بلوچستانپہلا صفحہ

سانحہ کیچ کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی،ڈاکٹر عبدالمالک کی پریس کانفرنس

ریاست کے اندر ریاست بنانے اور پرائیوٹ لشکر چلانے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیئے

سانحہ کیچ کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی،ڈاکٹر عبدالمالک کی پریس کانفرنس

گوادر(سہب حال) سانحہ کیچ کے خلاف گوادر میں احتجاجی ریلی نکالی گئی،ریلی گوادر کے مختلف علاقوں سے گشت کرتی ہوئی گوادر پریس کلب پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کی شکل اختیار کرگئی.ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شرکا کا کہنا تھا کہ ڈھنک واقعہ بلوچی غیرت پر حملہ ہے شہید ہونے والی خاتون برمش کی نہیں پورے بلوچستان کی ماں ہے۔

سانحہ کیچ کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی فوٹو فیس بک
سانحہ کیچ کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی فوٹو فیس بک

بلوچستان جانتا ہے کہ کیچ میں مسلح افراد کو کن کی پشت پناہی حاصل ہے۔واقعے میں ملوث مرکزی کردار سمیر سبزل سمیت گرفتار افراد کو تربت چوک پر پھانسی دیکر نشان عبرت بنایا جائے ،مظاہرین کا مطالبہ

سانحہ کیچ کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی فوٹو فیس بک
سانحہ کیچ کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی فوٹو فیس بک

مظاہرین نے کہا کہ برمش خود کو تنہا نہ سمجھے گوادر سمیت بلوچستان کی عوام متاثرہ خاندان کے ساتھ ہے ۔شہریوں کو ناخن کٹر لیکر چلنے کی اجازت نہیں دہشت گرد  اسلحہ کس کی اجازت سے لیکر  گھوم کررہے ہیں

سانحہ کیچ کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی فوٹو فیس بک
سانحہ کیچ کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی فوٹو فیس بک

صوبہ کی حفاظت  اور امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ادارے بہت ہیں مسلح افراد کی شہروں میں کیا ضرورت ؟؟ مظاہرین کا سوال

سانحہ کیچ کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی فوٹو فیس بک
سانحہ کیچ کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی فوٹو فیس بک

احتجاجی مظاہرین کا صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے برمش کو انصاف فراہم کرنیکا مطالبہ

سانحہ کیچ کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی فوٹو فیس بک
سانحہ کیچ کیخلاف گوادر میں احتجاجی ریلی فوٹو فیس بک

دوسری جانب نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک کا تربت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ڈنک واقعہ چوری اور ڈکیتی کے معمول کا واقعہ نہیں بلکہ یہ ہماری قومی غیرت پر حملہ ہے،انہوں نے کہا کہ بلوچ کوڈ میں اس طرح کے انسان دشمن فعل کی ہرگز گنجائش نہیں،انکا کہنا تھا کہ ہم سرکار پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ علاقہ اور یہاں کے عوام لاوارث نہیں کہ جنہیں پالے ہوئے جراہم پیشہ گروہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔

انہوں نے کہا ریاست کے اندر ریاست بنانے اور پرائیوٹ لشکر چلانے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیئے یہ ایک جائز اور آئینی مطالبہ ہے جبکہ ملکی آئین بھی اسکی گارنٹی دیتا ہے مگر اسکے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر ایسے واقعات ہورہے ہیں کہ سیاہ شیشوں والی گاڑیاں کلاشنکوف لیے اور جھنڈا سامنے رکھ کر عین سڑک کے درمیان کھڑے ہوکر روڑ بلاک کرتے رہتے ہیں اگر کسی شریف آدمی نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی تو انہیں بے عزت کردیتے ہیں، آخر یہ کیسے طاقتور لوگ ہیں کہ جنہوں نے پرائیوٹ لشکر بنا رکھے ہیں مسلع ہوکر آزادانہ نقل و حرکت کرتے رہتے ہیں

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close