بلوچستانپہلا صفحہڈیرہ غازیخانکالم

اختر جان مینگل پر سطحی تنقید کیا ضروری ہے..؟

ڈاکٹر رؤف قیصرانی

اختر جان مینگل پر سطحی تنقید کیا ضروری ہے..؟

تاریخ شاہد ہے کہ انسان نے بہت زیادہ ترقی کی ہے۔ انسان کی ترقی کے کئی ایک پہلو ہیں۔ مادی ترقی کے علاوہ بھی انسان نے وقت کے ساتھ خود کو بہت زیادہ امپروو کیا ہے۔ زمانہ قبل از تاریخ کے انسان کا رہن سہن موجودہ عہد کے انسان سے کہیں مختلف تھا۔ انسان نےکمیونیکیٹ کرنے کےلئے زبان ڈیویلپ کی۔ رہنے کیلیے چھت، اور کلٹیویشن کے طریقے سیکھے۔ مورخین کی اس حوالے سے کافی زیادہ کتب مارکیٹ میں موجود ہیں جن کےمطالعے سے ہم اپنی ہی تاریخ پڑھ سکتے ہیں۔ اور تاریخ پڑھ کے ہی مستقبل کے بارے میں کوئی بہتر لائحہ عمل اپنایا جا سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم تاریخ کے سبجیکٹ کے ساتھ ایڈجیسٹ نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے ہم دنیا کے دیگر سماجی گروہوں سے کافی پیچھے رہ گئے۔

زبان جب انسان نے سیکھ لی تو آہستہ آہستہ اس کے استعمال کے حوالے سے بھی محتاط ہوتا گیا۔ یہ زبان سے نکلے الفاظ ہی ہوتے ہیں جو یہ طے کرتے ہیں کہ آپ سماجی گروہ بندی میں کہاں کھڑے ہیں۔ دنیا کی جتنی بڑی شخصیات اور قوموں کی روز مرہ زندگی اور ان کی زبان و بیان کا تجزیہ کر لیں ان میں شائستگی ہو گی، وقار ہو گا، عاجزی ہو گی اور احترام آدمیت کے پیغام کے ساتھ خودی اور غیرت بھی موجود ہو گی۔ اس کے برعکس دنیا کے جتنے بونے، ٹاؤٹ، ننگ انسانیت کردار، ظالم جابر، اور رہزنوں کی درجہ بندی کر لیں اور ان کے زبان و بیان کا تجزیہ کریں تو ان میں ایک چیز مشترک ہو گی، ان کے الفاظ میں رعونت، دشنام طرازی، بدتمیزی اور بدتہزیبی کے آثار واضح نظر آئیں گے۔

آپ کا رویہ یہ طے کرتا ہے کہ اپ تہزیبے کے کس کونے پر کھڑے ہیں۔ مہذب شخصیات اور اقوام اپنے اختلافات تک میں الفاظ کا چناو انتہائی مہذب انداز میں کرتے ہیں۔

میں نے پاکستان کے اندر بلوچ، پٹھان اور دیگر قبائلی انداز معاش رکھنے والی اقوام کو انتہائی مہذب اور شائستہ پایا ہے۔ ہزار خامیوں اور کمزوریوں کے باوصف ان اقوام میں خلوص بھی ہے، محبت بھی ہے، سادگی بھی ہے اور غیرت بھی ہے۔ عموما ان اقوام کے افراد کسی کی تضحیک نہیں کرتے۔ گالی دینا اور سننا بہت بڑا جرم سمجھتے ہیں۔ اور اپنے بدترین دشمن تک کے ساتھ تہذیبی دائروں سے باہر نہیں نکلتے۔ اور کسی دانشور کے اس قول کے ساتھ خوب وفا نبھاتے ہیں کہ”گالی دینا تہذیب سے انکار کا نام ہے”

بلوچ قوم کے ایک فرزند ہیں جو قومی جدوجہد میں صف اول میں نظر آتے ہیں۔ اختر جان مینگل بلوچ قوم کے قد آور سیاسی لیڈر ہیں۔ بلوچستان کے وزیر اعلی رہے ہیں۔ جمہوریت کی بقاء کےلئے کئی دفعہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں زیر عتاب رہے اور تشدد برداشت کیا لیکن اپنے سیاسی اصولوں پر کوئی سودا بازی نہیں کی۔

اختر مینگل سے بے پناہ نظریاتی و فکری اختلاف رکھنے کے باوجود بحثیت بلوچ ان کی جمہوری و سیاسی جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ اختر جان مینگل ایک کھرے سیاسی قائد ہیں جو اپنا موقف رکھنے میں کسی اگر مگر چونکہ چنانچہ کے جھنجٹ میں نہیں پڑتے بلکہ جرات مندانہ انداز میں اپنا موقف رکھتے ہیں۔ یہ چند پارلیمنٹیرینز میں سے ایک ہیں جو کبھی بھی کسی کی تضحیک نہیں کرتے اور نا ہی اپنے بلوچی معیارات سے نیچے آتے ہیں۔

پاکستان کی پارلیمانی جمہوری تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں بلوچستان سے جتنے بھی پارلیمنٹیرین منتخب ہو کر اسمبلی پہنچے انہوں نے اپنے کردار، جمہوری کمٹمنٹ، مدلل گفتگو اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے سب کو اپنا گرویدہ بنایا۔ بلوچستان کے پارلیمنٹیرینز کی اخلاقی قدریں باقیوں سے کہیں بلند نظر آتی ہیں۔ چاہے وہ اکبر خان بگٹی ہوں، غوث بخش بزنجو ہوں، صمد خان اچکزئی ہوں، حاصل بزنجو ہوں، محمود اچکزئی ہوں یا پھر اختر جان مینگل یہ اسمبلی میں مثالی سیاسی اقدار کے امین رہے اور ہیں۔

اختر جان مینگل موجودہ حکومت کا بھی حصہ رھے لیکن نظریاتی اور اصولی بنیادوں پر الگ ہو گئے۔ اور واضح طور پر اس کا اعلان بھی کیا۔ تو طاقت کے مرکزوں میں اس اعلان کے بعد ایک واضح بے چینی نظر ا رہی ہے۔ اور وہ ہر طرح سے ان کو پریشرائز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حال ہی میں ایک موصوف کی پلانٹڈ میڈیا ڈسکشن سنی جس میں وہ مینگل صاحب کو سطحی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نظر ائے۔قطع نظر اس کے کہ موصوف کے سیاسی اور ذاتی کردار پر کافی زیادہ سوالیہ نشان ہیں ان کی گفتگو کسی بھی حوالے سے مہذب نہیں کہی جا سکتی۔ موصوف اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کےلئے مختلف بہروپ بدلتے رہتے ہیں اور سوانگ رچاتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ بلوچ قوم کا ہر فرزند ان جیسے بونوں کے جھوٹے اور غیر مہذب پروپیگنڈوں سے مرعوب نہیں ہو سکتا۔

یہ پارلیمانی سیاست ہے یہاں کچھ بھی حرف آخر نہیں اور ہو سکتا ہے کہ اختر جان مینگل اپنی پارٹی سے مشاورت کے بعد دوبارہ حکومت کا حصہ بنیں لیکن یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ طاقتور حلقوں کے غیر مہذب مہروں کے تذلیل سے بھرپور الفاظ یاد رکھے جائیں گے

اس بونی سوچ کے حامل سیاسی گماشتے کو چاہیے کہ وہ اختر جان مینگل سے غیر مشروط معافی مانگیں۔ اور حکومتی حلقے اگر ملک میں ایک مثبت سیاسی ماحول ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں تو ان کو ان جیسے بونوں کو کنڈیم کرنا ہو گا۔

جمہوری روایات میں ایک جینیوئن سیاسی کارکن کبھی بھی مخالف کی تضحیک نہیں کرے گا۔ اس کے لہجے میں رعونت نہیں ہو گی۔ یہ جو چند ایک غیر اخلاقی جاہلان گفتگو کرتے نظر اتے ہیں انہوں نے صرف سیاسی کارکن کا بہروپ دھرا ہے ورنہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں یہ پلانٹڈ لوگ ہیں۔ اب وقت کی ضرورت ہے کہ پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر اس طرح کی سطحی باتوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے تاکہ ایک خوبصورت سیاسی ماحول ترتیب دیا جا سکے۔

ڈاکٹر رؤف قیصرانی کا بنیادی تعلق کوہ سلیمان تونسہ شریف سے ہے،شاعر اور کالم نگار ہیں۔خطے میں پولیٹیکل معاملات ہوں یا انسانی حقوق ہمیشہ آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں۔انکے لکھنے کا انداز الگ تھلگ اور منفرد ہے جو انکی شخصیت کو نمایاں کرتا ہے۔ ڈاکٹر رؤف قیصرانی
ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close