بلوچستانپہلا صفحہکوئٹہ

کوئٹہ: آن لائن کلاسز کیخلاف احتجاج،درجنوں طلبہ گرفتار،ٹوئٹر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیا کا کوئٹہ میں گرفتار طلباء کی رہائی کا مطالبہ

کوئٹہ (سہب حال) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایچ ای سی(ہائر ایجوکیشن کمیشن) کی طرف سے آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کرنے والے 60 کے قریب طلبہ و طالبات کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیاء نے کوئٹہ میں آن لائن کلاسز کے لیے بلوچستان میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے لیے گرفتار طلباء کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے حکام کو کوئٹہ میں زیر حراست تمام طلبا کو فوری طور پر رہا کرنا چاہئے جو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے انٹرنیٹ تک رسائی کا مطالبہ کررہے تھے۔ آزادی اظہار اور پرامن اسمبلی کے ان کے حقوق کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہئے۔

طلبہ احتجاج کیوں کررہے ہیں۔۔؟

بلوچ سٹوڈنٹس الائنس کی کال پر بلوچستان کی مختلف طلبہ تنظییں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے یونیورسٹیوں میں کورونا کے باعث آن لائن کلاسز شروع کئے جانے کے فیصلے کے خلاف پچھلے تین دنوں سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے ہوئے تھیں۔

 آج بروز بدھ کو بھوک ہڑتالی کیمپ سے طلبہ و طالبات نے احتجاجی ریلی نکالی۔ طلبہ بلوچستان اسمبلی اور بلوچستان ہائیکورٹ کی عمارت کے باہر مظاہرہ کر کے احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے تھے تاہم پولیس نے انہیں ٹیکسی سٹینڈ پر روک لیا۔

  یہ بھی پڑھیے

طلبہ کی گرفتاری پر پولیس کا موقف

پولیس کا موقف ہے کہ مظاہرین کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے۔ شہر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔جس کی وجہ سے آگے جانے کی کوشش پر پولیس کی جانب سے 40 کے قریب مظاہرین کو گرفتار کرکے بجلی روڈ اور سٹی تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا موقف

بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی وائس چیئرپرسن صبیحہ بلوچ کے مطابق صوبے میں آن لائن کلاسز کا فیصلہ زمینی حقائق کو دیکھے بغیر کیا گیا۔ سات اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولت سرے سے دستیاب ہی نہیں۔ طلبہ احتجاج اسی لیے کر رہے ہیں کہ پہلے انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے اس کے بعد آن لائن کلاسز میں شرکت لازمی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں طلبہ کو میسر وسائل پر بھی نظر ڈالی جائے اور اس کو دیکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں تو سب کے لیے بہتر ہوگا۔

سٹوڈٹنس ایکشن کمیٹی کے رہنما مزمل خان کے مطابق احتجاج کرنے والے طلبہ میں سے 60 کو پولیس نے کوئٹہ پریس کلب کے قریب حراست میں لیا ہے۔حراست میں لیے جانے والے ان طلبہ میں چار لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

میڈیکل کی طالبہ ماہ رنگ بلوچ کا موقف

احتجاج میں شریک میڈیکل کی طالبہ ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے 70 سے 80 فیصد علاقوں میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کی سہولت ہی دستیاب نہیں۔جن علاقوں میں انٹرنیٹ موجود ہے وہاں 12 سے 16 گھنٹے کی بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ بہت سے طلبہ کے پاس لیپ ٹاپ نہیں ایسی صورت میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا یونیورسٹیوں میں آن لائن کلاسز کے ذریعے تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپنے آئینی حق کے لیے پرامن احتجاج کرنے والوں کو نہ صرف پولیس نے گرفتار کیا بلکہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ 

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کوئٹہ میں طلبہ کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی طلبہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج کے حق کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔اس حکومت میں آوازوں کو کچلنے کی من مانی ایک معمول بن چکی ہے۔

  طلبہ کی گرفتاری سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی

طلبہ کو حراست میں لیے جانے کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر کئی صارفین کی جانب سے ان کی رہائی کے مطالبات سامنے آنے لگے اور ’ریلیز آل سٹوڈنٹس‘ ٹرینڈ بن گیا ہے۔

ماما قدید بلوچ نے اپنے ٹیوٹر اکاونٹ میں لکھا ہے کہ کوئٹہ میں آنلائن کلاسزکےخلاف احتجاج کرنےوالےبلوچ خواتین پرتشدد بعدازگرفتاری انتہائی شرمناک عمل ہےاور اسکی جتنی بھی مذمت کی جائےکم ہے۔ میں سول سوسائٹی سےکہتا ہوں کہ خواتین کی گرفتاری کےخلاف سڑکوں میں آجائیں اوربھر پھور احتجاج کریں۔

میڈیکل کی طالبہ ماہ رنگ بلوچ نے اس و یڈیو کو گرفتاری کے وقت پولیس وین میں ریکارڈ کیا وہ کہتی ہیں کہ ’جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہم گذشتہ ماہ سے آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ہم ایچ ای سی کو کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان میں آن لائن کلاسز نہیں ہو سکتیں۔‘وہ کہہ رہی ہیں کہ ’آج بھی وہی رویہ ہمارے ساتھ اپنایا گیا ہے جو ایک عرصے سے بلوچستان کے عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں طلبہ کا انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کے باوجود یونیورسٹیوں کی جانب سے آن لائن کلاسوں کے انقعاد کے خلاف احتجاج جاری ہے جس میں لاہور کے طلبہ بھی شامل ہیں۔

ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت نے سکول کالجز بند کر کے انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن کلاسوں کا حکم دیا۔ تاہم مختلف یونیورسٹیوں اور کالجز کی جانب سے آن لائن کلاسیں دینے کا آغاز ہوتے ہی طلبہ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

بلوچستان،ڈیرہ غازیخان کا قبائلی علاقہ کوہ سلیمان اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے انٹرنیٹ سہولت نہ ہونے پر طلبہ کا ردعمل سامنے آیا جس میں ان کلاسوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم حکومت کی جانب سے طلبہ کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ نہ دی گئی۔

سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی کال پر مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ ایک طرف بیشتر طلبہ انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے پر آن لائن کلاسیں نہیں لے پا رہے۔ تو دوسری جانب یونیورسٹیوں اور ہوسٹلوں کی فیسیں بھی باقائدگی سے ادا کرنا پڑ رہی ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close