پنجابپہلا صفحہسوشل میڈیا

ڈیرہ غازیخان:بارڈر ملٹری پولیس کی مجرمانہ غفلت،خاتون شوہر کے ہاتھوں قتل

شیرافگن بزدار نے ایک ہفتہ قبل مقتولہ کا انٹرویو کیا تھا لیکن پنجاب سرکار نے کوئی نوٹس نہیں لیا

ڈیرہ غازیخان (سہب حال)  ایک ہفتہ قبل ڈیرہ غازیخان کے صحافی شیر افگن بزدار کو اطلاع ملتی ہے کہ ایک 57 سالہ بوڑھی خاتون جنہیں اپنے بیٹے اور شوہر اس بات پر قتل کرنا چایتے ہیں کہ خاتون اپنے شوہر کو دوسری شادی کرنے پر منع کررہی تھیں۔شیر افگن بزدار کے مقتولہ کے انٹرویو پر حکام بالا نوٹس لیتے تو شاید وہ آج زندہ ہوتیں۔

مقتولہ راجو بی بی (فوٹو شیر افگن بزدار)
مقتولہ راجو بی بی (فوٹو شیر افگن بزدار)

اس واقعہ کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے رونگھن میں آٹھ بچوں کی والدہ راج بی بی کو اس بات پر قتل کردیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کو دوسری شادی کرنے سے منع کررہی تھیں۔اور دوسرا گمشدہ موبائل واپس کرنیکا معاملہ بھی قتل کی وجہ بنا اور بہانہ یہ بنایا گیا کہ خاتون کے مقامی باشندے خیر محمد لغاری کے ساتھ مبینہ طور پر تعلقات ہیں۔جس کی بنیاد پر خاتون کو کالی قراردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مقتولہ کے شوہر اور تین مقامی افراد الہیٰ بخش،کرم خان اور محمد دین نے ملکر خیر محمد پر کالا کا الزام لگایا اور سزا بھی خود تجویز کی کہ وہ اپنی بارہ سالہ بیٹی کو ونی کرکے میوہ خان سے شادی کرائے اور چھ لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرے۔دوسری جانب خاتون کے شوہر میوہ خان نے غیرت کے نام کا ڈھونگ رچاتے ہوئے آٹھ بچوں کی ماں اپنی بیوی راج بی بی کو  گزشتہ رات تین بجے گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتاردیا۔

ذرائع کے مطابق خیر محمد جسکو کالا قرار دیا گیا تھا کی ماں سے انکا موبائل فون کہیں گرگیا تھا۔انہیں بتایا گیا کہ انکا موبائل میوہ خان کے گھر میں ہے جب خیر محمد نے میوہ خان سے موبائل واپسی کا تقاضہ کیا تو موبائل واپس نہ کرنے پر میوہ کے گھر ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔

پھر الہی بخش اور دیگر مذکورہ دو افراد نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔بجائے خیر محمد کا موبائل فون واپس کیا جاتا الٹا ان چاروں نے میوہ خان کی بیوی کے ساتھ  تعلقات کا الزام لگا کر خیر محمد کو کالا قرار دیا اور اس سے جان کے بدلے چھ لاکھ روپے دینے پر زور دیا اور اس کے ساتھ  اسکی بارہ سالہ لڑکی کو میوہ خان کے ساتھ ونی کرنے کا کہا۔جس پر خیر محمد نے چھ لاکھ روپے انکو دے دیے۔ذرائع کے مطابق چھ لاکھ کی رقم میں بھی میوہ خان کو دو لاکھ روپے دیے گئے ہیں ۔باقی ان تینوں نے آپس میں بانٹ لئے جنہوں نے اس معاملے کو بگاڑنے میں اور اسکا رخ موڑنے میں گھناؤنا کردار ادا کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الہیٰ بخش کی خیر محمد جسکو کالا قرار دیا گیا کے ساتھ کوئی دیرینہ ذاتی رنجش تھی۔

مقتولہ راج بی بی کے شناختی کارڈ کا عکس
مقتولہ راج بی بی کے شناختی کارڈ کا عکس

جب راج بی بی کو گاڑ ی میں مارنے کےلئے کہیں لے جایا جارہا تھا۔موقع ملتے ہی وہ گاڑی سے چھلانگ لگا کر بارڈر ملٹری پولیس کے تھانہ مبارکی میں پناہ لینے پر کامیاب ہوگئیں۔

راج بی بی کو واپس انکے شوہر اور بیٹوں کے حوالے  کرنے سے پہلے جب ڈیرہ غازیخان بی ایم پی کے آفس لایا گیا تو مقامی صحافی شیرافگن بزدار اس خاتون کا انٹرویو لینے میں کامیاب ہوگئے۔مقتولہ نے انہیں اپنی روداد بلوچی میں سنائی جسکا ویڈیو ریکارڈ بھی موجود ہے۔خاتون نے کہا تھا کہ

ڈیرہ غازیخان:مقتولہ کی بی ایم پی آفیسر سے ملاقات
ڈیرہ غازیخان:مقتولہ کی بی ایم پی آفیسر سے ملاقات

’’ اگر مجھے قتل کیا گیا تو سرکار مدعی بن جائے،میرے سب دشمن ہیں میرے ساتھ کوئی ایک بھی نہیں۔ یہ سب آپس میں صلاح ومشورہ ہوکر مجھے ماردیں گے ،میرے بیٹے بھی میرے دشمن ہیں بھائی بھی دشمن ہیں اور میرا شوہر بھی دشمن ہے۔یہ سب آپس میں صلاح ومشورہ کرکے مجھے ماردیں گے۔میرامدعی سرکار خود بنے ‘‘

ڈیرہ غازیخان:مقتولہ کا شوہر،دو بیٹے ،بی ایم پی ایس ایچ او کے ساتھ
ڈیرہ غازیخان:مقتولہ کا شوہر،دو بیٹے ،بی ایم پی ایس ایچ او کے ساتھ

ذرائع کے مطابق یہاں بی ایم پی کی مجرمانہ غفلت کھل کر سامنے آتی ہے کیسے راج بی بی جان بچا کر انکے پاس پہنچی اور انہوں نے اسے واپس شوہر کے حوالے کردیا۔حالانکہ مقتولہ کی ملاقات بی ایم پی آفیسر سے بھی ہوئی اور انکے شوہر اور بیٹے بھی اسی آفیسر سے مل رہے ہیں۔

ڈیرہ غازیخان:مقتولہ کے شوہر بی ایم پی آفس میں کمانڈنٹ آفیسر کو مل رہے ہیں
ڈیرہ غازیخان:مقتولہ کے شوہر بی ایم پی آفس میں کمانڈنٹ آفیسر کو مل رہے ہیں

ذرائع کے مطابق قتل ہونیوالی خاتون کے بیٹے کی مدعیت میں دفعہ 113 کے تحت ایف آئی آر کاٹی گئی ہے (دفعہ 113 کا مطلب مدعی راضی نامہ چاہے بھی تو نہیں کرسکتا)

ڈیرہ غازیخان:راجو بی بی اپنے بیٹے کے ساتھ انٹرویو دیتے ہوئے (فوٹو شیر افگن بزدار)
ڈیرہ غازیخان:راجو بی بی اپنے بیٹے کے ساتھ انٹرویو دیتے ہوئے (فوٹو شیر افگن بزدار)

واضح رہے کہ ڈیرہ غازیخان کے جس علاقے میں راج بی بی کو قتل کیاگیا اس حلقہ این اے 191  میں ممبر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر مملکت ’’زرتاج گل اور ممبر پنجاب اسمبلی ’’احمد علی دریشک ہیں۔دونوں ممبران کا تعلق حکمران جماعت تحریک انصاف سے ہے۔اس واقعے سے دونوں عوامی نمائندگان لاعلم رہے۔اگر انکو اپنے حلقہ کی عوام کے بارے میں معلومات ہوتیں تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔حالانکہ مقامی صحافی شیر افگن بزدار نے ایک ہفتہ قبل اس خاتون کا انٹرویو اپنے یوٹیوب چینل پر نشر بھی کیا تھا جو چینل کافی مقبول ہے ۔مقتولہ خاتون نے فریاد کی تھی کہ انکی جان کو خطرہ ہے۔خاتون کے ساتھ بیٹھا ان کا بیٹا ہے جسکا زہنی توازن درست نہیں ہے۔مقتولہ اپنے اس بچے کے بارے میں کافی فکر مند تھیں کہ انکے مرنے کے بعد اسکا کیا بنے گا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close