بلاگپہلا صفحہ

 سپئریر اور انفرئیر کی سوچ

جمیل بزدار

اس ملک کی ستر سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ہر دن ایک نیا مسئلہ ابھرتا ہوا دکھائی دے گا اس ملک کو ڈی اسٹیبلائز کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ ہمارا ہے کہ ہم مسائل کو جڑ سے ٹھیک کرنے کی بجائے سطحی مرھم پٹی پر گزارا کر رہے ہیں جبکہ اندر سے زخم بڑھ کر ناسور بن جاتا ہے جسکو یا تو کاٹ کر الگ کیا جاتا ہے یا پھر جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔

لیکن وہ روٹ کاز جو اس زخم کا باعث بنتے ہیں ان کا بر وقت علاج کرنیکا نہیں سو چتے اور تب تک پانی سر سے گزر جاتا یے

اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ طالبان جہادیوں کو تیار کیا جاتا انکو ٹریننگیں دی جاتی ہیں پھر وقت کا پینترا بدلتا ہے تو انکے خلاف آپریشن شروع کئے جاتے ہیں خود کش دھماکے ہوتے ہیں ہزاروں قیمتی جانوں کا ضیاء ہوجاتا ہے۔۔۔!

بنگالی ہم سے الگ کیوں ہوئے ۔۔؟  بھارت کو مداخلت کرنیکا موقع کس نے دیا۔؟

افسوس بنگلہ دیش میں حق خودارادیت اور انکی رائے کو تسلیم نہیں کیا گیا اور ہمیں مغربی پاکستان سے ہاتھ دھونا پڑا۔۔!

سندھ ،خیبرپختون خواہ،جنوبی پنجاب و بلوچستان کے مسائل سے چشم پوشی، وہاں کی غریب عوام کو ان کے اپنے رحم و کرم پر چھوڑ دینا۔۔۔۔یہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔۔؟

ایسی درجنوں مثالیں ہیں ان سب کا روٹ کاز ایک ہی تھی  اور وہ یہ کہ دوسروں کی رائے کا احترام نہیں کرنا اور زخم کو ناسور بننے سے نہیں روکنا۔۔۔ اور اسی سوچ کے تحت اپنی مرضی کو فوقیت دی گئی 

دکھ اس بات کا ہے کہ ہم میں سے ہر شخص خود کو دوسروں پر سپیرئیر سمجھ بیٹھتا ہے یہی وجہ ہے کہ دوسروں کی رائے نہ تو سنی جاتی ہے اور نہ اس کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے

ہم بحثیت فرد ہر کسی پر تنقید کرنے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں لیکن کبھی خود کے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتے

 کوئٹہ میں آن لائن کلاسزز کے خلاف جس انداز میں طلباء و طالبات کو  غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے گرفتار کیا گیا اور پھر انہیں سڑکوں پر گھسیٹا گیا،طالبات کا بھی لحاظ نہیں کیا گیا۔ اسی سوچ کا واضح ثبوت ہےکہ ہم سپر پاور اور سپیرئیر ہیں

یہ الگ بحث ہے کہ پولیس کو آڈر ملا اور پھر پولیس نے اسٹوڈنٹس کو گرفتار کیا اور وہ تو قانون کے رکھوالے ہیں انہوں نے قانون کی پاسداری کی لیکن یہ کس قانون کی کتاب میں لکھا ہے ہے کہ پر امن احتجاج پر دھاوا بول دیا جائے۔ یہ بات واضح ہے کہ گرفتاری میں پولیس نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور کوئی قانون پولیس کو اجازت نہیں دیتا کہ پر امن طلبہ کو سڑکوں پر اس طرح گھسیٹا جائے۔

آپ ایچ ای سی کو دیکھ لیں ،مجال ہے کہ اسٹوڈنٹس کے مسائل پر نظر ثانی کرے بس جو ایچ ای سی نے کہ دیا اسٹوڈنٹس نے کرنا ہے اب (اسٹوڈنٹس)سڑکوں پر زلیل ہوں یا گرفتار ہوں لیکن ایچ ای سی نے اپنے فیصلے پر قائم  رہنا ہے اور وہ(ایچ ای سی) اس بات سے ایک انچ پیچھے ہٹنے والا نہیں

یہ سب باتیں اس چیز کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہر ادارہ ہر فرد اپنی مرضی دوسروں پر تھوپنے کےلیے تیار بیٹھا   ہے اس کے اثرات معاشرے پر منفی ہو یا مثبت اس سے ان کوکوئی سروکار نہیں۔

کرنل کی بیوی کی من مانی ہو، بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل میں وی سی سیمت اسٹاف کے عملے کی منفی کردار، پولیس کی تحویل میں شہریوں کا ماروائے قانون قتل ہو ، کراچی میں رینجر کا سر عام نوجوان پر گولیاں برسا دینا یا پھر آن لائن کلاسزز کے خلاف طلباء کے پر امن مظاہرے میں پولیس کا طلبہ کو گھسیٹ گھسیٹ کر گاڑیوں میں ڈالنا اور خواتین کا فتح کی علامت بنانا اس سوچ کو واضح کرتا ہے کہ ہم سپئیر ہیں

یہ ملک ہمارا ہے ، قانون ہمارا ہے ہماری جو مرضی ہو گی ہم کریں گے۔ ہم برہمن اور باقی سب شودر کا کانسپٹ آپ کو پاکستان کے ایک عام کلرک سے لے کر ایک جرنیل تک سب میں ملے گا ۔ایک چپڑاسی ہو یا سیکیورٹی گارڈ اپنے حد تک اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتا ہے

 اگر یقین نہ آئے تو  کسی کام کے سلسلے میں کبھی کسی سرکاری دفتر بغیر جان پہچان کے تشریف لے جائیں اگر آپ کے چودہ طبق روشن نہ ہوئے تو کہنا

جب تک تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام نہیں کریں گے یہ مسائل اسی طرح نئے سے نئے انداز میں ابھرتے رہیں گے عوام اسی طرح سڑکوں پر زلیل و خوار ہوتی رہے گی۔ اگر ہم ان مسائل کو حل کرنے میں واقعی سیریس ہیں تو ہماری اس سوچ کا قلع قمع کرنا اشد ضروری ہے کہ میں سپئیر ہوں ہمیں عوام کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ بحثیت اس ملک کے شہری آپ کو بھی وہی حق حاصل ہے جو ایک کرنل کی بیوی کو حاصل ہے

ریاست پر آپ کا بھی اتنا حق ہے جتنا کسی جنرل ،صدر یا وزیر اعظم کا۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں ان سب ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا جو اپنے اختیارات کا نا جائز فائدہ اٹھا کر اس ملک کے قانون کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں وہ خواہ کوئی جنرل ہو ، جج ہو، ڈاکٹر ہو، پولیس آفیسر ہو یا کوئی ٹیچر

اسٹوڈینٹس یونین کا اپنے جائز مطالبات کےلئے گورنمنٹ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا جہاں قابل تحسین عمل ہے ، وہیں اسٹوڈنٹس تنظیموں کی اس تحریک کو ایک مثبت موڑ دے کر تحریک کو آگے بڑھانے کی کمی بھی نظر آتی ہے

بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل ہو یا پھر بی ایم سی و آن لائن کلاسزز کے خلاف جوائنٹ سڑائک طلباء تنظیمیں میرے نقطعہ نظر سے ایک قدم آگے دو قدم پیچھے کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں وہ خود کو بڑا نقصان دے رہی ہیں اب وقت ہے کہ یہ تنظیمیں ان مسائل کو ٹیبل پر لے آئیں جو ان کو تقسیم کر رہے ہیں انکی نشاندہی کریں اور ان پر بحث و مباحثہ کریں جوائنٹ ورک فریم بنا لیں اور تربت، بنچگور ، گوادر ، کوہ سلیمان کے سوئے ہوئے اسٹوڈنٹس کو جگانے کےلیے عملی جدو جہد کریں۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کوئٹہ میں جب اسٹوڈنٹس الائنس کے طلبا انٹرنیٹ سے محروم اپنے ساتھی طالب علموں کےلئے کیمپ میں بیٹھے اسٹرائیک کر رہے ہوتے ہیں ان کو سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہوتا ہے وہیں ہمارےکچھ طلباء اے سی میں بیٹھ کر آن لائن کلاسزز لے رہے ہوتے ہیں

ان سے یہی سوال کروں گا کیا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ،ڈاکٹر صبیحہ بلوچ ،سلمان بلوچ کوئٹہ میں بیٹھے آن لائن کلاسزز نہیں لے سکتے۔؟

ضرور لے سکتے ہیں

تو پھر وہ کس کی خاطر سڑکوں پر دربدر زلیل ہو رہے ہیں۔۔؟

ان سب کو قوم اور ہر اسٹوڈنٹ کا دکھ ہے کہ جو انٹرنیٹ سے محروم ہے اور کلاسزز نہیں لے سکتا۔۔؟

تو یہ ذمہ داری کیا ہماری نہیں بنتی ۔۔؟

اگر ہم اسٹرائیک میں نہیں جا سکتے لیکن پھر بھی ہم پر فرض ہے کہ ہم ایچ ای سی کے کالے فیصلے کو لبیک کہنے کی بجائے رد کر دیں اور کلاسزز کا بائیکاٹ کریں اور ان طلبہ کا ساتھ دیں جو انٹرنیٹ سے محروم ہیں جنکی تعلیم کا نظام ختم ہوچکا ہے وہ پڑھ نہیں سکتے لیکن فیسیں ان سے لی جارہی ہیں۔۔کیا ہم انکی خاطر انکے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے آن لائن کلاسوں کا بائیکاٹ نہیں کرسکتے۔۔؟

جمیل بزدار کا تعلق تونسہ کوہ سلیمان سے ہے۔لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل میں ڈی وی ایم فائنل ائیر کے طالب علم ہیں۔بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اوتھل زون کے موجودہ انفارمیشن سیکریٹری کی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔فلسفہ ،سیاست، ادب میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مختلف سیاسی و سماجی مضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔
ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close