بلوچستانپہلا صفحہتاریخڈیرہ غازیخانراجن پورژوب ڈویژنسبی ڈویژنسوشل میڈیاقلات ڈویژنکوئٹہ ڈویژنمکران ڈویژننصیر آباد ڈویژن

شال کی یادیں(19) زرک میر

سہب حال

شال کی یادیں(19) زرک میر

بی این پی کے مایوس کارکن بپھر گئے ،حاصل بزنجو کے خلاف شدید ردعمل کا آغاز

بی این پی کے اندر ایک بحران تو اس وقت پیدا ہوا جب بی این پی کے ڈپٹی آرگنائزرمیر حاصل بزنجو نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "بلوچ قوم کو شہیدوں کی نہیں بلکہ ڈاکٹروں انجینئروں اور ٹیکنکل لوگوں کی ضرورت ہے ” اس خطاب کا ہونا تھا کہ بی ایس او بھڑک اٹھی ، جبکہ بی این پی کے مایوس کارکن بپھر گئے ،حاصل بزنجو کے خلاف شدید ردعمل کا آغاز ہوگیا جو پارٹی کے پہلے اورآخری کونسل سیشن تک جاری رہا حاصل بزنجو کونسل سیشن کے جلسہ عام میں نواب نوروز اسٹیڈیم میں تقریر کرنے آئے تو پنڈال کے سامنے بیٹھے بی ایس او کی قیادت اور کارکن واک آؤٹ کرگئے اور مظاہرہ کرنا شروع کردیا اور حاصل بزنجو کے خلاف نعرے بازی کی گئی ۔ پارٹی تو ٹوٹ چکی تھی حاصل بزنجو بھی اس مظاہرے کو بہانہ بنا کر ناراض گروپ سے جاملے اوراپنے خلاف بی ایس او کے اس مظاہرے کو سردار عطاء اللہ مینگل سے منسوب کردیا ۔ حالانکہ یہ فطری امر تھا کہ جہاں حاصل بزنجو شہداء کی قربانیوں سے انکار کرے اور بی ایس او جیسی تنظیم اس بات کو برداشت کرلے ایسا ہوہی نہیں سکتا تھا

اخترمینگل نے ایک دن تو یہ کہہ کرحد ہی کردی کہ ”میں کمبل کو چھوڑتا ہوں لیکن کمبل مجھے نہیں چھوڑتا“

بی این پی نے بالآخر ن لیگ کو بھی کابینہ میں شامل کرلیا، جہاں صوبائی کابینہ میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں مزید وزراء لئے گئے ایک دفعہ پھر بی این پی کے حصے سے بسم اللہ کاکڑ کو وزیربنایا گیا جسے انتہائی اہم محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی دیاگیا سردار بہادرخان بنگلزئی کوداخلہ جبکہ پرنس موسیٰ بلوچ کو کھیل وثقافت کا محکمہ دیا گیا،اسد بلوچ کو پی ایچ ای کا محکمہ تفویض کیاگیا ۔ جے ڈبلیو پی کو وزارتوں پر اعتراض رہا وہ یہ کہنے لگے کہ ان کیساتھ جن وزارتوں کا وعدہ کیاگیا تھا وہ انہیں نہیں دیئے گئے،جس پر جے ڈبلیو پی کی جانب سے چہ مہ گوئیاں شروع ہوگئیں ۔اہم بات یہ بھی تھی کہ نواب اکبر خان بگٹی ن لیگ کی حکومت میں شمولیت پر قطعی راضی نہیں تھے ۔وہ مینگل حکومت کے قیام کا کریڈٹ اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے اور وہ اس کے حقدار بھی تھے لیکن اخترمینگل جو ن لیگ کو کابینہ میں شامل کرنے پر کافی پراعتماد ہوگئے تھے، انہوں نے جے ڈبلیو پی پر کھل کر تنقید شروع کی اور کہا کہ جنہیں وزارتیں پسند نہیں وہ اپنے گھروں کو جاسکتے ہیں ۔اس سے قبل بھی اخترمینگل نوابزادہ سلیم اکبر بگٹی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے جبکہ حیر بیار مری کو بھی کارکردگی دکھانے کا کہا تھا ،اخترمینگل کی جانب سے جے ڈبلیو پی پر تنقید پر لوگ ششدر رہ گئے،جب جے ڈبلیو پی نے اخترمینگل کے بیانات کا کوئی جواب نہ دیا تو اخترمینگل نے ایک دن تو یہ کہہ کرحد ہی کردی کہ ”میں کمبل کو چھوڑتا ہوں لیکن کمبل مجھے نہیں چھوڑتا“ اس بیان نے جلتی پر تیل کا کام کرنا تھا لیکن جے ڈبلیو پی اس پر بھی خاموش رہی، عام بحث مباحثے شروع ہوگئے اخترمینگل کا یہ جملہ اس وقت تو زدزبان عام تھا ہی لیکن لوگ اس جملے کو آج بھی یاد کرتے ہیں، چنانچہ اس کمبل والے بیان کے بعد بھی نواب بگٹی اور جے ڈبلیو پی کی جانب سے کوئی خاص ردعمل نہیں آیا بالاخر وزیراعلیٰ محمد اخترمینگل کی سفارش پر گورنر میاں گل اورنگزیب نے جے ڈبلیو پی کے وزراء کو سبکدوش کردیا

ڈھائی سال کیلئے اخترمینگل وزیراعلیٰ رہیں گے اور ڈھائی سال بعد نوابزادہ سلیم اکبر بگٹی وزیراعلیٰ ہونگے

یوں جے ڈبلیو پی کا مینگل حکومت سے ناطہ ختم ہوگیا جس کے بعد نواب بگٹی نے شدید ردعمل کا اظہارکیااورکہا کہ ہم نے حکومت کیساتھ آخری وقت تک رہنے کا عہد کیا تھا اس لئے ہم نے اس وقت تک حکومت کا ساتھ دیا جب تک انہیں ہماری ضرورت تھی،اب چونکہ انتہائی اقدام کے طورپر ہمیں حکومت سے دھکیل دیاگیا اور کمبل والی بات کی گئی تو ہم اپنے فیصلے میں آزاد ہیں تب وہ معاہدہ سامنے لایاگیا جس کے بارے میں کسی کو علم نہ تھا وہ معاہدہ بی این پی اور جے ڈبلیو پی کے درمیان تھاجس کے تحت ڈھائی سال کیلئے اخترمینگل وزیراعلیٰ رہیں گے اور ڈھائی سال بعد نوابزادہ سلیم اکبر بگٹی وزیراعلیٰ ہونگے وزارتوں کی تقسیم بھی اسی شیڈول کے تحت ہوگی،جے ڈبلیو پی نے الزام لگایا کہ ہمیں حکومت سے نکالنے کا مقصد ڈھائی سال مزید وزارت اعلیٰ اپنے پاس رکھنا ہے جو نہ صرف سیاسی معاہدے کی خلاف وزری ہے بلکہ بلوچ روایات سے بھی روگردانی ہے،نواب بگٹی نے ایک بیان دیا کہ ”اخترمینگل نے اپنوں کو چھوڑ کر غیروں (اشارہ ن لیگ کی طرف) کو گلے لگایا ہے جو اسے جلد خیر باد کہہ کر حکومت سنبھالیں گے۔ اس حوالے سے سردار اخترمینگل نے ایک الگ موقف اپنایا انہوں نے کہا کہ چونکہ نواب بگٹی نے مجھ سے کلپروں کے خلاف کارروائی اور اقدامات کا کہا تھا جس پر میں نے کسی بھی بلوچ قبیلے یا طبقے کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کردیا اس پر نواب بگٹی نے اندرونی طورپر حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جس پر مجبورا ہمیں جے ڈبلیو پی سے جان چھڑانی پڑی۔ بی این پی اور جے ڈبلیو پی کی اس کشمکش سے بلوچ قوم شدید مایوس ہوئی جو کسی بھی تبدیلی کے منتظر تھی جن کو انتظار اور صبر کرنے کا کہاگیا تھا ۔ پھر بھی این پی کی اکثریت ن لیگ کی حکومتی شمولیت پر نہ صرف خوش تھی بلکہ مینگل حکومت کو مزید مضبوط قرار دے رہی تھی ۔

سعید ہاشمی اخترمینگل کو بار بار یہ طعنہ دیتا تھا کہ ان کی حکومت ان کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے

دوسری طرف یہ حقیقت تھی کہ اخترمینگل کی حکومت کا انحصار اب ن لیگ پر تھا جس کے کرتا دھرتاؤں سعید ہاشمی جان جمالی اور جعفرمندوخیل نے مینگل حکومت کو ہر طرح سے پریشان کرنا شروع کردیا۔ن لیگ حکومت میں شامل تو ہوگئی تھی لیکن وزارتوں اور مداخلت کا بہانہ بنا کر آئے روز طوغی روڈ پر واقع ہاشمی ہائوس میں اجلاس منعقد ہوتا تھا ۔ سعید ہاشمی اخترمینگل کو بار بار یہ طعنہ دیتا تھا کہ ان کی حکومت ان کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے جس پر اخترمینگل نے ایک بار انہیں ایک اجلاس میں جواب دیا کہ آپ خود جن بیساکھیوں پر کھڑے ہیں وہ ربڑ کے بنے ہیں ہمیں کیا سہارہ دینگے ۔ تاہم حکومت چلتی رہی، اس دوران نہ تو کوئی قانون سازی ہوئی نہ کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع کیا گیا ۔ براہوئی بلوچی پشتو کو تعلیمی زبان قرار دینے سے متعلق بھی کوئی کام نہیں ہوا جس کا عوام سے وعدہ کیاگیا تھا تاہم اخترمینگل نے اپنے دور میں کچھ ادبی اکیڈمیوں اور تنظیموں کے گرانٹ میں اضافہ اورعدالت روڈ پر بلوچی اکیڈمی کی بلڈنگ کی تعمیر کرائی اس حوالے سے بھی جان محمد دشتی نے ذاتی طورپر کوششیں کیں ورنہ تو براہوئی اکیڈمی اور پشتو اکیڈمی کو تاحال اپنی جگہ اور بلڈنگ دستیاب نہیں ۔

پاکستان نے 28 مئی کو چاغی میں ایٹمی تجربات کرکے راسکو کی پہاڑی کو ریزہ ریزہ کردیا

بالآخر11 مئی 1998 کو خبر آئی کہ انڈیا نے راجھستان میں ایٹمی دھماکہ کا کامیاب تجربہ کیا ہے ۔ یہ عالمی خبر تھی جس پر تبصرے شروع ہوگئے ، پاکستان میں سراسیمگی پھیل گئی کہ انڈیا ایٹمی طاقت بن گیا اب پاکستان کو ضرور جواب دینا تھا ، پاکستان نے ایٹمی پروگرام بھٹو کے دور میں شروع کیا تھا۔چہ مہ گوئیاں شروع ہوگئیں کہ پاکستان بھی انڈیا کے جواب میں اٹیمی تجربے کریگا ،پاکستان کے اس ارادے سے پوری دنیا تشویش میں مبتلا ہوگئی اور پاکستان کو ایٹمی تجربوں سے روکنے کی کوشش کی گئی ،امریکہ نے مراعات دینے کی پیشکش کی لیکن پاکستان کی اناپرست اسٹیبلشمنٹ نے دنیا کی ایک نہ سنی اور ایٹمی تجربوں کا حتمی فیصلہ کرلیا اس کے لئے رسمی طورپر سیاستدانوں سے مشاورت شروع ہوگئی ، پھر ایک دن پی ٹی وی پر یہ خبر نشر کی گئی اور دیکھا گیا جہاں وزیر اطلاعات مشاہد حسین نے وزیراعظم نوازشریف کی ہدایت پر سردارعطاءاللہ مینگل اور وزیراعلیٰ اخترمینگل سے ملاقات کی اور انہیں حکومت کے ایٹمی تجربوں سے فیصلے سے آگاہ کیا ۔ سردارعطاء اللہ مینگل کی بابت خبر چلائی گئی کہ انہوں نے کہا کہ ملک اور قوم کے مفاد میں جو بہتر ہو کیا جائے ، بالآخر پاکستان نے 28 مئی کو چاغی میں ایٹمی تجربات کرکے راسکو کی پہاڑی کو ریزہ ریزہ کردیا ، دنیا بھر سے مذمتی اور تشویش کی خبر آئیں ، بلوچستان میں بی ایس او نے احتجاجی مظاہرے کئے ، پارٹیوں میں بھی بعد میں جنبش نظر آئی ،سب نے اس کے مضرممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ، وزیراعلیٰ اخترمینگل نے دھماکوں کے بعد کہا کہ انہیں اور ان کی حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔سردارعطاء اللہ مینگل نے کہا کہ مجھے نہیں پتا تھا کہ نوازشریف میں اس قدر جرات ہوگی اور وہ ایٹمی دھماکے کردیگا ، البتہ اخترمینگل کے اعتماد میں نہ لینے کے بیان کا وفاقی حکومت نے سخت نوٹس لیا اور ناراضگی کا اظہار کیا ۔ بعد میں جب ایٹمی دھماکوں کی جگہ کے معائنے کیلئے وزیراعظم نواشریف اور اٹیمی دھماکے کرانے والے سائنسدان ڈاکٹر قدیر خان کوئٹہ آئے اور یہاں سے اخترمینگل بھی ان کے ہمراہ چاغی چلے گئے اور ایٹمی دھماکوں کی جگہ کا معائنہ کیا ۔ جہاں صحافی وزیراعلی اخترمینگل کے تحفظات سے آگاہ تھے تو انہوں نے ان سے سوال کیا کہ آپ کو یہاں ایٹمی تابکاری اثرات نہیں لگتے تو اخترمینگل نے کہا کہ ” اگر ایٹمی اثرات کا خطرہ ہوتا تو میں یہاں کیوں آتا ” واپسی پر ڈاکٹر قدیر خان نے اخترمینگل کو وزیر اعظم نوازشریف کے سامنے کہا ” مینگل صاحب آپ تو مجھے 28 مئی کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے ” اخترمینگل اس پر خاموش رہے ، اختر مینگل کا ایٹمی دھماکوں سے متعلق پہلے رضامندی ظاہر کرنا ، پھر یہ کہنا کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ، پھرنوازشریف کی گاڑی خود ڈرائیو کرنا چاغی راسکو کا دورہ کرنا اور یہ کہنا کہ ” یہاں ایٹمی تابکاری کے اثرات نہیں ” ان متضاد بیانات اور رویوں کا مخالفین نے سخت سیاسی فائدہ اٹھایا اور اخترمینگل کے خلاف ان کو خوب استعمال کیا ،نوازشریف کی ڈرائیوری ، ایٹمی دھماکوں پر ردعمل نہ دکھانے کو آج تک بطور طعنہ اخترمینگل کو دیئے جاتے ہیں ۔

وزارت سے سبکدوشی کے بعد ایک دن نوابزادہ سلیم اکبر بگٹی سیکرٹریٹ آرہے تھے

وزارت سے سبکدوشی کے بعد ایک دن نوابزادہ سلیم اکبر بگٹی سیکرٹریٹ آرہے تھے ان کے ساتھ کئی گاڑیاں ساتھ تھیں جونہی وہ ٹھنڈی سڑک پر وزیراعلی سیکرٹریٹ پر پہنچے تو مخالف سمیت سے اخترمینگل وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں داخل ہورہے تھے ، ٹریفک پولیس نے نوابزادہ سلیم کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ نہ رکے اور گاڑی آگے بڑھا دی ،وہاں سے اخترمینگل اپنی گاڑی خود چلارہے تھے وہ بھی سلیم اکبر بگٹی کی گاڑی کے بالکل سامنے سے جا کر گاڑی وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں داخل کی جس پر نوابزادہ سلیم کو رکنا پڑا ۔ اس پر اخترمینگل نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں داخل ہوکر دلچسپ جملہ کہا کہ ” جن کو پہلے سیکرٹریٹ آنا چاہئے تھا اور لوگوں سے درخواستیں لے کر ان کے مسئلے حل کرنا تھا اب خود درخواست دینے سیکرٹریٹ جارہے ہیں ۔

بی این پی کو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ ن لیگ مینگل کو چلنے نہیں دے گی ، مشکلات بڑھتی گئیں

نوابزادہ سلیم اکبر بگٹی نواب بگٹی سے شکل میں کافی مشابہہ تھے وہ نواب بگٹی کے بیٹے کم دوست زیادہ لگتے تھے ۔انتہائی بارعب شخصیت کے مالک تھے بظاہر انتہائی خاموش طبع لگتے تھے لیکن نواب بگٹی کے تمام معاملات وہ سنبھالتے تھے ۔ایک دلچسپ واقعہ سنیئے ۔ 1972 میں جب نیپ کی حکومت بنی جس کی نواب بگٹی جو خود لندن میں تھے نے نیپ حکومت کی مخالفت کی جبکہ انکے بھائی احمد نواز بگٹی نیپ حکومت کے وزیرخزانہ تھے جنہوں نے بجٹ انگریزی زبان میں پیش کیا تھا انتہائی قابل شخص تھے ، نواب بگٹی نے نوابزادہ سلیم بگٹی سے کہا کہ وہ احمد نواز بگٹی کو نیپ کے اجلاسوں اور وزارت کے امور نبٹھانے سے روکے اور اسے استعفی دینے پر مجبور کرے جس پر سلیم اکبر بگٹی نے محمد خان کلپر اور سردار چاکر خان ڈومکی کولے کر اپنے مسلح گارڈز کیساتھ جاکر سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کیا جہاں احمد نواز بگٹی موجود تھے ۔ انہوں نے ڈیمانڈ کیا کہ احمدنواز بگٹی کو ان کے ساتھ بھیجا جائے لیکن احمد نواز بگٹی ان کےساتھ جانے سے انکار کرتے رہے ، وفاقی حکومت کو جب پتہ چلا تو اس نے اس واقعہ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ، ذوالفقار بھٹو نے وزیراعلی سردار عطاء اللہ مینگل سے رابطہ کرکے اسے سلیم اکبر بگٹی کے خلاف کارروائی کا کہا اور کہا کہ بگٹی ہاؤس کی بجلی گیس اور پانی بند کی جائے جس پر وزیراعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل اور گورنر غوث بخش بزنجو نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ بگٹی ہاؤس ان کا اپنا گھر ہے وہ ایسا اقدام نہیں اٹھا سکتے ۔
یہ مینگل حکومت کئی ایک بحرانوں کا شکار تھی جس پر بی این پی کو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ ن لیگ مینگل کو چلنے نہیں دے گی ، وزارتوں کے معاملے پر بہانے بازی اور وفاقی حکومت کے اقدامات سے متعلق مداخلت سے مشکلات بڑھتی گئیں ساتھ ساتھ جاوید ہاشمی اور چوہدری نثار سمیت وفاقی وزیر مینگل حکومت پر تنقید کرتے رہے ، لیکن اس کے باوجود بی این پی کو جے ڈبلیو پی کو حکومت سے دھکیلنے کا کوئی پچھتاوا نہیں ہوا

میر بزنجو سردار عطاء اللہ مینگل نواب خیر بخش مری اور نواب بگٹی سیاست پر چھائے رہے

تجزیہ نگار اس کا پس منظر طویل سیاسی دورانیے کو قرار دیتے رہےکہ اس دورانیہ میں نواب بگٹی اور سردار عطاء اللہ مینگل کے درمیان کبھی بہتر سیاسی تعلقات نہیں رہے ، 70 ، 80، اور 90 کی دہائی جس میں چار یار کے نام سے جانے جانے والے میر بزنجو سردار عطاء اللہ مینگل نواب خیر بخش مری اور نواب بگٹی سیاست پر چھائے رہے ، بلوچستان کی پوری سیاست ان شخصیات کے گرد گھومتی رہی لیکن بزنجو مینگل اور مری کے سیاسی تعلقات ایک دوسرے سے قدرے بہتر رہے اور ایک پارٹی میں رہے لیکن ان تینوں کے نواب بگٹی کیساتھ تعلقات ہمیشہ اونچ نیچ کا شکار رہے گوکہ نواب بگٹی نے نیپ کو مالی مدد فراہم کی اور ہر طرح سے ان کے ساتھ رہے لیکن وہ بات بنتی دکھائی نہیں دی ، میر بزنجو کے سردار مینگل کیساتھ تعلقات 1987 تک بہت بہتر رہے ، نواب خیر بخش اور سردار عطاء اللہ مینگل کے سیاسی تعلقات 2000 کی دہائی تک درست رہے یہ دوستی رشتہ داری میں بھی بدل گئی تھی لیکن مزاحمتی تحریک کے آغاز پر ان دونوں رہنمائوں کے سیاسی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی گئی تاہم یہ کشیدگی اس سطح پر نہیں پہنچی کہ ایک دوسرے سے بات چیت بند کرتے البتہ سردار مینگل اور نواب بگٹی کے تعلقات کبھی اس سطح پر نہیں رہے جس طرح سردار مینگل کے میر بزنجو اور نواب مری سے رہے ۔ 2004 کے بعد تو یہ تعلقات میڈیا کے ذریعے انتہائی کشیدہ رہے۔

گورنر صاحب جے ڈبلپیو پی کو دھکیلنے کا ذمہ دار سردار عطاء اللہ مینگل کو قرار دے رہے تھے

جے ڈبلیو پی کو حکومت سے نکالنے پر گورنر میاں گل اورنگزیب نے انتہائی اہم بیان دیا انہوں نے کہا کہ ” اخترمینگل اچھے سیاستدان ہیں وہ حکومت درست چلا سکتے ہیں لیکن سردار عطاء اللہ مینگل کے مشوروں نے انہیں مشکلات میں ڈال دیا ہے ” گورنر صاحب جے ڈبلپیو پی کو دھکیلنے کا ذمہ دار سردار عطاء اللہ مینگل کو قرار دے رہے تھے ، دوسری جانب اخترمینگل کا لہجہ بھی جے ڈبلیو پی کیلئے انتہائی ترش رہا ، تاہم جے ڈبلیو پی کے ساتھ اندرونی معاملات کچھ اور تھے جن میں سے ایک کا ذکر اخترمینگل نے خود کیا جو کلپروں سے متعلق تھا ۔باقی معاملات راز رہے ۔تجزیہ نگار اور سیاسی کارکن اس اختلاف کو ماضی کے سیاسی رویوں کا شاخسانہ قرار دیتے رہے ،لیکن تاہم بلوچ سیاست کی یہ تاریخ رہی ہے کہ بلوچ رہنماء باہمی اتحاد پر کم ہی راضی ہوتے ہیں اور بہت کم عرصے کیلئے ہی ساتھ چلتے ہیں ۔ باہمی چپقلش اور کھینچا تانی کیلئے بلوچ سیاست بہت ہی زر خیز رہی ہے ۔

(اگلی قسط میں بھی ہم مینگل حکومت کا ہی ذکر کرینگے اب تک ہم نے مئی1998 تک کے واقعات کا ذکر کیا ہے آگے اس حکومت کا سب سے اہم مرحلہ آتا ہے جس کا تفصیل سے ذکر کرینگے )

 

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close