بلوچستانپہلا صفحہ

حکومت سے علیحدگی کے بعد سردار اختر مینگل کے ٹی وی انٹرویوز

سہب حال (مانیٹرنگ ڈیسک) دوسرا آخری حصہ

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ورکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ 6نکات پر اب تک پانچ کمیٹیاں بنانے والی وفاقی حکومت کو ہمارا مذاق اڑانے میں لذت آرہی ہے ہم نے حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ مجبوری میں کیا ہے اپنے لوگوں کو جوابدہ ہیں

وفاق سے وزارتیں نہیں بلکہ بلوچستان کے جملہ مسائل کا حل مانگا تھا جسے محض یقین دہانیوں تک محدود رکھا گیا سیاسی جماعتوں کے مابین اتحاد صلاح ومشورے اور اعتماد کی بنیاد پر ہوتا ہے تاہم یہاں ان سب چیزوں کا فقدان نظر آرہا ہے صوبائی حکومت اپوزیشن جماعتوں کیخلاف انتقامی کارروائیاں کررہی ہے 

بلوچستان عوامی پارٹی اگر مرکز میں پی ٹی آئی سے علیحدہ ہوئی تو درگار لعل شہباز قلندر پر چادر چڑھاؤں گا

ان خیالات کا اظہارانہوں نے ”آن لائن“ نیوز ایجنسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ مرکز میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ا تحاد کے موقع پر ہم نے وہ 6نکات سامنے رکھے تھے جسے سپریم کورٹ میں بھی پیش کیا گیا تھا اگر حکمرانوں کی یاداشت کمزور ہوگئی ہے تو وہ سپریم کورٹ میں پیش کئے جانے والے ان چھ نکات کو دہرا لیتے تو شاید ہمارے مسائل کسی حد تک حل ہوچکے ہوتے

مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے 6نکات پر 4سے پانچ کمیٹیاں تو تشکیل دی گئی مگر ان کے حل کی جانب توجہ نہیں دی گئی جس کے بعد ہمیں یہ یقین ہوگیا کہ مرکز کو ہمارا مذاق اڑانے میں لذت آرہی ہے جس کی بنیاد پر کمیٹیوں کے ارکان ہمارے نکات کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر دستخط تو کر لیتے ہیں مگر بعد میں ردی کی ٹوکری کی نظر ہوجاتے ہیں

انہوں نے کہا کہ ہمیں بلوچستان کے عوام نے یقین اور اعتماد کے ساتھ بھاری مینڈیٹ دیا ہے اور ہم انہیں جوابدہ ہیں مرکزی حکومت شاید کسی کو جوابدہ نہ ہو مگر ہمیں ایک بار پھر اپنے ہی لوگوں کے پاس جانا ہے جس طرح کی روش ہمارے ساتھ رواں رکھی جارہی ہے ایسی صورتحال میں اتحاد میں رہتے تو اپنے لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکتے تھے جس کی بنیاد پر ہم نے حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کیاہے اور یہ فیصلہ ہماری مجبوری بن چکا تھا

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی بارہا ہم مسائل کے حوالے سے مرکز کو یادہانی کرواتی رہیں مگر مرکزی حکومت نے کبھی ہمیں ایک اتحادی کے طور پر نہیں لیا یہی وجہ تھی کی اہم حکومتی فیصلوں میں مشاورت نہیں کی جاتی تھی سیاسی جماعتوں کے مابین ہونے والے اتحاد میں باہمی صلاح ومشورے اور اعتماد انتہائی اہم عنصر ہوتا ہے کیونکہ حکومت کے ہر فیصلے کے اچھے برے اثرات حکومت کے ساتھ ساتھ اتحادیوں پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں مگر یہاں پر حکومت نے شاید ہمیں کبھی ا تحادی کے طور پر قبول نہیں کیا جس کی وجہ سے آج حالات اس نہج تک پہنچ تکے ہیں کہ ہمیں حکومت سے راہ الگ کرنا پڑھ رہی ہے

انہوں نے کہا کہ مرکز میں حکومتی اتحاد سے علیحدگی کے اثرات صوبے میں بھی اثرانداز ہونگے صوبائی حکومت پہلے ہی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ انتقامی کارروائیاں رواں رکھے ہوئے ہیں بلکہ یہاں تو صورتحال ایسی ہوچکی ہے کہ نہ صرف اپوزیشن بلکہ صوبائی حکومت اپنے اتحادیوں کے حلقوں میں بھی ان کے مخالفین کی معاونت کررہی ہے جس کی وجہ سے ان کے اپنے ا تحادی بھی نالاں نظر آرہے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی نے وفاقی حکومت سے علیحدگی کا عندیہ دیا ہے اور اگر ا یسا ہوا تو میں لعل شہباز قلندر پر چادر چڑھاؤں گا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی سینئر صحافی حامد میر کیساتھ گفتگو

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کیساتھ  گفتگو

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی سینئر صحافی  کاشف عباسی کیساتھ بات چیت

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی سینئر صحافی طارق محمود کیساتھ بات چیت

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی سینئر صحافی ارشد شریف کیساتھ گفتگو

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی اینکر پرسن منصور علییخان کیساتھ بات چیت

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

5 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close