پاکستانپہلا صفحہ

فیض آباد دھرنا کیس فیصلے سے جان سے مارنے کی دھمکی تک

سہب حال

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو قتل کی دھمکی کا از خود نوٹس

  •  سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کو ایک ویڈیو میں قتل کی دھمکی سے متعلق از خدود نوٹس کیس کی سماعت
  • وفاقی تحقیقاتی ادارے  کے سربراہ کو آئندہ سماعت پر سپریم کورٹ میں پیش ہونے کا حکم 
  •  قتل کی دھمکی دینے والے شخص افتخار الدین مرزا کو بھی ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا حکم 
  • سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس ویڈیو سے متعلق 25 جون کو از خود نوٹس لیا تھا
  •  ویڈیو سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں درخواست بھی دی تھی

کیا قاضی فیض عیسی ریفرنس کی وجہ فیض آباد دھرنا کیس تھا۔۔؟

غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے چیئرمین عابد ساقی کے مطابق اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔ وگرنہ انہوں نے آئین اور قانون کے مطابق کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔‘فیض آباد دھرنا کیس’ میں اسٹیبلشمنٹ کے مختلف اداروں کے حوالے سے جو باتیں سامنے آئی تھیں۔ وہ سچ تھیں لیکن اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ مستقبل کے چیف جسٹس کے ایسے ریمارکس نہیں ہونے چاہیے۔ اسی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ جسٹس فائز عیسی سے چھٹکارا چاہتی ہے۔

فیض آباد دھرنا کیس فیصلے کو بنیاد بنا کر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف منظم مہم

فیض آباد دھرنے کا پس منظر،یومیہ 88 ارب سے زائد کا نقصان

سپریم کورٹ نے تحریک لبیک کی الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن پر سوالات اٹھادیے،کیسے اتنی جلدی بغیر تحقیق کے رجسٹریشن دی گئی۔۔؟

  • 2017:فیض آباد تحریک لبیک دھرنے پر لیے گئے ازخود نوٹس کیس کی سپریم کورٹ میں ساعت ہوئی
  • 22 نومبر 2018 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے اس کیس کے فیصلے کو محفوظ کیا تھا
  • 21 نومبر 2017 کو لیے گئے ازخود نوٹس کے تحت جاری سماعت کو اٹارنی جنرل، میڈیا ریگولیٹر اور دیگر اسٹیک ہولڈرز پر شدید تنقید کے بعد بند کردیا گیا تھا۔

نومبر 2017 میں مذہبی جماعت تحریکِ لبیک نے ختم نبوت کے حلف نامے سے متعلق آئین میں متنازع ترمیم کے خلاف  اسلام آباد فیض آباد کے مقام پر دھرنا دیا تھا جو کئی روز تک جاری رہا۔100 سے زائد اہلکار زخمی ہوئے اور ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا تھا۔27 نومبر 2017 کو زاہد حامد وزیر قانون کے عہدے سے مستعفی ہو گئے ۔حکومت اور دھرنے والوں کے درمیان اہم معاہدہ بھی طے پایا تھا۔حکومت اور دھرنے والوں کے درمیان چھ نکات پر اتفاق ہوا ۔ معاہدہ طے پایا اور بالآخر بائیسویں روزدھرنا ختم ہو گیا 

فیض آباد دھرنے معاہدے کا عکس
فیض آباد دھرنے معاہدے کا عکس

27 نومبر 2017 کو تجزیہ کار زاہد حسین نے ڈان نیوز کے پروگرام ’نیوز وائز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے  کہا تھا کہ ’دھرنے کے خاتمے کے نتیجے میں دیکھے گئے واقعات کے بعد ملک سے قانون کی بالادستی کی بات ختم کر دینی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد دھرنے کے نتیجے میں مذہبی جماعت اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کو اگر دیکھا جائے تو اس میں جماعت کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مطالبات مان لیے گئے، لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ فوج کی جانب سے کروایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیض آباد دھرنا فیصلے کے اہم نکات

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کی
  • فیض آباد دھرنے کا فیصلہ 43 صفحات پر مشتمل تھا
  • فیصلے میں ریاستی سطح پر لاقانونیت اور تشدد پر اکسانے کی تاریخ لکھی گئی
  • گزشتہ دس سالہ تاریخ لکھنے کا آغاز  12 مئی 2007 سے کیا گیا۔
  • ہم نے 12 مئی واقعے 2014 کا دھرنا اور فیض آباد دھرنا تینوں واقعات کا جائزہ لیا ہے۔
  • 12 مئی 2007 کے ذمہ داران کو کوئی سزا نہیں دی گئی
  • اس عمل سے تحریک لبیک کو شہہ ملی
  • عدالتی کمیشن میں تحریک انصاف کے الزامات غلط ثابت ہوئے
  • لیکن تحریک انصاف نے معافی مانگنا تک گوارہ نہ کیا
  • ہر روز ملک کو 88 ارب سے زائد کا نقصان پہنچا
    ختم نبوت کے معاملے پر تصیح کے باوجود تحریک لبیک نے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا
  • 16 کروڑ 39 لاکھ 52 ہزار کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا،معاشی سرگرمیوں کو روک دیا گیا۔
  • آئینِ پاکستان مسلح افواج کو سیاسی معاملات میں مداخلت پر روکتا ہے،فیصلہ
  • آئین کسی بھی سیاسی جماعت اور شخصیت کی حمایت سے بھی روکتا ہے،فیصلہ
  •  حلف کی خلاف ورزی کرنیوالے مسلح افواج کے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے،فیصلہ
  • فیصلے کے مطابق وردی والوں کو سیاسی معاملات سے دور رہنا چاہیے تھا
  • مگر اس کے برعکس دھرنے والوں میں نقدی بانٹی گئی۔فیصلہ
  • بد امنی پر اکسانے اور فتوے دینے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے،فیصلہ
  • فیصلے میں سن 2007 میں پیش آنے والے 12 مئی سانحے کا بھی ذکر کیا گیا تھا
  • پرویز مشرف کے دور میں کراچی میں وکلا کے ایک گروپ سمیت متعدد افراد کو ہلاک کر دیا گیا 
  • فیصلے میں کہا گیا کہ سانحہ 12 مئی کے مجرموں کو سزا نہ دے کر غلط مثال قائم کی گئی
  • 12 مئی 2007 کو جب عام شہریوں کا قتل عام ہوا۔ اُس وقت حکومت میں بیٹھنے والے آج بھی اہم عہدوں پر ہیں

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت ایسے فوجی افسران کے خلاف وزارتِ دفاع، آرمی چیف، فضائیہ چیف اور نیول چیف کو کارروائی کے لیے کہے جو فیض آباد دھرنے میں پیش پیش تھے۔

فوج کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے فیصلے میں لکھا گیا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیاسی معاملات پر تبصرے کیے اور کہا کہ تاریخ ثابت کرے گی کہ 2018 کے انتخابات شفاف تھے۔

  • آئی ایس آئی کا نمائندہ اپنے دائرہ کار کے بارے میں بھی وضاحت نہیں کر سکا
  • تحریک لبیک کی فنڈنگ اور ذریعہ روز گار کے حوالے سے کوئی رپورٹ پیش نہیں کی گئی
  • آئی ایس آئی حکومتی معاملات میں مداخلت کرتی ہے۔ اس تاثر کی تردید بھی نہیں ہو سکا

فیض آباد دھرنا کیس فیصلے میں میڈیا کے کردار کا بھی ذکر تھا

  • فیصلے میں کہا گیا تھا کہ چینل 92 نے ‘تحریک لبیک’ کو سپورٹ کیا
  • چینل کے مالکان فیض آباد دھرنے والوں کو خوراک فراہم کرتے رہے
  • پیمرا نے مذکورہ چینل کے خلاف کوئی نوٹس یا کارروائی نہیں کی
  • پیمرا ‘ڈان’ اور ‘جیو’ کے نشریاتی حقوق کی حفاظت بھی نہیں کر سکا
  • دونوں چینلوں کو کنٹونمنٹ اور ڈی ایچ اے میں بند کر دیا گیا تھا
  • چینلز کی بندش پر پیمرا نے کوئی ایکشن نہیں لیا تھا
  •  الیکڑانک ذرائع سے نفرت انگیز تقاریر قابلِ سزا جرم ہیں،فیصلہ
  • الیکٹرانک ذرائع سے نفرت انگیزی پر کوئی تفتیش نہیں کی گئی،فیصلہ
  • اظہار رائے کی آزادی انسان کا بنیادی حق ہے،فیصلہ
  • میڈیا کو سیلف سینسر شپ کی ہدایات جاری کرنا اور آزادانہ مؤقف دبانا غیر قانونی ہے،فیصلہ

فیض آباد دھرنا کیس اور تحریک لبیک

  •  پارلیمنٹ نے ختم نبوت کے حوالے سے قانون میں غلطی کو درست کر دیا تھا
  • اس کے بعد تحریک لبیک نے دھرنا دیا جس کے دوران دھمکی اور گالیوں کا استعمال کیا گیا
  • وکلاء اور سائلین بھی عدالتوں میں نہ پہنچ سکے۔ طالب علم اسکولوں وکالجوں میں نہ جا سکے
  •  تحریک لبیک نے دھرنے کے لیے انتظامیہ سے اجازت نہیں لی
  • دھرنا قیادت نے دھرنا منتقلی کے حوالے سے وعدے توڑے اور ملک میں نفرت کو ہوا دی

فیض آباد دھرنہ فیصلہ،آئی ایس آئی کی رپورٹ

  •   شیخ رشید،اعجاز الحق اور تحریک انصاف علما ونگ نے حمایت میں آڈیو بیان جاری کیے
  • سیاست دانوں نے غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے مزید آگ بھڑکائی
  • چند ٹاک شوز کے ذریعے عوام کو اکسایا گیا
  • تحریک لبیک کو مفت میں تشہیر کر کے بڑی جماعت بنایا گیا

دھرنے کے دوران کیے گئے آپریشن کے حوالے سے فیصلہ

  • فیصلے کے مطابق دھرنے کے خلاف آپریشن میں 137 افراد زخمی ہوئے
  • مظاہرین نے سی سی ٹی وی کیمروں کی تاریں بھی کاٹ دیں تھیں
  • مذکورہ اقدامات ان کی بھر پور تیاری کی عکاسی کرتا ہے۔فیصلہ

فیض آباد دھرنا کیس: حساس اداروں کو اپنی حدود میں رہنے کی ہدایت

  • حساس ادارے آزادیٔ اظہار رائے پر قدغن نہیں لگا سکتے،وہ اپنی حدود سے تجاوز نہ کریں
  •  حساس اداروں کی حدود طے کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے،فیصلے میں حکم 
  • ریاست شہریوں کے بنیادی حقوق کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام رہی،فیصلہ
  • حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں تھی،فیصلہ
  • فیصلے میں کہا گیا کہ ریاستی اداروں کے درمیان تعاون کا فقدان تھا
  • تحریک لبیک نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا
  • قانون شکنی پر سزا نہیں ہو گی تو قانون شکنوں کا حوصلہ بڑھے گا،فیصلہ

فیض آباد دھرنے کے فیصلے پر پاکستان کی وکلا برادری تقسیم

  • دھرنہ فیصلہ:جسٹس قاضی فائز عیسی کی حمایت اور مخالفت پر وکلا برداری تقسیم ہوئی
  •  فیصلے پر پنجاب بار کونسل نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی برطرفی کا مطالبہ بھی کیا
  • فیض آباد کیس کا فیصلہ،قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی،پنجاب بار کونسل
  •  قومی سلامتی کے محافظ اداروں کو بغیر کسی ثبوت کے مورد الزام ٹھہرا گیا،پنجاب بار کونسل
  • ملک دشمن قوتوں کو دفاعی ایجنسیوں کیخلاف پروپیگنڈا کرنیکا موقع فراہم کیا گیا،پنجاب بار
  • پنجاب بار کونسل کے مطالبے پر سندھ بارکونسل،ہائیکورٹ بار، کراچی اور ملیر بار نے مذمت کی
  • سندھ بارکونسل،ہائیکورٹ بار،کراچی اور ملیر بار نے فائز عیسی کے حق میں قرار داد منظور کی
  • پاکستان بار کونسل نے بھی پنجاب بار کونسل کے مطالبے کو مسترد کیا،عدلیہ کیساتھ کا عزم 
  • فائز عیسیٰ کو فارغ کیا گیا تو 2007 سے بھی بڑی تحریک چلائی جائی
  • گی،سابق جسٹس رشید اے رضوی

فیض آباد دھرنا کیس: فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں دائر

  • تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے  نظرثانی کی درخواستیں دائر کردیں تھیں
  • سپریم کورٹ کے فیض آباد دھرنے سے متعلق فیصلے میں آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔درخواست
  •  فیض آباد دھرنے کا موازنہ 2014 کے پی ٹی آئی کے دھرنے کے ساتھ کیا گیا،تحریک انصاف کا موقف
  • ایم کیو ایم کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیصلے کا پیراگراف 22 خلاف قانون ہے
  • پیراگراف 23 اور 24 مفروضوں پر مبنی ہے،ایم کیو ایم کی درخواست
  • جن میں سانحہ 12 مئی 2007 اور فیض آباد دھرنے کا موازانہ کیا گیا ہے

میمو گیٹ اسکینڈل اور جسٹس قاضی فائز عیسی

  • 2012 میں میمو گیٹ اسکینڈل کی تحققیات کےلئے عدالتی کمیشن کے سربراہ مقرر کئے گئے
  • مئی 2011 میں سفیر حسین حقانی نے  امریکا کے ایک اعلیٰ افسر کو متنازع خط تحریر کیا
  •  خط میں پیپلز پارٹی حکومت اور پاک فوج کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے بتایا گیا تھا
  • یہ کیس امریکی نژاد تاجر منصور اعجاز سامنے لائے تھے
  • تحقیقات کے لی اپوزیشن لیڈر نواز شریف نے 2011 سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی
  • جس کے باعث حسین حقانی کو استعفیٰ دینا پڑا تھا
  • بعد ازاں عدالتی کمیشن نے سپریم کورٹ میں انکوئری رپورٹ جمع کروائی
  •  متنازع خط تحریر کرنے کے معاملے میں حسین حقانی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا
  • اس میں مزید کہا گیا کہ سابق سفیر ‘ملک کے مخلص’ نہیں۔
  • مذکورہ کیس پر سماعت کئی سالوں تک جاری رہی
  •  سابق سفیر کو گرفتار کرکے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں،سپریم کورٹ

جسٹس قاضی فائز عیسی نے فوجی عدالتوں کی مخالفت کی تھی

  • 2015 میں سپریم کورٹ کی فل کورٹ کا فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں فیصلہ
  • سپریم کورٹ کی فل کورٹ کی براہی چیف جسٹس ناصر الملک کررہے تھے
  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ان چھ ججوں میں شامل تھے جنھوں نے فوجی عدالتوں کی مخالفت کی
  •  فوجی عدالتوں کا قیام عدلیہ کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،ججوں کا مؤقف 
  • اس وقت کی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس فیصلے کو قوم کی فتح قرار دیا تھا
  • فوجی عدالتوں کی مدد سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا،مسلم لیگ (ن)

فوجی حراستی مراکز کے خلاف کیس اورجسٹس قاضی فائز عیسی

سپریم کورٹ نے اکتوبر 2019 میں پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ‘ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن آرڈینس’ کو ختم کیے جانے کے فیصلے کے خلاف درخواست پر فل کورٹ تشکیل دیا تو اس میں دیگر ججز کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی شامل تھے۔

عدالت عظمی نے اس اپیل پر خود کسی فیصلے پر پہنچنے تک پشاور کی عدالت کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔پشاور ہائی کورٹ نے 17 اکتوبر 2019 کے اسے فیصلے میں ان حراستی مراکز کو تین روز میں صوبائی پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔اس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور خان سے سخت سوالات کیے تھے اور ان حراستی مراکز کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے تھے۔

2016 کوئٹہ دھماکہ:74 افراد جاں بحق ہوئے،بیشتر وکلاء تھے،فائل فوٹو
2016 کوئٹہ دھماکہ:74 افراد جاں بحق ہوئے،بیشتر وکلاء تھے،فائل فوٹو

2016 کوئٹہ دھماکہ تحقیقاتی کمیشن،قاضی فائز عیسی سربراہ مقرر

  • کوئٹہ سول ہسپتال میں 8 اگست کو  خود کش دھماکا ہوا،74 افراد جاں بحق بیشتر وکلاء تھے
  • تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے 6 اکتوبر 2016 کو ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا
  • تحقیقات کےلئے انکوئری کمیشن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں  قائم کیا گیا تھا
  • 56 روز بعد 110 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں 18 تجاویز دی گئی تھیں
  • اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے
  •  انسدادِ دہشت گردی کے ادارے ‘نیکٹا’ کی ناقص کارکردگی پر تنقید بھی کی گئی تھی
  • رپورٹ میں ساتھ میں کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا
  • کمیشن نے نیشنل ایکشن پلان کو مناسب طریقے سے ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا
  •  کمیشن نے اس وقت کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار سے کالعدم تنظیم ‘اہل سنت و الجماعت’ کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی سے ملاقات پر بھی سوال اٹھایا تھا
  • اس وقت کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے ان الزامات کو ذاتی قرار دیا تھا
  • بعد ازاں حکومت نے کمیشن کی رپورٹ پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا تھا
  • تاخیر کیے بغیر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دہشت گرد تنظیموں پر پابندی لگائی جائے
  • رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا تھا کہ اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان، ملت اسلامیہ اور اہل سنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد سے ملاقات کی، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ملاقات کا مقصد ان کے مطالبات اور تحفظات سننا تھا۔

2018 آرٹیکل 183 (3) کی تجدید کا معاملہ 

  • اس کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے ریمارکس تحریر کیے گئے تھے
  • تحریر کردہ ریمارکس جو غیر معمولی پیش رفت کے بارے میں وضاحت کرتے تھے
  • جس کے باعث جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو 3 رکنی بینچ سے خارج کردیا گیا تھا 
  • مذکورہ ریمارکس، سپریم کورٹ کے اس 3 رکنی بینچ سے متعلق تھے
  • جو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ہسپتالوں کے فضلےتلف کرنیکے کیس کی سماعت کررہا تھا
  •  خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل کو آئین کے آرٹیکل 184 (3) کو پڑھنے کا کہا تھا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس
  • جس کا مقصد تھا کہ یہ جان سکیں کہ آیا آرٹیکل مذکورہ کیس کے حوالے سے کچھ بتاتا ہے کیونکہ اس کیس کی فائل سے متعدد متعلقہ مواد غائب تھا۔
  • انہوں نے ریمارکس دیئے کہ مذکورہ آرٹیکل عدالت عظمیٰ کو ان معاملات میں احکامات دینے کا حق دیتا ہے
  • اگر ‘وہ یہ سمجھے کہ یہ عوامی مفاد کے تحت بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ہیں
  • انہوں نے مزید تحریر کیا کہ سپریم کورٹ کو پہلے خود کو اطمینان دلوانا ہوگا کہ دونوں صورتوں میں یہ معاملہ بنیادی حقوق اور عوامی مفاد کا ہے
  • اور یہ بھی کہ یہ معاملہ آرٹیکل 184 (3) کے دائرہ کار میں آتا ہے’۔
  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید تحریر کیا کہ یہ معاملہ ان کے لیے تشویش کا باعث ہے

پی سی او ججز کیس اور جسٹس قاضی فائز عیسی

  • 3 نومبر 2007صدر پرویز مشرف نے پی سی او کے تحت آئین معطل کرکے ایمرجنسی نافذ کردی
  •  ایمرجنسی کے باعث ملک کے تمام ججز کو نئے حکم کے تحت حلف اٹھانے کے لیے کہا گیا تھا
  • حلف نہ اٹھانے والے ججز کو ان کے مکانات میں نظر بند کردیا گیا تھا
  • اسی روز سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ نے مذکورہ حکم کے خلاف فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا
  • سرکاری عہدیداران پر زور دیا تھا کہ وہ پی سی او پر عمل درآمد کے لیے مدد فراہم نہ کریں
  • قاضی فائز عیسیٰ نے بھی دیگر ججز کی طرح ایمرجنسی میں حلف لینے سے انکار کردیا تھا

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے از خود نوٹس پر اعتراض

  • سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سب سے زیادہ از خود نوٹس لیے
  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس کارروائی پر بھی اعتراض کیا تھا
  • شاور میں آرمی پبلک سکول حملہ کیس کی از خود نوٹس کی سماعت
  • سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کے پاس براہ راست کوئی اختیار نہیں
  •  آرٹیکل 184 تھری کے تحت پہلے سپریم کورٹ کا آرڈر ضروری ہے،اعتراض
  • سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے اچانک عدالت برخاست کر دی تھی
  • کچھ دیر بعد جب عدالت دوبارہ لگی تو بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسی شامل نہیں تھے

جسٹس قاضی فائز عیسی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

  • 5 اگست 2009 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تقرر ہوا
  • تقرری اس وقت کی گئی عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے والے جج برخاست ہوئے تھے
  •  بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے  تعیناتی کیخلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی
  • درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جسٹس عیسیٰ کی تعیناتی آئین کے خلاف ہے
  •  بطور جج تعیناتی کے لیے اعلیٰ عدالت میں دس سالہ پریکٹس کا تجربہ ہونا ضروری ہے
  • بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس درخواست کو مسترد کردیا تھا

جسٹس قاضی فائز عیسی بطور بطور جج سپریم کورٹ 

  • جسٹس فائز عیسیٰ کو اعلی عدلیہ کا جج چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں بنایا گیا تھا
  •  کراچی میں بدامنی از خود نوٹس کیس میں سابق چیف جسٹس  افتخار چوہدری کی عدالت میں معاونت کے لیے قاضی فائز عیسیٰ  پیش ہوتے رہے تھے
  • 5 ستمبر 2014 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا
  • سپریم کورٹ نے عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضیٰ فائز عیسیٰ کی تقرری کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی گئی تھی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس

  • 19 جون 2020 کو سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
  • حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اس تحقیقات میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کوئی چیز سامنے آتی ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل اس معاملے پر آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت از خود نوٹس لے کر کارروائی کر سکتی ہے۔
  • جن ججز نے یہ معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس منیب اختر، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس مظہر عالم، جسٹس قاضی امین، جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس فیصل عرب شامل ہیں۔
  • اس معاملے کو ایف بی آر میں بھیجنے سے جن تین ججز نے اختلاف کیا ان میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحیٰ آفریدی شامل ہیں

جسٹس قاضی فائز عیسی کا تعلق بلوچستان کے سیاسی گھرانے سے ہے

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے آباؤ اجداد کا تعلق افغانستان کے علاقے قندھار سے تھا
  • قاضی فائز عیسی کے آباؤ اجداد بلوچستان کے علاقے پشین میں آکر آباد ہوئے
  • دادا قاضی جلال الدین قلات ریاست کے وزیراعظم رہے
  • والد قاضی محمد عیسیٰ تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما تھے۔
  • قاضی محمد عیسیٰ محمد علی جناح کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے
  • انھیں آل انڈیا مسلم لیگ بلوچستان کے پہلے صدر ہونے کا اعزاز حاصل تھا
  • پاکستان کے قیام کے لیے ریفرنڈم ہوا تو انہوں نے اس میں بھرپور تحریک چلائی
  • سابق سفیر اور اقوام متحدہ میں مندوب جہانگیر اشرف قاضی ان کے کزن ہیں
  • مرحوم بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری سے بھی ان کی قریبی رشتے داری تھی

جسٹس قاضی فائز عیسی کی پیدائش

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 26 اکتوبر 1959 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے

ابتدائی تعلیم

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے  اپنی ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کی
  • ‘O’ اور ‘A’ لیول سندھ کے دارالحکومت کراچی گرامر اسکول سے مکمل کیا
  • جس کے بعد قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن چلے گئے
  • لندن میں کورٹ اسکول لا سے بار پروفیشنل اگزامینیشن مکمل کیا
  •  30 جنوری 1985 کو بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے
  •  پھر مارچ 1998 میں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ بنے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 27 سال تک وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے

  • بلوچستان ہائی کورٹ، وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ میں جج مقرر ہونے سے قبل 27 سال تک وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے
  • بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان کے تاحیات رکن رہے۔
  • مختلف مواقع پر ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد مشکل کیسز میں معاونت کے لیے بھی طلب کیا جاتا رہا
  • قاضی فائز عیسیٰ مفادات عامہ کی آئینی درخواستیں بھی دائر کرتے رہے
  • بینکنگ، ماحولیات اور سول قوانین میں ان کو مہارت حاصل ہے
  • وہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے منصوبوں پر قانونی معاون رہے ہیں۔
  • منصوبوں میں کراچی ماس ٹرانزٹ، ہائی وے فنانسنگ اینڈ آپریشن، بلوچستان گراؤنڈ واٹر ریسورسز شامل ہیں
  • بلوچستان ہائی کورٹ میں بطور جج تعیناتی سے قبل وہ انگریزی اخبارات میں آئین و قانون، تاریخ اور ماحولیات پر تجزیاتی آرٹیکلز بھی لکھتے تھے
  •  ماس میڈیا لاز اینڈ ریگولیشن کے مشترکہ مصنف، بلوچستان کیس اینڈ ڈیمانڈ ‘ کے بھی لکھاری ہیں
  • سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سب سے زیادہ از خود نوٹس لیے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس کارروائی پر بھی اعتراض کیا تھا۔
ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close