پاکستانپہلا صفحہتاریخکالم

خان آف قلات پورے بلوچستان بشمول ڈیرہ غازی خان اور جیکب آباد کے جائز حکمران تھے

عدنان عادل

Story Highlights
  • موجودہ بلوچستان کے مختلف علاقوں پر آزاد حکمرانی کے تین دعوے دار موجود تھے۔
  • خان آف قلات پورے بلوچستان بشمول ڈیرہ غازی خان (جنوبی پنجاب) اور جیکب آباد (سندھ) کے جائز حکمران تھے
  • برطانوی دور میں موجودہ بلوچستان چار ریاستوں میں تقسیم تھا جن کے نام تھے۔ بیلا، قلات، مکران اور خاران
  • خانِ قلات اپنی ریاست کے ایک خود مختار حکمران تھے اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں کے راجوں کی طرح ہندوستان میں برطانوی حکومت کے ماتحت نہیں تھے۔
  • بلوچستان میں ژوب اور لورالائی کے علاقوں پر افغانستان کا دعوی رہا ہے۔

بلوچستان میں جاری بلوچ قوم پرستی کی موجودہ تحریک کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر میں جانا ضروری ہے۔ جب پاکستان وجود میں آیا تو موجودہ بلوچستان کے مختلف علاقوں پر آزاد حکمرانی کے تین دعوے دار موجود تھے۔ بلوچ علاقوں پر خانِ قلات، پشتون علاقوں پر نواب جوگیزئی اور کچھ پشتون علاقوں پر افغانستان کا دعوی تھا۔

موجودہ بلوچ قوم پرستی کی جڑیں اس دعوے میں پیوست ہیں جو قیام پاکستان کے وقت قلات کے حکمران احمد یار خان نے کیا تھا کہ برطانوی حکومت کے خاتمہ کے بعد وہ پورے بلوچستان بشمول ڈیرہ غازی خان (جنوبی پنجاب) اور جیکب آباد (سندھ) کے جائز حکمران تھے اور یہ کہ قلات کا پاکستان سے الحاق جبری طور پر کرایا گیا۔

قلات کے خان سترہویں صدی سے خود کو خانِ بلوچ اور خانِ اعظم کہتے تھے۔ انہیں نادر شاہ نے سرداروں کے سردار کا لقب دیا تھا۔

برطانوی دور میں موجودہ بلوچستان چار ریاستوں میں تقسیم تھا جن کے نام تھے۔ بیلا، قلات، مکران اور خاران۔ خانِ قلات کا ہمیشہ دعوی رہا کہ یہ چاروں ریاستیں ان کی تھیں اور انگریزوں کے آنے سے پہلے کم و بیش وہ ان چاروں علاقوں کا حکمران بھی تھے۔ وہ ان ریاستوں کے حکمرانوں کو اپنے تابع سردار کہا کرتے تھے۔

بلوچستان پر خانِ قلات کے انگریز حکومت سے دو معاہدے تھے۔ ایک اٹھارہ سو اٹھتر میں ہوا اور دوسرا انیس سو انتالیس میں۔ انگریزوں نے خانِ قلات سے کوئٹہ، اور نصیرآباد کا علاقہ اجارہ یا کرائے پر لیا ہوا تھا۔ نوشکی اور بولان بھی اجارے پر تھے۔ انگریزوں نے جیکب آباد سے تفتان تک ریلوے لائن کا علاقہ کرائے پر لیا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھئے     بلوچ قوم پرستی کا ارتقا

خانِ قلات اپنی ریاست کے ایک خود مختار حکمران تھے اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں کے راجوں کی طرح ہندوستان میں برطانوی حکومت کے ماتحت نہیں تھے۔ صرف کوئٹہ جسے برطانوی بلوچستان کہا جاتا تھا انگریزوں کی عملداری میں تھا۔ انگریزوں کا قانون صرف جیکب آباد اور تفتان ریلوے لائن کے علاقوں پر چلتا تھا۔

کوئٹہ میں اکثریتی آبادی ہندؤوں اور سکھوں کی تھی اور کچھ پارسی باشندے تھے۔ مسلمان بہت ہی کم تھے۔ بلوچستان میں سیاست کرنے کی اجازت صرف کوئٹہ تک محدود تھی جہاں کانگریس اور مسلم لیگ کے دفاتر تھے۔

بلوچستان کے دیگر علاقوں میں جابرانہ ایف سی قانون کے تحت سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں تھی۔

خان قلات کی سوچ یہ تھی کہ انگریز جائیں گے تو ان کےانگریزوں سے کیے ہوئے دونوں معاہدے خود بخود ختم ہوجائیں گے اور کوئٹہ سمیت سب ریاستیں انہیں مل جائیں گی۔

خان قلات کے ایک خود مختار اور آزاد بلوچ ریاست کی سوچ کو برطانوی حکومت کی انیس سو پینتیس میں اس وقت مزید تقویت ملی جب برطانوی حکومت نے خان قلات کو عندیہ دیا کہ اگر انگریزوں کو ہندوستان سے فوری طور پر نکلنا پڑا تو وہ عارضی طور پر ہندوستان کے دیگر علاقوں سے بلوچستان منتقل ہوجائیں گے اور انگریز آبادی اور برطانیہ کے بڑے اثاثوں کو یہاں منتقل کردیں گے اور بعد میں یہاں سے انگلستان جائیں گے۔

اس مقصد کے لیے انگریزوں نے خانِ قلات سے قلات ریاست کا ایک آئین بنوایا، حکومت کے لیے ایک کابینہ بنوائی، شوری کا نظام بنوایااور عدالتیں بنوائیں۔ انگریزوں نے اس عرصہ میں یہاں مواصلات کے نظام کو ترقی دی۔ کوئٹہ سے قلات تک سڑک بنائی اور اس کے دونوں طرف درخت لگوائے جو اب تک موجود ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ کو ترقی دی تاکہ برطانوی افراد اور سامان کو انگلستان لےجانے کے لیے بحری جہاز لنگرانداز ہوسکیں۔ کوئٹہ کے ارد گرد چار فضائی اڈے بنائے گئے۔

تاہم دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعدانیس سو بیالیس تک انگریزوں کا ارداہ بدل گیا اور انہوں نے بلوچستان کو عارضی پڑاؤ بنانے کے منصوبہ کو ترک کردیا۔

اس پس منطر میں خانِ قلات نے حزب اختلاف کی ایک جماعت قلات نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی تھی جسے بعد میں آنے والے تمام بلوچ قوم پرستوں کی ماں کہا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے              بلوچستان کی داستان

بلوچ نیشنل پارٹی کا آئڈیل یہ نظریہ تھا کہ قالات ایک جدید بلوچ ریاست بنے گا۔ بلوچ نوجوان اس کی طرف راغب ہوئے۔ انیس سو اڑتیس میں خانِ قلات نے خود ہی قلات نیشنل پارٹی کو غیر قانونی قرار دے کر اس پر پابندی لگادی ۔ تاہم اس پارٹی کا فلسفہ جاری رہا اور بعد میں جو قوم پرست سامنے آئے ان کا تعلق ماضی میں اس پارٹی سے رہا تھا۔ اس کے اثرات اب بھی پورے بلوچستان اور بلوچوں میں موجود ہیں۔

بلوچستان میں ژوب اور لورالائی کے علاقوں پر افغانستان کا دعوی رہا ہے۔ انگریزوں نے ٹریٹی آف گندمک کے ذریعے انہیں اپنے زیرانتظام لیا تھا۔ انگریزوں کے جانے کے بعد افغانستان کی نظریں ان علاقوں کو واپس لینے پر تھیں۔

جب پاکستان بنا تو نواب جوگیزئی نے ان علاقوں پر اپنی حکمرانی کا دعوی کیا۔ (انیس سو نوے کی دہائی میں رہنے والے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل وحید کاکڑ اس علاقہ سے تھے اور اب بلوچستان کے گورنر اویس غنی بھی انہی کے قبیلہ سے ہیں)

چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو پاکستان انگریز حکومت کا جانشین بنا۔ کوئٹہ ڈویژن میں شاہی جرگہ میں ریفرنڈم کرایا گیا اور اس نے انیس سو اڑتالیس میں پاکستان سے الحاق کے حق میں ووٹ دے دیا۔ خانِ قلات لسبیلہ، مکران اور خاران کو اپنے تابع ریاستیں قرار دیتے تھے لیکن پاکستان نے انہیں خودمختار ریاستوں کا درجہ دیا اور ان ریاستوں نے پاکستان کے حق میں الحاق کا اعلان کردیا۔

خانِ قلات نے خود مختار بلوچ ریاست کے خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انیس سو سینتالیس میں ریاست کا ایک آئین بنایا جس کے تحت دو ایوانوں پر مشتمل پارلیمان بنائی گئی۔ فروری اور مارچ انیس سو اڑتالیس میں حسب معمول سبی دربار منعقد ہوا۔ خانِ قلات کا دارالحکومت سبی سے دس میل کے فاصلے پر ڈاڈرھا تھا۔ وہاں پاکستان سے الحاق کے لیے قائداعظم کی خانِ قلات سے بات چیت ہوئی لیکن ناکام ہوگئی۔

تاہم کچھ پس و پیش کے بعد خانِ قلات نے الحاق کا اعلان کردیا جسے قوم پرست او بلوچ سردار تسلیم نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ الحاق فوجی کارروائی کی دھمکی دے کر کرایا گیا۔

قلات نیشنل پارٹی اور قلات کی پارلیمان نے قلات کے پاکستان سے الحاق کی مخالفت کی۔ تاہم کوئٹہ کے سردار اسے درست تسلیم کرتے ہیں۔ قلات کے سردار آج تک یہ کہتے ہیں کہ یہ الحاق جبری تھا اور ہمارا خواب ہے کہ سارا بلوچ علاقہ آزاد ہو گو قلات کے سردار عملی سیاست میں حصہ نہیں لیتے۔ اب خانِ قلات احمد یار خان کا پوتا قلات کا سردار ہے۔

دوسری طرف کانگریس سے وابستہ سیاسی کارکن اور پشتونوں کی جماعت انجمن وطن (عبدالصمد اچکزئی کی جماعت) کے لوگ پاکستان بننے کے بعد گرفتار کرلیے گئے یا خود سے نقل مکانی کرکے افغانستان چلے گئے۔

افغانستان میں ہمیشہ آزاد بلوچستان کی تحریک کا نعرہ بلند کرنے والے عناصر موجود رہے۔ ستر میں بلوچ قوم پرست تحریک کے بڑے رہنما خیر بخش مری ، جو اب موجودہ بلوچ تحریک کے بھی قائدین میں شامل ہیں، ستر کی دہائی کے آخر سے کمیونسٹ حکمران نجیب اللہ کے دور تک طویل عرصہ افغانستان میں اپنے قبیلے کے ساتھ مقیم رہے۔

(دوسری قسط میں دیکھیں گے پاکستان بننے کے بعد بلوچ قوم پرست تحریک کا ارتقا)

بشکریہ بی بی سی

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close