بلوچستانپہلا صفحہڈیرہ غازیخان

پولیس گردی کیخلاف،بلوچ طلبہ الائنس کے ڈیرہ غازیخان اور پسنی میں احتجاجی مظاہرے

سہب حال(مانیٹرنگ ڈیسک)

 ڈیرہ غازی خان میں بلوچ طلبا الائنس کے زیراہتمام  کوئٹہ میں پولیس گردی سے متاثرہ طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں درجنوں طلبا و طالبات نے شرکت کی

مظاہرین نے کوئٹہ میں پرامن احتجاج کے دوران طلبا کی گرفتاریوں اور طالبات کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت کی اور کہا کہ بلوچستان حکومت طلبا کو انصاف فراہم کرنے میں‌ ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے طلبا پر جب بھی سخت وقت آیا، کوہِ سلیمان کے طلبا اور عوام شانہ بشانہ ان کے ساتھ ہوں گے۔

بلوچستان کے آن لائن جریدے ’’ حال حوال ‘‘ کے مطابق پسنی کے طالب علموں کی جانب سے کوئٹہ میں آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج پر طلبا و طالبات پر پولیس تشدد اور گرفتاری کے خلاف پسنی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ریکارڈ کرایا گیا۔طلبا نے مختلف پلے کارڈ ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے، احتجاجی مظاہرے میں طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی

احتجاجی مظاہرہ سے الیاس اللہ بخش اور اکرم اسلم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں طالبات کے پرامن احتجاج پر پولیس کا دھاوا بولنا اور طالبات کو گرفتار کرنا قابلِ مذمت و افسوس ناک عمل ہے۔

کرونا وائرس کے پیش نظر کوئٹہ میں بلوچ طلبا اور طالبات آن لائن کلاسز کے خلاف پرامن احتجاج کر رہے تھے جو کہ ان کا آئینی حق ہے، بلوچستان کے چند شہروں کے سوا باقی پورے بلوچستان میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے۔

صوبائی حکومت ایچ ای سی کے فیصلے پر احتجاج کرنے اور طلبا و طالبات کا ساتھ دینے کے بجائے اپنے حق کے لیے احتجاج کرنے والے طلبا و طالبات کو پرامن احتجاج سے روکنا بھی آئین کے خلاف ہے۔

پُرامن احتجاج پر تشدد کرنا اور طلبا و طالبات کو سلاخوں کے پیچھے قید کرنا موجودہ صوبائی حکومت کی نااہلی ہے۔ بلوچ مائیں اور بہنیں ہماری عزت ہیں صوبائی حکومت کو اس واقعے پر بلوچ قوم سے معافی مانگنی چاہیے

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close