیرہ بگٹی کی قومی اسمبلی پر خود نواب اکبر خان بگٹی کامیاب ہوگئے تھے۔ بی این ایم حئی نے مکران کی چاروں نشستیں جیتیں، ڈاکٹر مالک بلوچ کچکول علی اکرم دشتی اور ایواب بلیدی نے کامیابی حاصل کی تھی جس سے بی این ایم حئی کے پاس چار نشستیں تھیں، پی این پی کے سردار ثناء اللہ زہری اسرار زہری اور لشکری رئیسانی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ حکومت سازی کا مرحلہ آیا تو ایک طرف نواب مگسی نے جوڑ توڑ کر کے اپنے لئے اکثریت بنا لی دوسری جانب اخترمینگل نے بھی اپنی کوششیں جاری رکھیں لیکن اخترمینگل کی محض دونشستیں تھیں جس سے کامیابی ممکن نہیں تھی لیکن پھر بھی وحید بلوچ کو جوڑ توڑ میں پہلے پہل اسپیکر بلوچستان اسمبلی بنا دیاگیا جس پر اخترمینگل کی پارٹی کا مورال مزید بلند ہوگیا۔بالخصوص وحید بلوچ سے کامریڈوں اور کارکنوں کو بڑی توقعات تھیں، بعد میں وزارت اعلیٰ کیلئے جب مقابلہ ہواتو نواب مگسی کو 22ووٹ ملے اخترمینگل کو 16ووٹ ملے۔ بی این ایم حئی، جنگریز مری،گزین مری، ثناء زہری اور لشکری رئیسانی نے بھی نواب مگسی کی حمایت کی، اپنی شکست پر سردار اخترمینگل نے اسمبلی میں ایک شعر پڑھا جو اس وقت کافی مشہور ہوا کہ
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنو ں کے بل چلے

بی این ایم اختر کے کارکنوں نے حملہ کرکے ڈاکٹر حئی کو زدکوب کیا

بی این ایم اختر والے اس شعر کو بی این ایم حئی کے خلاف تشریح کرتے رہے پھر ایک خبر سامنے آئی کہ وزارت اعلیٰ کیلئے بی این ایم حئی کی جانب سے نواب مگسی کی حمایت پر ایم پی اے ہاسٹل میں بی این ایم اختر کے کارکنوں نے حملہ کرکے ڈاکٹر حئی کو زدکوب کیا ہے۔یہ اسمبلی تین سال تک چلتی رہی۔مرکز میں بینظیر بھٹو وزیر اعظم بنی تھیں اور انہوں نے فاروق لغاری کو صدر بنایا تھا جنہوں نے ان کی ہی حکومت کا تختہ الٹایا تھا۔جس پر 1996کے آخر میں دوبارہ الیکشن منعقد ہوئے۔ بے نظیر جب وزیراعظم تھیں تو انہوں نے سریاب کا دورہ کیا جہاں وحید بلوچ نے ان کا استقبال کیا انہوں نے سریاب کیلئے خصوصی پیکیج کا بھی اعلان کیا۔

لوگوں کی اکثریت پھر سے پارلیمانی سیاست کی گہماگہمی میں گم ہوگئی

لوگوں کی اکثریت پھر سے پارلیمانی سیاست کی گہماگہمی میں گم ہوگئی لیکن شال کے ایک کونے میں کچھ فکری نظریاتی لوگ نواب خیر بخش مری کی رہنمائی میں کتابیں کھولے مستقبل کیلئے ایک ملاح کی طرح کشتی کو سمندر میں اتارنے کیلئے انتہائی خاموشی سے تیاری کررہے تھے۔ ایک کامریڈ نے بی این ایم اختر کے ایک سینئر رہنماء سے کہا تھا کہ وہ بلوچ حق توار کے اسٹڈی سرکل میں شرکت کیلئے جارہے ہیں تو انہوں نے طنزیہ کہا تھا کہ ”ہارے ہوئے جرنیل کے پاس اب بھی کچھ بچا ہے باقی“ یعنی لوگ نواب خیر بخش مری کی خاموشی کو اپنے پیرائے میں پیش کرنے لگے تھے لیکن نہ تو انہوں نے اس کی کبھی وضاحت کی اورنہ ہی ایسی خاموشی کے بعد آنے والے طوفان کی کوئی خبر دی جاتی ہے۔
( کل جب ہم مضمون کا آغا زکرینگے تو شال کی سیاست کے مزید ایسے دریچے کھولیں گے جو ماضی کاحصہ بن چکے ہیں جن میں نواب خیر بخش مری کی جانب سے حق توار کیساتھ ساتھ سیاسی احتجاج اور احتجاجی کیمپ کے قیام کا بھی ذکر ہوگا۔اور سردار عطاء اللہ مینگل کی لندن سے واپسی اور نئے سیاسی سفر کے آغاز کا ذکر کرینگے)

Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close