بلوچستانپہلا صفحہتاریخژوب ڈویژنسبی ڈویژنسوشل میڈیاقلات ڈویژنکوئٹہ ڈویژنمکران ڈویژننصیر آباد ڈویژن

شال کی یادیں (21) زرک میر

سہب حال

بلوچ سیاست میں ایک اوردراڑ پڑ گئی تھی اور ایک بڑی پارٹی شکستہ ہوچکی تھی

بی این پی کے کارکن اچھی خبر کا انتظار کرتے رہے لیکن بالآخر بی این پی مہیم خان بن گئی ، جس نے الیکشن میں کامیابی کا دعویٰ کیا اور مہیم خان بلوچ کو اپنا صدر مان لیا جبکہ اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کیلئے درخواست دی اور وزارتوں سے استعفیٰ دیدیا ، اتحاد کے خواہ اور پارٹی کو متحد رکھنے والے کارکن کوشاں تھے کہ پارٹی کو دوبارہ سے یکجا کیاجائے لیکن شاہد ” ان پلوں کے نیچے سے بہت سے پانی بہ چکا تھا ” بلوچ سیاست میں ایک اوردراڑ پڑ گئی تھی اور ایک بڑی پارٹی شکستہ ہوچکی تھی ، سردار بہادر خان بنگلزئی ، اسرار زہری ، اسد بلوچ ،پرنس موسیٰ ،محمد علی رند نے استعفیٰ دیدیا جبکہ اسلم گچکی کے سوا سب مہیم خان گروپ میں چلے گئے ، البتہ قومی اسمبلی کے ارکان حاصل بزنجو شکیل بلوچ اور ثناء بلوچ سردار مینگل گروپ میں رہے لیکن جب سردار عطاء اللہ مینگل کی طرف سے مرکزی کابینہ کا اجلاس طلب کیا گیا تو حاصل بزنجو اور سردار ثناء زہری نے بیماری کا بہانہ کرکے اجلاس میں شرکت نہیں کی جس سے یہ بات طے ہوگئی کہ یہ دونوں حضرات باغی یعنی بی این پی مہیم خان گروپ میں چلے گئے ہیں

مہیم خان گروپ کے رہنماء انتہائی اقدام کرنے پر تلے ہوئے تھے ،وہ انتہائی سخت بیانات دے رہے تھے

بالآخر ایک دن میر حاصل بزنجو اور سردار ثناء زہری اور شکیل بلوچ نے بھی مہیم خان گروپ کے پاس جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں جمہوری انداز سے حصہ لینے والے گروپ کا ساتھ دینگے جس کو پارٹی الیکشن میں بھی کامیابی ملی ہے اور پارٹی کی اکثریت مہیم خان گروپ میں ہے دوسرا گروپ اقلیت اور مخصوص گروپ پر مشتمل ہے ،اس گروپ نے سردار بہادر خان بنگلزئی کو اپنا قائد ایوان منتخب کیا ۔سردار بہادر خان بنگلزئی جو قرالی پہنے ہوئے تھے (سردار بنگلزئی کے قراقلی پہننے کو سردار مینگل کے حوالے سے لیا جانے لگا کہ سردار بنگلزئی مہیم خان گروپ کے سردار مینگل قرار دیئے جاچکے تھے جہاں سردار مینگل ماضی میں قراقلی پہنتے تھے ، مہیم خان گروپ کے رہنماء انتہائی اقدام کرنے پر تلے ہوئے تھے ،وہ انتہائی سخت بیانات دے رہے تھے ) سردار بہادر خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے گروپ کو پارٹی کا اکثریت گروپ اور حقیقی پارٹی قرار دیدیا، انہوں نے اخترمینگل کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا اعلان کرتے ہوئے نواب بگٹی کو دعوت دی کہ اگر وہ نوابزادہ سلیم اکبر بگٹی کو وزارت اعلیٰ کا امیدوار بنائیں تو بی این پی مہیم خان گروپ اس کی بھر پور حمایت کریگی ، مینگل حکومت پر پے درپے حملے ہورہے تھے جس سے حکومت کی پوزیشن شدید طورپر کمزور ہوتی جارہی تھی جس سے یہ امکانات ظاہر ہونے لگے کہ اخترمینگل کی حکومت ابھی گئی تو کبھی گئی ، اس دوران اخترمینگل سے صحافیوں نے پوچھا کہ ” سردار صاحب شاہد آپ اکثریت کھو چکے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اگر میں بسم اللہ (کاکڑ) سے شروع کروں تو حیر بیارمری تک ہمیں اب بھی اسمبلی کی اکثریت حاصل ہے تحریک اعتماد ناکام ہوگی ، اس دوران کوششیں جاری تھیں اور یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ کچھ ناراض ایم پی ایز واپس آجائیں گے ، تارا چند جلد ہی واپس آگئے تھے۔ لیکن باقی ارکان یونہی بدستور مہیم خان گروپ میں تھے ۔ سردار عطاء اللہ مینگل کا ریلوے ہائوسنگ سوسائٹی میں ایک گھر ہے (اس گھر کی کہانی کسی نے سنائی تاہم اس پر اعتبار کرنا یا نہ کرنا مشکل اور الگ معاملہ ہے

یہ گھر سردار عطاء اللہ مینگل کو ان کی ایک خاتون دوست نے گفٹ کیا تھا جو ایک آباد کار سیاسی رہنماء کی اہلیہ تھی

تاہم کہاجاتا ہے کہ یہ گھر سردار عطاء اللہ مینگل کو ان کی ایک خاتون دوست نے گفٹ کیا تھا جو ایک آباد کار سیاسی رہنماء کی اہلیہ تھی یا شاہد اب بھی حیات ہوں) پارٹی ٹوٹنے کے بعد سردار عطاء اللہ مینگل ایک دن اس گھر میں لان میں بیٹھے ہوئے تھے کارکنوں کا رش لگا تھا اور پارٹی کے رہنماء ان کے ساتھ بیٹھے تھے کہ جاوید مینگل نے ایک فون اٹینڈ کیا اور آ کر کہا ” مبارک ہو پرنس موسیٰ واپس پارٹی میں آگئے ہیں "جس پر سردار عطاء اللہ مینگل نے مسکراتے ہوئے کہا ” مجھے یہ پہلے سے پتہ تھا میں بتا نہیں رہا تھا
کہ کچھ اور بھی واپس آنے والے ہیں ساتھ میں بتا دونگا” پرنس موسیٰ کے باغی گروپ کو چھوڑ کر دوبارہ مینگل گروپ میں شمولیت پر اسرار زہری نے انتہائی شرارتی بیان جاری کیا اورکہا
” موسیٰ ہمیشہ فرعون کے گھر میں رہ کر کام کرتا ہے "

قوم پرست حلقے ہندوئوں سکھوں اور دیگر غیر مسلموں کو ہمیشہ سے برابری دیتے آئے ہیں

اخترمینگل نے مہیم خان گروپ میں جانے والے تمام وزراء کے استعفے منظور کرتے ہوئے تارا چند کو اسرار زہری کی وزارت , بلدیات کا قلمدان سونپ دیا جس پر بڑی دلچسپ بحث ہوئی کہ اخترمینگل نے اسرار زہری کو ان کی اوقات دکھانے اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہوئے چیف آف جھالاوان کے صاحبزادے کی وزارت ایک ہندو کو دیدی حالانکہ اس پر سردارعطاء اللہ مینگل نے کارکنوں کو شدید ڈانٹا کہ وہ اس تاثر کو دینا بند کردیں کہ اسرار زہری اور تاراچند کی حیثیت میں کچھ فرق ہے ۔
اقوم پرست حلقے ہندوئوں سکھوں اور دیگر غیر مسلموں کو ہمیشہ سے برابری دیتے آئے ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ سے قریب سیاستدان ہمیشہ سے ان کی تضحیک کرتے آئے ہیں ، ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ ڈیرہ بگٹی کے سردار ستھرام سنگھ ہمیشہ سے جے ڈبلیو پی کی ٹکٹ پر مخصوص نشست پر رکن اسمبلی منتخب ہوتے آئے ایک باراسمبلی الیکشن کے دوران میر ظفر اللہ جمالی نے طنزا پوچھا نواب بگٹی صاحب یہ ستھرام سنگھ کب سے بگٹی بن گیا تو نواب اکبرخان بگٹی جو برجستہ جواب دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے نے جمالی کو برجستہ کہا ” جب سے آپ جھت سے جمالی بنے "
بی این پی کی تقسیم سے یہ تاثر بھی تیزی سے پھیلا کہ بالآخر حاصل بزنجو نے سردار عطاء اللہ مینگل سے میر غوث بخش بزنجو کی شکست کا بدلہ لیا جس کا میر بزنجو کو شدید طورپر صدمہ پہنچا تھا ، یہ تاثر انتہائی گہرا رہا اور لوگ ابھی تک اس کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں ، بعض اسے سردار ثناء زہری کی شکست کے تناظر میں بھی دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں .حالانکہ 2017 میں ثناء اللہ زرک زئی کے خلاف اخترمینگل کی قدوس بزنجو جیسے شخص کی حمایت اورثناء اللہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو بھی 1998 کا بدلہ قرار دیاجاتا ہے لیکن اصل معاملہ یہ تھا کہ سردارعطاء اللہ مینگل کی سختی اور سیاست کے اصولوں کے تحت باغی گروپ کا چلنا ناممکن ہوگیا تھا اور پھر اسٹیبلشمنٹ کی چالبازیاں بھی اپنی جگہ کارگر ثابت ہوئیں جس سے یہ تقسیم ہوکررہی 

اقوم پرست حلقے ہندوئوں سکھوں اور دیگر غیر مسلموں کو ہمیشہ سے برابری دیتے آئے ہیں

سردارعطاء اللہ مینگل کے گروپ کو جب یہ یقین ہوچلا کہ اب یہ گروپ واپس نہیں آنے والا تو انہوں نے ہائیکورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی کہ اس گروپ کو پارٹی سے منحرف قرار دے کر نااہل قرار دیا جائے اور انہیں کام کرنے سے روک دیا جائے ،جواب میں مہیم خان گروپ نے بھی یہی اپیل کی لیکن دونوں کی آئینی پٹیشنز مسترد کردی گئیں جس پر مہیم خان گروپ نے کورٹ کے باہر اور بازار میں مٹھائیاں تقسیم کیں جس پر سردارعطاء اللہ مینگل نے بیان دیا کہ ” لوگ یہ فرق ضرور محسوس کرینگے کہ ایسے موقع پر کون مٹھائی تقسیم کررہا ہے جبکہ یہ گروپ اپنے آپ کو درست مانتا ہے تو اسے بھی ہماری طرح آج کورٹ کے فیصلے پر افسوس ہونا چاہئے تھا کہ کورٹ نے ہمیں بھی کام کرنے سے نہیں روکا "بعد میں سردار اخترمینگل اور بعض پارٹی و غیر پارٹی حلقے باغی گروپ کو ماننے میں جُت گئے اور اندرون خانہ کئی کوششیں کی گئیں ، اس دوران ایک دن اخترمینگل اسلام آباد جانے کیلئے کوئٹہ ائیر پورٹ پرپہنچے تو وہاں اسرار زہری پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے تو اخترمینگل نے جاکر ان سے حال احوال کیا اور اس کے ساتھ بیٹھ گئے جس پر اسرار زہری نے کہا سردار صاحب آپ الگ ہوکر بیٹھ جائیں اگر میری اور آپ کی ساتھ تصویر اخبار میں چھپ گئی تو غلط فہمیاں جنم لیں گی ۔

سنجیدہ حلقے سردار عطاء اللہ مینگل کے وزراء کیساتھ رویئے اور باز پرس کی ہر صورت حمایت کررہے تھے
مینگل حکومت کو ساتھ ہی یہ دھچکا بھی لگا کہ مسلم لیگ ن نے بی این پی کی تقسیم پراپنی وفاقی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلالیا اور اس معاملے پر ارکان سے رائے مانگی گئی کہ بی این پی کے کس گروپ کی حمایت کی جائے ،جس پر چوہدری نثار ، جاوید ہاشمی اور جنرل (ر) مصدق ملک سمیت اکثریت نے مہیم خان گروپ کو بی این پی کا اکثریتی گروپ قرار دے کر اس کی حمایت پر زور دیا جبکہ ن لیگ بلوچستان کی قیادت پہلے سے تاک میں تھی جس نے مینگل حکومت کو شروع دن سے دل سے قبول نہیں کیا تھا تاہم ن لیگ کی مرکزی قیادت کا فیصلہ یہ ہوا کہ کچھ دنوں بعد مینگل حکومت کی حمایت جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا حتمی فیصلہ کیاجائیگا ۔ یہ اقدام درحقیقت اخترمینگل کو پریشر میں ڈالنے کیلئے کیاگیا جس پر اخترمینگل نے اسلام آباد کے متواتر دورے شروع کردیئے ۔ جب صحافیوں نے اخترمینگل سے پوچھا کہ آپ اسلام آباد اپنی حکومت بچانے جارہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں وہ تو این ایف سی ایوارڈ کے تشکیل کے سلسلے میں اجلاسوں میں شرکت کیلئے اسلام آباد جارہے ہیں ۔ تاہم تجزیہ نگار یہ کہتے رہے کہ سردار عطاء اللہ مینگل کی سخت گیری کا خمیازہ اخترمینگل کو بھگتنا پڑرہا ہے جہاں وہ انتہائی تحمل مزاجی سے اپنی حکومت بچانے کیلئے ڈپلومیٹک انداز اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن سنجیدہ حلقے سردار عطاء اللہ مینگل کے وزراء کیساتھ رویئے اور باز پرس کی ہر صورت حمایت کررہے تھے اور قرار دے رہے تھے کہ اس گروپ کی بے ضابطگیاں اور پارٹی اصولوں کی خلاف ورزیاں حد سے بڑھ گئی تھیں اور پارٹی کے سربراہ کی طرف سے ایسا رویہ روا رکھا جانا ازحدضرور تھا ۔
جمعیت جو بی این پی کی اہم اتحادی جماعت تھی اس نے اعلان کیا کہ وہ آخر وقت تک اخترمینگل کا ساتھ دے گی اور حکومت بچانے میں اخترمینگل کی ہر ممکن مدد کی جائے گی،جمعیت کے اس فیصلے کو سیاسی حلقوں میں بہت سراہا گیا ۔اس وقت سے 2018 کے آخری الیکشن تک بی این پی اور جمعیت کا مختلف سیٹوں پر انتخابات میں اتحاد ہوتا آیا ہے اور ان دونوں پارٹیوں کے درمیان اچھے روابط قائم ہیں ۔
(اگلی قسط میں ہم مینگل حکومت کے آخری ایام کا احاطہ کرکے آگے بڑھیں گے جہاں بلوچستان میں بڑی سیاسی تبدیلیاں ہمارا انتظار کررہی ہیں )

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close