بلوچستانپاکستان

ہولناک ترین احتجاج

انورساجدی ’’ ایڈیٹر روزنامہ انتخاب‘‘

ہولناک ترین احتجاج      انورساجدی ’’ ایڈیٹر روزنامہ انتخاب‘‘

عطا محمد بھنبھرو کون تھے سندھ کے سوا شائد ہی ان سے کوئی واقف ہو حالانکہ وہ ایک سو کتابوں کے مصنف تھے بڑے محقق اور تاریخ دان تھے ان کا انتقال دو روز قبل ہوا سندھ کے سوا کسی نام نہاد میڈیا میں انکے انتقال کی خبرشائع نہیں ہوئی اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں کوئی یگانگت اور ایک دوسرے سے آشنائی نہیں ہے۔

چند سال قبل بی بی سی نے لاہور شہر کی ایک مارکیٹ میں لوگوں کا انٹرویو کیاتھا ان میں سے کسی کو بھی بلوچستان کے بارے میں بنیادی جانکاری نہیں تھی حتیٰ کہ وہ اس صوبہ کے ایک شہر کا نام بھی نہیں بتا سکے

عطا محمد بھنبھرونے اپنی موت سے قبل جو وصیت کی وہ نہایت افسوسناک ہولناک اور احتجاج کی کوئی ماوریٰ صورت تھی انہوں نے اپنے لواحقین سے کہا کہ جب وہ دفن ہوجائیں تو انکی قبر کو زنجینروں میں جکڑ دیا جائے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ یہ ایک غلام قوم کے غلام فرد کی قبر ہے اس شدید احتجاج کا مقصد سندھ کے لوگوں کوجھنجھوڑنا ہے جو طویل عرصہ سے بے کسی لاچاری اور بے بسی کی زندگی جی رہے ہیں

ایسا لگتا ہے کہ اس صوبہ کے سیاسی لیڈروں میں احساس نام کی کوئی چیز نہیں ہے گوکہ سندھ کے حالات بہت ناموافق ہیں لیکن جب کسی سماج میں اپنے حقوق کیلئے صدائے احتجاج بلند کی صلاحیت نہ رہے تو اس سماج اور موہنجودڑو میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔

2017ء کی سردیوں میں جب صحافیوں کا ایک قافلہ تھرکول پروجیکٹ کی سائٹ پر پہنچا تو وہاں ایک اور دنیا آباد تھی کنٹینروں کا پورا شہر آباد تھا کشمیر اور گلگت سے تعلق رکھنے والے بیرے کھانا سجارہے تھے بالکل فائیواسٹار ہوٹل جیسا ماحول تھا اس وقت یہ منصوبہ زیر تکمیل تھا اگلے روز ایک بریفنگ دی گئی جس میں اس منصوبہ کے فوائد بیان کئے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ جلد اس پسماندہ علاقے میں ایک انقلاب برپا ہونے والا ہے صدیوں سے غربت اور بھوک کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھر کے لوگ خوشحالی کے ایک نئے سفر کا آغاز کریںگے

ہم نے وہ سائٹ بھی دیکھی جہاں سے کوئلہ نکال کر قریبی پاور ہائوس میں استعمال کیاجانا تھا ہمیں بڑا عجیب لگا کہ پروجیکٹ کی داخلی گزرگاہ سے پہلے ایک مدرسہ واقع تھا پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ قبلہ حافظ سعید صاحب نے قائم کیا ہے حالانکہ ان کا مشن تو جہاد کے ذریعے کشمیر کو آزاد کرنا تھا یہاں پر انکے قدم جمانے کا کیامقصد؟      کہاں کشمیر اور کہاں تھر۔

دوسری بات یہ کہ اس علاقے میں اکثریت ہندوئوں کی تھی یہاں پر حافظ سعید کے مدرسہ کا کیاکام تھا بہرحال ہمیں ان خواتین ڈرائیوروں سے ملایا گیا جنہیں ہیوی ٹرک چلانے کی تربیت دی گئی تھی ویسے تو حکومت نے پورے تھرکانقشہ بدل دیا تھا حتیٰ کہ ایک ایئرپورٹ بھی تعمیر کیا گیا ہے تھرپروجیکٹ اینگرو یوریا والے سیٹھ دائود اور حکومت سندھ کا مشترکہ منصوبہ ہے اگر سیٹھ دائود شامل نہ ہوتے تو زرداری کو ساری عمر جیل میں رکھنے کیلئے یہی منصوبہ کافی تھا۔

یہ ساری باتیں اپنی جگہ لیکن تھر کا علاقہ آصف علی زرداری نے اپنے ہاتھوں سے بھیڑیئے نما سرمایہ کاروں کے حوالے کیا تھا اگروہ پانچ ارب ڈالر کے اس منصوبے کی بجائے اس سے کم پیسوں میں پانی کابندوبست کرتے تو اس علاقہ کی قست بدل سکتی تھی اور یہاں کے لوگ اس طرح خوشحال ہوتے جیسے کہ اس سے متصل علاقہ راجھستان کے لوگ ہیں

لیکن زرداری نے ایک تباہ کن منصوبہ شروع کیا جسکے زہریلے اثرات سے پورے علاقے میں موت رقص کرے گی تھر کاقدرتی حسن گہناجائیگا اس کاپورا ایکوسسٹم تباہ ہوجائے گا اسکے مویشی جانور ،چرند اور پرندمرجائیںگے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تھر کی زمین کے نیچے واقع کالا سونا ساہوکار اور سیٹھ لے جائیںگے اور رفتہ رفتہ اور لوگ بھی آجائیںگے جس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوجائیںگے۔
زرداری صاحب نے جس طرح تھر کی انمول زمین سیٹھوں کے حوالے کردی اسی طرح انہوں نےملیر اور گڈاپ کی ہزاروں ایکڑ سیٹھ ریاض کوبخش دیا

سینکڑوں گوٹھ ختم ہوگئے قبرستان مسمار کردیئے گئے اور جس مقام پر شاہ عبداللطیف بھٹائی بیٹھ کر عبادت اور ریافت کرتے تھے اسے سیٹھ ریاض نے اپنے بلڈوزروں کے نیچے روند ڈالا نہ صرف یہ بلکہ زرداری نے جامشورو کی زمین بھی سیٹھ ریاض کے حوالے کردی اور اسے اپنے آبائی علاقہ نواب شاہ بھی لے گئے زرداری کا یہ عمل اپنے لوگوں سے شدید بے وفائی کے مترادف ہے شائد زرداری کو اندازہ نہیں ھا کہ تھر کے کوئلہ کی مالیت سعودی عرب کی پانچ سو سال کی آمدنی کے برابر ہے۔

زرداری کی نالائقی سے ذوالفقار علی بھٹو کی قائم کردہ پاکستان اسٹیل ٹھیک نہ ہوسکی جسے بالآخر عمران خان نے ہمیشہ کیلئے بند کردیا اور اسکے دس ہزار ملازمین کو بہ یک جنش قلم فارغ کردیا گیا

حالانکہ اسٹیل مل بھٹو کاقائم کردہ سب سے بڑا منصوبہ تھا اور جب یہ عروج پر تھی تو وہاں پر 30ہزار مزدور کام کرتے تھے اسٹیل مل کا خاتمہ اس بات کا واضح ثبوت ہے پاکستان صنعتی ترقی کی دوڑ میں50سال پیچھے چلا گیا ہے جس ملک میں سٹیل مل نہ ہو وہ بھاری صنعتیں کیسے چلاسکتا ہے اس مل پر شوکت عزیز کی بری نظر بھی پڑی تھی لیکن وہ بھارتی اسٹیل ٹائیکون وجے لکشمی متھل کو یہ مل فروخت کرنے میں کام رہے غالباً مل کو فروخت کرنے کا مقصد اسکی ہزاروں ایکڑ زمین کو بظاہر اونے پونے لیکن پردہ کے پیچھے کھربوں میں فروختکرنا ہے۔

جس طرح شہباز شریف آئے روز کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک دھیلے کا کرپشن بھی نہیں کیا ہے یہ بات انکے ماننے کی ہے کیونکہ دھیلا ایک آنہ سے بھی کم ہوتا ہے اور اس کا سکہ اعشاری نظام آنے کے بعد60سال پہلے ختم ہوچکا ہے شہبازشریف نے اربوں کھربوں کی کرپشن کیا ہے دھیلے کی کیا حیثیت ہے

اسی طرح موجودہ حکومت روز اپنی ایمانداری صادق اور امین ہونے کا راگ الاپتی ہے لیکن یہ جو کچھ کررہی ہے اس کا سب کو پتہ ہے اگر اسے اسٹیل مل کی18ہزار ایکڑ زمین بیچنے کاموقع ملا تو اس سے حاصل شدہ رقم اکابرین کیلئے کافی ہے اور وہ لندن کے قرب وجوار میں نہایت عالیشان محل لے کر باقی ماندہ زندگی اس میں گزارسکتے ہیں۔

لگتا ہے کہ موجودہ حکومتی اکابرین کواپنے ملک سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ورنہ وزیراعظم کرونا کواتنا پھیلانے کاموقع نہ دیتے تازہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد چین سے بڑھ گئی ہے لیکن اصل میں اس وقت پاکستان کے مریضوں کی تعداد ساری دنیا سے زیادہ ہے۔

لاہور میں حکومت نے گزشتہ دنوں ایک سروے کیاتھا جس میں سات لاکھ مریضوں کی موجودگی کاپتہ چلا تھا لیکن لاہور شہر میں15لاکھ مریض ہیں جبکہ کراچی میں مریضوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے ایک تبصرہ نگار کے مطابق80ہزار مریض تو راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہیں۔

گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف اور جی ڈی اے کے ممبران نے بہت اچھل کودکی حلیم عادل شیخ نے تووفاقی حکومت کی اتنی سخاوت بیان کی جو کہ کسی نے سنی نہیں ہے وزیرصحت عذراپیچوہو نے کہا کہ وفاق اپنے ملک کے لوگوں کو کرونا سے مارنا چاہتا ہے اب جبکہ مریضوں کی تعداد لاکھوں ہوگئی ہے تو حکومت سوچ رہی ہے کہ ایک بار پھر سخت لاک ڈائون کردیاجائے حالانکہ جو ہونا تھا ہوچکا اب لاک ڈائون کا کیافائدہ؟

انورساجدی ’’ ایڈیٹر روزنامہ انتخاب‘‘

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close