بلاگعلم و ادب

خواب میں آئی محبت

جمیل بزدار

میں محبت کا انکاری تھا میرے خیال میں محبت میں اتنی جان نہیں کہ کوئی اپنی رات کی نیندیں خراب کرتا پھرے یا اپنی جان پر کھیل کر کسی کو اپنا بنانے کی ٹھان لے۔ لیکن میرا یہ خیال تم سے مل کر ٹوٹ گیا۔۔۔!!!
میں جان گیا کہ محبت کی طاقت کا اس دنیا میں کوئی مدمقابل نہیں 
تم مجھے بہت عزیز ہو۔ میں کب تمہیں چاہنے لگااور کب میں پہاڑوں کی چوٹیاں پار کرتے محبت کی وادی میں پہنچا کچھ پتہ ہی نہ چلا۔۔!!!
اگرچہ ہم دونوں انجان تھے محبت کے ہر اس انجام سے جو موت بن کر ہمارا پیچھا کر رہا تھا۔
ہم انجان تھے کہ محبت کے راستے پر چلنے والوں کو ہر سیکنڈ مرنا ہوتا ہے ہم انجان تھے ہر اس خیال سے جو بھوت بن کر ہمیں ڈرانے کےلیے تیار بیٹھا تھا
البتہ اس پا ک ذات نے انسان کو محبت کی شکل میں ایک قیمتی چیز دی ہے دراصل!!یہ محبت ہی ہے جو گلستان میں رنگ برنگے پھول اگاتا ہے اور پھر بلبل کو اس کا نظارہ کرنے کی ڈیوٹی سونپ دیتا ہے ۔۔۔!! اوریہ محبت ہی ہے جو چاند رات میں جھیل کے اندر مچھلی کو مچلنے کےلیے تیار کرتا ہے ۔۔
کاش کہ میرے بس میں ہوتا تو میں دنیا میں ہر پیار کرنے والے کو ملا دیتا۔۔۔!!!
اےکاش کہ میرے ہاتھ میں ہوتا کہ کوئی روم کو جولیٹ سے الگ نہ کر سکتا، کوئی ہیر کو رانجھا سے، کوئی سسی کو پنوں سے الگ کرنے کی ہمت نہ رکھتا ۔

لیکن آج میں خود اس قانون کی بھینٹ چڑھ چکا
میری کیا مجال ہے میں قدرت کے قانون کو توڑ سکوں

نہیں! یہ قدرت کا قانون ہر گز نہیں ہوسکتا ہے
ہاں۔۔۔!!!یہ قانون ہم جیسے انسانوں کابنایا ہوا قانون ہے

اگر قدرت کا قانون ہوتا تو کبھی گلستان میں رنگ برنگے پھول نہ کھلتے اور نہ بلبل ان کا نظارہ کر پاتی قدرت تو کبھی محبت دشمن رہی ہی نہیں وہ تو سراپا محبت ہے۔
ہاں!!!ضرور یہ کالے قانون ہمارے بنائے ہوئے ہیں کہ جو کئی زندگیاں اجاڑ دیتے ہیں۔
پھر بھی میں ایمن سے بہت محبت کرنے لگا تھا ، زندگی کا ہر رنگ ان کے ساتھ بیتنے کی جیسے قسم کھا رکھی تھی ، ان سے بات کرتا تو جیسے میں ساری دنیا ہی بھول جایا کرتا تھا

سوچا تھا کہ جب ہم ایک ہوں گے تو اِن لوگوں سے اِن کےکالے قانون سے کہیں دور کسی وادی میں بس جائیں گے کہ جہاں ہم قدرت کے قانون کو مانیں گے کہ جہاں ہم محبت کا دعویٰ کرنے والوں کا مسکن بنائیں گے۔ ۔۔!!
اورسوچا کہ جب ہلکی سی بارش ہو تو ہر بوند کو محبت سمجھ کر ہم پی لیں گے۔ اگرچہ مجھے معلوم ہی نہیں تھا یہ سپنے جو تھوڑی دیر پہلے حقیقت کا عکس پہنے ہوئے نظرآرہے تھے ۔۔۔!!!
چند ہی لمحوں میں بکھر کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔۔۔۔!!!
کیا خبر تھی کہ ہم ازل سے ہی معاشرے کے سدھائے ہوئے کالے قانون کے پنچرے میں قید ہو چکےہیں ۔ وہ ایمن جو میری ہر خوشی ہر سپنے اور میری ہر سانس کی مالک تھی۔۔۔!!!!
ہائے!!! اس ایمن کا رشتہ ہو چکا تھا میری محبت کے اظہار کرنے سے پہلے وہ اپنے دل کے دروازوں پر تالے لگائے بیٹھی تھی

یہ زنگ دار تالے جو اس کے دل کو نہ جانے کب سے کسی بھوت بنگلے کی طرح اجاڑ چکے ہیں کہ جہاں کوئی رہتا ہی نہیں کہ اس گھر کا ہر کونہ کسی بھوت پریت کی نشاندہی کرتا ہے
جس سے ایمن ہر وقت ڈر کر دبک بیٹھتی ہے وہ محبت کا لفظ سن کرخوف زدہ ہوتی ہے جیسے یہ لفظ اس کے دل پر لگے تالے کو توڑ کو اس میں پھر سے زندگی لوٹا دیں گی۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتی ! کہ کالے قانون بنانے والے لوگ ، محبت کے دشمن ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ایمن جیسی ہر لڑکی کے دل پر یہ تالے قیامت تک لگے رہیں کہ کسی کو اظہارِمحبت کی جرات نہ ہو۔

وہ خود اپنی زندگی کی ہر خوشی کسی ایسے شخص کےلیے قربان کر چکی تھی کہ جس سے وہ نہ کبھی ملی تھی اور نہ وہ اس (شخص) کو جانتی تھی۔ اور اپنی پوری زندگی کی ڈور اس اجنبی کے ہاتھ میں تھما کر خود اپنی ہر خوشی قربان کر چکی تھی ۔
جانتی ہو ایمن !!!
جب سے میں نے تمہاری کہانی سنی میں ہر رات رو رو کر گزارتا کہ ایک دیوی صفت معصوم لڑکی کے ساتھ یہ عذاب کیوں ؟

اس کےاحساسات کے ساتھ یہ کھیل آخر کیوں کھیلا گیا ؟ قدرت کو بھی اس بیچاری پر ترس نہ آیا ۔اور تیری نشیلی آنکھوں پر کہ جن میں محبت کی مستی ، اپنے شریکِ وفا کے ساتھ کہیں دور سیر پر جانے کے سپنے ہونے چاہیے تھے

لیکن تمہارے آنکھوں میں مایوسی تھی ایسی مایوسی کہ میں ڈرگیا۔۔۔۔!!!
تمہارا چہرہ خزاں میں اجڑے درخت کی طرح پریشان و ویران لگتا تھا۔۔۔!!!
میں بس اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کاش کہ میں قسمت کا لکھاری ہوتا۔۔ ۔!!!
کم سے کم تمہاری قسمت میں وہ ساری خوشیاں لکھ دیتا جو ان نشیلی آنکھوں کو تا عمر مایوس ہونے نہ دیتیں۔۔۔۔!!!
ہر پل ہر سیکنڈ میں آپ کےلیے ایک خوشی لکھ دیتا ۔
اور دور سے میں تمہیں دیکھتا ایک آزاد پنچھی کی طرح
ہاں !!!میں تجھے دیکھتا۔۔۔!!! ایک کھلتی ہوئی گلاب کی طرح
ہاں !!!میرے من میں یہ دیکھ کرخوشی ہوتی تب میں تجھے ایک خوبصورت مور کی طرح خوشی کا لمس محسوس کرتے ہوئے دیکھتا۔۔۔ ۔!!! پر!!! ہماری قسمت ہمارے ہاتھ میں کہاں۔۔۔!!!
ہم تو کٹھ پتلیاں ہیں جس کے ہاتھ ڈور آئے وہ ہمیں بہکائے جہاں چاہے ہمیں لوٹے۔۔۔!!!
برباد کر کے چھوڑ دے ۔ ۔۔۔!!!
جانتی ہو!!!نہ پیاری۔۔۔!!!!
میں تمہیں خدا مانتا ہوں کیونکہ مجھے تمہاری آنکھوں میں خدائی نظرآئی اورہاں یہ بھی سنو بےشک !!!آپ سن نہیں سکتے !!!خدا تو نہیں ہو۔۔۔!!!
اگرچہ میری زندگی کا تعین تمہاری آنکھوں نے کیا۔۔۔۔!!!!

میرے اندر احساسات نےاٹھان کی ، میرے من میں محبت کو جگایا۔ اور تمہاری ان نشیلی آنکھوں کی قسم !!!کہ ان آنکھوں میں خدا بستا ہے تہماری لاچاری میں خدائی ہے اور میں ہوں تیرا پجاری ۔۔۔!!!

ہاں ۔۔۔!!!اب میری ہر شام ہر صبح تمہاری آنکھوں کی زیارت سے نئی ہوگی میں نہیں جانتا مگر میں قید ہوچکا ہوں ایسے زنجیروں میں کہ جن کو چاہ کر بھی کوئی توڑ نہیں سکتا۔
جانتی ہو ہر انسان اپنی زندگی میں سکون چاہتا ہے لیکن کہیں سکون نہیں پاتا گوتم بدھ کئی سالوں تک درخت کے نیچے رہ کر سکون پانے کی جستجو کرتاہے لیکن مجھے یقین ہے وہ سکون جو تمہارے ساتھ ایک پل بیتنے کا تھا وہ کسی بدھا کو نصیب نہیں ہوا ہوگا۔۔۔۔!!!

جانتی ہو اب مجھے کچھ نہیں چاہیئے مجھے وہ سب مل گیا جس سے میں خالی تھا۔ تمہاری محبت سمیٹ کر میری زندگی اب مکمل ہو چکی ہے۔ اب موت بھی آئے تو خوشی خوشی اس سے گلے ملوں گا۔۔۔!!!!
لیکن تمہاری آنکھوں کی وہ تڑپ جو مجھ سے لپٹ کر چیخ چیخ کر یہ کہہ رہی تھی کہ میں جینا چاہتی ہوں میں ہنسنا چاہتی ہوں ۔۔۔ دیکھو جان من! یہ لوگ مجھے قید کرنا چا ہ رہےہیں ۔۔۔۔!!!
مجھے خدا کےلیے نکا لیں ان زنجیروں سے۔۔۔!!!
ہاں۔۔!!! میں بہاروں سے کھیلنا چاہتی ہوں
ہاں۔۔۔!!!! میں پھولوں پر بیٹھی تتلی کی طرح آزادی سے گھومنا چاہتی ہوں اور میں بے بس چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتی یہ ارمان رہے گا مجھے
اگر میرے بس میں ہوتا میں آپ کو اپنے ساتھ لیے کہیں دور جا بستا لیکن یہ ممکن نہیں ۔ لیکن میرا وعدہ ہے اگر دوسرا جنم ہوا تو میں زمانے سے لڑوں گا میں تمہیں کسی کا ہونے نہیں دوں گا۔
جانتی ہو ! میں مر چکا تھا مجھے کائنات کا ہر چیز بورنگ لگنے لگا
بس!! ایک مشین کی طرح کام کر رہا تھا پر تم نے مجھے زندگی دی ۔ اب مجھے بارش میں بھیگنا اچھا لگتا ہے مجھے پھولوں میں رقص کرتی تتلیاں پسند آنے لگیں، مجھے قدرت سے جیسے پیار ہو گیا ہو میں گھنٹوں آسمان پر اٹھکیلیاں کھاتی بادلوں کی مستی کو دیکھتا ہوں۔ تم دیوی ہو میں تمہاری پوجا کرتا رہوں گا۔
تم سے بچھڑنے کا تو میں نے کبھی سوچا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوں نہ احمق۔ انسان احمق ہی ہوا کرتے ہیں ہم اپنے قابو میں ہوتے ہی کب ہیں ۔ جہاں محبت دیکھی خوشی دیکھی اپنا دل دے بیٹھے۔۔۔!!!
یہ بھی نہیں سوچتے کہ وہ ہمارے دل کے ارمانوں اور احساسات کا کیا حشر کرتے ہیں ۔ مجھے تمہارے قرب میں ایک زندگی ملی

ہاں۔۔۔!!!ایک حسین زندگی تم نےمجھے امر کر دیا !!!

جانتی ہو۔۔!!! میں نے کبھی سوچا تک نہیں تھا کہ کوئی انسان جو کل تک اجنبی تھا میرے اتنے قریب ہو گا۔ جانتی ہو جب آپ بچھڑنے کا سوچا تھا تو میرے رگوں سے خون جیسے رستا جا رہا تھا میری سب چیزیں جیسے غائب ہو رہی تھیں ۔
جانتی ہو اس دنیا کی کوئی بھی چیز لگتا میں وہ دے کر تمہیں حاصل کرتا پر کیا کریں تم امانت تھی اور امانت واپس کرنا لازم ہوتا ہے پھر وہ بھلےہماری جان ہی کیوں نہ ہو ۔ جی تم بھی امانت تھی چلی گئی یہ زندگی بھی امانت تھی چلی گئی ۔
اب یہ مردہ لاش ہے ایک مورتی ہے جو لوگوں کےلیے زندہ ہے میری زندگی وہی تھی جو تیرے سنگ گزری گی ۔ ہے نا کما ل کہ ہم مر کر بھی جیتے ہیں لوگوں کےلیے ۔ نہ خوش ہو کر بھی ہمیں ہنسنا پڑتاہے۔ سو مان لو جان ! یہ زندگی ایک ڈرامہ ہے اور ہم اس ڈرامے کے کٹھ پتلیاں

جمیل بزدار کا تعلق تونسہ کوہ سلیمان سے ہے۔لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل میں ڈی وی ایم فائنل ائیر کے طالب علم ہیں۔بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اوتھل زون کے موجودہ انفارمیشن سیکریٹری کی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔فلسفہ ،سیاست، ادب میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مختلف سیاسی و سماجی مضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔
ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close