بلوچستانپہلا صفحہتاریخژوب ڈویژنسبی ڈویژنسوشل میڈیاقلات ڈویژنکوئٹہ ڈویژنموسمنصیر آباد ڈویژن

شال کی یادیں (22 )

زرک میر

وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اخترمینگل کی جانب سے باغی گروپ کو منانے اور وفاقی حکومت کی حمایت مزید جاری رکھنے اور ن لیگ بلوچستان کی قیادت کو رام کرنے میں ناکامی پر بالآخر بی این پی نے ہار مان لی اور تحریک اعتماد سے قبل ہی منان چوک کوئٹہ میں جلسہ عام کے انعقاد کا اعلان کیا 

شال میں موجودگی کے باعث میں بھی جلسہ عام میں شرکت کیلئے منان چوک پر پہنچ گیا ۔ جلسہ غالبا جولائی کے مہینے کے آخری دنوں میں تھا مجھے تاریخ یاد نہیں ۔ شام چار بجے ٹائمنگ رکھی گئی تھی لیکن قیادت حسب معمول دیر سے پہنچی ۔ گرمیوں کے دنوں میں شال میں شال کے وقت جلسہ کا اپنا ہی لطف ہوتا ہے ۔ بعد کے دنوں میں میں اور میرا دوست ان جلسوں میں لطف لینے جاتے اور خوب لطف اندوز ہوتے 

سیاسی حلقوں اور کارکنوں نے مذکورہ جلسہ سے بڑی خبر کی امید باندھ لی تھی کیونکہ جو سیاسی صورتحال چل رہی تھی وہ مینگل حکومت کے قطعی حق میں نہیں تھی اور مہیم خان گروپ بڑے زور شور سے مینگل حکومت کے خلاف سرگرم ہوگیا تھا ۔ گروپ کے ارکان نے انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے بیانات دیئے ۔

بالخصوص سردار عطاء اللہ مینگل کے بارے میں ان کے الفاظ انتہائی ناپسندیدہ تھے ،جلسہ شروع ہوا تو ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اسٹیج سیکرٹری تھے، جہانزیب جمالدینی پی این پی میں تھے جو بی این ایم اختر اور پی این پی کے اتحاد سے بی این پی میں آگئے تھے ، وہ رئیسانی برادران کے قریب رہے ۔ اسی طرح ولی کاکڑ بھی پی این پی کی طرف سے بی این پی میں آئے اور پھر مینگل گروپ کے ہی ہوکر رہے ۔ان کے والد عبدالعلی کاکڑ بزرگ سیاستدان تھے اور وہ نیپ کے دور سے قوم پرست سیاست سے جڑے رہے تھے ۔ جلسہ گاہ میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی ، اسٹیج پر سردار عطاء اللہ مینگل اور سردار اخترمینگل بیٹھ گئے ۔ جلسہ شروع ہوا تا مقررین کا انداز انتہائی جارحانہ رہا ۔ جہانزیب جمالدینی بھی طنزیہ شعر کہتے رہے ۔ ثناء بلوچ آئے اسٹیج پر انہوں نے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ۔ بعد میں سردار اخترمینگل آئے اورانہوں نے بھی تقریر کرتے ہوئے مہیم خان گروپ کو خوب لتاڑہ اور اپنے عہدے وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا اور کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میرا سیاسی استاد میرے والد صاحب ہیں ، اور میں نے سیاست میں شکست پہلے سیکھی ہے جیت بعد میں ۔ یہ ایک اہم اعلان تھا جو سردار اخترمینگل کی طرف سے کیاگیا گو کہ اس کی بھنک پہلے سے ہی لوگوں کو پڑ گئی تھی چنانچہ لوگوں نے اس سلسلے میں انتہائی پرجوش نعرے لگائے ،جب سردار عطاء اللہ مینگل اسٹیج پر آئے تو لوگوں کا جوش مزید بڑھ گیا

سردارعطاء اللہ مینگل نے اپنی تقریر میں سردار اخترمینگل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ” مجھے فخر ہے کہ میرا بیٹا اس قابل ہے کہ حکومت بنانے کیلئے لوگوں سے ووٹ لے اور پھر استعفیٰ دینے کیلئے اس قدر اکٹھا کرسکے لیکن افسوس کہ دیگر رہنماء (اشارہ اپنے ہم عصر رہنمائوں کی طرف تھا ) اپنے لئے ایسے سیاسی وارث پیدا نہیں کرسکے ، انہوں نے اپنی تقریر میں حسب سابق اسٹیبلشمنٹ اور پنجاب کی خوب خبر لی ۔ باپ بیٹے اسٹیج پر ایک دوسرے سے سرگوشی کرتے ہوئے مسکراتے رہے ۔

سردار اخترمینگل کے استعفے کے بعد نوابزادہ حیر بیار مری دبئی جارہے تھے ، ائیر پورٹ پر صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ نئی جان جمالی حکومت میں شامل ہونگے تو حیر بیار مری نے کہا کہ ان کی حکومت وہی تھی جو ختم ہوگئی ، نوابزادہ حیر بیار مری 1999 میں دبئی چلے گئے اس کے بعد وطن واپس نہ آسکے اور تاحال جلاوطن ہیں

یوں مینگل حکومت کا خاتمہ ہوگیا جو اٹھارہ ماہ تک برقرار رہ سکی تاہم اس حکومت سے نہ تو عوام کی توقعات پوری ہوسکیں اور نہ ہی پارٹی بچانا ممکن ہوسکا ، یوں ایک سیاسی بحران نے جنم لیا جہاں سردار عطاء اللہ مینگل کو سیاسی میدان میں بظاہر ایک بڑی سیاسی شکست کا سامنا تھا ، لیکن رہنماء تو رہنماء ہوتا ہے اس کے پاس سیاست کے کئی راستے اور آئیڈیاز ہوتے ہیں ، سردار عطاء اللہ مینگل نے مختصر سی خاموشی کے بعد اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان اور پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی رسول بخش پلیجو قادر مگسی اور سرائیکی رہنمائوں حمید شاہین اور تاج لنگا سے رابطہ کرکے انہیں وفاق کے خلاف کمربستہ کرنے پر راضی کرلیا اور یوں سردار عطاء اللہ مینگل کی قیادت میں تمام محکوم اقوام کا مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم تشکیل دیدیا گیا ، جس میں بی این ایم حئی (بعد میں نیشنل پارٹی ) بھی اس اتحاد میں شامل رہی 

پونم نے انتہائی سخت موقف اپناتے ہوئے کنفیڈریشن کی بات کی ، کمزور وفاق اور مضبوط صوبوں سمیت نئے آئین کی تشکیل کے مطالبے کو لے کر پونم نے بلوچستان سمیت ملک بھر میں اپنی سرگرمیاں انتہائی تیزی سے جاری رکھیں ، جہاں 2001 تک یہ اتحاد اس قدر فعال رہا کہ بعد میں الطاف حسین نے بھی لندن میں سردارعطاء اللہ مینگل سے ملاقات کرکے پونم میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی لیکن سندھیوں کی مخالفت کی باعث ایم کیوایم کو پونم میں شامل نہیں کرسکا ۔

پونم نے انتہائی موثر تحریک چلائی جہاں اس سے سردار عطاء اللہ مینگل کو بلوچستان میں سیایس طورپر تنہاء کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی جہاں سردار عطاء اللہ مینگل بلوچستان سے ہٹ کر پورے ملک میں محکوم اقوام کے قائد کے طورپر سامنے آگئے تھے اور ایک بار پھر 70 کی دہائی کی یاد تازہ کررہے تھے ، بلوچ پشتون سندھی اور سرائیکی قوم کے رہنماء اور سیاسی پارٹی سردار عطاء اللہ مینگل کی قیادت پر متفق ہوگئے تھے اور وفاق کو انتہائی سخت سیاسی مزاحمت کا سامنا رہا ۔اس اتحاد کے ان فوائد کے علائوہ ایک اہم فائدہ یہ ہوا کہ دہائیوں سے جاری بلوچ پشتون تضاد ختم ہونے لگا تھا کیونکہ ایک ہی اسٹیج پر جہاں سردار عطاء اللہ مینگل محمود خان اچکزئی اور اسفند یار ولی ایک ساتھ بیٹھے رہے ، پونم کی جانب سے خضدار میں انتہائی بڑا جلسے کا اہتمام کیاگیا جس میں محمود خان اچکزئی نے خصوصی طورپر شرکت کی اور خضدار کے عوام کے جوش کو سراہا ، پھر چمن اور پشین میں اخترمینگل کو پشتونخومیپ کی جانب سے مدعو کیاگیا اور وہاں انہیں پشتون دستار پہنا کر یکجہتی کا اظہار کیا گیا ، چنانچہ پونم نے کوئٹہ میں بھی متعدد جلسے منعقد کئے جس میں بلوچ پشتون عوام بڑی تعداد میں شرکت کرتی رہی جس سے بلوچ پشتون سیاسی تنازعے کی آگ بالکل بجھ سی گئی

تاج محمد لنگا اور سندھی لیڈر شپ بلوچستان آتی رہی ، لانگو برادری نے تاج محمد لنگا کو مدعو کیا جس پر تاج محمد لنگا نے کہا کہ دراصل وہ بھی بلوچستان کے لانگو قبیلے سے ہی تعلق رکھتے ہیں ، تب ہی حمیدہ کھوڑو نے کہا کہ سندھ کو ایک عطاء اللہ مینگل کی ضرورت ہے ، سردار عطاء اللہ مینگل کو ایک بار پھر نوائے وقت گروپ کے نام نہاد محب وطنوں کی طرف سے نشتروں کا سامنا تھا لیکن سردارعطاء اللہ مینگل نے انتہائی سخت رویہ اپنایا ۔ سردار عطاء اللہ مینگل نے یہ مشہور نعرہ دیا کہ
راج کرے پنجاب رے بھیا راج کرے

یہ نعرہ پورے ملک میں مشہور ہوگیا ، پونم کے جلسے وجلوس پورے ملک میں ہوتے رہے اور سردار عطاء اللہ مینگل پنجاب کو محکوم قوموں کے استحصال کا براہ راست ذمہ دار قرار دیدیا ، ان سالوں میں ملک کی تمام محکوم اقوام متحد رہیں ،پونم نے سرائیکی کو الگ قوم تسلیم کرتے ہوئے سرائیکسان صوبے کی حمایت کا بھی اعلان کردیا 

بعد کے سالوں میں اے این پی نے پونم سے علیحدگی اختیار کرلی تاہم پشتونخوامیپ پونم میں بلوچستان کے پشتونوں کی بھرپورنمائندگی کررہی تھی، سردار عطاء اللہ مینگل اور محمود خان اچکزئی کو ایک اسٹیج پر دیکھ کر بلوچ پشتون عوام مسرت سے سرشار نظر آتے۔
(اگلی قسط میں ہم پونم کے ساتھ ساتھ مشرف رجیم اور اس کے ساتھ ہی بلوچستان میں شروع ہونے والے شورش کی بابت بات کرینگے )

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close