بلوچستانپہلا صفحہتاریخژوب ڈویژنسبی ڈویژنقلات ڈویژنکوئٹہ ڈویژنمکران ڈویژننصیر آباد ڈویژن

شال کی یادیں (16) زرک میر

سہب حال

بی ایس او کے اکثر چیئرمینوں کا سیاسی سفر یونہی ڈھواں ڈھول رہا ہے

بی ایس او پر بات کرنے کے بعد ہم دوبارہ 1993 سے اپنی تحریرکا آغاز کرتے ہیں جہاں الیکشن کے بعد نواب مگسی وزیراعلیٰ بنتے ہیں اور اخترمینگل قائد حزب اختلاف ، اخترمینگل کی پارٹی کے پاس اس وقت قومی اسمبلی کی ایک ہی نشست تھی جس پر بی ایس او کے سابق چیئرمین ایوب جتک بی این ایم اختر کی ٹکٹ پر خضدار سے کامیاب ہوئے تھے،ایک سال بعد بینظیر بھٹو نے انہیں وفاقی کابینہ میں شامل کرلیا اور وزیر مملکت برائے خوراک بنادیا،پارٹی نہیں چاہتی تھی کہ وہ وزیر رہیں اور انہوں نے پارٹی اجازت کے بغیر یہ پوزیشن لی تھی ، جو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی تھی لہذا ایوب جتک کو پارٹی سے شو کاز نوٹس کے بعد نکال دیا گیا اس کے بعد ایوب جتک سیاسی طورپر کبھی نہ سنبھل سکے ، سردار ثناء زہری کیساتھ پی این ڈی پی میں رہے پھر تادم آخر وہ ن لیگ میں ان کے ساتھ رہے کینسر کے جان لیوا مرض میں مبتلا رہے اور چل بسے ، اسی طرح اسد بلوچ بھی ایوب جتک کی طرح اخترمینگل کے اہم ساتھیوں میں سے تھے لیکن اقتدار کی خاطر اخترمینگل کو چھوڑ گئے حالانکہ ایوب جتک اور اسد بلوچ اس حوالے سے بیانی تھے کہ اخترمینگل کو سیاست میں لانے والے ہی ہم تھے اختر مینگل لندن میں تھے ہم نے سردار عطاء اللہ مینگل سے کہہ کر انہیں یہاں بھجوایا اس بیان میں کس قدر سچائی ہے یہ الگ بات ہے لیکن یہ دونوں اختر مینگل کو اقتدار کی خاطر چھوڑ گئے ۔ بی ایس او کے اکثر چیئرمینوں کا سیاسی سفر یونہی ڈھواں ڈھول رہا ہے جہاں وہ کامریڈ اور باعلم کہلاتے رہے لیکن بعد میں اسمبلی کی راہ داریوں اور حکومتی ایوانوں کے سحر میں مبتلا نظر آئے ، آج حد تو یہ ہے کہ بعض چیئرمین ن لیگ یا وفاق پرست پارٹیوں میں موجود ہیں ۔

نوجوان سیاستدان اخترجان اخترجان ” تو اخترمینگل نے کہا ” ابھی نوجوان نہیں رہا ‘‘

1993 کا دور اخترمینگل کے عروج کا دور رہا جہاں وہ ” نوجوان سیاستدان اختر جان اخترجان ، ننا جان نما جان اختر جان اختر جان ” کے نعروں سے یاد کئے جاتے رہے اور جب 1998 میں وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہونے کیلئے منان چوک پر جلسہ منعقد کیاگیا اور وہ جب خطاب کرنے آئے تو لوگوں نے وہی نعرہ دہرایا ” نوجوان سیاستدان اخترجان اخترجان ” تو اخترمینگل نے کہا ” ابھی نوجوان نہیں رہا ، جب سیاستدان شروع کی تو داڑھی کے بال کالے تھے اب بالکل سفید ہوگئے ہیں

1985 سے 2000 تک کی دہائیاں بلوچ پارلیمانی سیاستدانوں کے سنہرے ادوار رہے 

اخترمینگل نے 1993 میں اپوزیشن لیڈر کا کردار بہت بہترین انداز میں ادا کیا جو کہ اس کے وقت کے سیاسی حالات کے مطابق تھا ۔1985 سے 2000 تک کی دہائیاں بلوچ پارلیمانی سیاستدانوں کے سنہرے ادوار رہے ۔ان ادوار میں نہ تو مسلح مزاحمت ہوسکی اور نہ ہی پارلیمانی سیاستدانوں پر پارلیمنٹ چھوڑنے کا کوئی نظریاتی اور فکری دباؤ رہا گوکہ آزادی پسند حلقے اپنی جگہ موجود رہے لیکن وہ خاموشی سے اپنے شکستہ مورچوں کی تعمیر میں لگے رہے اور اپنی طاقت یکجا کرنے میں جت گئے

چنانچہ اخترمینگل 1990 سے 2000 تک کی دہائی میں مکمل طورپر چھائے رہے ۔اس دہائی کو اگر ہم اخترمینگل کے عروج کی دہائی کہیں تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ ایک طرف انہوں نے ڈاکٹر حئی سے اپنی پارٹی الگ کرلی دوسری طرف قائد حزب اختلاف رہے اورپھر اسی دہائی میں وزیراعلیٰ بھی بنے ، چنانچہ بی این ایم سے علیحدگی ظاہری طورپر معاملہ کونسل سیشن الیکشن اور پارٹی میں جمہوریت کا ہی رہا لیکن درحقیقت معاملہ یہ تھا کہ 1978 میں نیپ کی لیڈر شب جب باہر آئی تو لوگ ان رہنماؤں کے اگلے سیاسی گام (قدم ) کے منتظر رہے لیکن سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری جلا وطن ہوگئے ۔

چنانچہ پھر 1980 سے 1990 تک کی دہائی کو بلوچ سیاست میں سیاسی پارٹی اور قیادت کی خلاء کی دہائی قرار دی جاتی ہے گو کہ نیپ کے اہم رہنماء میر غوث بخش بزنجو بلوچستان میں رہے ، نواب اکبر خان بگٹی بھی بلوچستان میں ہی موجود رہے لیکن بہر صورت نواب خیر بخش اور سردار عطاء اللہ کی غیر موجودگی اور جلاوطنی نے ایک سیاسی اور قیادت کی خلاء پیدا کردی تھی ۔ چنانچہ اس ایک دہائی میں ڈاکٹر حئی کی قیادت میں بی ایس او کی فارغ قیادت نے ڈاکٹر حئی کی قیادت میں بی این وائی ایم بنائی ۔ یہ دہائی ان کے نام رہی یہ اس دہائی میں سیاست پر چھائے رہے ، نواب بگٹی کی بلوچ ورناء تنظیم تھی 1988 کے الیکشن میں بی این وائی ایم اور بلوچ ورناء کے درمیان بلوچ نیشنل الائنس کے نام سے اتحاد بنا اور نواب بگٹی کی قیادت میں حکومت بھی بنی ۔

پھر فیصلہ یہ ہوا کہ اب یوتھ کا لفظ پارٹی سے حذف کیاجائے چنانچہ بی این ایم نام سامنے لایا گیا جس میں ڈاکٹر حئی قیادت کے منصب پر فائز ہوئے اوراخترمینگل یونہی پارٹی میں رہے ، 1990 کی دہائی میں بلوچ سیاست نے ایک نئی انگڑائی لی ۔ نواب بگٹی نے اپنی پارٹی ” جے ڈبلیو پی( جمہوری وطن پارٹی ) ” بنائی اور اس کا اسٹوڈنٹ ونگ وطن ایس ایف کے نام سے سامنے آیا ۔

اس دور میں لوگوں کو نواب خیر بخش مری کی واپسی کے امکانات کا بھی اندازہ تھا چنانچہ سیاست میں تبدیلی کے آثار بھی نمودار ہوگئے تھے ،لوگوں کاخیال تھا کہ مری آکر کوئی سیاسی پارٹی بنا لیں گے ، یہ بات بھی عیاں تھی کہ اخترمینگل سیاست کے میدان میں نئے تھے لہذا وہ سردارعطاء اللہ مینگل کے مشوروں پر چلتے رہے ۔ نواب بگٹی کی کابینہ میں بھی اخترمینگل کے وزیر نہ بننے کے پیچھے سردار عطاء اللہ مینگل کا مشورہ شامل تھا اور یہ غلط بات بھی نہیں تھی کہ اخترمینگل کو لوگ بلوچ سیاست میں سردار عطاء اللہ مینگل کے جانشین کے طورپر لیتے رہے ان کا اخترمینگل کو مشورے دینا کچھ غلط عمل بھی نہیں کہلاسکتا ۔

اخترمینگل شاہد دیر تک سیاست کے میدان میں سردار عطاء اللہ مینگل کے مشوروں پرعمل کرتے رہے کیونکہ جب 1997 میں اخترمینگل وزیراعلیٰ بنے اس وقت بلوچستان کے گورنر میاں گل اورنگزیب تھے جن کا تعلق خیبرپختونخواء سے تھا ، اور جب اختر مینگل کی حکومت بحرانوں سے دوچار ہوئی نواب بگٹی کیساتھ مسائل پیدا ہوگئے اور خود بی این پی بکھر گئی تو میاں گل اورنگزیب نے کہا ” اخترمینگل خود اچھے سیاستدان ہیں اور اپنے فیصلے بہتر کرسکتے ہیں لیکن انہیں سردار عطاء اللہ مینگل کے مشوروں نے بحرانوں سے دوچار کردیا ہے "

بی این ایم میں ڈاکٹر حئی کیساتھ اخترمینگل کا سیاست کرنا یوں بھی مشکل تھا کہ ڈاکٹر حئی والوں نے بے وقت کی راگنی شروع کردی تھی جہاں انہوں نے ” اینٹی سردار اور قبائلی نظام کے خلاف ، نعرہ لگانا شروع کردیا تھا ” اور ویسے بھی سردار عطاء اللہ مینگل اپنی سیاست حیثیت جانتے تھے وہ اس حیثیت کو یوں بی این ایم کے پلیٹ فارم پر ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے چنانچہ انہوں نے اس دہائی کے آغاز پر ہی سیاسی پیشرفتوں کے باوصف اخترمینگل کو الگ پارٹی کے قیام کی جانب گامزن کردیا ۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اخترمینگل نے ڈاکٹر حئی سے اپنی راہیں اس لئے الگ کیں کہ ڈاکٹر حئی کی پارٹی میں اکثریتی گروپ پارٹی پر براجمان تھی اور پارٹی انٹرا الیکشن اور جمہوری رویوں کا فقدان تھا ۔ حالانکہ یہ الزامات تو یونہی عمومی ہوتے ہیں اور یہ ایسے الزامات ہوتے ہیں جن کے اوپر پارٹی تقسیم کو جواز بخشا جاتا ہے ، اگر واقعتا ایسا تھا تو آج خود بی این پی میں بھی انٹرا پارٹی الیکشن اور جمہوری رویئے مثالی بھی تو نہیں۔ اس دوران سردار عطاء اللہ مینگل بھی جلاوطنی ختم کرنے کیلئے تیار تھے اور وہ سیاسی حالات کے مدوجزر دیکھتے رہے جہاں انہیں 1995 میں حالات سازگار لگے اور 1996 میں نئی پارٹی متحدہ بی این پی کی قیادت سنھبالی ۔ بی این پی ، بی این ایم اختر اور پی این پی حاصل بزنجو گروپ کے درمیان انضمام کی صورت میں قائم ہوئی جس کے مرکزی آرگنائزر سردار عطاء اللہ مینگل ، حاصل بزنجو ڈپٹی آرگنائزر مقرر ہوئے ۔ سردارعطاء اللہ مینگل کی وطن واپسی اور پارٹی کے سربراہ ہونے کے عمل نے بلوچستان بھر میں ایک نئے سیاسی ابھار کو جنم دیا ۔ لوگوں نے بی این پی سے بڑی توقعات وابستہ کرلیں ۔ عوام اور حتی کہ سنیئر کامریڈ بھی یہ کہنے لگے کہ نواب خیر بخش مری بھی جلد بی این پی میں شامل ہونگے حالانکہ ان کے بارے میں حکیم لہڑی نے کہا کہ ہم انہیں سربراہ بنانا چاہتے تھے لیکن بعض لوگوں نے نواب خیر بخش کو پیچھے دھکیل دیا لیکن سچ تو یہ ہے کہ نواب خیر بخش مری خود کسی پارٹی یا سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے ۔

1993 میں اپوزیشن لیڈر کے طورپر سردار اخترمینگل نے قلات اسٹیٹ الائونس کیلئے قلات سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کیا جو اس وقت کا ایک اہم مسئلہ بن چکا تھا ملازمین سراپا احتجاج تھے جب اخترمینگل 1997 میں وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے الائونس بحال کردیا اور زمینداروں کےلئے بجلی بل کیلئے فلیٹ ریٹ کا فارمولہ لاگو کرایا ۔

1993 کی اسمبلیاں ڈھائی سال تک چلتی رہیں بعد میں اسمبلیاں صدر کے اختیارات کے استعمال پر توڑ دی گئیں ، 1997 میں انتخابات کا انعقاد ہوا ۔ بی این پی نے کلہاڑی کے نشان سے الیکشن لڑا جس میں بی این پی کو45 ارکان پر مشتمل بلوچستان اسمبلی کی دس نشستیں ملیں ،قومی اسمبلی کی تین نشستیں ملیں ۔قومی اسمبلی کے ارکان میں حاصل بزنجو اخترمینگل اور شکیل بلوچ شامل تھے ، اخترمینگل نے صوبائی نشست رکھ لی اور وزیر اعلیٰ بن گئے ،مذکورہ قلات مستونگ قومی اسمبلی کی خالی نشست پر ثناء بلوچ جو اس وقت بی ایس او کے سیکرٹری جنرل تھے کو امیدوار کھڑا کیاگیا جس نے غفورحیدری کو شکست دی اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے ۔

(1993 سے 1997 کے سیاسی حالات کا بیان ایک ساتھ کیاجارہاہے اور اگلی قسط بھی اسی دورانیئے کے حالات کے احوال پر مشمتل ہوگی جس میں نواب خیر بخش مری کے سیاسی احتجاج اور اسٹڈی سرکل کا احوال بھی شامل ہوگا )

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close