بلوچستانپاکستانپہلا صفحہتاریخکالم

صدیق بلوچ بلوچستان کے عہد ساز صحافی اور استاد

ملک سراج اکبر

لالہ صدیق بلوچ بلاشبہ ہمارے عہد کے عظیم ترین بلوچ صحافی تھے۔ جب پیر چھ فروری کو وہ 78سال کی عمر میں کراچی میں سرطان سے چار سالہ جنگ میں زندگی کی بازی ہار گئے تو انھوں نے بلوچستان میں اپنے پیچھے سینکڑوں ایسے سوگوار صحافی چھوڑے جوان کی تقلید کرتے ہوئے صحافت کے شعبے میں داخل ہوئے تھے۔ صدیق بلوچ تیس سال تک کراچی میں “ڈان” اخبار سے وابستہ رہنے کے بعد جب بلوچستان گئے اور وہاں انگریزی اخبار “بلوچستان ایکسپریس” کا اجرا کیا تو انھوں نے وہاں کی صحافت کا رخ ہی بدل دیا۔ اگرچہ بلوچستان کئی دہائیوں سے پسماندگی اور فوج کشی کا شکاررہا تھا،صدیق بلوچ نے پہلی مرتبہ ملکی پالیسی سازوں ، غیرملکی سفارتکاروں اوربلوچستان سے باہر مقیم لوگوں کو انگریزی زبان میں صحیح معنوں میں بلوچستان کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔

آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے پہلی مرتبہ بلوچستان کا مقدمہ انگریزی زبان میں پیش کیا۔ چونکہ انھوں نےجامعہ کراچی سےاکنامکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی اورانھیں بلوچستان کے معاشی مسائل پر غیرمعمولی عبور حاصل تھا تو انھوں نے اپنے اداریوں اور مضامین میں قارئین کو ایسی معلومات فراہم کی جو بمشکل کہیں اور دستیاب ہوتی۔انھیں بلوچستان کے چپہ چپہ، گاوں گاوں کا پتہ ہوتا ۔ جس طرح وہ بلوچستان کی جغرافیہ اور ثقافت سے واقف تھے شاید ہی کسی صحافی کو بلوچستان کے بارے میں اتنا پتہ ہو۔

وہ بیک وقت گوادر پورٹ، سیندک، ریکوڈک، دودر سے لے کر بلوچستان میں پانی، آبپاشی اور امن و امان کے امور کے ماہر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بلوچستان کے ہر معاشی منصوبہ پر گہری نظر رکھتے تھے اور فوری طور پر یہ بتا سکتے تھے کہ آیا یہ منصوبہ کامیاب ہوگا یاناکام ۔ حکومتِ بلوچستان میں خزانہ اور پلاننگ کے محکمہ جات کے اعلیٰ آفسران ان سے مشورہ لیتے تھے۔،بی بی سی سے لے کر وائس آف امریکہ جیسے بڑے عالمی نشریاتی اداروں سے وابستہ صحافی کئ سالوں سے بلوچستان کی معیشت ،سیاست اور ثقافت کو سمجھےکے خاطر ان کے انٹرویوز پر انحصار کرتے آرہے ہیں۔ ان کی تحاریر ہر طرح سے بلوچستان میں حکومتی پالیسی پر اثراانداز ہوتی رہی ہیں۔ سیاست دان اور بیوروکریٹ یکساں طور پر ان کی رائے کو سنجیدگی سے سنتے تھے۔

میری صدیق بلوچ سے پہلی ملاقات اگست 2004 میں کوئٹہ میں ہوئی۔ تحفظِ ماحولیات کے عالمی ادارے آئی یو سی این نے بلوچستان کے صحافیوں کے لئے دو ہفتوں پر ایک مطالعاتی دورے کا اہتمام کیا تھا۔میں اپنے آبائی گاوں پنجگور سے بلوچستان ایکسپریس میں ایڈیٹر کے نام خطوط اور مضامین لکھتا تھا۔ یوں کبھی کبھار ان سے فون پر بات ہوتی تھی۔ (لکھاری بھلا ایڈیٹر صاحب کو کس مقصد کے لئے فون کرتے ہیں؟ ظاہر سی بات ہے۔ ہم سب کا ایک ہی سوال ہوتا ہے: “سر میرا مضمون کب چھپے گا؟“)۔

اسی سال جولائی میں سابق وفاقی وزیر اطلاعات جاوید جبار سے کراچی میں نوجوانوں کی ایک کانفرنس میں ملاقات ہوئی تھی اور میں نے انھیں کہا کہ میں مستقبل میں صحافی بننا چاہتا ہوں تو انھوں نے فوری طور پر کہا’’ اگرصحافی بننا ہے تو صدیق بلوچ جیسا بنو۔” ۔“ڈان” میں ان کا “ڈیٹ لائن کوئٹہ‘‘ اور پھر ’’بلوچستان ایکسپریس‘‘ میں اداریے اور مضامین پڑھ کر میں نے انھیں اپنا آئیڈیل بنایا۔میں بے صبری سے ان سے ملنا چاہتا تھا اور سب سے پہلے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ آپ اتنا کیسے لکھتے ہیں؟

جب آئی یو سی این کے مطالعاتی دورے پر مجھےان کے ساتھ اسلام آباد، پشاور، ایبٹ آباد، گلگت، اسکردو اور دیگر شمالی علاقہ جات کا جانے کا موقع ملا تو اس موقع سے ہمارے درمیان استاد شاگرد کے ایک ایسے تعلق کا آغاز ہوا جسے میں اپنی زندگی میں سیکھنے کا بہترین موقع سمجھتا ہوں۔ اسی ٹور پر مجھے پتہ چلا کہ سب صدیق بلوچ کو ’’لالہ ‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔

میرےاس مضمون کا بنیادی مقصد تو صدیق بلوچ کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے لیکن اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ میں ان کی ان خوبیوں کا بھی حوالہ دوں جو میں نے ان سے کئ سالوں کی قربت میں دیکھیں ۔ ان کی یہ خوبیاں ہم میں سے بہت ساروں کے لئےمددگار ہوسکتی ہیں۔

وقت کی پابندی

اگرچہ لالہ ہمارے آئی یوسی این کے مطالعاتی وفد میں سب سے عمر رسیدہ صحافی تھے، وہ ہمیشہ صبح ناشتہ کی میز پر پہنچے والے پہلے شخص ہوتے تھے۔ صحافی اپنے بارے میں بڑے فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ وہ صبح دیر سے اٹھتے ہیں۔ صدیق بلوچ ایسے نہیں تھے۔ وہ صبح سویرے اٹھتے تھے،اخبارات کا مطالعہ کرتے تھے اور اگلے دن کا اداریہ صبح سویرے ہی لکھتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ صبح ان کے دفتر میں (جو ان کے گھر کے نیچے والی منزل پر واقع تھا) خاموشی ہوتی ہے اور وہ تازہ ذہن کے ساتھ اپنا اداریہ لکھ سکتے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ جو اداریہ یا مضمون ڈیڈلائن پر جلد بازی میں لکھا جائے اور اخبار میں شائع ہو، اس میں غلطی کا زیادہ امکان ہوسکتا ہے۔ اسی لئے وہ اداریہ کا پہلا ڈرافٹ لکھ کر دن کے دیگر کاموں میں لگ جاتے تھے اور شام کو دفتر آکر دوبارہ اسی اداریے کی ایڈیٹنگ کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ پہلے ڈرافٹ اور فائنل ڈرافٹ میں تھوڑا وقفہ ہونا چایئے کیونکہ اس سے لکھنے والے کو اپنے لکھے ہوئے الفاظ کی نظرثانی کا موقع ملتا ہے۔

تعلقات

صحافت میں اچھے تعلقات کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہوتی ہے۔ لالہ لوگوں سے اچھے اور برے وقتوں میں رابطہ رکھتے تھے۔ ان کے اعلیٰ حکومتی اہلکاروں سے لے کر حزب اختلاف کے بڑے رہنماوں تک سب سے اچھے تعلقات ہوتے تھے۔ وہ پالیسی ایشوز پر پیشہ وارانہ انداز میں تنقید کرتے تھے ۔ ان کی تنقید ذاتیات پر نہیں بلکہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر مبنی ہوتی ۔ کئی سالوں تک ان کی عادت تھی کہ صبح اداریہ لکھنے کے بعد اپنا ٹیلی فون اٹھا کر لوگوں سے سلام دعا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ لوگوں سے اس وقت سلام دعا کرو جب آپ کو ان کی ضرورت نہیں۔ اخبار میں چھپنے والی خبروں اور مضامین کے بعد انھیں ہر صبح حکومتی اداروں اور سیاسی جماعتوں کی کالز آتی تھیں اور وہ بڑے خندہ پیشانی اور اطمینان سے لوگوں کی تنقید سنتے اور اس کا جواب دیتے ۔اتوار کےروز ان کے گھر میں کوئٹہ کے صحافیوں کے لئے بریانی یا مچھلی کا اہتمام ہوتا تھا جس میں تمام صحافی اپنے اداروں کے اختلافات بالائے تاک رکھ کر جاتے؛ اس موقع پر تمام صحافی بریکنگ نیوز سے بریک لے کر ہنسی مذاق میں اچھا وقت گزارتے۔

عاجزی

صدیق بلوچ عموماً صدر پاکستان اور ویزاعظم کے ساتھ سرکاری دوروں پرسفر کرتے تھے۔ وہ تیس سال تک” ڈان” جیسے بڑے اخبار سے وابستہ رہے۔ دو مرتبہ کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر رہے۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی ( اے پی این ایس) اور کونسل اور پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔بلوچستان کا ہر گورنر اور وزیر اعلیٰ انھیں ذاتی طور پر جانتا تھا لیکن اس کے باوجود لالہ نے پوری زندگی سادگی اور انکساری سے گزاری۔ وہ ہر ایک سے ملتے تھے۔ جہاں عام رپورٹرز قیمتی گاڑیوں میں سفر کرتے تھےوہ ایک اسکوٹر پر سفر کرتے تھے ۔وہ اپنا سودا سلف خود کرتے تھے۔

حوصلہ افزائی

ایک روز لالہ کے پاس بیٹھا تھا تو وائس آف امریکہ کے ایک صحافی کی کال آئی۔ وہ لالہ سے بلوچستان سے متعلق کسی مسئلے پر انٹرویو لینا چاہتے تھے۔ انھوں نے انٹرویو دینے سے معذرت کرتے ہوئے اس صحافی سے کہا کہ اس موضوع پر میں آپ کو بلوچستان کے ایک ابھرتے ہوئے صحافی سے انٹرویو کرنا چائیے کیونکہ اسے اس موضوع پر مجھ سے زیادہ پتہ ہے۔ انھوں نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے مذکورہ صحافی کو مجھ سے انٹرویو کرنے کا مشورہ دیا اور فون رکھ دیا اور کہا “ملک تیار ہوجاو۔ وی او اے والے تمہارا انٹرویو کرینگے“۔ میں نے اپنی زندگی میں وائس آف امریکہ کو کبھی انٹرویو نہیں دیا تھا۔ میں نے زندگی میں بہت کم ایسے لوگ دیکھے ہیں جو موقع دیکھ کر خود پیچھے ہٹ جائیں اور اپنے سے جونیئر کو آگے کریں۔

مجھے پتہ تھا کہ میں لالہ کے سامنے کچھ بھی نہیں لیکن اتنا بڑا صحافی ایک جونئیر صحافی کی حوصلہ افزائی کی خاطر کہہ رہے تھے اسے مجھ سے زیادہ پتہ ہے۔ اور یوں لالہ نے خود پیچھے ہٹ کر مجھے وائس آف امریکہ میں متعارف کرایا۔یہ سلسلہ یہاں رکا نہیں۔ ایک بار ہیرالڈ میگزین ے لالہ سے گذارش کی کہ وہ بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات پر ایک مضمون لکھیں۔ لالہ نے پھر وہی حربہ اپنایا اور کہا کہ میں آپ کو ایک اور صحافی سے متعارف کرنا چاہتاہوں جو اس موضوع پر مجھ سے بھی بہتر لکھتا ہے۔ مجھے پتہ تھا کہ لالہ یہ سب کچھ اس لئے کہہ رہے ہیں تاکہ وہ مجھے آگے آنے کا موقع دیں۔ وہ کہتے تھے کہ نوجوان ہی مستقبل کے معمار ہیں اور انھیں پروموٹ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

یقیناً بلوچستان کے بہت سارے ایسے صحافی ہیں جو آپ کو لالہ سے جڑی اسی طرح کی کہانی سنائیں گے کہ انھوں نے کہیں نوکری کی آفر ٹھکرا کر جونئیر صحافی کو آگے کیا تو کبھی ملکی اور غیر ملکی ٹور کا موقع آیا تو خود پیچھے ہٹے اور نوجوانوں کوآگے بڑھنے کا موقع دیتے۔ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی اشد کمی ہے جو نوجوانوں کو آگے جانے میں اس قدر مدد کرتے ہیں۔

ٹھکانہ

جس دن میں نے بلوچستان ایکسپریس میں پانچ ہزار کی تنخواہ پر نوکری شروع کی تو لالہ نے وارننگ دی۔ “دیکھو، صحافت میں پیسہ نہیں ہے۔ اگر پیسہ کمانا ہے تو جاو منشیات بیچو۔‘‘ پہلے تو ہمیں لالہ کی یہ بات ناگوار گزاری لیکن ہم نے جلد ہی رب کا شکرادا کیا کہ انھیں صحافیوں کی مالی حالت کا پتہ تھا۔ ہم میں سے بیشتر لوگ تو صرف اس لئے صحافی بننا چاہتے تھے کہ ہمیں صحافت کا شوق تھا۔ تھوڑے عرصے کے بعد پتہ چلا کہ ہم چند نوجوان صحافی ایسے بھی تھے جن کا تعلق اندرون بلوچستان سے تھا اور کوئٹہ میں رہائش کے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور ہم لوگ گاوں بھی نہیں جاسکتےتھے ۔اس کے باوجود ہر حال میں صحافی بننے کا شوق بھی تھا۔

چنانچہ لالہ نے ہم سب کو اپنے گھر (یعنی اخبار کے دفتر ) میں جگہ دی۔ کہا ٹھکانہ اور کھانااللہ کے ہاتھ میں ہے باقی تم لوگ بس اپنے (صحافتی )کام پر توجہ دو۔ یوں ہم لوگ کئی مہینوں بلکہ سالوں تک مشکل حالات میں لالہ کے “مہمان” رہے۔ ان کے دروازے بلوچستان بھر کے صحافیوں کے لئے کھولے ہوتے تھے۔ یوں کرتے تھے انھوں نے بلوچستان میں صحافیوں کی ایک نسل پیدا کی۔

مستقل مزاجی

بلوچستان میں صحافت کرنا کسی کے لئے بھی آسان نہیں۔ اگرچہ لالہ کی حتی الوسع کوشش ہوتی کہ وہ حکومت اور حزب اختلاف کو برابر کوریج دیں لیکن حکومت ان سے راضی ہوئی اور نا ہی بلوچ قوم پرست۔ چند سال پہلے تو ایف سی نے بلوچستان ایکسپریس اور آزادی کے دفاتر کا محاصرہ کیا اور انھیں مجبور کیا کہ وہ صرف فوج اور حکومت نواز خبریں شائع کریں لیکن اس کے باجود لالہ حکومت کے سامنے نہیں جُھکے اور اس وقت تک ڈٹے رہے جب تک ایف سی نے ان کے اخبار کا محاصرہ ختم نہیں کیا۔

اسی طرح چند مہینے پہلے بلوچستان حکومت نے ان کے اشتہارات بند کرکے دونوں اخبارات کا معاشی قتل عام کرنا چاہا لیکن وہ لالہ کو ان کی دلیرانہ صحافت سے روک نہ سکے۔بدقسمتی سے بلوچ قوم پرستوں نے بھی “آزادی” اخبار پر حکومت نواز ہونے کا الزام لگایا جب کہ حقیقت تو یہ تھی” آزادی“اور “بلوچستان ایکسپریس” ایک نڈر ایڈیٹر کی قیادت میں حکومت اور حزب اختلاف کی جنگ میں سینڈوچ ہوگئے تھے۔

عزم

لالہ صحافت کو ایک مشن سمجھتے تھے۔ کوئٹہ میں ان کا مقابلہ بڑے بڑے حکومت نواز اخباروں سے تھا۔حکومت مسلسل ان اخبارات کو اشتہارات دے کر انھیں ’’بلوچستان ایکسپریس‘‘ اور ’’آزادی‘‘ پر سبقت لے جانے میں مدد کرتی تھی، لیکن صدیق بلوچ واضح الفاظ میں کہتے تھے کہ بلوچ انگریز کے زمانے سےحالت جنگ میں ہیں اور انھیں جان بوجھ کر ان کے اپنے وسائل سے محروم رکھا گیا ہے۔ وہ این ایف سی سے لے کر گوادر تک ، میرانی ڈیم سے لے کر ریکوڈک تک ان تمام منصوبوں پر بلوچوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف ڈٹے ہوتے۔ وہ اپنے قلم کے زور سے اقتدار کے ایوانوں کو للکارتے تھے۔ حکومت نے انھیں خاموش کرنے کے لئے ہر ممکن حربے استعمال کئے لیکن وہ اس کے باجود حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف ٓاواز بلند کرتے رہے۔

سفر

بطور صحافی لالہ کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بڑھاپے میں بھی مسلسل پاکستان کے بڑے اور بلوچستان کے چھوٹے شہروں کا باقاعدگی سے سفر کرتے تھے تاکہ انھیں وہاں کے تازہ ترین حالات کا پتہ ہو۔ سفر کی اس عادت کی وجہ سے انھیں بلوچستان بھر کے علاقوں کی ثقافت، زبانوں اور مقامی رسوم و رواج کا پتہ تھا۔ آج کل ٹیکنالوجی آنے کے بعد صحافی خبروں کے حصول کے لئے شارٹ کٹ کی تلاش میں ہوتے ہیں لیکن صدیق بلوچ زندگی کے آخری دنوں تک مسلسل سفر کرتے رہے۔ وہ ایک اچھے صحافی کے ساتھ ایک اچھے سامع بھی تھے۔ وہ باقاعدگی سے سردار عطااللہ مینگل سمیت بلوچستان کی دیگر بڑی شخصیات سے ملتے تھے اور ان کی رائے سنتے تھے۔ لالہ آف دا ریکارڈ گفتگو کے بڑے حامی تھے۔ وہ کہتے تھے کہ صحافی ہر میٹنگ میں اس نیت سے نا جائیں کہ انھیں وہاں سے خبر ملے گی بلکہ کچھ چیزیں ان کی اپنی بیک گرانڈ نالج کے لئے ہوتی ہیں اور اسی لئے صحافیوں کو چائیے کہ وہ اپنے ذرائع سے باقاعدگی سے رابطے میں رئیں۔

مزاح

بلوچستان کے حالات کی وجہ سے کون رنجیدہ نہیں ہے؟ خوف اور غیر یقینی کے اس ماحول میں طنز و مزاح ان کا بڑا ہتھیار ہوتا تھا۔ وہ ہر وقت محفل میں اپنی زمانہ طالب علمی، جیل اور نیپ کے دنوں کی دلچسپ باتیں سنا کر سب کو ہنساتے تھے۔وہ اکثر کہتے تھے کہ میں بمشکل ایک سال گورنر غوث بخش بزنجو کا پریس سیکرٹری رہا لیکن اس کے عوض چار سال تک جیل کاٹنی پڑی۔ کبھی کبھار انجانے میں بھی ان کی باتیں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتے۔

ایک مرتبہ کوئٹہ میں جب ڈبل سواری پر پابندی تھی تو ایف سی نے انھیں انکے بیٹے کے ساتھ گھر جاتے ہوئے پکڑ لیا۔ انھوں نے معذرت کی کہ آئندہ ڈبل سواری نہیں کرینگے لیکن ایف سی اہل کار تھے جو ماننے کو تیار نہیں تھے ۔ لالہ کو غصہ آیا کہنے لگے چلو ٹھیک ہے ہم تینوں کو پھانسی پہ لٹکا دو۔ ایف سی کا جوان حیران و پریشان ہوگیا اور پوچھنے لگا۔ ” ٓاپ تو دو لوگ ہیں یہ تیسرا کون ہے جو آپ کہہ رہے ہیں کہ پھانسی پہ لٹکا دو؟” لالہ نے برجستہ جواب دیا “دو ہم اور تیسرا یہ موٹر سائیکل ہے۔ اس کو بھی پھانسی پر لٹکا دو۔“

تاریخ

موت برحق ہے۔ صدیق بلوچ بھی بالآخر اسے سفر پر روانہ ہوئے جس پر ہم سب ایک نا ایک دن رخت سفر باندھیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ تاریخ لالہ کو کیسے یاد رکھے گی ۔ لالہ نے اپنی پچاس سالہ صحافتی زندگی میں بلوچستان کی جو خدمت کی ہے وہ شاید کسی حکومت نے نہیں کی ہے۔ لالہ اور باقی اخبار مالکان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ان کے اخبارات نے بلوچستان کے صحافیوں کے ایک نسل کے لئے نرسری کا کام کیا۔ جتنے صحافی’’ بلوچستان ایکسپریس‘‘ اور’’ آزادی‘‘ نے پیدا کئے ہیں اتنے کسی اور ادارے نے پیدا نہیں کئے ہیں۔

جب لالہ کے انتقال کی خبرپہنچی تو سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آیا کہ اہلیان بلوچستان مشترکہ طور پر ایک بڑے صحافی کی موت پر ماتم منا رہے ہیں۔ بلوچستان نے کبھی اتنا بڑا صحافی پیدا نہیں کیا ہے اور نا ہی ملک کے سب سے بڑے صوبے نے ایک بڑے صحافی کی موت پر اتنے بڑے پیمانے پر سوگ منایا ہے۔ یقیناً لالہ نے جاتے جاتے بلوچستان کے لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ ایک شخص تنِ تنہا بڑے کام کرسکتا ہے،قلم کے ذریعے اپنی قوم کی خدمت کرسکتا ہے اور کئی پلیٹ فارمز پر آواز بلند کرسکتا ہے۔

لالہ کے انتقال سے بلوچستان کے صحافتی افق پر ایک بہت بڑا خلاپیدا ہوا ہے جسے بھرنا بلاشبہ بہت مشکل ہے لیکن جس بلوچستان میں صدیق بلوچ جیسا صحافی نہ ہو اس میں فرعونیت کا سورج مزید ٓاب و تاب کے ساتھ طلوع ہوگا

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

211 Comments

  1. Wonderful goods from you, man. I’ve understand your stuff
    previous to and you are just too excellent. I actually like what you have
    acquired here, certainly like what you’re saying and the way in which
    you say it. You make it enjoyable and you still care for to keep it wise.
    I can not wait to read far more from you. This is really a great website.
    asmr 0mniartist

  2. Attractive component of content. I simply stumbled upon your site
    and in accession capital to claim that I acquire actually loved account your blog posts.
    Any way I’ll be subscribing to your feeds and even I
    achievement you get admission to persistently rapidly.

    asmr 0mniartist

  3. Fantastic goods from you, man. I have understand your stuff previous to and you’re
    just too fantastic. I actually like what you’ve acquired here, really like what you are saying and the
    way in which you say it. You make it entertaining and you still care for
    to keep it wise. I cant wait to read far more from you.
    This is actually a tremendous website.

  4. hello there and thank you for your info – I have definitely picked up
    something new from right here. I did however expertise some technical issues using this website,
    since I experienced to reload the web site lots of times previous to I could get it
    to load properly. I had been wondering if your web
    host is OK? Not that I’m complaining, but slow loading instances times will sometimes affect your placement in google and can damage your high
    quality score if ads and marketing with Adwords.
    Anyway I’m adding this RSS to my e-mail and could look out
    for much more of your respective fascinating content.
    Make sure you update this again soon.

  5. The other day, while I was at work, my cousin stole my iphone and
    tested to see if it can survive a 30 foot drop, just
    so she can be a youtube sensation. My apple ipad is now destroyed and she has 83 views.

    I know this is completely off topic but I had to share it with someone!

  6. scoliosis
    What i don’t realize is in reality how you’re now not really
    a lot more smartly-appreciated than you might be now.
    You are very intelligent. You understand thus considerably on the subject of this topic, produced me in my opinion imagine it
    from numerous numerous angles. Its like men and women aren’t
    interested until it is one thing to do with Lady gaga! Your own stuffs excellent.
    All the time deal with it up! scoliosis

  7. dating sites
    An impressive share! I have just forwarded this onto
    a co-worker who had been conducting a little homework on this.
    And he in fact bought me dinner due to the fact that I discovered
    it for him… lol. So allow me to reword this…. Thanks for the meal!!
    But yeah, thanks for spending time to talk about this topic
    here on your website. dating sites

  8. I don’t know if it’s just me or if perhaps everyone else encountering issues with your
    site. It appears as if some of the written text in your posts are running off the screen. Can someone else please provide feedback and let me
    know if this is happening to them as well? This could be a problem with my internet browser because I’ve had this happen previously.
    Thanks

  9. Wonderful blog! Do you have any hints for aspiring writers?

    I’m hoping to start my own blog soon but I’m a little lost
    on everything. Would you suggest starting with a free platform like WordPress or
    go for a paid option? There are so many options out there that I’m completely overwhelmed ..

    Any suggestions? Thanks a lot!

  10. I believe everything published made a lot of sense.
    But, think about this, suppose you added a little content?
    I am not saying your information isn’t good, but suppose you added a title that grabbed folk’s attention? I mean صدیق
    بلوچ بلوچستان کے عہد ساز صحافی اور
    استاد – Sohb-e-Haal is kinda plain. You ought to look at Yahoo’s
    home page and see how they create news titles to grab viewers to open the links.
    You might add a related video or a related pic or two
    to get people interested about everything’ve written. Just my
    opinion, it would make your website a little bit more interesting.

  11. Woah! I’m really digging the template/theme of this blog.
    It’s simple, yet effective. A lot of times it’s difficult to
    get that "perfect balance” between user friendliness and visual appeal.
    I must say you have done a superb job with
    this. In addition, the blog loads super quick for me on Chrome.
    Excellent Blog!

  12. Howdy outstanding website! Does running a blog like this take a massive amount work?
    I have absolutely no expertise in programming but
    I had been hoping to start my own blog in the near future.
    Anyway, should you have any ideas or tips for new blog owners please share.

    I understand this is off topic but I just needed to ask. Thanks!

  13. I’m amazed, I must say. Seldom do I come across a blog that’s both educative
    and engaging, and let me tell you, you have hit the nail on the head.

    The issue is something that too few men and women are speaking intelligently about.
    I am very happy that I came across this during my hunt for something concerning this.

  14. Hi there very cool blog!! Guy .. Beautiful .. Wonderful ..
    I will bookmark your website and take the feeds additionally?

    I’m glad to search out so many helpful information here in the post, we’d like work out
    extra techniques in this regard, thanks for sharing.
    . . . . .

    my web-site … Bellissi Moisturizer – mpc-install.com,

  15. I do trust all the concepts you have introduced
    in your post. They’re very convincing and can certainly work.
    Nonetheless, the posts are too short for newbies. Could you please prolong them a little
    from subsequent time? Thanks for the post.

  16. I’m truly enjoying the design and layout of your website.
    It’s a very easy on the eyes which makes it much more pleasant for me to come here and
    visit more often. Did you hire out a designer to create your theme?
    Outstanding work!

    Check out my site; Etsuko

  17. Unquestionably believe that which you said.
    Your favorite reason seemed to be on the web the simplest thing to be aware of.
    I say to you, I definitely get irked while people consider worries that they plainly don’t know about.
    You managed to hit the nail upon the top and defined out the whole thing without having side-effects , people can take a signal.
    Will probably be back to get more. Thanks

    Also visit my webpage http://clubriders.men/

  18. Hey very cool site!! Guy .. Excellent .. Amazing ..
    I will bookmark your website and take the feeds also?
    I am satisfied to search out a lot of useful information here within the post, we want
    develop extra strategies in this regard, thank you for sharing.
    . . . . .

    Feel free to visit my page … Nuubu

  19. Hi there! I could have sworn I’ve visited this blog before but
    after browsing through many of the articles I realized it’s new to me.
    Anyhow, I’m definitely pleased I came across it and I’ll be bookmarking it and checking back
    often!

    Feel free to visit my blog; Kodo Detox

  20. I seldom leave a response, but I looked at a few of the comments on صدیق
    بلوچ بلوچستان کے عہد ساز صحافی اور استاد – Sohb-e-Haal.
    I actually do have 2 questions for you if you tend not
    to mind. Could it be just me or does it seem like a few of the remarks appear like they are written by brain dead folks?

    😛 And, if you are posting on other online sites, I’d like to keep
    up with you. Could you post a list of every one of your social
    pages like your Facebook page, twitter feed, or
    linkedin profile?

    Check out my page; Tri-Bol Testo

  21. I think that what you posted made a bunch of sense.
    But, consider this, suppose you were to write a awesome title?
    I mean, I don’t want to tell you how to run your blog, however suppose you added something that makes people desire more?
    I mean صدیق بلوچ بلوچستان کے عہد ساز
    صحافی اور استاد – Sohb-e-Haal is kinda vanilla.
    You ought to look at Yahoo’s front page and
    watch how they create news titles to grab viewers to open the links.
    You might add a related video or a related picture or two to get
    people interested about what you’ve got to
    say. In my opinion, it would make your posts a little livelier.

    My webpage Keto Vibe Pills

  22. Thank you so much for providing individuals with an exceptionally spectacular chance
    to check tips from here. It’s usually very beneficial
    and also packed with a lot of fun for me and my office colleagues to visit the blog at least three
    times per week to read the latest tips you have.

    Not to mention, I’m just actually fascinated for the terrific advice you
    give. Certain two ideas in this post are unequivocally the finest I’ve ever
    had.

    Check out my blog post – Tri-Bol Testo Reviews

  23. I just wanted to post a small remark in order to express
    gratitude to you for those fantastic points you are giving out at this site.
    My time intensive internet search has at the end of the day been honored with reputable tips to talk about with my
    companions. I would assume that we visitors actually are truly blessed to dwell
    in a perfect website with very many lovely individuals with interesting plans.
    I feel truly privileged to have seen the weblog and look
    forward to really more excellent times reading here.
    Thanks again for all the details.

    Here is my web site; Keto Premium Shot

  24. I really wanted to make a quick word to be able to thank you for the remarkable techniques you are writing on this
    site. My particularly long internet lookup has now been honored with
    sensible know-how to talk about with my classmates and friends.
    I would suppose that we website visitors actually are really endowed to exist in a perfect place with so many brilliant individuals with useful points.
    I feel very privileged to have used your entire webpages and
    look forward to so many more fun minutes reading here.
    Thank you again for all the details.

    Also visit my web site; Keto Premium Shot Reviews

  25. An outstanding share! I have just forwarded
    this onto a coworker who was doing a little homework on this.
    And he in fact ordered me lunch due to the fact that I stumbled upon it for him…
    lol. So let me reword this…. Thanks for the meal!! But yeah,
    thanx for spending some time to talk about this issue here on your
    site.

    My page; Kodo Detox Patch

  26. An outstanding share! I have just forwarded this onto a coworker who has been conducting a little research on this.
    And he actually bought me dinner simply because I stumbled upon it for him…

    lol. So let me reword this…. Thanks for the meal!!
    But yeah, thanx for spending the time to discuss this matter here on your site.

    my webpage Kodo Detox

  27. With havin so much written content do you ever run into any problems of plagorism or copyright
    infringement? My website has a lot of exclusive content I’ve
    either written myself or outsourced but it appears a lot of it is popping it up all over the internet without my permission. Do you know any ways to help
    reduce content from being ripped off? I’d certainly appreciate it.

    Stop by my homepage … Premium Shot Keto

  28. Hello there! This article couldn’t be written much better!
    Reading through this post reminds me of my previous roommate!

    He constantly kept preaching about this. I will
    forward this information to him. Pretty sure he’s going
    to have a good read. Many thanks for sharing!

    Feel free to surf to my web blog; Breeze Tech

  29. Greetings from Carolina! I’m bored at work so I decided to check
    out your blog on my iphone during lunch break. I really like the information you provide here and can’t wait to take a
    look when I get home. I’m shocked at how quick your blog loaded on my phone ..
    I’m not even using WIFI, just 3G .. Anyhow, amazing blog!

    My web site Boltz Pro Reviews

  30. With havin so much content do you ever run into any issues of plagorism
    or copyright violation? My website has a lot of unique content
    I’ve either created myself or outsourced but it looks like a lot of it is popping it up all over the
    internet without my agreement. Do you know any methods to help
    prevent content from being ripped off? I’d definitely appreciate it.

    Feel free to visit my website: Keto Premium Shot Pills

  31. Greetings! Quick question that’s completely off topic.
    Do you know how to make your site mobile friendly?
    My website looks weird when browsing from my iphone 4.

    I’m trying to find a template or plugin that might be able to Metabo Fix this
    issue. If you have any recommendations, please share.
    Many thanks!

  32. I don’t write a great deal of responses, however after browsing through some of
    the comments on صدیق بلوچ بلوچستان کے عہد ساز صحافی اور استاد – Sohb-e-Haal.
    I do have 2 questions for you if it’s allright.
    Is it simply me or does it look like some of these remarks appear as if they are
    left by brain dead visitors? 😛 And, if you are writing at other online sites, I would
    like to keep up with you. Could you list of the complete urls of all your
    social networking sites like your Facebook page, twitter feed, or
    linkedin profile?

    My blog post; Tri-Bol Testo Reviews

  33. We would like to thank you once again for the wonderful ideas you offered Janet when preparing her post-graduate research in addition to,
    most importantly, with regard to providing all of the ideas in a single blog post.
    Provided that we had been aware of your site a year ago, we might have been kept from the
    pointless measures we were employing. Thanks to you.

    My blog; Muama Ryoko Reviews

  34. I have been surfing on-line greater than three hours nowadays, but I by no means found any attention-grabbing article like yours.
    It’s beautiful price sufficient for me. Personally, if all site owners and
    bloggers made good content material as you did, the web will be much more helpful than ever
    before.

    Take a look at my web blog … Helio CBD Reviews

  35. I do not know if it’s just me or if everyone else experiencing issues with
    your site. It appears like some of the text in your content are running off the screen.
    Can someone else please provide feedback and let me know if this is happening to them as well?
    This may be a problem with my internet browser because I’ve had this happen before.
    Cheers

    Have a look at my blog: InstaFrost Portable Air Conditioner

  36. I happen to be commenting to make you know what a extraordinary discovery my friend’s daughter obtained browsing your site.
    She picked up such a lot of pieces, most notably what it’s like to possess a
    great helping heart to get the rest just gain knowledge of certain extremely tough topics.
    You undoubtedly exceeded readers’ desires. Many thanks for giving those powerful, trusted, revealing not to mention unique guidance on your
    topic to Julie.

    Also visit my homepage :: http://foroagua.com/index.php?action=profile;u=595830

  37. hello there and thank you for your information – I’ve certainly picked up
    something new from right here. I did however expertise some technical issues using this
    web site, since I experienced to reload the website a
    lot of times previous to I could get it to load correctly.
    I had been wondering if your hosting is OK?
    Not that I am complaining, but sluggish loading instances times will very frequently affect your placement in google and can damage your high
    quality score if ads and marketing with Adwords.
    Anyway I’m adding this RSS to my e-mail and can look out for a lot more of your respective fascinating content.
    Make sure you update this again soon..

    Check out my page :: InstaFrost Portable AC

  38. I don’t know if it’s just me or if everybody else experiencing issues with your blog.
    It seems like some of the written text within your posts are running off the screen. Can somebody else please provide
    feedback and let me know if this is happening to them too?
    This might be a issue with my browser because I’ve had this
    happen previously. Appreciate it

    Here is my homepage – frun-test.sakura.ne.jp

  39. Unquestionably imagine that that you said. Your favorite justification appeared to be on the internet the simplest factor
    to take note of. I say to you, I definitely get irked while people think about issues that they just don’t recognise
    about. You managed to hit the nail upon the top and defined out the entire
    thing with no need side-effects , other folks could take a
    signal. Will likely be back to get more. Thanks

    Here is my site … astravo.net.ru

  40. I must get across my passion for your kind-heartedness giving support
    to those individuals that must have guidance on in this issue.

    Your personal dedication to getting the solution all through became really important and has surely helped ladies much like
    me to get to their pursuits. Your warm and helpful tips and hints denotes much a person like me and additionally to my peers.
    Thanks a lot; from everyone of us.

    my site – http://Marquita.godwin@lulle.sakura.ne.jp/cgi-bin/kemobook/g_book.cgi

  41. With havin so much content and articles do you ever run into any
    problems of plagorism or copyright violation?
    My website has a lot of unique content I’ve either created myself or outsourced but it looks like a lot of it is popping it up all over the internet without my permission. Do you know any solutions to help
    prevent content from being ripped off? I’d definitely appreciate it.

    Look at my web-site :: Mega Arise Max Reviews

  42. پنگ بیک: buy cheap dapoxetine uk
  43. Hi there just wanted to give you a quick heads up. The text
    in your article seem to be running off the screen in Firefox.
    I’m not sure if this is a formatting issue or something to do with web browser
    compatibility but I figured I’d post to let you know.
    The design look great though! Hope you get the problem solved soon. Kudos

    my website; Mega Arise

  44. Hey would you mind sharing which blog platform you’re working with?
    I’m planning to start my own blog in the near future but I’m having a difficult time choosing
    between BlogEngine/Wordpress/B2evolution and Drupal.
    The reason I ask is because your layout seems different then most blogs and I’m looking for something
    unique. P.S Sorry for getting off-topic but I had to ask!

    My blog post BreezeBox Review

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close