بلوچستانپہلا صفحہتاریخژوب ڈویژنسبی ڈویژنسوشل میڈیاقلات ڈویژنکوئٹہ ڈویژنمکران ڈویژننصیر آباد ڈویژن

شال کی یادیں (14) زرک میر

سہب حال

اب اسے سمیٹنے میں بقول شیتل مجھ جیسے بدھواور کائل شخص کو بڑی مشکل پیش آرہی ہے

"شال کی یادیں ” شروع کرتے وقت اور پہلی قسط لکھتے ہوئے بالکل بھی اندازہ نہ تھا کہ یہ سلسلہ یوں وسعت اختیار کرجائے گا ۔ یہ سب آپ دوستوں کے ذوق کے باعث ممکن ہورہا ہے ، میں تو محض اپنے پہلے "سیاسی گام ” کے طورپر نواب خیر بخش مری کے استقبال کا ہی ذکر کرنا چاہ رہا تھا لیکن اب شاہد یہ سلسلہ طویل ہو ،اور اب تک میں 1992 سے 1993 تک ہی پہنچ پا یا ہوں لیکن مجھے بار بار ماضی قریب بلکہ ماضی بعید میں جانا پڑ رہا ہے ، بعض دوست مضمون کے بے ربط ہونے کا گلہ کرتے ہیں تو ان کیلئے عرض ہے کہ یہ سلسلہ غیر ارادی طورپر شروع ہوا اب اسے سمیٹنے میں بقول شیتل مجھ جیسے بدھواور کائل شخص کو بڑی مشکل پیش آرہی ہے تاہم کوشش یہی ہے کہ یہ سلسلہ یونہی جاری رہے کیونکہ اب تو میں بھی ان الفاظ میں اپنے پچپن کے لمحات کا عکس دیکھ رہا ہوں ۔

ہم بلوچ سیاست کے اہم کردار "بی ایس او” اور اس کے کامریڈوں کو تو اب تک یاد ہی نہیں کرسکے

میں نے تمام بزرگ رہنماؤں کامریڈ نواب خیر بخش مری ، سردار عطاءاللہ مینگل ، نواب بگٹی اور میر غوث بخش بزنجو کے بارے میں سرسری اور قدرے تفصیلی بات کی ہے اور آگے چل کر مزید بات کرینگے کہ اب تک ہم نے اپنی ٹرین 1993 کے پلیٹ فارم پر روک دی ہے ، لیکن مجھے خود یہ شدت سے احساس ہوا کہ ان یاداشتوں میں ہم بلوچ سیاست کے اہم کردار "بی ایس او” اور اس کے کامریڈوں کو تو اب تک یاد ہی نہیں کرسکے ، چنانچہ آج کچھ بی ایس او پر لکھنے کی کوشش کرینگے ، چونکہ بی ایس او کا قیام اوراس کے دو تین دہائیوں تک سیاسی سفر کی بابت میرے پاس کوئی ذاتی یادداشت نہیں چنانچہ مجھے ان ادوار کا عکس بعد کے ادوار میں سنی سنائی باتوں اوردوسروں کی لکھی ہوئی یادداشتوں میں ڈھونڈا پڑیگا اورانہی معلومات پر ہی اکتفاء کرنا پڑیگا 1993سے ہم اپنی یادداشتیں ہی بیان کرینگے۔

کوئی سیاست سے خواہ کتنا ہی نابلد کیوں نہ ہو وہ بی ایس او کے نام سے واقف ہوگا

بی ایس او اور بلوچستان لازم وملزوم رہے ہیں ۔ یہ نام گوکہ ایک تنظیم کا ہے لیکن یہ تنظیم اب قومی علامت بن چکی ہے ۔ بی ایس او نوجوانوں کی ابتدائی تربیت گاہ کی حیثیت رکھتی آئی ہے ۔ اپنے قیام سے اب تک بی ایس او کی گونج بلوچستان کے پہاڑوں صحراؤں سمندروں اور وادیوں میں سنائی دیتی ہے ۔ کوئی سیاست سے خواہ کتنا ہی نابلد کیوں نہ ہو وہ بی ایس او کے نام سے واقف ہوگا ۔ ایک شوہان سے پوچھیں گے تو وہ بھی اس نام سے آشنا ہوگا ۔ شاعر نے اس پر شاعری کی ہے ، گلوکار نے اس پر گلوکاری کے جوہر دکھائے ہیں ، آرٹسٹ نے اس کے خوبصورت مشعل کو دیواروں پر آرٹ کے نمونے کے طورپر بنایا ہے ، اس کے جھنڈے کو نوجوانوں نے سروں پر باندھا ہے ۔ بی ایس او کے وہ دلچسپ نعرے اب بھی آذہان میں محفوظ ہیں

  • ایک سرخ سمندر بی ایس او
  • ہر گھر کے اندر بی ایس او
  • ذرا زور سے بولو بی ایس او
  • بی ایس او بی ایس او بی ایس او
  • بولان میں دیکھو بی ایس او
  • مکران میں دیکھو بی ایس او
  • شاشان میں دیکھو بی ایس او
  • آزادی کا ایک ہی ڈھنگ گوریلہ جنگ گوریلہ جنگ
  • بی ایس او کا نعرہ ہے بلوچستان ہمارا ہے

یہ خالصتا قوم پرست تنظیم رہی ہے لیکن سوشلزم کےطورپر لینن ازم اسٹالنزم مائوازم اور اب لبرل ازم اور سیکولر ازم اس کے خاصہ ہیں ۔اس تنظیم نے ہر طرح کی قربانی دی ، یہ منظر عام سیاست کا ہراول دستہ رہا ۔ لاٹھیاں کھائیں جیلیں بھروائیں ، پھر جب مسلح گوریلہ جدوجہد ہوتی رہی تو ان میں اپنا حصہ ڈالتی رہی ۔ دنیا بھر کی تحریکوں سے وابستہ رہی ، فلسطینی کی تحریک سے لے کر دنیا بھر کی آزادی کی تحریکوں کی حمایت کرتی رہی ،بی ایس او کے کونسل سیشنز پر ان تحریکوں کے پیغامات آتے رہے یہاں سے پیغامات جاتے رہے ۔ لینن ، چے گویرا فیڈل اور مائو اس کے ہیرو رہے اور مارکسی لٹریچر اس کی فکر رہی ، اس تنظیم کی شناخت بھی عالمی رہی ۔سوویت انہدام کے بعد سوشلزم کے اثرات کم رہے تو بی ایس او بھی اس سے متاثر رہی لیکن اس کی جدوجہد جاری رہی ۔ دھڑوں اور ٹکڑوں میں تقسیم ہونے اور لاحقے اور سابقے رکھنے کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھتی آئی ۔ اس کا جھنڈا سرخ رنگ کا ہے اور اس میں ایک مشعل کنداں ہے جو جدوجہد کی علامت ہے اوپر ایک "ستارہ ” ہے جو سائنس علوم کی علامت ہے ۔ کونسل سیشنز میلے کی مانند رہے ہیں جہاں دیوان منعقد ہوتے رہے اور موسیقی کے جوہر دکھائے گئے ، نعروں کی گونج اور فائرنگ معمول رہی ۔ نوجوان بوڑھے بچے سب اس تنظیم کے کونسل سیشنز میں شرکت کرتے۔ اس تنظیم میں ابتدائی ادوار میں خواتین کی تعداد کم رہی اب کافی زیادہ ہے ۔ لیکن اب مشکلات بھی کچھ زیادہ ہی ہیں کہ اس تنظیم نے مسخ شدہ لاشیں اٹھائی ہیں ۔

بیزن بزنجواور ڈاکٹرحئی بی ایس او کے ابتدائی چیئرمینوں میں سے ہیں

بی ایس او( بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ) کا قیام 1967 میں لایا گیا جب مختلف بلوچ طلباء تنظیموں کا انضمام کیاگیا جن میں ” بلوچ ورنا وانندہ گل ” اور مکران اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ” بھی شامل تھیں ۔ عبدالحکیم بلوچ ورنا وانندہ گل کے صدر تھے ، جب بی ایس او کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس کے ابتدائی رہنمائوں میں حکیم بلوچ بیزن بزنجو ڈاکٹر حئی ودیگر رہنماء تھے ۔ بیزن بزنجواور ڈاکٹرحئی بی ایس او کے ابتدائی چیئرمینوں میں سے ہیں ، بلوچ ورنا وانندہ گل اور بی ایس او کا قیام خالصتا تعلیمی مقاصد کے حصول میں معاون کارکے طورپر عمل میں لایا گیا تھا لیکن بعد میں یہ تنظیم حالات اور واقعات کے سرد گرم میں یوں کھندن بنی کہ دنیا بھر میں اپنی پہچان بنا گئی ، اس تنظیم نے ڈاکٹر حئی جیسے صلح جو ، میر عبدالنبی بنگلزئی جیسے دھیمے انداز میں بات کرنے والے پرفکر سیاسی و مزاحمتی رہنماء تو اسلم گچکی جیسے سیاسی گوریلے ، خیر جان جیسے ہوشیار رہنماء، فدا بلوچ جیسے پرکشش اور انتہائی قابل لیڈر تو رازق بگٹی حبیب جالب کہور خان جیسے با علم لیننسٹ و مائوسٹ ، ایوب جتک ، یاسین بلوچ اور وحید بلوچ جیسے پرفکر پرجوش مگر خاموش چیئرمین ،اور شہید غلام محمد بلوچ جیسے سیاسی فکر سے لیس رہنماء پیدا کئے ،1993 تک یہی بی ایس او کے نامور چیئرمین اور اہم عہدیدار رہے

ڈاکٹر حئی بی ایس او کے اولین رہنماؤں میں سے ہیں جو اب تک سیاسی میدان میں سرگرم عمل ہیں

ڈاکٹر حئی بی ایس او کے اولین رہنماؤں میں سے ہیں جو اب تک سیاسی میدان میں سرگرم عمل ہیں ، بی ایس او کے بعد بی این وائی ایم بنائی گئی جس سے بلوچ قیادت کی خلاء پرکرنے کی کوشش کی گئی ،پھر یہ بی این ایم کی صورت میں آگئی جس سے قائد ڈآکٹر حئی ہی رہے ۔ یہ پارٹی بھی دولخت ہوئی ۔ ایک دھڑے کے قائد ڈآکٹر حئی ہی رہے ،اسی طرح یہ سلسلہ 2004 تک رہا پھر بی این ایم کا حاصل بزنجو کی بی این ڈی پی سے انصمام ہوا جس کی صورت میں ” بلوچ لفظ ” غائب کردیا گیا اور نیشنل پارٹی بنائی گئی ، ڈاکٹر حئی بدستور اس پارٹی کے بھی قائد رہے ، تاہم بعد کے سالوں میں پارٹی انٹر الیکشن کے ذریعے پہلی دفعہ قیادت سے ہٹا دیا گیا جس سے ڈاکٹر حئی نے بی این ایم کو دوبارہ بحال کردیا لیکن بہت جلد انہوں نے پارٹی کا نام بدل کر اور کچھ نوجوانوں کو ساتھ ملا کر پارٹی کا نام "نیشنل ڈیموکرٹیک فرنٹ رکھ کر ” بلوچ لفظ ” پھر غائب کردیا

” سر آپ بتایئے کہ ایک طرف یہاں میرے پیپر ہونے ہیں تو دوسری طرف میرے لمئہ وطن میں آگ لگائی جارہی ہے

بی ایس اوکے اہم رہنمائوں میں میر عبدالنبی بنگلزئی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ میر عبدالنبی بنگلزئی کسی بیرونی ازم کی بجائے ” شروع سے ہی بلوچ ازم اور "کے بی ازم ” یعنی خیر بخش ازم سے ہی جڑ گئے جو اب تک جڑے ہیں ، اس شخص کے بارے میں کیا کہوں میں تو اسے کوئی بیرونی سیاسی ہیرو (چے گویرا وغیرہ) کا نام بھی نہیں دے سکتا کہ ان کا نام کو گرہن لگ جائے گا ۔ یہ وہ شخصیت ہیں کہ مستونگ کے علاقے اوربنگلزئی جسے محب وطن قبیلے کے گڑھ اسپلنجی جیسے دور افتادہ گاؤں سے پڑھنے شال آئے ، یہاں بلوچ کے لئے تعلیم سے پہلے سیاسی تربیت یوں بھی لازمی ہوتی ہے کہ اسے راستے میں جابجا لگنے والا ہر ٹھوکر سیاسی تربیت دیتا ہے ، میر نبی کو اسپلنجی سے شال تک ہر قدم پر ٹھوکر لگے ہونگے ، تب یہ گھبرو نوجوان جب شال پہنچتے ہیں تو سیاسی گام کا آغاز کرتے ہیں اور بی ایس او سے جڑ جاتے ہیں ،کچھ عرصہ یہاں رہ کر سیاست کرتے ہیں تو وائس چیئرمین بنا دیئے جاتے ہیں ۔وہ تعلیم کے حصول کیلئے لاہور چلے جاتے ہیں وہاں وہ پینٹ شرٹ پہنتے رہے وہ لاہور میں کالج میں تھے اور پیپر دینے کی تیاری کررہے تھے کہ خبریں پہنچیں کہ نیپ کی حکومت ختم کردی گئی ہے اور فوجی آپریشن شروع کردیا گیا ہے ، بلوچ گوریلے پہاڑوں پر مورچہ زن ہوکر انقلابی جدوجہد شروع کرچکے ہیں تو میر نبی اپنے کالج پروفیسر سے جاکر کہتے ہیں ” سر آپ بتایئے کہ ایک طرف یہاں میرے پیپر ہونے ہیں تو دوسری طرف میرے لمئہ وطن میں آگ لگائی جارہی ہے اور میرے لوگ دفاع کیلئے نکل رہے ہیں تو مجھے اس صورتحال میں کیا کرنا چاہئے ، پروفیسر لاجواب ہوجاتا ہے ، اور یوں یہ نوجوان بلوچستان پہنچتے ہیں اور گوریلہ جدوجہد کے سپاہی بن جاتے ہیں ۔

مری عورتیں اپنی مٹھیوں میں گندم کے دانے بھر کر لاتیں اور ہمیں دیتیں

ذرا سوچیئے! کہاں لاہور کی ہاسٹل لائف اور کہاں کوہستان مری کے پہاڑوں میں گوریلہ بن کر جدوجہد کرنا اور آتشن او آہن کا مقابلہ کرنا ، بقول میر نبی ایک جگہ ہم گھیرے میں آگئے اور دو دن تک گھیرے میں رہے ہمارے پاس ہمارا راشن ساتھ نہیں تھا تو مری عورتیں اپنی مٹھیوں میں گندم کے دانے بھر کر لاتیں اور ہمیں دیتیں ، اپنے کزن شفیع بلوچ کی لاش اسپلنجی کے پہاڑوں سے اٹھائی جن کو قتل کرنے کے بعد لاش پھینک دی گئی تھی ، پھر جب 1978میں حیدر آباد سازش کیس ختم ہوا اور لیڈر شپ رہا ہوئی اور گوریلے نئی حکمت عملی کیلئے اپنے قائد نواب خیر بخش کا انتظار کرنے لگے جہاں انہیں عظیم قائد کی طرف سے عظیم ہجرت کا پیغام ملا ( مجھے مائو کا اپنے سپائیوں کو بھی یوں بارہ ہزار کلو میٹر طویل لانگ مارچ کا حکم یاد آتا ہے جہاں ان کے سینکڑوں سپاہی بے خوراکی بیماریوں اور دلدل میں گرنے کے باعث مر جاتے ہیں اور پھر درمیان میں کئی مشکلات پیش آتی ہیں تب منزل پر پہنچتے ہیں ) مری کے یہ گوریلے افغانستان پہنچ گئے لیکن یہاں بھی میدان اور مورچے خالی نہ چھوڑے گئے ۔ میر عبدالنبی کو خصوصی ذمہ داریاں دی گئیں تھیں ۔ تاہم میر عبدالبنی بنگلزئی اپنے قائد کے پاس افغانستان جاتے رہے ۔

میر نبی کو ڈیرہ مراد جمالی سے گرفتار کرکے ہیلی کاپٹر کے ذریعے شال منتقل کیاجاتا ہے

ایک بار فدا بلوچ کیساتھ بھی افغانستان کا خفیہ دورہ کیا جہاں انہوں نے نواب مری اور رازق بگٹی سے ملاقاتیں کیں ۔ بعد میں ڈاکٹر نجیب نے بھی ملاقات کیلئے بلایا ۔ اور جب نواب خیر بخش لمئہ وطن واپس پہنچ گئے تومیر نبی بنگلزئی اسمبلی و جناح روڈ کی سیاسی راہ داریوں کی بجائے شال کے اس کونے میں جاکر اپنے قائد نواب مری کے فکری اور علمی اسٹڈی سرکل ” بلوچ حق توار ” میں شامل ہوگئے ۔ اس دور میں ساتھ ہی ساتھ ناگائو کی پہاڑی پر مشعل روشن رکھے گئے ، یہ سلسلہ یوں خاموشی سے چلتا رہا کہ لوگ میر نبی اور اس کے قائد کامریڈ مری کو بھول ہی گئے ، پارلیمنٹ اور جلسے جلوس عروج پر ہوتے ہیں ، بالآخر یہ طویل سلسہ ایک دہائی یعنی دسمبر 1999تک چلتا ہے جب جسٹس نواز مری شال میں ایک مسلح حملے میں مارے جاتے ہیں تو ایک بھونچال سا آجاتا ہے ،کچھ مہینوں بعد نواب خیر بخش مری کو گرفتار کیاجاتا ہے جبکہ میر نبی کو ڈیرہ مراد جمالی سے گرفتار کرکے ہیلی کاپٹر کے ذریعے شال منتقل کیاجاتا ہے اور خفیہ رکھا جاتا ہے ، پھر تو دھڑا دھڑا نواب مری کے ساتھ گرفتار ہوتے جاتے ہیں عالم پرکانی ، نور احمد قمبرانی سمیت متعدد مری قبائل کے معتبرین دھر لئے جاتے ہیں ،میر نبی کو دو سال بعد منظر عام پر لایاجاتا ہے اور انہیں ژوب جیل میں رکھا جاتا ہے کچھ سال وہاں رکھنے کے بعد شال لایاجاتا ہے تو میر نبی اور عالم پرکانی پر تشدد کی انتہا کی گئی ہوتی ہے ۔

کیا خوشگوار لمحات تھے اور دلچسپ صورتحال یہ تھی کہ شہید غلام محمد بھی میر نبی سے ملنے آئے تھے

میر نبی سے میری پہلی ملاقات 2008 میں شال جیل میں ہی ہوئی ، کیا خوشگوار لمحات تھے اور دلچسپ صورتحال یہ تھی کہ شہید غلام محمد بھی میر نبی سے ملنے آئے تھے ،غلام محمد بلوچ بھی ملاقات کے انتظار میں مین گیٹ کے باہر کھڑے تھے مجھے دیکھا میں نے تعارف کرایا تو مجھے یوں سینے سے لگایا اور کہا کہ تم آج یہاں مجھے جیل میں ملے اس کی تعبیر بتائو ، میں جواب نہ دے سکا سوائے مسکرانے کے ۔اس دوران دو عظیم شخصیات سے ملاقات پر میں شاد تھا ۔

میر نبی کو دس سال بعد رہا کردیا گیا حالانکہ کیسز تو بہت پہلے ہی ختم ہوکررہ گئے تھے

میر نبی کو دس سال بعد رہا کردیا گیا حالانکہ کیسز تو بہت پہلے ہی ختم ہوکررہ گئے تھے ، یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کے وکیل حبیب جالب تھے ۔ میر نبی رہا ہونے کے بعد کچھ ماہ گھر اور پھر مکران سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں کا لوگوں کی دعوت پر دورہ کیا ،میر کو مکران میں بہت ہی زیادہ پذیرائی ملی ، پھر کچھ عرصہ اسپلنجی میں جاکر رہے لیکن ایک دن خاموشی کیساتھ اپنے عظیم مسکن "ناگائو” کی طرف چلے دیئے ،اور اپنے بچھڑے ساتھیوں سے ملے "ناگائو ‘ کی خوشبودار جڑی بوٹیوں نے اپنی بھینی بھینی خوشبو سے ان کا استقبال کیا۔

اسلم گچکی سردار اخترمینگل کے سسر تھے جنہیں 9 جون 2002 کو مشکے کے علاقے میں شہید کردیا گیا

اسلم گچکی بھی بی ایس او کے حوالے سے اہم حوالہ ہیں ۔ اسلم گچکی بھی لاہورمیں پڑھتے تھے یہاں جنگی صورتحال تھی ،سیاست پر مکمل پابندی تھی ، کوئی جلسہ جلوس اور پمفلٹنگ کی کوئی صورت نہیں بن رہی تھی ۔ دوستوں نے اسلم گچکی سے رابطہ کیا کہ وہ کسی بھی طریقے سے پمفلٹ اور پوسٹر بنوا کرساتھیوں کو شال پہنچائے ۔ یہ کس قدر مشکل کام رہا ہوگا کہ اس وقت نا تو ایسی ٹیکنالوجی تھی نہ سفری سہولیات ، انہوں نے یہ کام انتہائی دلیری اور جانفشی سے کر دکھایا، اس وقت کے ساتھی کہتے ہیں کہ انہوں نے فقیر کے بھیس میں آکر تمام سامان شال اسٹیشن پہنچایا اور ساتھیوں کے حوالے کیا ۔ یہ ایسے کام ہیں کہ جن کا ذکر لینن کی تحریک یا دیگر گوریلہ و سیاسی تحریکوں میں ملتا ہے لیکن ہمارے ہاں بھی ایسی مثالیں بہت ساری ہیں کاش کہ ہم باقی دنیا کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کی جدوجہد کی بھی شاندار مثالوں کو اپنا رہنماء بنا لیں ، اسلم گچکی گوریلہ جدوجہد کا بھی حصہ رہے،بعد میں بی این پی کی طرف سے الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی اور ایم پی اے رہے ۔ وہ سردار اخترمینگل کے سسر تھے جنہیں 9 جون 2002 کو مشکے کے علاقے میں شہید کردیا گیا (شہید اسلم گچکی کا محمد حسنی قبیلے کے ساتھ تنازعہ بھی چلا آرہا تھا اس تنازعے کی شروعات سردار محمد عارف محمد حسنی کی شہادت سے ہوئیں جس کا تصفیہ بعد میں سردار عطاء اللہ مینگل نے کرایا ، دونوں خاندان سردار عطاء اللہ مینگل کے رشتہ دار بھی ہیں )

فدا بلوچ کا تعلق تربت سے تھا جنہوں نے بی ایس او کو جدید سائنسی جدوجہد کے خطوط پر استوار کرنے کوشش کی

فدا بلوچ کے ذکر کے بغیر بی ایس او کی تاریخ شاہد ہی مکمل ہو ۔ فدا بلوچ کا تعلق تربت سے تھا جنہوں نے بی ایس او کو جدید سائنسی جدوجہد کے خطوط پر استوار کرنے کوشش کی ، وہ انتہائی قابل اور نڈر تھے ، ان کی ایک تقریر اب بھی نیٹ پر موجود ہے جو وہ حب چوکی میں مزدوروں سے خطاب کرتے ہوئے کرتے ہیں ۔ سوشلزم اور نیشنلزم کے ملاپ کی خوبصورت اور پراثر منطق فدا کا سیاسی ہنر تھا ۔ وہ 1978میں بی ایس او کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوتے ہیں جبکہ اس وقت چیئرمین مولا بخش دشتی بنے ،انہوں نے افغانستان کے بھی دورے کئے اور نواب مری سمیت دیگر رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں ۔ کہتے ہیں کہ فدا بلوچ کا یہ دورہ خفیہ تھا اورمیر نبی ان کے ہمراہ تھے ۔ نواب مری سے ملاقات میں تحریک کی طبقاتی بنیادوں پر بات کی گئی جس پر نواب مری اور فدا کے درمیان طویل مکالمہ ہوا۔ فدابلوچ نے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ سریاب میں آکر بلوچی اور اردو میں تقریر کی تو فدا کو لگا کہ لوگ نہیں سمجھے تب انہوں نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ انہیں براہوئی میں بات کرنی چاہئے تب انہوں نے شال یونیورسٹی سے براہوئی میں ایم اے کیا اور پھر سریاب جاکر براہوئی میں تقریر کی ۔ لوگوں نے اس عمل کو بہت سراہا ۔ان کا کردار انتہائی لازوال رہا ،فدا قومی تحریک کے اندر بھی منشوکوں سے نبردآزما رہے ، وہ اس بابت کبھی مصالحت کا شکار نہ ہوئے تب 2 مئی 1988 کو انہیں دکان کے اندر فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا ۔ قاتل آج تک نہیں پکڑے گئے ۔ان کی برسی عقیدت سے منائی جاتی ہے ۔ میر نبی اب بھی ٹیوٹر کے ذریعے اپنے اس عظیم ہمسفر کو ان کی برسی پر پیغام کے ذریعے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔(جاری ہے )

(مضمون کی پندرہویں قسط بھی بی ایس او پر ہی محیط ہوگی جسے کل شیئر کردیاجائیگا )

 

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close