بلوچستانپہلا صفحہڈیرہ غازیخانراجن پورژوب ڈویژنسبی ڈویژنسوشل میڈیاقلات ڈویژنکوئٹہ ڈویژنمکران ڈویژننصیر آباد ڈویژن

شال کی یادیں (20) زرک میر

سہب حال

یہ نواب خیر بخش مری کا 24 سال بعد اپنے آبائی علاقے کوہلو کاہان کا دورہ تھا

نواب خیر بخش مری شال میں اپنی علمی اور فکری اسٹڈی سرکل کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے ، ان تمام سیاسی اکٹھیلیوں سے کہیں دور ،اپنی کھوئی ہوئی شہ کی تلاش کی تدبیریں تلاش کرنے والے کسی شخص کی طرح یہ فکر میں ڈوبتے جارہے تھے ،اسی اثناء میں نواب خیر بخش نے کچھ علاقوں کا اپنے فکری ساتھیوں کے ہمراہ دورہ بھی کیا جکبہ 1998 میں کوہلو جانے کا فیصلہ کرلیا ۔ یہ نواب خیر بخش مری کا 24 سال بعد اپنے آبائی علاقے کوہلو کاہان کا دورہ تھا ، وہ نیپ حکومت ، حیدر آباد سازش کیس میں گرفتاری رہائی اور افغانستان جلاوطنی کےبعد 1992 میں وطن واپسی کے بھی چھ سال بعد وہ پہلی دفعہ کوہلو جارہے تھے ، میں 1998 میں شال آچکا تھا اور میرا یہاں تعلیمی سلسلے کا پہلا سال تھا ، تعلیم کیا تھی بس شہر بدل دیا تھا نیا پن محسوس ہورہا تھا ، سیاسی پارٹیوں سے دلچسپی انتہاء کو تھی ، البتہ آج حیران ہوتا ہوں کہ کسی پارٹی کے بھینٹ چڑھنے سے کیسے بچا رہا ، یہ ایک طرح سے انجانے میں اچھا کام سرزد ہوا مجھ سے ۔

نواب خیر بخش مری جب کاہان پہنچے تو قبیلے کے اندر موجود مخالف گروپ نے ان کا گھیراؤ اور محاصرہ کرلیا
میں ایک دن ارباب کرم خان روڈ اور رئیسانی روڈ کے سنگم پر واقع ایک دوست کے ویڈیو سینٹر کے سامنے کھڑا تھا تو مجھے چار گاڑیوں کا قافلہ نظر آیا جہاں پہلی کالی رنگ کی لینڈ کروزر میں مجھے نواب خیر بخش مری نظر آئے اور باقی گاڑیوں میں کچھ لوگ تھے اور ان میں سامان تھا (جبکہ اس سے قبل میں نواب خیر بخش مری کو ان کی سرخ رنگ کی پراڈو میں پہچان ہی نہیں پاتا جب وہ یہاں سے گزرتے رہتے) بعد میں پتہ چلا کہ نواب خیر بخش مری کوہلو کاہان جارہے ہیں، نواب خیر بخش مری اپنے علاقے طویل عرصے بعد جارہے تھے ، وطن واپسی پر انہوں نے حق توار کے اسٹڈی سرکلز میں بھی یہ بات کہی تھی کہ وہ کچھ وقت کم ازکم ایک ہفتے کیلئے کوہلو کاہان ضرور جائیں گے ۔ جب نواب خیر بخش مری کوہلوکے علاقے برائی کاہان پہنچے جو ان کا آبائی علاقہ ہے تو لگا کہ بہت کچھ بدل چکا تھا ، وہ کوہلو کاہان جہاں نواب خیر بخش مری خود پہاڑوں میں جا کر گوریلوں کی خبر گیری کرتے رہتے اپنے لٹے پٹے لوگوں کا حال معلوم کرتے اور ہوچی منہ کی طرح ان کے زخموں پر مرہم رکھتے ،کاہان کی پہاڑیاں گھاٹیاں اور وہاں پھوٹتی کونپلیں نواب خیربخش کا استقبال کرتیں کوہستان مری جس کی پہچان نواب خیر بخش مری ہی تھے ،وہاں کی فضائیں نواب خیر بخش کی فکر کی خوشبو سے مطعر رہتی تھیں

تصادم اور خونریزی کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا لیکن نواب خیر بخش مری نے انتہائی تحمل سے کام لیا

لیکن اب اس اس کے برعکس علاقے میں نواب خیر بخش مری کے پہنچے پر ان کا گھیراؤ کیا گیا  جی ہاں نواب خیر بخش مری جب کاہان پہنچے تو قبیلے کے اندر موجود مخالف گروپ نے ان کا گھیراؤ اور محاصرہ کرلیا جس کی اکثریت اس وقت تک لیویز میں بھرتی ہوچکی تھی ، اس عمل میں انہیں سرکارکی آشیرباد حاصل تھی ، تصادم اور خونریزی کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا لیکن نواب خیر بخش مری نے انتہائی تحمل سے کام لیا جہاں ان کا کئی روز تک محاصرہ رہا اور مخالفین ان پر فوری طورپر علاقہ چھوڑنے پر زور ڈالتے رہے بالآخر نواب خیر بخش مری جو ایک یا چند ہفتے کیلئے گئے تھے وہ کچھ اور وقت گزار کر اپنے قریبی ساتھیوں سے مشورکے بعد واپس شال پہنچ گئے ، یہ وہ واقعہ تھا کہ جو اپنے اندر انتہائی گہرا پیغام رکھتا تھا کہ جہاں سرکار کو یہ بخوبی پتہ تھا کہ نواب مری اپنے ساتھ افغانستان سے کیا کیا لائے ہیں اور وہ اب کیا کرنے والے ہیں لیکن افسوس کہ قوم اس سے بے خبر تھی۔ نواب مری نے بھی کسی سے اس بابت کوئی شکایت نہیں کی اور نہ ہی اس کا گلہ کیا بلکہ وہ ان حالات کو پہلے ہی بھانپ گئے تھے جو آزادی کی جدوجہد کی راہ میں کسی بھی ایسے رہنماء کو پیش آتے ہیں اور آسکتے ہیں ، یہ سب کچھ انتہائی منظم انداز سے اور باقاعدہ منصؤبہ بندی سے کیا گیا تھا لیکن آزادی کی طویل جدوجہد کو مدنظر رکھتے ہوئے نواب خیر بخش مری نے تصادم اور خونریزی کی بجائے تحمل سے کام لیا اورپھر نواب طویل عرصے کیلئے وہاں گئے بھی نہیں تھے ۔ واپس شال آکر حق توار اسٹڈی سرکل پروگرام دوبارہ سے جاری رکھا

وفاق کی آکسیجن پر چلنی والی حکومتیں دیرپا نہیں ہوتیں 

یہاں اخترمینگل کی حکومت جیسے تیسے چل رہی تھی لیکن وفاق کی آکسیجن پر چلنی والی حکومتیں دیرپا نہیں ہوتیں ، ہماری حکومتیں سیاسی پارٹیاں قبیلے اور روایات سب وفاق کے پاس گروی رکھی ہوئی ہیں وہ جیسے چاہے ان کا استعمال کرے ہم بے بس ہیں ۔ بلوچستان مالی بحران کا شکار بھی تھا ۔ وزراء کی کارکردگی کے باعث گڈ گورننس بھی نہ ہونے کے برابر تھی ، سیاسی کارکن اور عوام کی طرف سے وزراء کے خلاف شکایات کے انبار لگ گئے تھے ۔بالآخر 13 جولائی 1998 سے متحدہ بی این پی کا پہلا قومی کونسل سیشن کا آغاز ہوگیا جہاں 15 جولائی کو نواب بابو نوروز خان زہری اور ان کے ساتھیوں کی برسی کے دن عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہونا تھا ، کمرہ اجلاس شروع ہوگیا تو پہلے دن کے اجلاس کے اختتام پر روداد سنانے والوں نے جو خبریں لائیں وہ انتہائی حیران کن تھیں کہ جہاں پارٹیوں کے کونسل سیشنز اور بندکمرے اجلاسز یونہی رسمی ہوتے آئے ہیں ۔سب کچھ پہلے سے طے ہوتا رہا ہے لیکن اس کونسل سیشن کے بند کمرہ اجلاس کی روداد کچھ اور ہی بتا رہی تھی کہ جہاں پارٹی کے سرپرست اعلیٰ سردارعطاء اللہ مینگل وزراء کی کارکردگی پر برس پڑے تھے اور کہا تھا کہ حکومت ناکام ہوئی تو اس کے ذمہ دار یہ وزراء ہی ہونگے ۔ کہتے ہیں کہ سردار عطاء اللہ مینگل نے ایک ایک وزیر کو اس کی کارکردگی کی روداد سنائی اور اس سے جواب طلب کیا جس پرکوئی وزیر اپنی صفائی پیش نہ کرسکا اور نہ ہی ان کے وہم وگمان میں تھا کہ ایسا کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔سردار بہادر خان بنگلزئی کو براہوئی میں ایک متل کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ اس عمر میں نے اپنی داڑھی تم نادانوں کے ہاتھوں میں دے کر بہت بڑی غلطی کی ، کہتے ہیں کہ اجلاس کے بعد وزراء اور ایم پی ایز بہت ہی تھکے ہوئے لگ رہے تھے اور وہ دوبارہ اجلاس میں آنے سے کترا رہے تھے ، کچھ نے اجلاس میں اپنی صفائی میں جذباتی باتیں بھی کہی تھیں ، اجلاس کی خبر چارسوں پھیل گئی تھی کہ جہاں اسٹیبلشمنٹ نے اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور رات گئے ان وزراء سے رابطے شروع ہوگئے تھے کچھ کو تو بلا بھی لیا گیا تھا

مجھے یاد ہے کہ جلسہ عام کیلئے بابو نوروز اسٹیڈیم میں کرسیاں بھی لگائی گئی تھیں

تیسرا دن تھا کہ بلوچستان بھر سے قافلے جلسہ عام میں شرکت کیلئے آرہے تھے ، میں پہلے سے شال میں موجود تھا ،والد صاحب دوپہر کو علاقے سے شال پہنچے ،چچا بھی شال میں موجودتھے اور ہدہ کے رشتہ داروں کیساتھ ہم ہدہ سے پیدل جلسہ گاہ کی طرف چل دیئے ،بابو نوروز اسٹیڈیم کے گیٹ پر پہنچ کر ہم نے شام کا اخبار لیا ، جب اخبار پڑھا تو ہماری حیرانگی کی انتہاء نہ رہی جہاں اخبار نے اپنی پیشانی پر بڑی سرخی جمائی ہوئی تھی کہ ” سردارعطاء اللہ مینگل اور مہیم خان بلوچ میں صدارت کیلئے کانٹے کا مقابلہ جاری ” ہماری حیرانگی کی وجہ یہ بھی تھی کہ مہیم خان جس کی پارٹی کیلئے کوئی قابل فخر کارنامہ نہیں تھا نہ ہی وہ اس قدر متحرک تھے ، اجلاس کی خبریں بھی عام ہوچکی تھیں تب سب کا ماتھا ٹھنکا کہ معاملہ کچھ ٹھیک نہیں ۔ اسٹیڈیم تو سہ پہر سے ہی بھرنا شروع ہوگیا تھا ، کارکن ٹھولیوں کی شکل میں کھڑے پارٹی انتخابات پر بحث کررہے تھے ،ان میں سے بعض کہہ رہے تھے کہ مہیم خان جمہوری اصولوں کے تحت ہی الیکشن لڑرہے ہیں اور کارکن اس پر اپنے آپ کو تسلی دے رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا کہ مہیم خان اے پاٹا سوار کروکا دیر اے دا سما تمے ” یعنی مہیم خان کو بانس پر کس نے چڑھایا ہے اس کا تو پتہ چلے ” مجھے یاد ہے کہ جلسہ عام کیلئے بابو نوروز اسٹیڈیم میں کرسیاں بھی لگائی گئی تھیں ،ہم کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔

اس خبر میں سنسی کیساتھ کچھ حقیقت بھی تھی ۔ جلسہ گاہ بھر سا گیا

اخبار پڑھنے لگے لیکن نظریں اس بڑی سنسی خیز سرخی پر جم گئی تھیں اور اس سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں ، شام کے اخبارات کی پیشانی پراکثر سنسی خیز خبریں جمائی جاتی رہی ہیں، لیکن اس خبر میں سنسی کیساتھ کچھ حقیقت بھی تھی ۔ جلسہ گاہ بھر سا گیا ، مزید لوگ آتے گئے ،جھنڈوں پر علاقوں کے نام لکھے ہوئے تھے ، سریاب کیچی بیگ ، سریاب برما ہوٹل ، بروری ، ہدہ ، وحدت کالونی اسپنی روڈ ائیر پورٹ روڈ ، منو جان وغیرہ وغیرہ ، کھانے پینے کی چیزیں بچینے والوں نے خوب کمائی کرلی کہ مغرب کی اذان ہوگئی لیکن پنڈال پر رہنمائوں کی آمد نہیں ہوسکی تھی ، بالآخر چہ مہ گوئیاں شروع ہوگئیں اور یہ خبریں آنا شروع ہوگئیں جن کو غیر مصدقہ کہاجاتا رہا کہ ” پارٹی دولخت ہوگئی ہے ، الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کیاجارہا ، بعض کے مطابق مہیم خان جیت گئے ہیں ، بعض کا یہ کہنا کہ کچھ کارکن الیکشن کے دوران رو پڑے ہیں اور گڑا گڑآ کر پارٹی بچانے کی کوشش کی ہے ، جوں جوں رہنمائوں کی آمد میں تارخیر ہوتی گئی ان افواہ نما خبروں میں صداقت کا پہلو نمایاں ہونے لگا تھا ،اب وہ کارکن جو پارٹی متحد رکھنے کے خواہش مند تھے وہ بھی مضطرب نظر آئے ، میں نے دیکھا کہ لوگوں میں جلسے والا جوش وخروش نہیں تھا بلکہ ان میں بے چینی پائی جاتی تھی ، خود والد صاحب انتہائی پریشان تھے ، پنڈال سے بار بار کوئی انقلابی نظم سنایا جانے لگا ، کبھی کوئی انقلابی گانا چلایا جاتا لیکن یہ سب کسی کی توجہ اس بے چینی اور اضطراب سے نہیں ہٹا پا رہے تھے

سردارعطاء اللہ مینگل صدر ، سردار ثناء اللہ زہری نائب صدر اور میر حاصل بزنجو سیکرٹری جنرل منتخب ہوگئے تھے

بالآخر کافی دیر کے بعد ہلچل پیدا ہوئی ،اسٹیڈیم کے پینڈل کی طرف سے لائٹیں روشن ہونا شروع ہوگئیں ، گاڑیاں آچکی تھیں ، اسی اثناء میں دیکھا کہ پنڈال میں سردار عطاء اللہ مینگل داخل ہوگئے پھر اخترمینگل حاصل بزنجو اور سردار ثناء زہری اور دیگر رہنماء آگئے ، انتخابات کا اعلان کیاگیا جس کے مطابق سردارعطاء اللہ مینگل صدر ، سردار ثناء اللہ زہری نائب صدر اور میر حاصل بزنجو سیکرٹری جنرل منتخب ہوگئے تھے ، جلسے کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ، رہنمائوں نے تقاریر شروع کیں ، سردار ثناء زہری نے آکر جلسہ سے براہوئی میں خطاب کیا اور کہا کہ دو دن کے اجلاس کی وجہ سے ان کا گلہ بیٹھ گیا ہے اس لئے وہ زیادہ بات نہیں کرسکتے وہ اپنی مختصر تقریر کرکے بیٹھ گئے ، حاصل بزنجو کی باری آئی تو جلسہ گاہ میں ہلچل سی مچ گئی ۔ بی ایس او کی قیادت جو جلسہ گاہ کی پہلی لائن میں بیٹھی تھی اور کچھ تو پنڈال میں تھے وہ اٹھ کر حاصل بزنجو کے خلاف واک آؤٹ کرگئے اور مظاہرے کی شکل میں جلسہ گاہ سے پنڈال والے راستے سے نکل گئے ، جلسہ گاہ سے باہر بھی ان کی نعرے بازی جاری تھی ،گو کہ اس وقت بی ایس او کے چیئرمین سعید فیض بلوچ تھے لیکن یہ مظاہرہ بی ایس او کے دیگر رہنمائوں کی طرف سے کیا گیا جن میں منظور بلوچ سفیر بلوچ ودیگر رہنماء شامل تھے ۔میر حاصل بزنجو کو اپنی تقریر مختصر کرنی پڑی انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اجلاس میں شرکت کی وجہ سے وہ تھکاوٹ کا شکار ہیں ،پارٹی الیکشن بڑی ذمہ داری تھی جس سے ہم کامیابی کیساتھ عہدہ براں ہوئے ہیں۔ بعد میں سردار عطاء اللہ مینگل نے تقریر کی ، اور اپنی تقریر میں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو خوب لتاڑا اور اپنے عمومی خوبصورت لب ولہجے میں تقریر کی جس سے کچھ وقت کیلئے لوگ پارٹی اختلافات کی بے چینی اور اصطراب بھو ل گئے ۔ جلسہ گاہ کو پارٹی اختلافات کے بارے میں بھی سننا تھا لیکن صورتحال بہتر طورپر واضح نہیں ہوسکی تھی۔ سردار عطاء اللہ مینگل کی عمومی پر اعتماد تقریر سے لوگوں کو حوصلہ ملا کہ شاہد پارٹی کو کوئی بڑا خطرہ درپیش نہیں تاہم جو قریب ترین کارکن تھے وہ ضرور باخبر تھے ، کیونکہ باغی گروپ میں سے کوئی بھی جلسہ گاہ میں نہیں آیا تھا ۔

(اگلی قسط میں ہم بی این پی کے کونسل سیشن کے پارٹی اور بالخصوص مینگل حکومت پر پڑنے والے اثرات پر بات کرینگے ، جو پارٹی کے سیاسی کارکنوں کیلئے بہت ہی تلخ رہے ہیں ۔ تاہم کارکن ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھے )

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close