بلوچستانپہلا صفحہتاریخژوب ڈویژنسبی ڈویژنقلات ڈویژنکوئٹہ ڈویژنمکران ڈویژننصیر آباد ڈویژن

شال کی یادیں (24)

زرک میر

سن 2000 یعنی اکیسویں صدی کا آغاز بلوچستان کی نئی سیاست کے آغاز کا ہی باعث بنا جہاں پارلیمانی سیاست کے خلاف عوامی سطح پر ایک سوچ وفکر نے جنم لیا اس کی بنیادی وجہ نواب خیر بخش مری کا وہ اسٹڈی سرکل تھا جو حق توار کے نام سے جاری تھا ، جس میں لوگ شرکت کرتے رہے اور نواب کو سنتے رہے ، جبکہ نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد حالات نے نیا رخ اختیار کر لیا کیونکہ نواب مری کی گرفتاری ایک بڑے مزاحمتی عمل کے بعد عمل میں آئی تھی تو گرفتاری کے بعد مسلح مزاحمت میں تیزی آنے لگی جہاں نواب خیر بخش مری ہدہ جیل میں تھے تو کوئٹہ چھائونی میں پے درپے مسلح حملے ہوتے رہے اور شہر پر راکٹ باری کا سلسلہ شروع ہوا اور شہر کے مختلف علاقوں میں بے ضرر بم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔

نواب خیر بخش مری کیلئے رسول بخش پلیجو وکالت کیلئے آئے جبکہ حبیب جالب ساجد ترین بھی وکیل تھے ، عاصمہ جہانگیر بھی اس دوران آتی رہیں ، کئی بار لطیف کھوسہ بھی آئے ۔ نواب خیر بخش مری پر جسٹس نواز مری کے قتل کا الزام تھا لیکن بقول نواب مری کے ان سے جسٹس کے قتل سے متعلق کچھ پوچھنے کی بجائے اور طرح کے سوالات کئے گئے کہ میں افغانستان کیوں گیا ،وہاں کیا کیا کیا اورکس سے ملا ۔

اس دوران پونم کی سیاسی سرگرمیاں جاری تھیں کہ نواب خیر بخش مری کی جانب سے جیل سے ایک بیان روزنامہ مشرق میں چھپا کہ پونم نمائندہ اتحاد ہے جلد بلوچ حق توار کو پونم میں شامل کیا جائیگا لیکن اگلے ہی دن نواب خیر بخش کی طرف سے اس خبر کی پرزور تردید آئی ، نواب مری نے کہا کہ پونم بلوچوں کی نمائندہ اتحاد ہے نہ ہی اس کے اغراض مقاصد سے مجھے اتفاق ہے ، خبر غلط اورلغو ہے ۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ خبر حبیب جالب اور ساجد ترین ایڈووکیٹ کی طرف سے جاری کیا گیا تھا جنہوں نے نواب مری سے اس حوالے سے صرف بات چیت کی تھی ۔ حبیب جالب ساجد ترین باقاعدہ نواب مری کی وکالت کرتے رہے اور نواب مری کو انتہائی سخت سیکورٹی میں پیشیوں پر لایاجاتا اور سیشن کورٹ میں سیاسی کارکنوں کا تانتا بندھ جاتا اور وہ نواب مری سے ملاقات اور ان کو ایک نظر دیکھنے آتے ۔

نواب خیر بخش مری کو جیل میں الگ جگہ دیدی گئی تھی جہاں انہوں نے ایک باغیچہ بنایا تھا اور پھولوں کی خود نگرانی کرتے رہے ۔ شب وروز یونہی گزرتے رہے اور مزاحمتی تنظیم کی کارروائیاں جاری رہیں اور ان کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے لگا تھا جہاں کوئٹہ شہر کے علائوہ مختلف علاقوں میں کارروائیاں ہوتی رہیں ۔جیل میں سردار عطاء اللہ مینگل نے بھی نواب خیر بخش مری سے ملاقات کی اور کہا کہ نواب خیر بخش مری خوش قسمت ہیں کہ عمر کے اس حصے میں بھی گرفتار ہوکر اپنی جوانی کے سنہرے دنوں کو یاد کررہے ہیں ۔

یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا ایک مزاحمتی سوچ تیزی سے جنم لینے لگا تھا ، بی ایس او کے کئی ایک دھڑے تھے جن مین سے ایک ڈاکٹر اللہ نذر کی بھی بی ایس او تھی جو بی ایس او حئی سے الگ ہوکر بنائی گئی تھی۔ ڈاکٹر اللہ نذر تقریریں کرتے اور تقاریب منعقد کرتے لیکن ان کی بی ایس او کو یوں پذیرائی نہیں ملی جس طرح سے بی این پی مینگل اور بی این ایم حئی کی بی ایس او کو اس وقت حاصل تھی ، لیکن مزاحمتی عمل کے آغاز سے بی ایس او نذر کو اہمیت ملنا شروع ہوگئی لیکن اس وقت وہ خود بی ایس او سے الگ ہوگئے تھے اور ان کی بی ایس او کے سیکرٹری مالک بلوچ بن گئے تھے۔ بی ایس او مینگل کے چیئرمین امان اللہ بلوچ تھے اور بی ایس او حئی کے خیر جان بلوچ چیئرمین تھے ۔ ڈاکٹر نذر کی بی ایس او کے سیکرٹری جب مالک بلوچ ( بنگلزئی ) بنے تو اس کو متحدہ کانام دیاگیا

ایک دن ان کی خضدار میں فیصل ہوٹل میں تقریب منعقد ہوئی تو اس میں بی ایس او والوں نے امان اللہ گچکی کو بھی مدعو کررکھا تھا ۔ تقریب میں دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوگئی جب امان اللہ گچکی نے بی ایس او والوں کو آڑے ہاتھوں لیا جہاں بی ایس او کی قیادت تقریر اور مکالے پڑھ چکی تھی اور اب امان گچکی آخری مقررتھے ۔ امان اللہ گچکی نے کہا کہ ” بی ایس او کے چیئرمین مالک بلوچ نے شاہد ” بانگو ” کے انڈے کھائے ہیں جو ایسی جذباتی باتیں کررہے ہیں ،اگر شہداء کی بات ہے تو ہم بلوچ حمزہ کی اولاد ہیں جس کا دشمنوں نے جگر نکال کر چھبایا لہذا بلوچ کا پہلا شہید حمزہ شہید ہے ،شہیدوں کی گنتی حمزہ سے ہی شروع کی جائے ، پھر اس میں میرے دادا کانام بھی آئے گا ۔ انہوں نے بی ایس او متحدہ کو جذباتی تنظیم قرار دیتے ہوئے ان پر خوب تنقید کی بعد میں ان کا یہ مکالہ روزنامہ انتخاب میں بھی ” جگراے حمزہ ” کے نام سے چھپ گیا ۔ میں خود اس تقریب میں شریک تھا کیونکہ اس دوران میں خود خضدار میں رہ رہا تھا ۔ امان اللہ گچکی نے کہا کہ بلوچن ( بلوچ خاتون ) گدان میں بیٹھ کر اپنے بیٹے کیلئے سلامتی کی دعا کرتی ہے اور اس کے لئے دلہن تلاش کرتی ہے لیکن اسے کیا پتہ کہ خضدار کے فیصل ہوٹل میں اس کے بیٹے کی خود کشی کا اہتمام باقاعدہ انٹیلیکچول انداز میں طورپرہورہا ہے ۔
امان اللہ گچکی کے جملے تیر بن کر بی ایس او والوں کو لگے جہاں امان اللہ گچکی کے بعد سیکرٹری مالک بلوچ کو دوبارہ اسٹیج پر آنا پڑا اور امان اللہ گچکی کا جواب دینا پڑا جہاں مالک بلوچ نے کہا ” ہاں ہاں میں جذباتی ہوں کیونکہ میں نظریاتی ہوں ” میں اپنے وطن پر مرمٹنے کیلئے تیار ہوں ۔ ان جملوں کیساتھ بہت ساری باتیں انہوں نے کہیں ۔ تقریب کےبعد امان اللہ گچکی نے کہا مالک نے بعد میں اسٹیج پر آکر میری باتوں کی تصدیق کردی کہ یہاں خود کشیوں کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا ہے حالانکہ اگر یہ سیاسی تقریب تھی تو بعد میں کوئی اضافی تقریر کرنے کوئی نہیں آتا ، القاعدہ بھی افغانستان کے کسی خضدار جیسے علاقے میں ایسی ہی باتیں کرکے مجاہدین تیار کررہی ہے لیکن القاعدہ والے یورپ سے پڑھے لکھے لوگ ہیں جنہوں نے نفسیات کی اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی ہے لیکن افسوس کہ مالک ڈگری کالج سریاب کا پڑھا ہوا ہے جس کو نفسیات کے بارے میں شاہد کچھ نہیں پتہ کہ لوگوں کی ذہن سازی کیسے کی جاتی ہے ،امان اللہ گچکی یہ کہہ کر چائے پیئے بغیر ہی چلے گئے 

یہ دلچسپ تقریب تھی ،مالک بلوچ ( بنگلزئی) کے بعد بی ایم سی کے طالب علم ڈاکٹر امداد اس بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری چنے گئے ، اور جوں جوں مزاحمتی عمل وسیع ہوتا گیا اس بی ایس او کی مقبولیت میں اضافہ ہونے لگا کیونکہ یہ بی ایس او مزاحمتی تحریک کی حمایت کرنے لگی تھی اور اس حوالے سے تقاریب منعقد کرنے لگی تھی کہ ایک دن خبر آگئی کہ کراچی سے ڈاکٹراللہ نذر ڈاکٹر امداد ڈاکٹر یوسف اور دیگر ساتھیوں سمیت کراچی کے علاقے گلستان جوہر کے ایک فلیٹ سے گرفتار ہوچکے ہیں اوران کو غائب کردیا گیا ہے ، بی ایس او نے احتجاج شروع کردیا ، یہاں نواب اکبر خان بگٹی بھی متحرک ہوگئے تھے اور سوئی گیس کمپنیوں کیساتھ 50 سالہ معاہدہ (1952 سے 2002) ختم ہونے کے بعد کمپنیوں کو کام بندکرنے کا کہا تھا ، انہوں نے سوئی گیس کو ” گائو ماتا ” کہتے ہوئے کمپنیوں کی جانب سے مزید کام کرنے کو لوٹ مار سے تشبیہ دی ، جس سے ایک طرف بلوچ سیاسی حلقے نواب اکبر خان کی جانب متوجہ ہوئے تو دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے بھی کان کھڑے ہوگئے

ڈاکٹر اللہ نذر اور ڈاکٹر امداد کے خاندان والے اور سیاسی کارکن ڈیرہ بگٹی جا کر نواب بگٹی سے ملے اور ڈاکٹروں کی رہائی کیلئے کردار ادا کرنے کا کہا اور اس حوالے سے شاہد خاندان والوں نے نواب بگٹی پر زور ڈالا ہوگا تو نواب بگٹی نے کہا کہ ” میرے پاس ایسی کوئی تلوار نہیں کہ جاکر سلاخوں کو کاٹ کر ڈاکٹروں کو رہا کرا دوں ، رہائی کیلئے جدوجہد جاری رکھا جائے ہم سب حالت جدوجہد میں ہیں ” یہاں نواب خیر بخش مری دوسال قید رہنے کے بعد رہا کردیئے گئے تھے اور وہ اپنے ارباب کرم خان روڈ والے گھر میں منتقل ہوگئے تھے اور پھر سے اپنے فکری ساتھیوں کیساتھ بیٹھنے لگے تھے لیکن اس بار حالات کچھ بدل گئے تھے کہ نواب کے میر بنی سمیت اہم ساتھی گرفتار ہوچکے تھے ، 2003 میں کچھ اخبار نویس نواب مری سے ملنے انکے گھر پر گئے اور ان کا انٹرویو کیا ، جو انتہائی اہم انٹرویو تھا ۔

(اگلی قسط میں ہم نواب خیر بخش مری کے مذکورہ انٹرویو کے اہم مندرجات سے آغاز کرینگے اور آگے بڑھیں گے جہاں ڈیرہ بگٹی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بننے جارہاتھا ۔چونکہ مضمون میں خضدار کا ذکر موجود ہے اور جی بھی چاہ رہا تھا کہ خضدار کی ہی تصویر لگا دوں تو خضدار شہر کی تصویر ہی لگا دی ،خضدار میرا عشق ہے )

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close