بلوچستانپہلا صفحہتاریخڈیرہ غازیخانراجن پورژوب ڈویژنسبی ڈویژنقلات ڈویژنکالمکوئٹہ ڈویژنمکران ڈویژننصیر آباد ڈویژن

شال کی یادیں (18) زرک میر

سہب حال

خضدار میں عشق کی عظیم اور لازوال داستان کی محبوبہ رابعہ خضداری دفن ہیں

گزشتہ تین دن سے خضدارمیں ہوں ۔ کچھ کام بھی ہے اور دوست سے ملنا بھی تھا ۔ موقع غنیمت جان کر دوست مجھے وڈھ کے علاقے ماروئی لے گئے ، شہر میں گھومتے رہے ۔ گرمی ہے لیکن قابل برداشت ،یوں بھی خضدار میرا گھر ہے ۔ زندگی کے پانچ سال یہاں مسلسل گزارے ہیں ، اور ویسے تو ہمیشہ آنا جانا لگا رہتا ہے ،خضدار مہروان لوگوں کی سرزمین ہے اور ہمارے بڑے شہروں میں سے ایک بڑا شہر ۔ ملتان سے ایک دوست میرے ساتھ خضدار آیا اور کہنے لگا ،خضدار ملتان جیسا ہی بڑا شہر ہے بس شمس تبریز اور بہاؤالدین زکریا کے مزاروں کی کمی ہے ۔ میں نے کہا ،ملتان میں شمس تبریز جیسے مہر اومحبت کی عظیم داستان کے محبوب دفن ہیں تو خضدار میں قبل از رومی اور شمس تبریز ، عشق کی عظیم اور لازوال داستان کی محبوبہ رابعہ خضداری دفن ہیں ، رابعہ اور بکتاش کی محبت آج بھی خضدار کی پہاڑیوں اور گلیوں سے مہک رہی ہے ، بس مزار کے نشانات مٹ گئے ہیں دلوں میں مزار یونہی قائم دائم ہیں ۔

بعض دوست رہ رہ کر یاد آرہے ہیں اور میں چائے پی کر یہ الفاظ لکھ کر ان کو یاد کر رہا ہوں

آج "شال کی یادیں ” کی اٹھارویں قسط خضدار میں لکھ رہا ہوں تو عجیب سی کیفیت طاری ہے ، بالخصوص 2006 کے بعد کی صورتحال یاد آتی ہے جہاں خضدار ” مزاحمت کا گڑھ ” بن کر ٹوٹ پڑا تھا ۔ ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے 2003 اور2004 کے جلسوں میں جھالاوان کے رہنماء اخترمینگل نے نواب بگٹی کیساتھ عظیم الشان جلسوں میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” ڈیرہ بگٹی میں ایک گولی چلی تو جھالاوان سے دس گولیاں چلیں گی ” ڈیرہ بگٹی میں چلنے والی گولی کا جواب جھالاوان سے دیاجا ئیگا ” یہ جملے زد زبان عام ہوگئے تھے لیکن بعد میں ان جملوں کو لے کر اخترمینگل پر تنقید بھی کی گئی لیکن جھالاوان واقعی نواب کی شہادت کے بعد مزاحمت میں پیش پیش رہا ۔ چمروک جہاں میں یہ الفاظ شام کے 30: 7 لکھ رہا ہوں اس کی گراسی میں مباحثے جاری رہتے ، شہر میں ہوٹلوں کی بھر مار تھی لیکن ہر ہوٹل میں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کا جم گٹھا رہتا اور سیاست پر بات ہوتی ۔ بعض دوست رہ رہ کر یاد آرہے ہیں اور میں چائے پی کر یہ الفاظ لکھ کر ان کو یاد کر رہا ہوں

دو پارٹیوں اخترمینگل کی بی این ایم اور حاصل بزنجو کی پی این پی کے درمیان انضمام 

ہم نے گزشتہ قسط میں کہا تھا کہ ہم اگلی قسط میں 1997 کے الیکشن کی بابت ذکر کرینگے ، اس سال کی اہم سیاسی پیشرفت بی این پی کا قیام تھا جو دو پارٹیوں اخترمینگل کی بی این ایم اور حاصل بزنجو کی پی این پی کے درمیان انضمام کی صورت میں وجود میں آگیا تھا ۔ درحقیقت یہ دونوں سیاسی قوتیں اور ان میں شامل اہم شخصیات اخترمینگل ، حاصل بزنجو ، ثناء زہری اسرارزہری کا تعلق جھالاوان سے تھا اور پھر اس پارٹی کا سربراہ بھی سردار عطاء اللہ مینگل بن گئے تھے تو یہ بات یقینی تھی کہ اس پارٹی کا اثر بالعموم بلوچستان بھر میں اور بالخصوص جھالاوان میں ہوگا

چیف آف جھالاوان سردار ثناء زہری ، زہری کی سیٹ سے ہی الیکشن ہار گئے

اور ہوا بھی یہی ہے جہاں سردار اخترمینگل وڈھ کی صوبائی اسبملی ،حاصل بزنجو قومی اسمبلی ۔ اسرار زہری سوراب اور اسلم گچکی مشکے آواران کی صوبائی نشست سے کامیاب ہوگئے البتہ سب سے اہم بات یہ ہوگئی کہ چیف آف جھالاوان سردار ثناء زہری ، زہری کی سیٹ سے ہی الیکشن ہار گئے اور انہیں پہلی دفعہ انتخابات میں حصہ لینے والے جمعیت کے عبدالخالق موسیانی زہری نے ہرا دیا ۔کہتے ہیں کہ خضدار میں جہاں جہاں الیکشن کمپئن کیلئے جاتے تو سردار ثناء لوگوں سے کہتے کہ ” حاصل بزنجو آپ لوگوں کے پاس ووٹ کے لئے آئے ہیں جبکہ وہ اپنا ذکر تک نہیں کرتے کیونکہ انہیں یقین تھا وہ جیت جائیں گے

بی این پی نے جھالاوان سے کامیابی کے علاوہ مکران اور ساراوان سے بھی کامیابی حاصل کی

بعد میں انہوں نے اس شکست کا الزام سردار عطاء اللہ مینگل اور بی این پی مینگل پر عائد کیا کہ انہیں جان بوجھ کر ہرا گیا حالانکہ انہیں شکست کےبعد متحدہ بی این پی کی طرف سے سینیٹر اور پارٹی کا نائب صدر بھی بنایا گیا ،بی این پی نے جھالاوان سے کامیابی کے علاہوہ مکران اور ساراوان سے بھی کامیابی حاصل کی ،گوادرسے غفورکلمتی ، تربت سے احسان شاہ ، مند تربت سے محمد علی رند پنجگور سے اسد بلوچ ، تربت گوادر قومی اسمبلی کی نشست سے شکیل بلوچ نے کامیابی حاصل کی ، قلات خاران مستونگ قومی اسمبلی کی نشست سے سرداراخترمیگنل ، قلات سٹی سے پرنس موسیٰ جان ، مستونگ سے سردار بہادر خان بنگلزئی رکن صوبائی اسمسبلی منتخب ہوگئے۔

حیر بیار نے حلف کے الفاظ کی بجائے اپنے الفاظ میں کہا ” میں بلوچستان کا وفادار رہونگا

جے ڈبلیو پی نے صوبائی کی سات نشستیں حاصل کیں اور جمعیت کا بھی یہی نمبر رہا ،اقلیت کی نشست پر بی این پی کے ڈاکٹر تارا چند منتخب ہوگئے ۔حیربیار مری کوہلو سے انتخاب جیت گئے تھے،گو کہ وہ سریاب سے بھی الیکشن میں کھڑے تھے، اور نواب مری کے نظریاتی حلقے نے ان کی بھر پورحمایت بھی کی ۔ اس اسمبلی کی خاص بات یہ تھی کہ نوابزادہ حیر بیار مری باقیوں سے بعد میں اسمبلی آئے اور اکیلے حلف لینے گئے جہاں ان سے پرانے اسپیکر وحید بلوچ نے حلف لیا تو جب ملک پاکستان کے وفادار ہونے کی بات آئی تو حیر بیار نے حلف کے الفاظ کی بجائے اپنے الفاظ میں کہا ” میں بلوچستان کا وفادار رہونگا ” اور ملک کے بجائے وطن کا لفظ استعمال کیا ، جس پراسمبلی ششدر رہ گئی ۔حیر بیار کے حلف کے ان الفاظ کے بہت چرچے ہوئے ۔ وحید بلوچ نے حلف کے اصل متین کے الفاظ تین باردہرائے تو حیربیار نے بھی تینوں بار اپنے ہی الفاظ دہرائے ۔

اگر یہ مل کر عملی جدوجہد کریں تو اسٹیبلشمنٹ کے ایوانوں میں بھی زلزلہ آجائیگا

ن لیگ ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی اکثریت میں تھی تاہم نوازشریف نے بی این پی کو حکومت سازی کا موقع دیا گیا اور مرکز میں بی این پی نے نوازشریف کی حمایت کا اعلان کردیا جس پر ن لیگ نے صوبے میں بی این پی کی حمایت تو کردی لیکن حکومت میں شامل نہیں ہوئی ۔ حکومت سازی کیلئے بی این پی جے ڈبلیو پی اور جمعیت میں اتفاق رائے ہوگیا ۔ 27 فروری 1997 کو شال میں سردار عطا ء اللہ مینگل ،نواب خیر بخش مری اور نواب بگٹی کے درمیان ملاقات ہوئی اور حکومت سازی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دلچسپ تو یہ ہے کہ رات شال شہر میں زلزلے کے جھٹکے آئے تو میرے والد صاحب نے ازرا مذاق کہا ” زلزلہ تو آنا ہی تھا جب یہ تینوں رہنماء کافی مدتوں کے بعد آپس میں مل بیٹھے ہیں اور اگر یہ مل کر عملی جدوجہد کریں تو اسٹیبلشمنٹ کے ایوانوں میں بھی زلزلہ آجائیگا “ تینوں رہنماؤں کی اس بیٹھک نے لوگوں کے چہروں پر امید بکھیر دی تھی اور لوگ مزید پرجوش ہوگئے تھے ۔

اخبارات نے لکھا کہ مری مینگل بگٹی ایک ہوگئے ہیں اب بلوچستان کی زیادہ فکر کی جائے 

اس ملاقات کے نتیجے میں نوابزادہ حیر بیار مری کو بھی حکومت میں شامل کیاگیا کیونکہ سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب اکبر خان تو حکومت سازی پر پہلے سے ہی متفق تھے،بی این پی کے کارکنوں نے حیربیار کی حکومتی شمولیت پر دبے الفاظ میں تنقید کی اورکہا کہ حیر بیار مری پارٹی میں شامل ہوجائیں ورنہ وزارت کسی پارٹی کے منتخب رکن اسمبلی کو دی جائے ۔ حیر بیار مری کی وزارت لینے پر جب بعد میں تنقید کی گئی تو نواب خیر بخش مری نے کہا کہ "حیربیار مری تحریک کی مستقبل کی تیاری کیلئے مختصر وقت کیلئے وہاں گیا تھا ” سردار اخترمینگل کو نواب اکبرخان بگٹی اور مولانا شیرانی نے وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بٹھا یا جو ایک تاریخی لمحہ تھا اور اس حکومت کو انتہائی مضبوط حکومت قرار دیا جانے لگا ۔ لاہور کے اخبارات نے یہاں تک لکھا کہ مری مینگل بگٹی ایک ہوگئے ہیں اب بلوچستان کی زیادہ فکر کی جائے ۔

 معاملہ چل پڑا،حکومت سازی کے بعد سیاسی کارکنوں کا سیکرٹریٹ میں رش بڑھ گیا

پہلے پہل مینگل حکومت کی نو وزراء پر مشتمل صوبائی کابینہ تشکیل دی گئی میں جس میں بی این پی جے ڈبلیو پی اور جمعیت سے تین تین وزراء لئے گئے، لیکن بی این پی کے دووزراء اسرار زہری اور محمد علی رند جبکہ حیربیار مری کو بھی بی این پی کے حصے سے ہی وزارت دی گئی، کچھ کارکنوں اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ حیر بیار جلد بی این پی میں شامل ہونگے یہ باتیں ہوتی رہیں۔ بعد میں فتح علی عمرانی بھی بی این پی میں شامل ہوگئے اور پیپلزپارٹی کے اکلوتے رکن اسمبلی بسم اللہ کاکڑ نے بھی اختر مینگل کی حمایت کی ۔ نوابزادہ سلیم بگٹی کو وزیر تعلیم محمد علی نوتیزئی کو ایکسائز چاکر خان ڈومکی کوواسا کی وزارت دی گئی۔ جمعیت کے مولانا امیر الزمان کو سینئر وزیر مولانا واسع کو جنگلات، وڈیرہ عبدالخالق کو محکمہ صحت کے محکمے دیئے گئے۔ بی این پی کے اسرار زہری کو بلدیات، محمد علی رند کومحکمہ خوراک اور بی این پی کے حصے سے وزیر بننے والے نوابزادہ حیر بیار مری کو بی اینڈ آر کی وزرات دی گئی۔ جے ڈبلیو پی کے رہنماء اورریٹائرڈ ایس پی اور سبی سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والے میر عبدالجبار سومرہ کو اسپیکر بلوچستان اسمبلی بنادیا گیا تھا  معاملہ چل پڑا،حکومت سازی کے بعد سیاسی کارکنوں کا سیکرٹریٹ میں رش بڑھ گیا۔

پولیس کے ایس پی نے لیٹر پھینک دیا اور کہا کہ ”اس شخص سے نوکری مجھے لینی ہے اخترمینگل نے نہیں

سردار اخترمینگل کانام محمد اخترمینگل پکارا جانے لگا، سردار اخترمینگل کی وہ گن گرج اور تقریریں تھم گئیں اور یہ سب حکومتی معاملات میں جُت گئے۔ بلوچ بیوروکریسی نے بی این پی سے پینگے بڑھانے شروع کردیئے۔ معروف بیوروکریٹ اور بعد میں روزنامہ آساپ کے مدیر اعلیٰ بننے والے جان محمد دشتی اخترمینگل کے انتہائی قریب ہوگئے اس بناء پر ان کو ترقی دیدی گئی اور وہ ڈی سی کوئٹہ تعینات کئے گئے۔ بابو عبدالرحمان کرد کے بیٹے بھی اخترمینگل کے سیکرٹری تعینات کردیئے گئے ۔ باقی بیوروکریسی نے بھی ہاتھ پاؤں ماری اور ہر ایک کو حصہ بقدر جثہ حصہ ملتا رہا لیکن کارکن تیزی سے مایوس ہونے لگے۔ ان کے کام نہیں ہوئے بیوروکریسی نے انتہائی سخت رویہ اپنایا حتیٰ کہ جن افسران کو اخترمینگل کے دور میں خصوصی طورپر اہم پوزیشن دی گئی تھی انہوں نے کارکنوں کو صبر کی تلقین کی ۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے علاقے سے ایک شخص وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پہنچا اور پولیس میں بھرتی ہونے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا قد صرف ایک انچ چھوٹا ہے،دوڑ وغیرہ میں بھی ٹھیک رہا ہے لہذا ریلیکسیشن دی جائے۔اسے وزیراعلیٰ کی جانب سے سفارشی لیٹر دیدیا گیا جب یہ وہاں گیا اور یہ لیٹر دیا تو پولیس کے ایس پی نے لیٹر پھینک دیا اور کہا کہ ”اس شخص سے نوکری مجھے لینی ہے اخترمینگل نے نہیں ۔ اس کا قدچھوٹا ہے تو یہ پولیس میں قطعی بھرتی نہیں ہوسکتا ۔حالانکہ یہ وہ دور تھا جب ہزارہ برادری کے لوگ انتہائی بڑی تعداد میں پولیس میں بھرتی ہونے لگے ۔

افواہ چاروں طرف پھیل گئی تھی کہ لوگوں سے پیسے لے کر نوکریاں دی جارہی ہیں

اخترمینگل سمیت ان کے وزراء کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ۔ دلچسپ تو یہ تھا کہ 1993میں بی اینڈ آر جنگریز مری کے پاس تھا تو وہ محکمہ حیر بیار مری نے لے لیا(مری اس کو ڈامبر والا محکمہ کہتے تھے) بلدیات کا محکمہ جو 1993 میں سردار ثناء زہری کے پاس تھا وہ اسرار زہری کو ملا۔ چنانچہ اس دور کی سب سے بڑی بری بات یہ رہی کہ افواہ چاروں طرف پھیل گئی تھی کہ لوگوں سے پیسے لے کر نوکریاں دی جارہی ہیں ۔ریٹ 30 ہزار روپے رکھا گیا تھا ۔ اس دوران سیٹلر اور ہزار برادری کے نوجوان تیزی سے بھرتی ہونے لگے کیونکہ بعض اہم وزراء کے بارے میں یہ کہاگیا کہ انہوں نے سختی سے منع کیا ہواتھا کہ بلوچوں اور پشتونوں پر نوکریاں نہ بیچی جائیں جو بعد میں کہانیاں بناتے ہیں ۔ سیٹلر اور ہزار ہ برادری اپنے کام سے کام رکھتے ہیں انہیں بھرتی کیا جائے ۔

اخترمینگل نے خود نہ تو کوئی کرپشن کی اور نہ ہی انکی طرف سے کوئی بے ضابطگی ہوئی

حیر بیار مری اور نوابزادہ سلیم بگٹی تو سیکرٹریٹ نہیں آتے تھے ،بالخصوص حیر بیار مری کے بارے میں بھی ایسی کہانہاں گردش کرنے لگی تھیں ان کے سیکرٹری ان کے چچازاد بھائی میر یحییٰ مری تھے جو آج کل تاجکستان میں قیام پذیر ہیں ۔ سب سے زیادہ جمعیت کامیاب رہی جس کے وزراء نے اپنے کارکنوں کے کام کرائے۔ جب حکومت ختم کردی گئی تو سردار عطاء اللہ مینگل نے چند وزراء اور افسران کا نام لے کر انہیں حکومتی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا یا اور یہ بات بھی تسلیم شدہ ہے کہ اخترمینگل نے خود نہ تو کوئی کرپشن کی اور نہ ہی ان کی طرف سے کوئی بے ضابطگی ہوئی بلکہ ان کے دور میں کئی ایک اہم کام بھی ہوئے کہ انہوں نے قلات اسٹیٹ الاؤنس بحال کرادیا جس کے لئے وہ ماضی میں خود لانگ مارچ کرچکے تھے۔ زمینداروں کے بجلی بلوں سے متعلق فلیٹ ریٹ منصوبہ دیا اور اس پر عملدرآمد کرایا جو اب تک ردوبدل کیساتھ چل رہا ہے۔ جبکہ بلوچ شہداء کے ورثاء میں ایک مخصوص رقم بطور امداد بھی تقسیم کی گئی ۔ تاہم وزراء اور بیوروکریسی نے ان کی حکومت کی ناکامی میں اہم کردار ادا کیا دوسری جانب اتحادیوں کو سنبھالنا، ن لیگ کی بلیک میلنگ، مرکز میں ن لیگ کی جانب سے دباؤ سمیت یہ تمام عوامل تھے جنہوں نے اخترمینگل کوکھل کر کام کرنے نہیں دیا،حالانکہ ہمارے علاقے کے بی این پی کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے اخترمینگل نے واضح طورپر کہا تھا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ کچھ حالات سنبھال جائیں ن لیگ کو حکومت میں شامل کرکے ان کی بلیک میلنگ ختم کرا کر میں خود تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لوں لیکن یہ اخترمینگل کی محض خواہش ہی رہی۔

جب مشرف کا دور آیا اور تمام سیاستدانوں کے خلاف کرپشن کے کیسز بنائے جانے لگے

جب مشرف کا دور آیا اور تمام سیاستدانوں کے خلاف کرپشن کے کیسز بنائے جانے لگے تو اخترمینگل کے خلاف اور کچھ نہیں ملا توان پر صوابدیدی فنڈ کے استعمال سے متعلق الزام دھرا گیا حالانکہ قانونی طورپر اس مخصوص فنڈ کی کوئی آڈٹ ہوہی نہیں سکتی یہ وزیراعلیٰ کے اپنے صوابدیدپر ہے کہ وہ اس فنڈ کو کہاں خرچ کرے ۔ البتہ بی این پی کے اہم وزیر اسد بلوچ پر نیب میں کیس بنا جن کے بارے میں مشہورا کہ وہ ایک تیل بردار ٹینکر میں بیٹھ کر ایران فرار ہوگئے ہیں ۔ باقی ایک ٹھیکیدار شمریز خان کو بھی نیب نے دھر لیا جو اخترمینگل کے دور حکومت میں کافی متحرک تھے اوران کا نام لیا جاتا تھا ۔ایک بار خبر آئی کہ میر جاوید مینگل کو کراچی ائیر پورٹ پردبئی جانے سے روکا گیا ہے اور ان کی بریف کیس کی تلاشی لی گئی ہے تاہم انہیں بعد میں جانے دیا گیا تھا لیکن یہاں مینگل حکومت کے مخالفین نے یہ افواہ اڑائی کہ جاوید مینگل ٹھیکیدار شمریز کے دیئے گئے پیسے دبئی لے جارہا تھا ۔ بعد میں اس الزام میں کوئی صداقت نہیں رہی تھی ۔

مردم شماری کا معاملہ آیا افغان مہاجرین اور دیگر معاملات پرپشتونخوامیپ نے احتجاج شروع کردیا

بی این ایم حئی کے پاس صوبائی اسمبلی کی محض دوسیٹیں تھیں ایک اسلم بلیدی جو بلیدہ سے جیت کر آئے تھے اور دوسری سیٹ کریم نوشیروانی کی تھی جو خاران سے جیت کر آئے تھے اور بی این ایم میں شامل ہوگئے تھے یہ دونوں ارکان اپوزیشن میں رہے ۔ پشتونخوامیپ بھی اپوزیشن میں رہی۔اسی اثناء میں مردم شماری کا معاملہ آیا جہاں افغان مہاجرین اور دیگر معاملات پرپشتونخوامیپ نے احتجاج شروع کردیا اور شال میں شٹرڈاؤن اور دھرنا دینا شروع کردیا اور منان چوک وغیرہ کو بند کردیا گیا۔اس سے ایک بحران اوربلوچ پشتون تضاد مزید ابھرا۔ اخترمینگل نے ایک بار پولیس ایکشن کا حکم دیا بعد میں یہ حکم نامہ واپس لیا گیا جس پر کہا گیا کہ سردار عطاء اللہ مینگل نے اخترمینگل کو اس بابت سختی سے منع کردیا تھا ۔ پشتونخوامیپ چاہتی تھی کہ مینگل حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیاجائے لیکن انہیں دھرنا دینے دیا گیا جس کی قیادت رحیم مندوخیل کررہے تھے ۔

زلزلہ آیا اخترمینگل نے وفاق سے تعاون طلب کیا لیکن وفاق سے خاطر خواہ جواب نہ ملا

اخترمینگل کے دور حکومت کے آغاز کیساتھ ہی زلزلہ سے تباہی پھیلی تھی سب سے زیادہ متاثر ہرنائی کا علاقہ ہوا تھا۔ اخترمینگل نے وفاق سے تعاون طلب کیا لیکن انہیں وفاق سے خاطر خواہ جواب نہ ملا ۔
اخترمینگل نے حلف اٹھانے کے بعد کہا کہ ”سیٹلرز نہ گھبرائیں ہم پنجابیوں کو نہیں نکالیں گے “کچھ عرصہ بعد آٹے کا بحران پیدا ہوا جس پر اخترمینگل نے بارہا وفاق اور پنجاب سے رابطہ کیا لیکن انہیں کوئی خاص رسپانس نہیں ملا جس پر چہ مہ گوئیاں شروع ہوگئیں کہ وفاق اور پنجاب مینگل حکومت کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔اس پر اخترمینگل نے دھمکی دی کہ اگر آٹے کی سپلائی شروع نہ کی گئی تو سوئی گیس کی سپلائی بند کردینگے لیکن اگلے چوبیس گھنٹے میں اس بیان کی وضاحت آگئی اور کہا گیا کہ بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا وزیراعلیٰ کا یہ مطلب قطعی نہ تھا۔

سردار مینگل نے کہا کہ ”میں غدار ضرور ہوں لیکن ملک کا نہیں نوائے وقت کا غدار ہو ں“

مینگل حکومت کو کچھ ہی وقت گزارا تھا کہ سینٹ فرانسس گرائمر اسکول شال کے پرنسپل کو اغواء کیا گیا جو ایک سری لنکن کرسچن خاتون تھیں جس پر وفاق نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ اس وقت کے وفاقی وزیر صحت اور ن لیگ کے اہم رہنما ء جاوید ہاشمی اور (ر) جنرل صدیق ملک اور چوہدری نثارنے مینگل حکومت کو شدید تنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اخترمینگل اپنے والد سردارعطاء اللہ مینگل کے نقش قدم پر چل کر تعلیم دشمی کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ کوئٹہ کے ایک بڑے اسکو ل کی پرنسپل کا اغواء بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی بندش اور اساتذہ کو بھگانے کی سازش ہے۔ وفاقی حکومت کے اس غصے کے پیچھے مینگل حکومت کا قیام تھا جہاں یہ وفاقی وزراء مینگل حکومت کے خلاف کوئی وار خالی جانے نہیں دیتے۔ پرنسپل کو اغواء کرنے کا الزام صوبائی وزیر جناب حیر بیار مری پر لگا کہ انہوں نے پرنسپل کو اغواء کرکے کوئٹہ کے نواحی علاقے میں رکھا ہے، جس پر اخترمینگل کی حکومت پر کافی تنقید ہوئی۔ نوائے وقت نے نیپ حکومت کے تمام اقدامات کا رہ رہ کر ذکر کیا اور ان اقدامات کا تسلسل اخترمینگل حکومت سے جوڑنے کی کوشش کی۔ نوائے وقت جو سردار مینگل نواب مری اورمیر بزنجو کے خلاف ہرزہ سرائی میں اول نمبر پر رہا ہے اس وقت جب سردار عطاء اللہ مینگل سے پوچھا گیا کہ نوائے وقت تو آپ کو ملک کا غدار قرار دے رہا ہے تو سردار مینگل نے کہا کہ ”میں غدار ضرور ہوں لیکن ملک کا نہیں نوائے وقت کا غدار ہو ں“

سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب اکبر خان بگٹی نے ایک ساتھ اسلام آباد کا دورہ کیا

مینگل حکومت کے قیام کے چھ آٹھ ماہ بعد سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب اکبر خان بگٹی نے ایک ساتھ اسلام آباد کا دورہ کیا اور وزیراعظم نوازشریف سے ملے۔ان کی اسلام آباد موجودگی کے دوران تیرہویں ترمیم پاس کی گئی جو فلور کراسنگ سے متعلق تھی جہاں کوئی رکن جس پارٹی کے انتخابی نشان سے الیکشن لڑ کر کامیاب ہو وہ اس پارٹی کو چھوڑنے کے ساتھ ہی رکنیت سے بھی استعفیٰ دیدیگا تب وہ دوسری پارٹی میں شامل ہوسکے گا ورنہ وہ نااہل قرار دیاجائیگا ۔اس ترمیم کا کریڈٹ نوازشریف نے سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب بگٹی کو دیا اور کہا کہ یہ ترمیم ان کی مشاورت سے پاس کی گئی ہے ۔ تاہم جب خود سردار یارمحمد رند نے نواب اکبر خان بگٹی کی پارٹی کو چھوڑا اور آزاد حیثیت میں رہا تو جے ڈبلیو پی نے ان کے خلاف فلور کراسنگ کی بابت نااہلی کی درخواست دی تو سردار رند نے کہا کہ میں کسی دوسری پارٹی میں شامل نہیں ہوا بلکہ آزاد ہوں ۔ ان پر فلورکراسنگ لاگو نہیں ہوسکی,
(اگلی قسط بھی مینگل حکومت کے معاملات سے متعلق ہوگی جس میں مزید واقعات شامل ہونگے )

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close