بلوچستانپاکستانپہلا صفحہتاریخ

بلوچستان سرکار کو یہ احساس ہو چلا کہ انھوں نے گھاٹے کا سودا کرلیا تھا

ڈاکٹر غلام سرور جیالوجسٹ

نواں حصہ

سہب حال کوئٹہ

TCC سے ذخائر کے نمبر ملنے کے بعد بلوچستان سرکار کو یہ احساس ہو چلا کہ انھوں نے گھاٹے کا سودا کرلیا تھا اور ان کو 25 فی صد سے زیادہ حصہ ملنا چاہیے تھے۔نیز یہ کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔لہٰذا بھروسہ نہیں رہا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ

  • ہم میں بذاتِ خود اتنی علمی اور تکنیکی اہلیت ہو کہ ہم اپنے قدرتی وسائل کی نقشہ بندی اور سمجھ کے بعد اس قابل ہوں کہ ذخائر کا خود اندازہ لگا سکیں

  • اور جب بیرونی سرمایہ کاروں اور بڑی مائننگ کمپنیوں سے جائنٹ وینچر کی بات کریں تو اپنی زمین کی دولت کے اچھے اندازے کے ساتھ  علم سے جب اعتماد حاصل ہو تو دھوکہ کھانے کا امکان گھٹ جاتاہے۔

د وسری بات یہ ہے کہ

بلوچستان سرکار کی بڑبراہٹ سن کر سیندک پر کام کرنے والی چینی کمپنیMCC نے 2010 میں بلوچستان سرکار کو ایک آفر بھی دے دی جو ایک اخباری اطلاع کے مطابق یہ تھی کہ اگرMCC کوریکوڈک کا پراجیکٹ دے دیا جائے تو وہ سرکار کو نہ صرف 25 فی صد آمدنی میں حصہ دے گی بلکہ 5 فی صد رائلٹی بھی اداکرے گی۔

  • بلوچستان سرکارنے اسی دوران TCC کی مائننگ لیز نومبر 2011 میں معطل کردی۔

  • اس حرکت پر TCC نے اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے انٹرنیشنل آربی ٹریشن (International Arbitration) کادروازہ کھٹکھٹایا اور درخواست دائر کردی ہے۔

  • اب یہ کھچڑی وہاں پک رہی ہے اور کوئی فیصلہ ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔

  • ادھر معاملہ یاروں نے پاکستان سپریم کورٹ تک بھی پہنچادیا

  • اور کورٹ نے سرکار کی حمایت دکھائی۔

  • بلوچستان سرکار اور TCCکو یہ معاملہ آپس میں خود ہی طے کرلینا چاہیے

  • TCCاپنے معاہدوں کی پابندی کر کے ریکوڈک کے پراجیکٹ کو آگے لے جانا چاہتی ہے

  • اور مائننگ شروع کر کے بلوچستان اور پاکستان کو اکیسویں صدی کے جدید دور میں لانا چاہتی ہے

  • ،جو یقیناًہمارے لیے ایک انقلابی قدم ہوگا۔

دوسری طرف بلوچستان سرکار بزعمِ خود یہ کام شروع کر کے ایک ریفائنری بھی بنانے کا قصد کرتی نظر آتی ہے۔ ڈان اخبار کے مطابق سرکار نے 120 بلین روپوں کی رقم بھی رکھی ہے اس کارخیر کے واسطے۔ رہی بات علمی اور تکنیکی مہارت اورمشینوں اور ٹیکنالوجی ،کی جو اتنے بڑے کاموں کے لیے چاہئیں۔ تو وہ کہاں۔۔۔ چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں۔۔۔، مگر کچھ لوگ مطمئن نظر آتے ہیں جیسے یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ۔

 

مثلاً پاکستان کے مایہ ناز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے 2010 میں پاکستان سپریم کورٹ میں کچھ ایسی بات کی کہ اگر پاکستان ریکوڈک کو خود مائن کرے اور تانبے اور سونے کو رفائن کرے تو وہ دوبلین ڈالر سالانہ کماسکتا ہے، اور اگر خود نہ کرے تو فقط 160 ملین ڈالر کی رائیلٹی ہی ملے گی۔ شاید وہ جانتے ہوں کہ پاکستان اتنا بڑا اور دقیق پراجیکٹ خود کرنے کا اہل ہے(اگر ایسا ہے تو ان کے منہ میں گھی شکر 

  • یہاں میرے لیے اپنے بزرگ اور محترم ماہر ارضیات ڈاکٹر صبیح الدین بلگرامی کا ذکر بھی لازم ہے،

  • وہ ایک کمپنی (Resources Development Corp.) کے ریٹائرڈ چیئرمین ہیں۔

  • انھوں نے بلوچستان میں مسلم باغ کے کرومائیٹ کی تحقیقات،ریسرچ اور مائننگ میں بڑا کردار ادا کیا ہے اور شاندار خدمات انجام دی ہیں۔

  • بلگرامی صاحب اپنے تجربات کی بناء پر یہ نصیحت دے چکے ہیں کہ ریکوڈک کے حوالے سے

  •  TCC کی رپورٹس کو چیک کرنے کے لیے انٹرنیشنل ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں کیونکہ ایسی مہارت پاکستان میں حاصل نہیں۔

اس کے بعد TCC سے ہی یا کسی اور سے یہ کام کروایا جائےاور قومی حقوق کی حفاظت کی ضمانت کے ساتھ۔ بیچ اس مسئلے کے ’ راقم الحروف کی رائے یہ ہے کہ سرکار کو اپنے معاہدوں کا پابند ہونا

Dr Ghulam Sarwar Geologist
Dr Ghulam Sarwar Geologist

چاہیے، ورنہ، ملک وقوم کی بدنامی ہوتی ہے اور دنیا بھر کے سرمایہ کاروں اور چھوٹی بڑی ایکسپلوریشن اور مائننگ کمپنیوں کو یہ پتہ چل جاتا ہے کہ آپ سے کیے ہوئے معاہدوں کی کوئی وقعت نہیں اور ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔

نتیجتاً دنیا کا سرمایہ کہیں اور چلا جائے گا ، پاکستان نہیں آئے گا۔ تو اے میری پیاری بلوچستان کی سرکار، TCC سے مذاکرات کر کے ہی کوئی حل ڈھونڈلے ۔ اس کمپنی نے اپنے 20 برس اور406 ملین ڈالر اِنوسٹ کیے ہیں۔ ریکوڈک اکیلا نہیں ہوگا۔۔۔ اور بھی ایسے بڑے ذخائر ہوں گے جن پر اپنے لیے بہتر شرائط منوانا اور لکھوانا ۔ ریکوڈک کو آگے جانے دو ، مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے دروازے کھول دو اور یہ سارا علم اور تکنیک سیکھو۔ ٹیکنالوجی بھی ٹرانسفر کرو۔ ریکوڈک سے یہ سارے سبق سیکھو۔

جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close