انٹرویوزپہلا صفحہ

عوامی مسائل اجاگر کرنیوالا ڈیرہ غازیخان کا نڈر صحافی شیر افگن بزدار

کبھی کسی نے ڈائریکٹ کوئی دھمکی نہیں دی،مختلف چینلز کے ذریعے دھمکیاں ملتی رہی ہیں

عوامی مسائل اجاگر کرنیوالا ڈیرہ غازیخان کا نڈر صحافی شیر افگن بزدار

ڈیرہ غازیخان(سہب حال) ڈیرہ غازیخان ایک ایسا خطہ جہاں کی اکثریت آبادی بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔اس علاقے میں کئی دہائیوں بلکہ قیام پاکستان سے پہلے انگریز دور سے لیکر آج تک عوام کا استحصال ہورہا ہے۔انکے بنیادی حقوق غضب کئے جارہے ہیں،تعلیمی اداروں کی بات کریں یا ہسپتالوں اور سڑکوں کی حالت دیکھیں یا پھر انتطامی ڈھانچہ سب کے سب عوامی حقوق پر سانپ کی طرح پھن پھیلائے بیٹھے ہیں۔

یہاں کی غریب عوام کا خون چوستے موروثی سردار ہوں یا کرپٹ افسران،رشوت خور محکمہ پولیس اور محکمہ تعلیم کی کالی بھیڑیں ہوں یا فائلوں کو پہیہ لگانے والے ٹھیکے دار،کسی برائی کے اڈے پر لٹتی ہوا کی بیٹی ہو یا کوہ سلیمان  کے صحت،سڑکیں،گلیاں اور پانی کے مسائل ہوں یا انڈس ہائی وے روڈ پر ٹریفک حادثات کی بروقت کوریج،ڈیرہ غازی خان میں پولیس کے ظلم کا شکار 80 سالہ بوڑھی ماں کی فریاد اعلی حکام تک پہنچانی ہو،تونسہ ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کے دور دراز علاقوں میں کسی مظلوم کی خبر کی کوریج کرنی ہو یا کہیں انسانی حقوق کی پامالی ہو یا کورٹ کچہریوں کے چکر کاٹتے پریشان حال مظلوم ہوں ،آپکو حالیہ’’بول نیوز‘‘ سے وابسطہ صحافی’’ شیر افگن بزدار ‘‘  ہی نظر آئے گا۔ اپنے نام سے یو ٹیوب چینل بھی بنایا ہوا ہے جس پر عوامی مسائل اجاگر کرتے رہتے اگرچہ کہیں کہیں  جذباتی بھی ہوجاتے ہیں لیکن  بقول شیر افگن بزدار کے کہ یہ ایک فطری عمل ہے۔

شیر افگن بزدار کا تعلق پڑھے لکھے خاندان سے ہے والد محترم محکمہ تعلیم سے استاد کی حیثیت سے ریٹائڑد ہوئے ہیں۔انکے پاس دو ماسٹر ڈگریاں ہیں ان میں ایک ایم اے ماس کمیونیکشن جبکہ دوسری ڈگری ایم اے ایجوکیشن حاصل کی۔ وکالت کا شوق پورا کرنے کےلئے ایل ایل بی بہاوالدین زکریا یونیورسٹی سے کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ  2011 سے کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کیساتھ بھی وابستہ ہیں۔صحافت ہی شیر افگن بزدار کا اوڑھنا اور پچھونا ہے۔پچھلے پانچ چھ  سالوں سے وابستہ اس صحافی نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔آیئے انکے بارے میں مذید جانتے ہیں

سہب حال          صحافت کا آغاز کب کیا۔۔؟

شیر افگن بزدار     باقاعدہ صحافت کا آغاز 2015 میں کیپٹل ٹی وی سے بطور رپورٹر کیا۔ایک سال تک اسی چینل سے وابسطہ رہا اور کئی بریکینگ اسٹوریاں دیں۔

ایک بار علاقے کی بااثر شخصیت اور مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر حلقہ این اے 171 سے منتخب ہونیوالے ایم این اے  سردار امجد فاروق خان کھوسہ(موجودہ ایم این اے تحریک انصاف حلقہ این اے 190 ڈیرہ غازیخان) کے خلاف 3 ستمبر 2015 کو گیس چوری کرنیکی خبر دی اور کیپٹل ٹی وی نے اسے بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا۔

اس بریکنگ ںیوز کو نیچے دیے گئے ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے۔کسی بھی حکومتی اور بااثر ایم این اے کے خلاف خبر دینا اتنا آسان کام نہیں ہوتا لیکن شیر افگن بزدار یہ مرحلہ بھی طے کر گئے

شیر افگن بزدار نے دو سال تک روہی ٹی وی اور 24 نیوز کیساتھ کام کیا۔اس کے بعد 2018 سے بول نیوز  ڈیرہ غازیخان کیساتھ وابستہ ہیں۔

سہب حال  علاقے میں میڈیا کے حالات کیسے ہیں اور کیا دیکھتے ہیں۔۔؟

جنوبی پنجاب میں ملتان کو چھوڑ کر باقی علاقوں میں میڈیا کے ادارے متعصبانہ سلوک رکھتے ہیں۔ چینل تنخواہیں نہیں دیتے جبکہ اخبار مالکان صحافیوں کو کچھ دینے کی بجائے الٹا لینے کی چکروں میں ہوتے ہیں۔۔اگر ادارے صحافیوں کو تنخواہیں جاری کرنا شروع کردیں اور مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیں تو صحافی زیادہ اچھے طریقے سے کام کرنا شروع کردیں گے

  سہب حال    ڈیرہ غازیخان کی صحافت سے اکتاہٹ کہیں،دل برداشتہ سمجھیں یا بہتر مستبقل کی تلاش،آپ نے شہر اقتدار اسلام آباد نیا ٹھکانہ بنایا تھا۔۔۔؟

شیر افگن بزدار  میں اس فیلڈ میں نہ کبھی اکتاہٹ کا شکار ہوا اور نہ دلبراشتہ مجھے صحافت کے شعبے سے گہرا لگاؤ ہے اور میں نے ڈیرہ غازی خان سے اسلام آباد کا سفر بہتر مستقبل کی خاطر کیا ہے۔جہاں آگے بڑھنے کے چانسز ہوں اسی خواہش کو دل میں لئے قسمت آزمانے اسلام آباد پہنچ گیا۔ 

سہب حال  اسلام آباد میں کس صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ رہے اور وہاں سے کیا سیکھا۔۔؟

2016 میں اسلام آباد روز ٹی وی کے ہیڈ آفس میں کام کیا ۔کسی ٹی وی چینل کے ہیڈ آفس میں کام کرنیکا یہ میرا پہلا تجربہ تھا ۔ڈیرہ غازیخان میں کیپٹل ٹی وی کے لئے خبریں بھیجتا تھا یہاں روز نیوز میں پورے ملک سے آئی خبروں کو مینج کرکے نشر کرنا ہوتا تھا۔یہاں ڈیسک سے لیکر رپورٹنگ اور نیوز پروڈکشن تک تمام شعبوں میں کام کیا،اور بہت کم عرصے میں کام کے حوالے سے اپنی ایک الگ پہچان بنانے کی کوشش کی ۔اس میں کتنا کامیاب رہا یہ میرے ساتھ کام کرنیوالے میرے دوست اور کولیگ بتا سکتے ہیں۔

  سہب حال   اسلام آباد کیوں چھوڑا آپ تو  اسلام آباد بہتر مستقبل کی خاطر  آئے تھے۔۔؟ 

شیر افگن بزدار   ڈیرہ غازی خان میں انڈس انٹرنیشنل انسٹیوٹ میں 1500 طلباء کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچانے کےلئے اپنے بہتر مستقبل کی قربانی دینی پڑی،جس کی وجہ سے واپس آنا پڑا۔ ڈی جی خان واپس آکر تعلیم دشمن مافیاء اوراس وقت کے وفاقی وزیر عبدالکریم کیخلاف طلباء کے حق کے لیے تحریک شروع کی تقریبا ڈیڑھ سال تک صحافت کو صیح طرح وقت نہیں دے پایا۔طلباء اور سول سوسائٹی کو متحرک کرکے تحریک کو جاری رکھا جنوری کے مہینے میں بارہ دن تک اسلام آباد کی سخت سردی میں نیشنل پریس کلب کے سامنے دھرنا دیے رکھا اور ایچ ای سی آفس اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی اور صوبائی وزیرہائیر ایجوکیشن علی رضا گیلانی سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا کو ختم کیا اور طلباء کی ڈگریوں کی تصدیق تک جدوجہد کو جاری رکھا اور اس مسئلے کو حل کروا کر ہی دم لیا۔

سہب حال     عوامی مسائل اجاگر کرنا اور ان کے مسائل حکام بالا تک پہنچانا کیا محسوس ہوتا ہے۔۔؟

شیر افگن بزدار    میں زمانہ طالب علمی سے لوگوں کے مسائل اجاگر کرنے اور ان کو حل کرنے کا جذبہ رکھتا تھا۔جس کی وجہ سے طلباء سیاست میں قدم رکھا۔میں سمجھتا ہوں میری وجہ سے بہت سارے لوگوں کے مسائل حل ہوئے ہیں۔ماضی کو چھوڑ کر اگر ہم گزشتہ چھ ماہ کی بات کریں اس دوران بہت سارے مظلوموں جنکی پولیس شنوائی نہیں ہورہی تھی،ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہورہی تھیں میری رپورٹنگ کے ذریعے ایف آئی آر کاٹی گئی ہیں۔ابھی حال ہی میں سانحہ کوٹ مبارک کے واقعہ کو  اگرہم سامنے رکھیں تو وہاں پر جوڈیشنل انکوائری رپورٹ میں ماورائے عدالت قتل میں پولیس اہلکار گناہ گار ثابت ہوئے ہیں۔

 

سہب حال      طلبہ کے مستقبل کی تحریک چلائی،کرپشن اور ظلم کے خلاف ہمیشہ آواز بلند رکھتے ہیں دھمکیوں کا سامنا تو کرنا پڑتا ہوگا۔۔؟

شیر افگن بزدار     کبھی کسی نے ڈائریکٹ کوئی دھمکی نہیں دی۔البتہ مختلف چینلز کے ذریعے دھمکیاں ملتی رہی ہیں خاص کر انڈس انٹرنیشنل انسٹیوٹ کے طلباء کے لیے جب تحریک چلارہاتھااس کے علاوہ جب سانحہ کوٹ مبارک پر آواز اٹھائی تو سانحہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کی طرف سے دوسرے تھانوں کے ایس ایچ اوز اور تفتیشی ڈرانے آتے تھے۔

ایک سول جج جس نے مجھے غیرقانونی طورپر پولیس کے حوالے کیا تھا اور پولیس کو مجھے چھترول کرنے کی ہدایت کی۔اس جج کیخلاف جب آواز اٹھائی تو اس جج کی طرف سے بہت سارے وکلاء ڈرانے آتے تھے کہ نیشنل ایکشن پلان کے سارے کیسز اسی جج کے پاس آتے ہیں تمہیں سی ٹی ڈی سے مروا دے گا۔میں ان تمام دھمکیوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالتا تھا اور جج کیخلاف اپنی جائز قانونی جدوجہد جاری رکھی جس پر اس وقت کے انتہائی شفیق ڈسٹرکٹ سیشن جج شفیق الرحمان نے اس جج کے رویہ کیخلاف معذرت کی تھی۔

سہب حال عوامی مسائل اجاگر کرنے میں آپکا کوئی ثانی نہیں لیکن سردار عثمان کے ہامی  الزامات لگاتے ہیں کہ آپ انکے پیچھے پڑ گئے ہیں ۔۔؟

شیر افگن بزدار     سردار عثمان بزدار میرے چیف ہیں۔دو سال تک صرف اس لیے میں چپ رہا کہ ان کی وجہ سے علاقہ میں کام ہوں گے۔جب دس ماہ پہلے کوریج کے سلسلے میں ان ترقیاتی کاموں کو ریکارڈ کرنے گیا تو اس وقت بھی ترقیاتی کاموں کا حال ایک جیسا تھا کہا گیا تھا کہ تکمیل تک یہ کام ٹھیک ہوجائیں گے اس کے بعد جب دوبارہ انہی علاقوں کا سفر کیا تو حالات زیادہ بگڑ چکے تھے سڑکیں بیٹھ چکی تھیں ۔فرضی بستیوں کے نام پر پسند ناپسند کی بنیاد پر فنڈز تقسیم کیے جارہے تھے۔ان چیزوں کو جب ہائی لائٹ کیا تو لوگوں کا ریسپانس بھی آپ کے سامنے تھا۔عثمان بزدار کے حامیوں کو ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر عثمان خان کو وزارت اعلیٰ سے ہٹایا بھی گیا تو مجھے اس سیٹ پر کوئی نہیں بٹھائے گا نہ ہی ان پر بے جا تنقید سے مجھے کوئی فائدہ ملے گا

سہب حال    جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبہ کا قیام،ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کو بلوچستان میں دوبارہ شامل کرنیکا مطالبہ ان معاملات کو کیسے دیکھتے ہیں۔۔؟

شیر افگن بزدار  پنجاب کو ہرحال میں تقسیم ہونا چاہیے کیونکہ ایک صوبہ کی کل آبادی باقی تین صوبوں سے کافی زیادہ ہے باقی سرائیکی صوبہ بنے جنوبی پنجاب بنے جو بھی بنائیں نام پر مجھ سمیت بہت ساروں کو کوئی اعتراض نہیں ہے باقی جہاں تک راجن پور اور ڈی جی خان کی بلوچستان میں شمولیت کی بات ہے۔ اس کا فیصلہ یہاں کے جغرافیائی، ثقافتی اور تاریخی حیثیت کو دیکھ کر کرنا چاہیے۔ میں بذات خود ان علاقوں کو بلوچستان کا حصہ دیکھنے کا حامی ہوں۔مگر اس بات کا بھی احساس ہے کہ طاقتور حلقے ان علاقوں کو بلوچستان کا حصہ کبھی تسلیم نہیں کرینگے۔
سہب حال             مستقبل میں اپنے آپکو کہاں دیکھتے ہیں ۔۔؟

شیر افگن بزدار    انشاء اللہ ایک سال میں لاء مکمل ہوجائے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ مستقبل میں شاید مجھے ڈیرہ غازیخان چھوڑنا پڑے ۔ میرا ارادہ ہے کہ کسی بڑے شہر میں بیٹھ کر اپنے علاقہ کی نمائندگی کرکے اپنے علاقہ کے مسائل ارباب اختیار اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاوں گا۔انشاء اللہ اگر اللہ نے چاہا تو ضرور ایسا ہی ہوگا۔

ویسے تو بہت سارے عوامی مسائل ہیں جنکو شیر افگن بزدار نے اپنے فیس بک اکاونٹ اور یو ٹیوب چینل کے ذریعے اجاگر کیا لیکن یہاں چند اہم علاقے کے مسائل کے لنک شیئر کئے ہیں جنکو دیکھا جاسکتا ہے۔

ڈیرہ غازی خان میں دبئی سے ایک دن قبل پاکستان آنے والا نوجوان ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر لادی گینگ کے ہاتھوں قتل کردیا گیا۔شیر افگن بزدار

ڈیرہ غازی خان میں نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر خاتون کو قتل کرڈالا، ایک ہی ہفتہ میں 7افراد قتل،عوام عدم تحفظ کا شکار،شیر افگن بزدار

ڈیرہ غازی خان میں بدامنی کیخلاف وزیراعلیٰ پنجاب کے علاقہ سے آئے لوگوں کا احتجاجی مظاہرہ،،شیر افگن بزدار

ڈیرہ غازی خان کی باہمت خاتون کی کہانی۔70سالہ مہرین بی بی نے بجائے بھیک مانگنے کی سڑک کنارے فرش پر بیٹھ کر جامن بیچتی ہے اور اپنے گھر میں موجود 9یتیم بچوں اور اہلخانہ کی کفالت کرتی ہے۔شیر افگن بزدار
جرمنی سے ایک دوست نے بوڑھی اماں کے یتیم بچوں کے لیے 20ہزار بھیجے تھے،دوست کی امانت بوڑھی اماں تک پہنچائی ہے۔یہ اماں اپنے وفات پانے والے دونوں بیٹوں کے 9 یتیم بچوں کیساتھ ساتھ اپنے خاوند اور بہو کی کفالت جامن بیچ کرکرتی ہے۔شیر افگن بزدار
ڈیرہ غازی خان کا انڈس ہائی وے قاتل روڈ ہے، آج کے دن ٹریفک حادثے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد سمیت پانچ افراد لقمہ اجل بنے ہیں،انڈس ہائی وے کو ڈبل بنوانے کے لیے آواز اٹھائیں،شیر افگن بزدار
ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close