بلاگپاکستانپہلا صفحہ

کرونا وائرس بیماری یا جراثیمی ہتھیار

سردار شیراز خان

دینا بھر ہر انسان کے زہن میں یہ سوال ہے کہ کرونا وائرس کیا ہے اور یہ کہاں سے آیا ہے ،اس حوالے سے مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ کرونا وائرس کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک جراثیمی ہتھیار ہے جسے امریکہ نے چین کے خلاف استعمال کیا ہے۔

چین کے محکمہ خارجہ کے ترجمان لی جیان  نے اپنے ایک بیان میں امریکی سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے ”وبائی امراض“ کے اجلاس کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ویڈیو سے ثابت ہوتا ہے کہ کورونا وائرس پہلے امریکا میں رپورٹ ہوا ہے۔ 

چینی ترجمان نے امریکی سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کو امریکی صحت کے ادارے ’سینٹرفار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن‘ (سی ڈی سی) کے نمائندے رابرٹ ریڈ فیلڈ کی جانب سے دی گئی بریفنگ سے متعلق دو مختصر ویڈیوز شیئر کیں ہیں جن میں وہ ذیلی کمیٹی کو امریکہ میں ’انفلوئنزا‘ سے ہونے والی اموات سے متعلق آگاہ کررہے ہیں ۔

امریکی نشریاتی ادارے ”سی این این“ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اگرچہ ویڈیوز میں رابرٹ ریڈ فیلڈ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکہ میں جس وائرس سے اموات ہوئیں اس وائرس کو آگے چل کر ’نوول کووڈ 19‘ کورونا وائرس کا نام دیا گیا ہے تاہم ویڈیو سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ مذکورہ ویڈیوز کس تاریخ کی ہیں۔

چینی ترجمان نے مذید کہا ہے سی ڈی سی کے عہدیدار تسلیم کر رہے ہیں کہ امریکہ میں انفلوئنزا سے ساڑھے 3 کروڑافراد متاثر ہوئے جن میں سے 20 ہزار کی موت واقع ہوئی ہے۔

چین کے ترجمان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان تمام افراد کے نام دیے جواس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں،اُن ہسپتالوں کے نام بھی دیے جائیں جن میں ان متاثرہ افراد کا علاج ہوا اور ان تمام افراد کی سفری تفصیلات بھی دی جائیں ۔

سی این این نے اپنی ایک دوسری رپورٹ میں اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ امریکی فوج کے درجنوں ایتھلیٹ اکتوبر 2019 میں چین کے شہر ووہان میں ہونے والے کھیلوں میں شرکت کے لیے گئے تھے اور ان میں سے کچھ ایتھلیٹ انفلوئنزا سے متاثر تھے۔ 

دینا کے ایک ممتاز طبی جریدے ” نیچر“ نے اپنے فروری 2020 کے شمارے میں ایک رپورٹ میں چین کے ووہان انسٹیٹوٹ آف وائرلوجی، شنگھائی کی فودان یونیورسٹی اور چائنیئز سینٹر فار ڈیزیز اینڈ پریونٹیشن کے ماہرین کی جانب سے کی گئی دوتحقیقاتی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ”کورونا وائرس“ چین کے شہر ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ سے پھیلنا شروع ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس ” سارز وائرس“ سے ملتا جلتا ہے اور دونوں کا جینیاتی کوڈ بھی تقربنا ایک جیساہے۔ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

کرونا وائرس کے حوالے سے چین کے الزامات پر امریکہ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔امریکہ نے سرکاری طور پر چینی سفیر کو دفتر خارجہ بلاکر ایک احتجاجی مراسلہ دیا ہے جس میں نہ صرف ان الزامات کی تردید کی گئی ہے بلکہ اس عمل کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے

اس سے پہلے ایران نے بھی امریکہ پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرونا وائرس امریکہ کی بائیولوجیکل وار فئیر کا حصہ ہے۔

امریکہ پر جراثیمی ہتھیار (بائیولوجیکل ویپنز) بنانے اور ان کے استعمال کا الزام نیا نہیں ہے ۔چلی،عراق، شام، عمان، ہانگ کانگ کیوبا محض چند نام ہیں جن کے خلاف جراثمی ہتھیاروں کے استعمال کی پوری ایک تاریخ ہے جس کی تصدیق بعض عالمی اداروں نے بھی کی ہے ۔ 

روسی سائنسدانوں نے بھی چین کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے چین کے اس موقف کی تائید کی ہے کہ یہ امریکہ کا ایک خوفناک بائیولوجیکل حملہ ہے جس کا مقصد چین کو دنیا میں تنہا کرنا تھا

چین نے اس معاملہ کو اقوام متحدہ میں لے جانے کا عندیہ بھی دیا ھے۔چائنیز سائنسدانوں نے یہ دعوی کیا ھے امریکی لیبارٹریز میں اس وائرس کو تخلیق کیا گیا ھے اور وھیں اسکو ایک جراثیمی ہتھیار کی شکل دی گئی اور سے اپنے سرکاری اہلکاروں کے ذریعے چین تک پہنچایا گیا۔ 

بشکریہ سردار شیراز خان سینئر صحافی

یہ آرٹیکل سردار شیراز خان کے فیس بک اکاونٹ کی وال سے لیا گیا ہے

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close