بلوچستانپہلا صفحہتاریخڈیرہ غازیخانکالم

سرائیکی صوبہ اور بلوچستان کے تاریخی حصے 

حفیظ بلوچ

ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کی دوبارہ بلوچستان میں شمولیت ۔۔!

محترم کالم نگار نے مختلف غیر معروف مقامی اخبارات میں چھپنے والے سرائیکی رہنماوں کے بیانات کا ذکر کر کے نفسیاتی طور پر بلوچستان کے عوام کو بالعموم اور بلوچ قوم پرست رہنماؤں کو بالخصوص تضادات سے بھر پور ایک ناکام پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کی دوبارہ بلوچستان میں شمولیت کے حوالے سے سرائیکی علاقوں میں ایک طوفان برپا ہے جو سب کو بہا کر لے جائے گا۔

شاید میرے دوست اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ جو قوم ہزاروں سالوں کی تاریخ میں ہمیشہ سر جھکانے کی بجائے سر اٹھانے کو باعث توقیر سمجھتا آیا ہو اور جو نواب محراب خان شہید, نواب نوروز خان،میر سفر خان،میر لونگ خان،نواب اکبر خان بگٹی شہید،شہدائے کوہ ِسلیماں سمیت ہزاروں شہداء کے خون اور سیاست کو وارث ہو وہ اس طرح کے بچگانہ یا مصنوعی نقشوں سے کیسے مرعوب ہوسکتا ہے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ موجودہ بلوچستان کی بلوچ قیادت،ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کے بلوچ ہمیشہ سے سرائیکی صوبہ کے حامی رہے ہیں تاہم دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر آباد بلوچ علاقے ڈیرہ غازیخان اور راجن پور بلوچ قوم کی میراث اور بلوچ وحدت کے اٹوٹ انگ ہیں۔

سرائیکی صوبہ میں غیر جمہوری انداز

اگر چند لوکل اخبار یا ایسے رہنما جو آج تک یونین کونسل کے ممبر بننے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے ہوں وہ بلوچ سرزمین کی بندربانٹ کا فیصلہ کرلیں یہ مذاق کی حد تک تو ٹھیک ہے مگر عملی طور پر حقیقی سرائیکی لسانی شناخت کی جہدکار واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کی سرائیکی صوبہ میں غیر جمہوری انداز میں شمولیت کی قیمت شاید ان کے بس کا روگ نہیں۔

میرے محترم دوست نے سردار اختر مینگل اور سردار میر بادشاہ قیصرانی کے بیانات کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ سارا تختِ لاہور کا کیا دھرا ہے 

وہ شاید بھول گئے کہ 1930ء کے عشرے میں ہونے والے بلوچ کانفرنس جس کی سربراہی نواب یوسف مگسی کررہے تھے جس میں ڈیرہ غازیخان راجن پور کی ریاست قلات میں کلی طور پر شمولیت کانفرنس کے ایجنڈے کا حصہ رہا شاید اس وقت سرائیکی خواب خرگوش میں محو ہونگے تو موصوف اس کانفرنس کو کس تخت سے جوڑیں گے ؟ اس موقع پر میں اپنے دوست کو تخت لاڑکانہ کا طعنہ نہیں دوں گا 

فورٹ منرو کے مقام پر سرکاری تختی

یقینا سرائیکی دوستوں کو اس بات کا بھی علم ہوگا کہ فورٹ منرو کے مقام پر ایک سرکاری تختی نصب ہے اگر یہ علاقے کبھی بھی بلوچستان کا حصہ نہیں رہے تو یہ تختی کس کاروبار کے تشہیر کے لئے لگائی گئی ہے۔

محترم ایم آر ملک صاحب نے جس انداز میں سرائیکی لسانی شناخت کے ایشو کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں مگر کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ ڈیرہ غازیخان شاہ صدر دین تونسہ شریف و اسلام آباد میں ہونے والے بلوچ توار کے پرامن احتجاجی مظاہروں کو کس تخت سے جوڑیں گے جہاں عوام نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی 

بلوچ قومی شناخت کیلئے جدوجہد

اگر تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کی عادت ہو تو نیشنل عوامی پارٹی سے لے کر ہفت دسمبر بلوچ قومی موومنٹ تک,بی ایس او سے لے کر بی این پی,نیشنل پارٹی وبلوچ توار تک ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کے عوام کئی دہائیوں سے بلوچ قومی شناخت کیلئے جدوجہد کرتے چلے آرہے ہیں۔اس تاریخی جدوجہد میں بلوچ قائدین اور بلوچ عوام نے قربانیاں بھی دی ہیں

جدوجہد کے تمام مراحل سے گزر کر آج ہماری سیاسی ,شعوری و قومی جدوجہد کے تانے بانے تخت لاہور سے ملائے جارہے ہیں ۔یہ دوہرا معیار صرف بلوچوں کیلئے ہی کیوں ؟

اگر سرائیکی صرف لسانی شناخت کیلئے دنیا کے تمام مروجہ انسانی جمہوری اقدار کو پس پشت ڈال کر تصادم کا فیصلہ کر ہی چکے ہیں تو ڈیرہ غازیخان راجن پور کے بلوچ عوام اپنی محکومیت, قومی شناخت کیلئے ہر وہ دروازہ کھٹکھٹائیں گے جہاں سے انصاف کی توقع ہو۔

بلوچ سرزمین اور وسائل

محترم ایم آر ملک صاحب نے یورینیم کے وسائل کو سرائیکی وسائل قرار دے کر ایک بہت بڑا تاریخی انکشاف کیا ہے مجھے یقین ہے کہ جہاں سے یورینیم نکلتا ہے موصوف کو اس جگہ کا نام بھی معلوم نہیں ہوگا
واضح رہے کہ ڈھوڈک آئل فیلڈ ,روڈو,زین,بغل چر کے علاقوں میں ایک بھی سرائیکی بولنے والا شخص نہیں رہتا اور سرائیکی قوم پرست آج تک وہاں ایک اجتماع بھی نہ کرسکے وہ سرزمین اور وسائل سرائیکیوں کے کیسے ہو سکتے ہیں تضادات سے بھر پور ایم آر ملک صاحب کے مضمون کی تجزیہ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ موصوف غیر اخلاقی و غیر جمہوری طریقے سے صرف سرائیکی کے لسانی شناخت کو منوانے پر مصر ہے گو کہ لسانی شناخت کسی بھی قوم کا ایک جزو ہے اور باقی اجزاء پر بحث کیے بغیر قومیت کے دعویداروں کی قومی حیثیت پر سوالیہ نشان موجود رہے گا

سرائیکی بلوچوں کی بھی زبان ہے

یہاں ایک اور وضاحت بھی ضروری ہے کہ سرائیکی بلوچوں کی بھی زبان ہے اور وہ بلوچ قومی شناختی جدوجہد میں نمایاں انداز میں عملی طور پر جدوجہد کررہے ہیں 

تاریخ کے اس نازک موڑ پر کوئی بھی ڈیرہ غازیخان و راجن پور کے بلوچوں سے یہ توقع نہ رکھے کہ اگر زبردستی, غیر جمہوری انداز میں بلوچ علاقوں کو سرائیکی صوبہ میں شامل کیا گیا تو اس پر خاموش رہیں گے یقیناً اپنی مادرِ وطن کے تقدس و حرمت کیلئے سردار اسلم ملغانی,سردار کوڑا خان قیصرانی, نواب جمال خان لغاری کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شدید مزاحمت کریں گے

یہ آرٹیکل اپریل 2013 میں ڈیلی انتخاب میں شائع کیا گیا،شکریہ ڈیلی انتخاب بلوچستان

حفیظ بلوچ کا تعلق  کوہ سلیمان تونسہ  سے ہے،پیشے کے لحاظ سے الیکٹریکل انجینئر ہیں۔بلوچستان کے اخبارات ’’روزنامہ آزادی ’’روزنامہ انتخاب‘‘  اور سوشل میڈیا پر لکھتے رہتے ہیں۔ ’’سہب حال‘‘ کےلئے بھی لکھا کریں گے ۔انکا موضوع سیاست،جمہوری جدوجہد،انسانی حقوق اور تاریخ رہے ہیں۔زمانہ طالبعلمی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزئشن سے وابستہ رہے۔hafeezabdul1157@gmail.com

 

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close