بلاگپاکستانپہلا صفحہعلم و ادب

مزدوروں کا عالمی دن،مزدور طبقہ شاعروں کی نظر میں

شاید ہی کوئی شاعر ایسا ہوگا جس نے اپنے آس پاس کے مسائل کو شاعری کا حصہ نہ بنایا ہو

اسلام آباد (سہب حال)

معاشرے کا ایسا طبقہ جو ہمیشہ سے ہی استحصالی کا شکار رہا ہے۔آج مزدوروں کا عالمی دن منایا جارہا ہے ۔مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر مزدور طبقہ کو شاعر حضرات کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ان کے بارے کچھ شعر شامل کئے گئے ہیں

شاعر چونکہ معاشرے کا حساس طبقہ ہوتے ہیں اسی لئے یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ شعر وادب کا سماج کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے۔اگر دیکھا جائے تو شاعری کی ابتدا میں ہی شاعروں نے  اپنے ارد گرد کے مسائل کو اپنے اندر محسوس کیا اور انہیں الفاظوں میں ڈھال کر شاعری کا حصہ بنایا۔

کچھ شاعروں نے اپنی شاعری کو سماجی انقلاب کےلئے ہی وقف کر دیا۔ان شاعروں نے معاشرے کے  پسے ہوئے نچلے طبقے اور مزدوروں کے مسائل کا اظہار اپنی شاعری کے ذریعے کیا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں ان طبقات کے حالات زندگی کو بیان کیا کہ وہ کس قرب دکھ اور تکالیف میں زندگی کے پل گزارتے ہیں۔ کچھ شاعروں نے معاشرے کے نچلے مزدور طبقے کےلئے کیا کیا شاعری کی انکے کچھ شعر پیش خدمت ہیں۔

منور اقبال
منور اقبال

بھارتی اردو ادب میں ایک معتبر اور مقبول نام منور رانا جو کسی تعارف کا محتاج نہیں انہوں نے اپنی شاعری کو مزدور طبقے کے درد کو محسوس کرتے ہوئے انکی عکاسی کچھ اس انداز میں کی ہے۔

سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر                               

    مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے                                  

علامہ محمد اقبال
علامہ محمد اقبال

علامہ محمد اقبال کو کون نہیں جانتا انہوں نے مزدور طبقات کے مسائل کو اپنے مخصوص انداز میں اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے اس شعر میں وہ اللہ تعالی سے شکوہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں                   

 ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات                   

اظہر اقبال
اظہر اقبال

ہندوستان کی نوجوان نسل کے مشہور شاعر اظہر اقبال نے بھی معاشرے کے محکوم طبقے کے حالات زندگی کو محسوس کیا انہوں نے شعر میں ایسے طبقے کی ترجمانی کی ہے جنکو کام کاج کے بعد بھی سکون میسر نہیں ہے۔

نیند آئے گی بھلا کیسے اسے شام کے بعد

روٹیاں بھی نہ میسر ہوں جسے کام کے بعد

رضا مورانوی نے اپنے اس شعر میں محنت کشوں کے ہاتھوں پر بننے والے چھالوں کا ذکر کیا ہے 

رضا مورانوی
رضا مورانوی

بلاتے ہیں ہمیں محنت کشوں کے ہاتھ کے چھالے

  چلو محتاج کے منہ میں نوالہ رکھ دیا جائے

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

59 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close