بلوچستانپہلا صفحہکوئٹہکوئٹہ ڈویژن

کوئٹہ:لاپتہ افراد کی بازیابی اور آن لائن کلاسز کیخلاف نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کا مظاہرہ

سہب حال (مانیٹرنگ ڈیسک)

بلوچستان کے مقبول آن لائن جریدے ’’ حال حوال ‘‘ کے مطابق نیشنل پارٹی اور بی ایس او بچار کی جانب سے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی، بلوچستان میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں مسنگ پرسنز کے ماما قدیر، وائس چئیرمین نصراللہ بلوچ اور دیگر افراد نے بھی شرکت کی۔

احتجاجی مظاہرے سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر اسحاق بلو چ، صوبائی نائب صدر رحمت صالح بلوچ، ضلعی صدر حاجی عطا محمد بنگلزئی، صوبائی اطلاعات علی احمد لا نگو، صوبائی سوشل میڈیا سیکریٹری سعد دہوار بلوچ، کلثوم بلوچ، سمی بلوچ، عبید لاشاری، نصراللہ بلوچ، ڈاکٹر طارق بلوچ، سکند ملازئی، انیل غوری، ریاض زہری اور ڈاکٹر عمیر بلوچ نے خطاب کیا۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی کا شروع دن سے یہی مؤقف رہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اسے سیاسی اصولوں اور اقدار کے مطابق ہی حل کیا جا سکتا ہے اور اس کا پائیدار حل جامع سیاسی مذاکرات میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں پرامن بلوچستان کے نام سے ایک جامع پالیسی بنائی جس میں مسنگ پرسنز کی بازیابی، بلوچستان میں غیر ریاستی مسلح دستوں کا خاتمہ اور پرامن بلوچستان کی جانب مربوط حکمت عملی اور روڈ میپ تھا۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اس دوران بلوچستان میں امن رہا، اس سے قبل جرائم پیشہ مسلح دستوں کی وجہ سے کوئی شاہراہ اور شہر محفوظ نہیں تھا۔ بازار سرِشام بند ہوتے تھے اور عوام خوف و ہراس کی زندگی گزار رہے تھے۔ جب حکومت نے ان کا خاتمہ کیا تو عوام نے سکھ کا سانس لیا۔

مقررین نے مزید کہا کہ مو جودہ مصنوعی سلیکٹڈ حکومت کی ناقص اور عوام دشمن پالیسوں کی وجہ سے ایک دفعہ پھر عوام ان مسلح دستوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ کیچ میں برمش کا واقعہ جس میں ان کی والدہ شہید ہوئی اور مند میں کلثوم بی بی کی شہادت حکمرانوں کی بے حسی کی واضح مثال ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی میر غوث بخش بزنجو کے افکار اور سیاست کی بات کرتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ ریاست کا دستوری فرض ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ کرے، لیکن اس کے برعکس ماروائے آئین اور قانون طریقے سے ریاستی امور کو چلایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ریاست کے معاشی، سیاسی، معاشرتی بحران میں دن بدن شدت سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت صوبے میں طلبا، مزدور سمیت ہر مکتبہ فکر سراپا احتجاج ہے لیکن حکمرانوں کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔

مقررین نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی حکومت کا دستوری فرض ہے۔ نیز انٹرنیٹ اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے آن لائن کلاسز کا انعقاد ممکن نہیں ہے، اس لیے حکومت طلبا کے مستقبل سے کھیلنا بند کرے اور آن لائن کلاسز شروع ہونے قبل انٹرنیٹ کی بحالی کو ممکن بنائے   

بشکریہ حال حوال (www.haalhawal.com)

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close