بلوچستانپہلا صفحہتاریخسوشل میڈیا

شال کی یادیں (27)

زرک میر

نواب اکبر خان بگٹی کی جانب سے مزاحمتی سیاست اور عمل سے تحریک کو تقویت ملی وہ نواب اکبر خان بگٹی جنہیں 73 کی مزاحمتی تحریک کو کچلنے اور نیپ کے خلاف گورنر شپ کا عہدہ قبول کرنے کی پاداش میں ” بلوچوں کے قاتل ” بھٹو بگٹی اور ٹکا خان ” کے ساتھ ایک نعرے سے جوڑ کرایسے القابات سے نوازا جاتا رہا وہاں نواب اکبر خان اب قومی تحریک کے ہیرو بن چکے تھے ، پوری بلوچ سیاست نواب بگٹی کے گرد گھومنے لگی تھی ، چار جماعتی اتحاد میں جے ڈبلیو پی کی پالیسیاں زیادہ چلتی رہیں ، آغا شاہد بگٹی شال میں بیٹھ کر نواب بگٹی کی نمائندگی کرتے رہے ۔امان اللہ کنرانی کو بھی نواب کے سیاسی اختیارات حاصل تھے اور جس طرح سے نواب بگٹی نے ان دو شخصیات پر اعتبار کیا وہیں ان دونوں شاہد بگٹی اور امان کنرانی نے نواب بگٹی کو یکسر بیچ راستے میں چھوڑ کر خود کی راہ لی ۔ 2004 کا دور مزاحمتی عمل کے تیز ہونے کا دورہ رہا جہاں ڈیرہ بگٹی میں آئے روز کے راکٹ حملوں کے بعد اب زمین پر مسلح تصادم ہونے لگا تھا ۔

اگست 2004 میں اہلکاروں نے سوئی میں نواب بگٹی کی سڑک کے کنارے لگی تصویر پر موبل آئل پھینک دیا تھا جس پر اہلکاروں اور بگٹی مزاحمت کاروں کے درمیان تصادم ہوا اسی طرح ایک بار بگٹی خواتین ایک جگہ سے پانی بھر رہی تھیں کہ اہلکاروں نے انہیں منع کردیا ، باز نہ آنے پر فائرنگ کرکے تین خواتین کو گولیاں مار دی گئیں جس پر بگٹی مزاحمت کاروں نے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کرکے آٹھ اہلکاروں کو مار دیا ۔ جس پر کشیدگی مزید بڑھ گئی ، اس پر وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق عزیز نے نواب بگٹی سے رابطہ کیا اور مذاکرات کا آغاز کردیا ،نواب بگٹی نے بھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا اور وفاقی حکومت کے معاون خصوصی سے بات چیت شروع کردی لیکن بہت جلد نواب بگٹی پر عقدہ کھلا کہ وفاقی حکومت بات چیت میں سنجیدہ نہیں تب نواب بگٹی نے مذاکرات معطل کردیئے

بی بی سی کے پوچھنے پر کہ مذاکرات ہورہے ہیں کہ نہیں تو نواب بگٹی نے کہا ” جی ہاں مذاکرات ضرور ہورہے ہیں لیکن توپوں بموں اور گن شپ ہیلی کاپڑوں کے ذریعے "

2002 کے عام انتخابات کے بعد جنرل مشرف نے ماضی میں بلوچوں کیساتھ ناانصافی پر معافی معانگتے ہوئے وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنا دیا جس پریہ کہا جانے لگا کہ اب بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھا جائیگا اور ظفر جمالی کو وزیراعظم بنایاجانا اس کا نقطہ آغاز ہے جس پر سردار عطاء اللہ مینگل نے کہا کہ یہ بے اختیار وزیراعظم ہے اس سے ہمارے مسائل حل نہیں ہونگے ۔ جس دن اسلام آباد کا مقصد پورا ہوگا اس دن لات مار کر ظفر جمالی کو بلوچستان کی راہ دکھائی جائے گی اور وہی ہوا جہاں ڈیڑھ سال یا اٹھارہ ماہ وزیراعظم رہنے کے بعد ظفر اللہ جمالی سے استعفیٰ لے کراسے بذریعہ ٹرین بلوچستان روانہ کردیا گیا ۔

2002 کے انتخابات کی اہم بات یہ کہ جب بلوچستان اسمبلی میں وزارت اعلیٰ کیلئے جوڑ توڑ جاری تھا تو ایک طرف جام یوسف وزارت اعلیٰ کے امیدوار بن گئے تو دوسری طرف جمعیت نے مولانا واسع کو امیدوار بنایا تودونوں طرف سے نواب بگٹی کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو صحافی طلعت حسین نے نواب بگٹی سے پوچھا"نواب بگٹی صاحب آپ کا جھکائو کس طرف ہے تو نواب بگٹی نے کہا کہ ہم کسی کی طرف نہیں جھکتے البتہ جہاں تک حمایت کی بات ہے تو مولانا واسع کے مقابلے میں کسی لنگڑے لولے بلوچ کی حمایت پر اکتفاء کرونگا ” بعد میں نواب بگٹی نے حکومت میں شامل نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے جام یوسف کو حمایت کا ووٹ دینے کا اعلان کردیا اور ووٹ دیا بھی اور کہا کہ ” جام یوسف شریف شخص ہیں "

جولائی 2004 میں نواب اکبر خان بگٹی سے گورنر بلوچستان اویس غنی نے ڈیرہ بگٹی جا کر ملاقات کی ۔ یہ ملاقات تین گھنٹے تک جاری رہی ۔ اس ملاقات کی تفصیل جب نواب بگٹی سے پوچھی گئی تو نواب بگٹی نے دلچسپ انداز میں بتایا کہ گورنر صاحب سے تین گھنٹے تک ملاقات ہوئی ۔ گورنر صاحب نے پورا ایک گھنٹہ اپنی تعلیم و تربیت انجینئرنگ کے شعبہ سے وابستگی اپنی مہارت اور ڈیزائننگ کی تفصیل سے ذکر کیا گویا ملاقات کے دورانیئے کا ایک تہائی حصہ اپنے تعارف پر صرف کردیا پھر کوئی آدھا گھنٹہ 40 منٹ ڈویلپمنٹ کا پرچار کرتے رہے کہ ہم بلوچستان میں دودھ اور شہد کی ندیاں بہا دینگے مگر میں نے جواب میں کہا کہ جو بھی حکام آتا ہے لمبے لمبے دعوے کئے جاتا ہے جب وہ حاکم رخصت ہوتا ہے تو پیچھے کچھ نہیں ہوتا ۔ نواب بگٹی نے بتایا کہ گورنر صاحب دراصل الٹی میٹم دینے آئے تھے کہ وہ فوجی چھائونی بنا کررہیں گے انہوں نے بتایا کہ ہمیں officially بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلی جام یوسف 10 اگست کو فوجی چھائونیوں کی تعمیر کی تقریب کی صدارت کرینگے ۔ گورنر صاحب کے الٹی میٹم کے بعد اب یم نے جو کرنا ہے کرینگے ۔ نواب بگٹی سے پوچھا گیا کہ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں راکٹ فائر کرنے والے کون ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس میں دوقسم کے عناصر ملوث ہوسکتے ہیں ایک حکومت کے وفادار اور دوسرے بلوچ مزاحمت کار ۔
8 اگست 2004 میں نواب اکبر خان بگٹی سے وزیراعظم کے نمائندے طارق عزیز نے ملاقات کی ۔ ملاقات کے بارے میں نواب بگٹی نے کہا کہ ” طارق عزیز سے یہ پہلی ملاقات تھی جس میں وہ مجھے یکھ کر تول رہے تھے اور میں انہیں تول رہا تھا ۔اگر حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے ورنہ یہ ڈنگ ٹپائو ہے تو اس سے مسائل حل نہیں ہونگے ۔

2004 اگست میں ہی سردار عطاء اللہ مینگل سے اس وقت کے وزیر اعظم چوہدری شجاعت نے ملاقات کی ملاقات کے بعد سردار عطاء اللہ مینگل نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ” وزراعظم نے پارلیمانی کمیٹی بنانے اور فی الحال فوجی چھائونیوں پر کام روکنے کا اعلان کردیا ہے اور اس حوالے سے مزید اقدامات بھی متوقع ہیں ” سردار مینگل نے چوہدری شجاعت سے ملاقات کو خوش آئند قرار دیدیا ۔ سردار عطاء اللہ مینگل نے کہا کہ میں نے یہ مطالبہ رکھا ہے کہ گوادر پورٹ کی آمدنی بلوچستان کو دی جائے ۔
2004 ہی میں سردار عطاء اللہ مینگل کی سربراہی میں اسلام آباد میں اپونم کا ایک سیمنار منعقد کیا گیا جس میں پونم میں شامل تمام پارٹیوں کے رہنمائوں نے شرکت کی اور 73 کے آئین کی اصل حالت میں بحالی اور نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے بلوچستان میں مزاکرات کی ضرورت پو زور دیا گیا ۔

2004 ستمبر میں ایک خبر سامنے آئی کہ کراچی کے ایک سینئر وکیل سہیل احمد نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سردار اخترمینگل نے امریکی سفیر سے خفیہ ملاقات کی ہے اس لئے اس کا نوٹس لیا جائے ۔ بلوچ قوم پرست رہنماء سردار اخترمینگل امریکی سفیر کی رہائش گاہ (سی جی ہائوس ) میں رہائش پذیر ہیں ،درخواست گزار کے مجدرجات کے مطابق وہ خفیہ طیارے کے ذریعے دبئی سے کراچی آئے تھے ۔

2004 میں سیاسی وفود ڈیرہ بگٹی جاتے رہے اور نواب بگٹی سے ملاقات کرتے رہے . چار جماعتی اتحاد جس کو نواب مری کی حق توار تنظیم کی شمولیت سے متعلق بارہا تردید کے بعد اس اتحاد کو ” چار فریقی سہ جماعتی اتحاد کانام دیا گیا لیکن یہ اتحاد تین سال تک ہی بہتر طورپر چل سکا کیونکہ 2004 اگست میں ہی اس میں تضادات ابھرنا شروع ہوگئے ، جہاں 2003 کے چار جماعتی اتحاد کے سوئی جلسہ میں بی این پی کے سردار اخترمینگل نے یہ مشہور جملہ کہا تھا کہ ” اگر ڈیرہ بگٹی میں ایک گولی چلی تو جھالاوان سے اس کا جواب دس گولیوں سے دیا جائے گا لیکن اگست 2004 میں ںواب اکبر خان بگٹی نے اپنے ایک انٹرویو میں چار فریقی سہ جماعتی اتحاد کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اتحاد جہاں تھا قابھی تک وہی ہے اس میں شامل کئی لیڈر گلہ پھاڑ کر پھاڑ کر چلاتے رہے ہیں لیکن اب جبکہ مکران کے پہاڑوں بشولی اور ڈامب میں فوجی کارروائی شروع ہوچکی ہے تو یہ اتحاد اور ” وہ رہنماء” خاموش ہیں ” نواب بگٹی کی جانب سے چار فریقی سہ جماعتی اتحاد کے بارے میں یہ اظہار خیال اس سلسلے کا نقطہ آغاز تھا جہاں سردار مینگل اور نواب بگٹی کے درمیان معاملہ الجھنے لگے تھے اور نواب بگٹی نے سردار عطاء اللہ مینگل اور سردار اخترمینگل کے بارے میں انتہائی سخت الفاظ کا استعمال شروع کرچکے تھے جہاں انہوں نے بعد میں "کاغذی شیر اور بغیر ناخن والے شیروں ” تک کے الفاظ استعمال کئے گئے لیکن دوسری جانب سردار مینگل کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا

البتہ بی این پی اور جے ڈبلیو پی اخباری بیانات کے ذریعے ایک دوسرے کو جواب دیتے رہے ۔نواب اکبر خان شاہد سیاسی اور مسلح مزاحمت میں مینگل کا بھرپور ساتھ چاہتے تھے جبکہ مینگل کے اپنے حالات اور اپنی حکمت عملی تھی البتہ اس کے باوجود کوئی بڑا تضاد سامنے نہیں آیا بی این پی برابر ڈیرہ بگٹی اور پورے بلوچستان کے معاملات پر موقف دیتی رہی اور نواب اکبر خان بھی اپنے بیانیہ میں بلوچستان بھر کے حالات کا ذکر کرتے رہے اور متحد ہونے کی اپیل کرتے رہے ۔ بعد میں نواب اکبر خان بگٹی نے ” سنگل بلوچ پارٹی ‘ کی تجویز دی اوراس کے لئے سب سے پہلے اپنی پارٹی کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ،نواب بگٹی کی اس تجویز کو بلوچستان بھر میں بلکہ دنیا بھر کے بلوچوں میں بہت زیادہ پذیرائی ملی اور اس پر بہت کچھ لکھا گیا ، اس حوالے سے جے ڈبلیو پی نے ایک دستخطی مہم بھی شروع کی جس کی بی ایس او آزاد نے بھی حمایت کی اور اس مہم میں شامل ہوگئی ،نواب بگٹی نے دانشوروں لکھنے والوں اور ادیبوں کو ڈیرہ بگٹی آنے کی دعوت دی اور ان سے اس حوالے سے تجاویز بھی مانگیں ۔ اس تجویز پر مثبت عوامی ردعمل اور رائے سامنے آئی ۔ تاہم نواب خیر بخش مری سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کو ناقابل عمل قراردیدیا اوربعض حلقوں نے سنگل بلوچ پارٹی کی بجائے سنگل پوائنڈ ایجنڈا اور حکمت عملی پر بھی زور دیا ۔ ( ممکن ہوا تو اس حوالے سے اہم لکھنے والوں کے کچھ اہم نقاط آگے چل کر مضمون میں شامل کئے جائیں گے )

اس دوران خان آف قلات میر سلیمان دائود بھی خاصے متحرک ہوگئے اور انہوں نے قلات اور توتک میں جرگہ تک منعقد کرائے جس میں انہوں نے بلوچستان کو قوم پرستوں کی ملکیت کی بجائے قبائل کی ملکیت قرار دیدیا ۔ اسی جرگے میں انہوں نے کہا یہ بھی کہا کہ اگر کوئی بلوچ عالمی عدالت سے رجوع کرنا چاہے تو میں مدد کرنے کیلئے تیار ہوں ۔ انہی جرگوں اور سرگرمیوں کے دوران خان آف قلات میر سلیمان دائود نے یہ بھی کہا کہ بعض شخصیات سوئی گیس فیلڈز سے رائلٹی لیتے ہیں جبکہ یہ قبائل کی ملکیت ہے جس پر نواب بگٹی نے خان آف قلات کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ” خان قلات اچانک متحرک ہوگئے ہیں وہ اس سے قبل اپنی سیاسی علوم کا مطالعہ کریں ،ہمیں آج تک رائلٹی نہیں ملی ،خان صاحب پہلے تاریخی جغرافیہ عمرانیات علوم کا مطالعہ کریں ۔

(اگلی قسط میں ہم 2005 کے واقعات کے ذکرسے آغاز کرینگے جہاں 2004 کا اختتام ہنگامہ خیز پر ہی ہوا اور نئے سال کا آغاز تشدد کی ایک نئی داستان سے ہوگیا تھا ، توجہ کا مرکز نواب بگٹی ہی رہے )

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close