بلوچستانپہلا صفحہ

بی این پی علیحدگی،بلوچستان میں وفاقی ترقیاتی منصوبےمتاثر ہونیکا خدشہ

سہب حال (مانیٹرنگ ڈیسک)

روزنامہ انتخاب کوئٹہ کی خبر کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں بلوچستان کےلئے ڈیڑھ سو سے زائد منصوبوں پر کام جاری ہے

  • بلوچستان کیلئے 32ارب 40کروڑ روپے کی لاگت سے ڈیڑھ سو منصوبوں پر کام جاری ہے
  •  43 منصوبے پانی،بجلی کے 22منصوبے،مواصلاتی نظام کے 13،گوادر میں جہاز رانی کیلئے 8
  • صوبے میں 20ہاؤسنگ کے منصوبے بھی شامل ہیں
  • خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کی وفاقی حکومت سے علیحدگی سے ان کے تجویز کردہ منصوبے سست روی کاشکار ہوسکتے ہیں
  • ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں بلوچستان کی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے 32 ارب 40کروڑروپے کے ڈیڑھ سو منصوبے شامل ہیں
  • وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کیلئے پینے کے پانی کیلئے43اسکیمات جن میں بولنگ ڈیم، ہتھوزئی، گلستان، قلعہ عبداللہ میں چھوٹے ڈیموں کے علاوہ 100بڑے منصوبے شامل ہیں

ضلع نوشکی،چاغی،خضدار،خاران میں بھی درجنوں چھوٹے بڑے ڈیمز کے منصوبے شامل ہیں اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں بلوچستان کے بجلی کے تقریبا22منصوبے رکھے گئے ہیں جس میں مستونگ،قلات گریڈ اسٹیشن احمد وال،نوشکی،چاغی، خاران، اور ناج،ماشکیل اور دیگر علاقوں میں بجلی کے منصوبے شامل ہیں جس میں کچھ نئے اورکچھ جاری منصوبے شامل ہیں

اس کے علاوہ بلوچستان میں مواصلات کے شعبے میں اربوں روپے کی سٹرکوں کی اسکیمات رکھی گئی ہیں جن کی مجموعی تعداد 13کے قریب ہیں ان میں سرفہرست ہوشاب آواران روڈ جھا بیلہ روڈ اورنوکنڈی ماشکیل روڈ شامل ہیں

صوبے میں ہوا بازی کے شعبے میں 22ارب کی لاگت سے بین الاقوامی معیار کا گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر پی ایس ڈی پی میں شامل ہیں بندر گاہوں اور جاز رانی کی شعبے میں گوادر کیلئے 8منصوبے رکھے گئے ہیں جن میں کچھ نئے اور جاری منصوبے شامل ہیں ان منصوبوں میں گوادر ایکسپریس وے روڈ اور ماہی گیروں کیلئے بریک واٹر کی تعمیرکے علاوہ گوادر کیلئے میرین سروس کی اسکیمات شامل ہیں

اس کے علاوہ گوادر میں 90کروڑ کی لاگت سے و وکیشنل ٹریننگ سینٹر کا منصوبہ بھی پی ایس ڈی پی کا حصہ ہے

  • وزارت ہاسنگ کے تحت بلوچستان کیلئے 20منصوبے رکھے گئے ہیں
  • جن میں زیادہ تر منصوبوں کا تعلق ضلع خضدار،نوشکی،چاغی اور دالبندین سے ہیں
  • اس کے علاوہ دالبندین روڈ کیلئے 9ارب روپے رکھے گئے ہیں

بلوچستان میں زیارت ٹان کی ترقی کوئٹہ میں ایکسپو سینٹر کا قیام گوادر سیوسٹی ڈیرہ بگٹی رکھنی سنگسیلاا اورناج روڈ بھی پی ایس ڈی پی کا حصہ ہے

 فنانس ڈویژن کے تحت بلوچستان میں 18منصوبوں پر عمل در آمد جاری ہے گوادر میں ریلوے کیلئے ساڑھے چار ارب روپے کی زمین کی خریداری پی ایس ڈی پی کا حصہ ہے

بلوچستان میں ہائیرایجوکیشن کے تحت مختلف یونیورسٹیوں کو فیز ٹو کے تحت فنڈز کا اجراجبکہ نوکنڈی میں معدنیات یونیورسٹی کا قیام ڈیرہ مراد جمالی یونیورسٹی کالج اور ژوب یونیورسٹی کالج کے منصوبے بھی شامل ہیں

خضدار میں سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کیمپس وفاقی پی ایس ڈی پی کا حصہ ہیں

ذرائع کے مطابق کوئٹہ خضدار نوشکی اور چاغی کے بیشتر منصوبے بی این پی مینگل جوکہ وفاق میں پی ٹی آئی کے اتحادی تھی اس کے تجویز کردہ ہے

گزشتہ دو سالوں کے دوران بی این پی کے تجویز کردہ اسکیمات کا پی ایس ڈی پی کامطالعہ کیا جائے تو ان کی اسکیموں پر 25%فنڈز لگ چکے ہیں جبکہ بقایا نئی اسکیمات جوکہ بی این پی کی جانب سے دی گئی ان پر خدشات ہیں کہ بی این پی کے اتحاد ختم ہوجانے سے نئی اسکیمات سست روی شکار ہوسکتی ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی بجٹ میں بلوچستان کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ہاتھ کردیا گیا 550 بلین کے 44 منصوبوں سے صرف2 منصوبے وفاقی پی ایس ڈی پی میں شامل ہیں باقیوں کو خاموشی سے نکال دیا گیا حکومت بلوچستان سخت مایوسی کا شکار ہوگئی۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close