بلوچستانپہلا صفحہجعفر آبادسوشل میڈیافن اور فنکار

مشہورگلوگار،داستان گو واسو خان بلوچ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

سہب حال

 روبینہ اہراہیم زہری نے اپنے ٹیوٹر اکاونٹ سے مشہور گلوگار،داستان گو فنکار واسو خان بلوچ کے بارے میں لکھا ہے کہ ماضی کا مشہور فنکار واسو خان جو شہرت کی بلندیوں کو چھونے کے بعد آج گمنامی اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے۔واسو جسکی 47 سے آج تک داستان کبھی بہت مشہور تھی۔شہزاد رائے نےجسکے ساتھ کئی قسطوں پہ مشتمل ایک مشہور پروگرام کیا۔۔آج جس حال میں وہ ہے بہت دکھ ہوا 

 انور بلوچ اپنے فیس بک پیج پر لکھتے ہیں کہ مشہور گلوگار اور داستان گو واسو خان بلوچ کو بھلا کون نہیں جانتا۔واسو خان بلوچستان کے پسماندہ اور سیاسی جاگیرداروں کی سلطنت کے ذریعے پسے ہوئے ضلع جعفرآباد سے تعلق رکھتا ہے واسو خان اپنی منفرد انداز کی وجہ سے علمی و ادبی اور سیاسی حلقوں میں کافی مشہور تھا جس نے سنہ 1947 سے آج تک سیاسی رہنماؤں، ریاستی پالیسوں، بلوچستان کے سائل و وسائل کی لوٹ کھسوٹ سمیت دیگر قابضین کے لئے مزاحیہ انداز میں داستان پیش کی

شہرت کی بلندیوں کو چھونے کے بعد شہزاد رائے، جیو نیوز سمیت دیگر فن کاروں اور ٹیلی ویژن چینلز نے واسو خان کی مشہوری کو دیکھ کر اسے اسپیس دے کر خوب ویوز حاصل کرلی۔

یاد رہے کہ واسو خان "بلوچ تاریخ” پہ کڑی نظر رکھتا ہے جس نے شہزاد رائے سمیت دیگر آرٹسٹوں کو مہر گڑھ کا سیر و تفریح کے ساتھ مہر گڑھ کی تاریخی حقائق سے آگاہ کرتا رہا ۔ جس نے بلوچ لوک موسیقی، لوک داستانیں اور مشہور شخصیات کے بارے میں بتاتا رہا۔

واسو خان کی شہرت کو دیکھ کر اس ملکی سطح پر ادارے تقریبات کا انعقاد کرکے اسے اسٹیج کا زینت بنا کر خوب داد وصول کی۔واسو خان وہ مزاحیہ اداکار ہے جس نے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کی بھی انٹریو کیا تھا ۔
وقت وقت کی بات ہے آج واسو خان گھریلو مسائل کا شکار ہے بڑھاپے کی وجہ سے اب داستان گو داستان گوئی کر نہیں پاتا بلکہ ایک کسمپرسی کی زندگی لیے خود ایک داستان بن کر دنیا کا نظارہ کرتا پھر رہا ہے۔

لاوارث بلوچستان کی ایک لاوارث فنکار واسو خان اپنی داستان سناتے ہوئے

ماضی کا مشہور فنکار واسو خان۔جو شہرت کی بلندیوں کو چھونے کے بعد آج گمنامی اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے۔واسو جسکی 47 سے آج تک داستان کبھی بہت مشہور تھی۔شہزاد رائے نے جسکے ساتھ کئی قسطوں پہ مشتمل ایک مشہور پروگرام کیا۔۔آج جس حال میں ملا بہت دکھ ہوا۔معاشرے اور حکومت کے ان اداروں کے ارباب اختیار کی بے حسی پہ جو نمود و نمائش کے لئے سب کچھ کرینگے۔مگر جہاں حقیقی ضرورت مند ہو وہاں یہ اندھے ہوجاتے ہیں۔

واسو خان بلوچ بلوچستان کے مسائل اجاگر کرنیکا اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے وہ اہنے انداز میں لوگوں کو گرویدہ کرلیتا ہے اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ واسو خان بلوچ کس طرح بلوچستان کے مسائل کا زکر کرتا ہے

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close