بلوچستانپہلا صفحہتاریخڈیرہ بگٹیسوشل میڈیا

شہید نواب اکبر خان بگٹی کی 93 ویں سالگرہ،سوشل میڈیا پر خراج تحسین

سہب حال

 آج 12 بارہ جولائی کو بلوچستان سمیت دنیا بھر میں نواب اکبر بگٹی کی 93واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے سوشل میڈیا سائٹس کے ذریعے دنیا بھر سے  نواب اکبر بگٹی کو خراج تحسین کے ساتھ ساتھ ان کی جدوجہد و تاریخی کردار پر انہیں خراج عقیدت بھی پیش کیا جا رہا ہے۔

  • 26 اگست 2006 کو اکبر خان بگٹی قتل کو  ایک فوجی آپریشن کے دوران شہید کیا گیا تھا
  • آج اکبر بگٹی کی پیدائش کے دن بلوچستان سمیت دنیا بھر سے انہیں یاد کیا جا رہا ہے
  • 12 جولائی 1927 کو شہید نواب اکبر خان بگٹی بروز منگل بارکھان حاجی کوٹ میں پیدا ہوئے
  • بچپن کا نام شہباز خان تھا مشرقی بلوچستان کے دوسرے بڑے قبیلے بگٹی کے سربراہ تھے
  • ابتدائی تعلیم ڈیرہ بگٹی سے حاصل کی،جسکے بعد والد نے ایچی سن کالج میں داخل کروایا
  • 1939ء میں شہید نواب اکبر خان بگٹی ابھی زیرِ تعلیم تھے کہ  ان کے والد صاحب وفات پا گئے 
  • 1944 کو تعلیم  مکمل کر نے کے بعد کو باقاعدہ قبیلے کے سردار کی حیثیت سے فعال ہوئے

  • 28نومبر 1946ء کو مری بگٹی قبیلے کے دو سردار دودا خان مری اور نواب صاحب نے ایک درخواست کے زریعے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے قبائلی علاقے بھی قلات فیڈریشن میں شامل ہونے چاہئیں اس وقت بلوچستان کے دو حصے تھے ۔قلات اور برٹش بلوچستان 
  • قیام پاکستان کے بعد 1950ء کو نواب اکبر بگٹی ایجنٹ ٹو گورنر جنرل کونسل رکن بننے کے دوران مشیر بنے ۔ ملک فیروز خان مسلم لیگ (ن) کی کابینہ میں بحیثیت نائب وزیر دفاع شامل رہے ۔ 

 

شہید نواب اکبربگٹی کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ایوبی دور میں کرنا پڑاجب 1955ء میں پاکستان کے مغربی حصے کے تمام صوبوں اور ریاستوں کے ساتھ دونوں حصوں کو یکجا کر کے ون یونٹ کے تحت مغربی پاکستان کے صوبے میں یکجا کر دیا گیا۔

1956ء میں قائم شدہ (نیپ) نیشنل عوامی پارٹی کو بلوچستان میں اس وقت مزید پذیرائی ملی جب ایوب کے دور حکومت کے آخر میں حکومتی جبر و تشدد کے باعث تین سردار نواب خیر بخش مری ، نواب اکبر خان بگٹی اور سردار عطااللہ مینگل نیپ میں ہمسفر ہوگئے تو اس وقت کا نعرہ یہ تھا ۔اتحاد کا ایک نشان (عطاء اللہ خیر بخش اکبر خان)

ایوبی حکومت کے خاتمے کے بعد ہی نوب مری اور سردار مینگل نے باقاعدہ نیپ میں شمولیت اختیار کی۔ نواب اکبر خان بگٹی اگر چہ ایبڈو کے سبب پارٹی میں شامل نہ ہوسکے لیکن وہ نیپ کی مکمل حمایت کر تے رہے ۔

بلوچستان کے مبقول لکھاری زرک میر کے مطابق 1952میں ڈیرہ بگٹی اور سوئی سے گیس نکلنے کے بعد نواب بگٹی کی سیاسی اور قبائلی اہمیت بڑھ گئی تھی ۔ وہ سخی منش تھے کہتے ہیں کہ ان کے دستر خوان پر ایک وقت میں پانچ سو افراد کھانا کھاتے ، سبزی اور راشن کے ٹرک آتے تھے۔

1988ء کے انتخابات میں نواب صاحب نے آزادانہ طورپر حصہ لیا۔ انہوں نے بلوچ نیشنل الائنس کی رہنمائی کی ۔ وہ انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعلیٰ بلو چستان مقرر ہوئے۔

  •  16اگست 1990 ء کو کوئٹہ میں مشورے کے بعد جمہوری وطن پارٹی تشکیل دی ۔
  • اکتوبر 1990ء کے انتخابات کے بعد پاکستان میں جو حکومتی ڈھانچے قائم ہوئے تمام پارٹیاں بر سر اقتدار تھیں لیکن جمہوری وطن پارٹی واحد سیاسی جماعت تھی جو حزب اختلاف میں تھی
  •  1993ء میں جمہوری وطن پارٹی نے ایک مرتبہ پھر اپوزیشن برقرار رکھی ۔
  • 1997ء کے انتخابات میں حصہ لینے سے نواب صاحب ممبر نیشنل اسمبلی اور بطور صوبائی ممبر نواب سلیم بگٹی کا انتخاب عمل میں آیا

جنوری 2005ء میں ڈاکٹر شازیہ کیس نے پورے بلوچستان میں ایسی آگ لگائی جو آج تک نہ بجھ سکی۔۔اس واقعہ کے بعد ڈیرہ بگٹی سمیت پورے بلوچستان  میں حالات کشیدہ ہوگئے۔

کہا جاتا ہے کہ 7جنوری2005 ء سے 11 جنوری تک راکٹ حملوں میں پاکستان پیٹرول لمیٹڈ، پی پی ایل کو 230 ملین روپے جبکہ گیس سپلائی معطّل ہونے سے پاکستان کو 120 ملین روپیہ کا یومیہ نقصان ہوا تھا۔

ڈاکٹر شازیہ کیس سے نواب صاحب نے بلوچ روایات کو نئی زندگی دی۔10 جنوری کو انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شازیہ کو کیپٹن حماد کی قیادت میں 3اہلکاروں نے رات بھر زیادتی کا نشانہ بنایا لیکن کیس نہیں دب سکا ۔ بلوچ اپنی سرزمین و علاقے میں اس قسم کے شرمناک معاملات کو کسی طوربرداشت نہیں کرینگے۔

17مارچ کو سانحہ ڈیرہ بگٹی پیش آیا۔ ڈیرہ بگٹی میں گھروں پر بمباری کی گئی جس میں70 سے زائد افراد شہید ہوئے۔گولے ڈیرہ بگٹی کی آبادی اور نواب صاحب کے قلعے میں گرے ان کے پرسنل سیکریٹری رفیق بگٹی زخمی اور دو افراد شہید ہوگئے۔وہ بی بی سی کو انٹرویو د ے رہے تھے کہ گولے کی آواز آئی نواب صاحب نے کہا ہم پر جنگ مسلّط کردی گئی ہے۔

ایک دفعہ نواب بگٹی اسلام آباد میں قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے گئے تو وہاں اسمبلی کے اردگرد اس قدر باڈی گارڈز کھڑے ہوگئے جہاں جنگ اخبار نے اس کی تصویر لگائی اور کیپشن لکھا ” گھبرایئے نہیں یہ اسمبلی کا گھیرائو نہیں بلکہ نواب اکبر بگٹی کے باڈی گارڈز ہیں

  • نواب بگٹی نے تین شادیاں کی تھیں جن میں ایک بگٹی ایک پختون اور ایک میمن سندھی تھیں
  • پہلی بگٹی اہلیہ سے چار بیٹے نوابزادہ سلیم بگٹی ، ریحان بگٹی ، طلال بگٹی،اور سلال تھے
  • پختون سے جمیل اکبر بگٹی اور دو بیٹیاں ہیں جبکہ سندھی میمن سے ایک بیٹا شاہ زور ہیں 

نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد جس بدامنی نے بلوچستان کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا وہ اب بھی موجود ہے۔بلوچستان کے حوالے سے سیاسی پارٹیاں پپپلز پارٹی،ن لیگ اور تحریک انصاف بلوچستان میں سابق ڈکٹیٹر مشرف دور کی پالیسیوں کو مورد الزام ٹھہراتی آئی ہیں۔لیکن حقیقت میں حکومتیں تبدیل ضرور ہوئیں ہیں لیکن مشرف دور کی پالیساں بلوچستان میں اب بھی ویسے کی ویسے ہی موجود ہیں 

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close