بلوچستانپہلا صفحہتاریخسوشل میڈیا

شال کی یادیں(26)

زرک میر

2003 میں نواب اکبر خان بگٹی کی طرف سے سیاسی مزاحمت کے باقاعدہ اعلان سے بلوچستان میں ایک ہلچل سی مچ گئی ، بلوچ سیاسی جماعتیں چار جماعتی اتحاد کے پلیٹ فارم پر متحد ہونا شروع ہوگئیں ، جے ڈبلیو پی کی طرف سے آغا شاہد بگٹی امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ بی این پی طرف سے حبیب جالب ساجد ترین ایڈووکیٹ ، نیشنل پارٹی کی طرف سے ڈاکٹر اسحاق بلوچ اور ہمایوں مری ( جسے نواب مری کا نمائندہ کہا جاتا رہا تاہم نواب خیر بخش مری کی طرف سے اس کی تصدیق نہیں کی جاسکی حالانکہ ہمایوں مری خود جے ڈبلیوپی میں تھے ) متحرک تھے اور میڈیا میں اتحاد اور اپنی پارٹیوں کی نمائندگی کرتے رہے ۔ 2003 میں بی این ایم حئی اور بی این ڈی پی کے انضمام سے بی این ایم حئی کے انتہائی اہم رہنما اور بی ایس او کے سابق چیئرمین مکران سے تعلق رکھنے والے انتہائی قابل رہنماء غلام محمد بلوچ اور ان کی ساتھیوں نے شدید اختلاف رکھا اور انضمام کے بعدا نہوں نے بی این ایم کو برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کا نام بلوچستان نیشنل موومنٹ کی بجائے ” بلوچ نیشنل موومنٹ ” رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کے منشور میں بلوچستان کی مکمل آزادی کا نقطہ بھی شامل کرلیا اور پارلیمانی سیاست کی شدید مخالفت کی ۔

انہوں نے پارٹی کی بنیاد کو فدا شہید کی فکر سے جوڑ کر اپنی جدوجہد شروع کردی ۔ شروع شروع میں میر غلام محمد بلوچ کو اس قدر پذیرائی نہیں ملی لیکن بلوچستان میں نواب خیر بخش مری کی فکر کی عملی آغاز سے مزاحمت کی فکر بڑھ گئی تھی دوسری جانب ڈاکٹر اللہ نذر دو سال تک غائب رہنے کے بعد پنجاب کے علاقے صادق آباد سے اپنے دوست اخترندیم کے ہمراہ منظر عام پر لائے گئے جبکہ ڈاکٹر امداد بلوچ اور ڈاکٹر یوسف بلوچ اپنے ساتھیوں کیساتھ اپنی اغواء نما گرفتاری کے چھ ماہ بعد بازیاب ہوگئے تھے ، ڈاکٹر اللہ نذر پر چوری کا مقدمہ درج کرکے انہیں بلوچستان پولیس کے حوالے کیا گیا جہاں انہیں ہدہ جیل میں رکھا گیا . اغواء نما گرفتاری کے دوران ان پر شدید تشدد کیا گیا تھا جب اسے بازیابی کے بعد سول ہسپتال کوئٹہ ایمبولینس میں لا یا گیا اور صحافیوں نے ان کی تصاویر کھیچنیں جس میں وہ قطعی وہ نوجوان ڈاکٹر نذر نہیں لگ رہے تھے بلکہ وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے تھے اور وہ عرصے تک زیر علاج رہے کچھ عرصہ تک جیل میں رہنے کے بعد وہ ضمانت پر رہا کردیئے گئے لیکن وہ دوبارہ عدالت نہ آسکے اور پہاڑوں میں اپنے ساتھیوں سے جا ملے جس سے مکران میں مسلح مزاحمت کو تقویت ملی جو کہ پہلے سے ہی شروع ہو چکی تھی اور 73 کے اہم مزاحمتی رہنماء سدو مری اور واحد کمبر سمیت دیگر نے مکران سے جدوجہد کا آغاز کردیا تھا اور ان کا پہلا حملی مئی 2002 میں چینی انجینئروں پر ہوا ۔

ڈاکٹر اللہ نذر کی رہائی اور میر غلام محمد بلوچ کی سیاسی پارٹی کے قیام سے مکران میں مسلح اور سیاسی مزاحمت تیز ہونے لگی جس پر نواب اکبر خان بگٹی نے ڈیرہ بگٹی سے اس عمل کو خوش آئندقرار دیتے ہوئے کہا کہ ” مکران کے لوگ پڑھے لکھے ہیں اور ہم سے آگے ہیں وہ ہمیں لیڈ کریں ہم ان کیساتھ چلنے کو تیار ہیں ” ۔ واقعی مکران اٹھ کھڑا ہوا تھا جہاں دہائیوں سے ڈاکٹر حئی کی قیادت میں بی این ایم مکران میں سیاسی مقتدرہ رہی تھی اور وہاں مزاحمتی سیاست کا خیال ہی مفقود ہوگیا تھا لیکن غلام محمد بلوچ نے سیاسی مزاحمت کی بنیاد رکھ دی تھی جس نے آگے چل کر اپنا منفرد اور پر اثر رنگ دکھانا شروع کردیا ۔

نواب اکبرخان بگٹی کی شخصیت اس قدر پراثر تھی کہ ان کے سیاسی مزاحمت کے اعلان اور سوئی میں دو بڑے جلسوں سمیت گوادر میں 27 اکتوبر 2003 کو انتہائی بڑے  جلسے سے اسٹیبلشمنٹ کو نواب اکبر خان کی جانب سے خطرات محسوس ہونے لگے جہاں نواب اکبر خان بگٹی نے عوام سے رابطہ رکھنے اور روز میڈیا سے بات چیت کے عمل کو جاری رکھا اور ڈیرہ بگٹی میں شروع ہونے والے راکٹ حملوں سمیت بلوچستان بھر میں ہونے والی مسلح کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے مزاحمتی تنظیموں کو عوامی ردعمل قرار دیدیا ، اس دوران حیربیار مری کا نام سرفہرست آنے لگا کہ وہ مزاحمتی تنظیم بی ایل اے کی سربراہی کررہے ہیں جبکہ میر بالاچ مری بلوچستان میں رہ کر آپریشنل کمانڈ سنبھالے ہوئے ہیں ، اس دوران نواب اکبرخان بگٹی کیساتھ میر بالاچ مری کی قربت بڑھتی گئی اور میر بالاچ اکثر ڈیرہ بگٹی میں نواب بگٹی کے پاس آنے لگے تھے ۔اس قربت کے باعث مری بگٹی قبائلی تنازعہ بھی حل کردیا گیا جو دہائیوں سے چل رہا تھا (اس دوران نواب اکبرخان بگٹی اپنے دیگر قبائلی تنازعات کو بھی پس پشت ڈال کر قومی تحریک سے جڑ گئے تھے بالخصوص کلپر طائفے کے بندلانی شاخ سے جاری جنگ ٹھنڈی پڑ گئی تھی جنہوں نے نواب کے انتہائی پیارے بیٹے سلال بگٹی کو مارا تھا

یاد رہے کہ نواب اکبرخان کا کلپر طائفے کے محض بندلانی شاخ کے لوگوں کیساتھ ہی قبائلی جگڑا چل رہا تھا پورے کلپر طائفے کیساتھ نہیں ۔ باقی کلپر آخر تک نواب بگٹی کے ساتھ رہے ) میر بالاچ خان مری چار جماعتی اتحاد کے بڑے اور تاریخی دو بڑے جلسوں میں شرکت بھی کرتے رہے اور یہ اہم سوال رکھا کہ بلوچ نیشنلزم کیا ہے اس کی تعریف ہونی چاہئے ۔ نواب اکبر خان نے سوئی جلسہ کے اسٹیج پر کہا کہ مجھے آج فخر ہے کہ میری آواز پر میرے ہم عصر مری اور مینگل کے صاحبزادے میرے پاس آئے ہیں اور میرے ساتھ کھڑے ہیں ۔ نواب اکبر خان بگٹی نے اپنے مہمانوں کا استقبال انتہائی شاندار طریقے سے کیا جبکہ نواب اکبر خان کی تقریر کو ریکارڈ کرنے کیلئے سوئی ڈیرہ بگٹی کے پہاڑی علاقوں سے لوگ پرانے نیشنل آڈیو ٹیپ ریکارڈ لائے تھے جن پر کشیدہ کاری کئے گئے کور چڑھائے گئے تھے ، جن کی تصویریں میڈیا میں عام ہو گئیں ۔

نواب اکبرخان بگٹی کی طرف سے اس دوران اخبارات بالخصوص روزنامہ آساپ میں "ریڈ انڈینز کے سردار ،سردار سینتھ کا وہ جوابی خط چھپوایا گیا جو امریکہ کے 14 ویں صدر فرینکلن پیرسے نے 1855 میں ریڈ انڈینز کے سردار ، سردار سینتھ کو لکھا تھا کہ وہ واشنگٹن شہر کی توسیع کیلئے اپنی سرزمین بیچ دے ،جوابی خط کو ریڈ انڈینز کے سردار نے انتہائی نثری شاعری انداز میں لکھا ہے اور کہا کہ یہ مجھ سے میرے وطن کی زمین مٹی ہوائیں فضاء اور درخت چرند پرند اور بیل بوٹے بیچنے کی بات کررہے ہیں انہیں نہیں پتہ کہ یہ ہماری روحوں کا حصہ ہیں اور ہم سوداگر نہیں ” یہ خط انتہائی شاہکار ادبی شہ پارہ ہے جس کا پڑھنے کا اپنا لطف ہے ۔ نواب اکبرخان بگٹی کا ان دنوں بی ایس او اور آساپ میں لکھنے والوں کیساتھ رابطہ بڑھ گیا تھا اور نواب بگٹی تمام آرٹیکلز پڑھنے لگے تھے اور بی ایس او والوں سے فون پر رابطہ کرتے رہے اوران سے مشورہ کرتے رہے ۔

(یہ 2004 کے شروع تک کے واقعات اور سرگرمیوں کا سرسری جائزہ تھا اگلی قسط میں ہم 2004 کے درمیانی اور 2005 کے اہم واقعات کا ذکر کرینگے جہاں سے پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوتا گیا بالخصوص اس دوران نواب اکبر خان کی جدوجہد تیز تر ہوگئی تھی )۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close