بلوچستانپہلا صفحہتاریخسوشل میڈیا

شال کی یادیں(25)

زرک میر

نواب خیر بخش مری نے اپنے 2003 والے انٹرویو میں انتہائی اہم نقاط کی جانب اشارہ کیا تھا اور تفصیلی تو نہ سہی لیکن ان معاملات پر اپنا موقف واضح کرنے کی کوشش کی تھی جو رونما ہوچکے تھے اور جو رونما ہونے والے تھے انہوں نے جنرل مشرف کی جانب سے فوج اور اقتصادیات کو بنیادی ستون قرار دینے کے موقف کو مسترد کردیا تھا اور کہا کہ میں حیران ہوں کہ یہاں فوج اور اقتصادیات کو اہم ستون قرار دیا جاتا ہے ، انہوں نے فوجی چھاونیوں کی بات کی اور کہا کہ بھارت کا معاملہ آتا ہے تو مذاکرات کئے جاتے ہیں لیکن میری باری آتی ہے تو فوجی چھاونی بنائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا پنجابی کامریڈ ہمارا کامریڈ نہیں بن سکتا کہ پنجاب کا تھانیدار یہاں آکر پنجاب کے ایک چوہدری سے زیادہ ہمارے لوگوں کے اوپر ظلم کرتا ہے،نواب خیر بخش مری نے اس وقت چار جماعتی اتحاد کے نام سے بنے اتحاد کے بارے میں کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ مری کو کس درجے پر پرکھتے ہیں وہ پارٹیاں بھی ہیں اور قبائل بھی ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہمیں خیرات نہیں چاہئے ہمیں حق چاہئے انہوں نے پاکستان کے پیچھے امریکہ کی طاقت کو کارفرما بھی قرار دیا ۔

صحافیوں کے مطابق نواب خیر بخش مری زیادہ سے زیادہ بات کرنا چاہتے تھے اور دروازے تک ہمیں چھوڑے آئے ۔ نواب مری کا مذکورہ انٹرویو بڑی مدتوں بعد کا انٹرویو تھا ۔ نواب خیر بخش مری نے کہا کہ یہاں ووٹ اور الیکشن کو جمہوریت کہا جاتا ہے حالانکہ یہ کاسٹمٹکس جمہوریت ہے ، دشمن ہر روپ میں آتا ہے اس کا علاج بھی مختلف ہونا چاہئے ، ووٹ الیکشن ٹھیک لیکن کچھ اور بھی آزمائیں ، جھاڑ پھونک اور ٹونہ بھی کرنا پڑتا ہے چلہ بھی کاٹنا پڑتا ہے کبھی کبھی آپریشن بھی کرنا پڑتا ہے ، نواب خیر بخش مری نے کہا کہ اربن( شہری) کارکن جلسہ جلوس تقریر اور کھانے پینے کی حد تک ٹھیک ہیں لیکن پہاڑوں میں اس کی تعداد زیادہ نہیں وہاں قبائلیوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ عطاء اللہ مینگل کے لئے 73 میں لڑنے والے زہری اور مینگل زیادہ تھے ، انہوں نے کہا قبائلی نظام کو انگریز کا کہنا درست نہیں ۔ ہمارا قبائلی نظام بہت پرانا ہے شاہد اس وقت سنڈیمن پیدا بھی نہیں ہوا تھا ۔

انہوں نے اس انٹرویو میں نیشنل پارٹی کی تشکیل کو انہوں نے جواز قرار دیا اور کہا کہ ڈاکٹر حئی کہہ بھی نہیں سکتے اور جدوجہد میں جا بھی نہیں سکتے ۔ نواب خیر بخش مری نے اس انٹرویو سے میں کافی متاثر ہوا اور میں جب اپنے کامریڈ دوست کیساتھ بی این ایم حئی کے جلسوں میں جانے کی حد تک حامی تھا اس کمزور حمایت سے بھی دستکش ہوگیا حالانکہ اس سے قبل بھی میری حمایت محض دوستوں کی دوستی کی حد تک تھی اور جلسوں میں شرکت کی حد تک تھی ۔ میں اور میرا کامریڈ دوست طنز اور تنقید کے نشتر چلاتے رہتے تھے جس سے بی این ایم ہدہ کے دوست ہم سے متنفر بھی رہتے لیکن چونکہ میں اور میرا دوست کامریڈ کچھ آزادانہ خیال رکھنے والے مشہور تھے تو وہ ہم سے کبھی کبھی اچھی رائے حاصل کرتے تو ہمیں برداشت کرتے دوسری جانب والد صاحب بی این پی سے قطع نظر سردار عطاء اللہ مینگل کے حامی تھے اور اب تک حامی ہیں لیکن نواب مری کی جدوجہد کے اثرات نمودار ہونے پر میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا لیکن محض سوچ وفکر کی حد تک ، فرض نمازوں کی طرح عملی سیاست اور جدوجہد سے ہمیشہ دور رہا اور ہمیشہ کنارے پر رہ کر سمندر کی گہرائی اور لہروں کی شدو مد سے تعریف اور تنقید کا لطف لیتا رہا ۔ البتہ نواب خیر بخش مری کی ذات سے متعلق تجسس بڑھتا گیا کہ یہ دوسرے رہنمائوں سے کیونکر مختلف طرز زندگی رکھتا ہے جدوجہد کیلئے انتہائی تلخ راستے کا انتخاب کر رکھا ہے اور اس کے لئے وہ انتہائی گم سم اور صابر رہنے کی ریاضت کیسے کرلیتے ہیں ، ایک دو حق تواری دوستوں (احمد زئی و قمبراڑی ) سے راہ رسم پیدا ہوگئی ان سے بس نواب کی ذات کے بارے میں پوچھتا رہتا ان کے انداز فکر کا کلیہ جاننے کی کوشش کرتا رہا، حق تواری سنگتوں کو بھی نواب مری کی طرح صابر وشاکر اور قناعت پسند پایا جیسا کہ آغا محمود ، احمد زئی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود انتہائی قناعت پسند تھے ،بات کرتے ہوئے انتہائی سلیقہ اور انتہائی شائستگی رکھتے ، انہوں نے بھی کافی حد تک نواب خیر بخش کی ذات پر غور کیا تھا ،میں نے ایک بار آغا سے پوچھا آغا جان نواب مری کے علاوہ بھی کوئی رہنماء ہمارے اندر موجود ہے کہ نہیں تو ہنستے ہوئے کہنے لگے ، مری لیڈر نہیں کچھ اور ہے اس کو سمجھنے کیلئے ان کی سطح پر آنا پڑتا ہے ، ہمارے ہاں لیڈر تو بہت ہے مری جیسا کوئی طلسماتی شخصیت موجود نہیں اور اگر کسی کو ایسا بننا ہے تو اسے (براہوئی میں کہا) بے بے او ارغ کنوئی تمک ” یعنی بغیر نمک روٹی کھانا پڑیگا ۔اس بات پر میں بھی محظوظ ہوا ۔ پھر قمبراڑی دوست نے بھی بہت کچھ نواب کے بارے میں کہا ، یہ دوست تو بالکل نواب جیسی عادت رکھتے ہیں، شاہد کوئی مجھے سے اختلاف کرے لیکن میں نےقمبراڑی دوست سمیت بعض دیگر کو مری جیسا صابر وشاکر پایا اور ان کی نواب کے ساتھ جڑنے کی وجہ روحانیت کو ہی پایا 

مجھے نواب مری کی آزادی کی فکرکیساتھ ساتھ ان کی ذات میں بھی دلچسپی رہی کہ آخر یہ تبدیلی اور انفرادیت ان کی شخصیت میں کہاں سے در آئی ۔ ایک جگہ میں نے پڑھا کہ نواب خیر بخش جب لاہور ایچی سن میں پڑھتے تھے تو کالج سے فراغت کے بعد کالج کی مسجد میں وقت گزارتے اور مسجد کو جھاڑو لگاتے صاف صفائی کرتے ، اگر یہ بات درست ہے تو لیکن شاہد یہ نواب مری کی شخصیت میں روحانی بیداری کا آغاز تھا لیکن بعد میں اس روحانی بیداری کا رخ آزاد اور باغی روحانیت کی طرف مڑا جس سے نہ صرف نواب کی شخصیت کی تعمیر ہوئی بلکہ ان میں اپنے حق کیلئے بلا خوف وخطر کھڑے رہنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوگئی گوکہ نواب کو یہ صلاحیتیں روایتی قبائلی مزاج سے بھی ملی تھیں جہاں وہ اس قبیلے کا سربراہ تھا جو خیر بخش اول سے سینہ سپر رہا ہے لیکن اب کی بار خیر بخش مری میں سیاسی قبائلی اورروحانی صلاحیتیں ایک ساتھ مجتمع ہوگئی تھیں تب جاکر یہ شخص آج کا خیر بخش بنا تھا 

نواب خیر بخش مری کے مذکورہ بالا انٹرویو سے تہلکا مچ گیا تھا اور سیاسی حلقے بھی حالات کی تبدیلی کو محسوس کررہے تھے ، یہاں نواب اکبر خان بگٹی نے بھیبھی اپنی سرگرمیاں تیز کردی تھیں ، کیونکہ جنرل مشرف نے بلوچستان میں تین فوجی چھائونیوں کے قیام کا اعلان کردیا تھا ، سوئی کوہلو اور گوادر میں فوجی چھائونیوں کے بنائے جانے کی شدومد سے باتیں ہورہی تھیں ۔ گوادرپورٹ پر بھی نوازشریف کے دور یعنی 1998 میں ہی کام جاری ہوچکا تھا ،نواب اکبر خان نے فوجی چھائونیوں کے قیام اور گیس کمپنیوں کی مزید لوٹ مار کی شدید مخالفت کرتے ہوئے سیاسی مزاحمت کا اعلان کردیا تھا ،فوجی چھائونیوں کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں متحد ہوگئی تھیں ۔

ادھر مشرف نے 2002 میں عام انتحابات کرائے جہاں نواب مری کے صاحبزادے میر بالاچ مری جو بیرون ملک تھے کوہلو سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑ کر کامیاب ہوگئے تھے ، وہ بعد میں سندھ ہائی کورٹ سے پروٹیکشن بیل کے ذریعے شال آئے اور بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرکے حلف لیا ،ان کے حلف کے دوران مری قبیلے کے سینکڑوں لوگ جمع تھے جو اسمبلی ہائی کورٹ اور سرینہ ہوئٹل کے آس پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ بعد میں وہ نواب مری کیساتھ شال میں کچھ عرصہ رہے ۔سینیٹ کے انتخابات میں بی این پی نے بالاچ مری سے حمایت مانگی تو بالاچ مری نے کہا کہ اگر بی این پی ساجد ترین ایڈووکیٹ کو امیدوار بناتی ہے تو اسمبلی آکر انہیں ووٹ دونگا ورنہ اسمبلی کبھی بھی نہیں آئونگا ۔ساجد ترین ایڈووکیٹ کی نواب مری سے قربت کابل دور سے ہوئی جہاں ساجد ترین پشتون ایس ایف کے ذمہ دار تھے ۔ یہ دوستی ساجد ترین نے خوب نبھائی ۔پھر وہی ہوا کہ بالاچ مری پھر اسمبلی کبھی نہیں آئے اور 2003 کے اواخر میں نواب مری کو لے کر کراچی چلے گئے ، بالاچ مری گاڑی چلا رہے تھے کہتے ہیں کہ نواب مری زہری کراس کے قریب رکے اور اپنے مرغے کو کچھ دیر کیلئے وہاں کھلا چھوڑا اور خود بھی چہل قدمی کی تاہم بیلہ کے قریب گاڑی کے کسی کھڈے میں لگنے کی وجہ سے نواب مری کو کمر میں شدید چوٹ آئی جس کا ذکر انہوں نے بالاچ سے نہیں کیا تاہم بعد میں وہ اس چوٹ کی وجہ سے بہت تکلیف میں رہے .نواب خیر بخش مری کو کابل میں مائنرفالج اٹیک بھی ہوا تھا ۔ ،2003 کے اواخر میں نواب مری کراچی منتقل ہوگئے جہاں وہ میر جاوید مینگل کے ڈیفینس والے گھر میں رہے اور بالاچ مری خود کوہلو چلے گئے جہاں وہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو آتے جاتے رہے اور نواب بگٹی کی قربت حاصل کی ( اس گھر کا احوال بھی آگے چل کر شامل حال ہوگا ) ڈیرہ بگٹی کی نشتوں پر حسب معمول نواب بگٹی کے امیدوار کامیاب ہوگئے تھے جبکہ بی این پی کو محض دو نشستیں ملی تھیں ،2003 میں ڈاکٹرحئی کی بی این ایم اور حاصل بزنجو جو کہ بی این پی عوامی سے بچھڑ گئے تھے نے آپس میں انضمام کرلیا ، یہ انضمام تو نہ تھا بلکہ حاصل بزنجو طاہر بزنجو اور سردارثناء زہری کی محض بی این ایم حئی میں شمولیت تھی تاہم اس کو کس مصالحت کے تحت انضمام کا نام دیا گیا اور دونوں پارٹیوں میں موجود لفظ "بلوچستان ” کو نکال پر پارٹی کا نام نیشنل پارٹی رکھا گیا اور اس کے جھنڈے میں چار ستارے رکھے گئے ، اس حوالے سے کافی بحث ومباحثہ ہوا اور اس عمل پر کافی تنقید ہوئی ۔ 2002 میں جب سیاسی سرگرمیاں تیز ہوئیں تو کوئٹہ سے روزنامہ آساپ کا اجراء ہوا جس نے نوجوانوں کو لکھنے کی جانب راغب کیا جس سے لکھنے والوں کی صلاحتیں ابھر کر سامنے آئیں ، تب بلوچستان کے اس وقت کے حالات سمیت نیشنل پارٹی کے قیام پر کافی کچھ لکھا گیا جس پر طاہر بزنجو نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے انضمام پر اس قدر لکھا گیا کہ پوری بلوچ سیاست پر اتنا مواد نہیں ملتا جتنا ان دوسالوں میں ملتا ہے ۔ (نیشنل پارٹی کے انضام پر آگے بھی چل کرمزید بات ہوتی رہے گی )

ڈیرہ بگٹی میں فورسز کی نقل وحرکت بھی شروع ہوگئی تھی جس پر نواب بگٹی کی جماعت جے ڈبلیو پی ، سردارا خترمینگل کی جماعت بی این پی اور ڈاکٹرحئی کی جماعت نیشنل پارٹی اور نواب خیر بخش مری کی حق توار تنظیم پر مشتمل چار جماعتی اتحاد کے قیام کا اعلان کردیا تھا گیا گوکہ نواب خیر بخش مری متعدد بار حق توار کے سیاسی تنظیم ہونے کی بارہا تردید کرتے آئے تھے اور چار جماعتی اتحاد میں اس کی شمولیت سے لاعلمی کا بھی اظہار کرتے رہے تاہم اس اتحاد میں میر بالاچ مری ضرور شامل تھے ۔ جب نواب بگٹی نے 2003 میں سوئی میں چار جماعتی اتحاد کا عظیم الشان جلسہ منعقد کرایا تو اس میں نواب اکبر خان بگٹی سردار اخترمینگل میر بالاچ مری ڈاکٹر عبدالحئی اور سردار ثناء اللہ زہری نے شرکت کی ، اس کے بعد چار جماعتی اتحاد نہایت مضبوط اتحاد کے طورپر سامنے آیا تاہم پونم کا اتحاد بھی امتیازی طورپر چلتا رہا لیکن بلوچستان کے حالات کے بدلنے اور چار جماعتی اتحاد کی فعالیت کے باعث پونم آہستہ آہستہ غیر متحرک اتحاد بنتا گیا ۔

(اگلی قسط میں ہم 2003 کے آخری مہینوں اور 2004 کے واقعات کا ذکر کرینگے ، یہ دونوں سال بلوچستان کی سیاست کے انتہائی اہم سال رہے ہیں جن میں ہم واقعات اور سرگرمیوں نے جنم لیا تھا ۔خاص کر نواب اکبر خان بگٹی سیاسی طورپر انتہائی متحرک ہوگئے تھے پوری بلوچستان کی سیاست ان کے گرد گھومنے لگی تھی ۔ اب چونکہ نواب اکبر خان کی برسی بھی قریب ہے تو برسی اور برسی کے بعد کچھ دنوں تک مضمون میں نواب اکبر خان کی تصویریں لگائی جائیں گی )

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close