بلاگبلوچستانپہلا صفحہ

 بلوچی ادب کی دنیا کے بےتاج بادشاہ ’’ The great Qazi ‘‘

نعیم بلوچ

بلوچی ادب کی دنیا کے بےتاج بادشاہ "The great Qazi”

وتی زندء کمیں پدی بکن

منء- ھر ھسابء- وتی بکن

نہ تو زندگ ہے نہ من مرتگاں

چشیں جست مارا کدی بکن

چو حیات گونگیں کمبراں

منی ڈہیھ تو منا اوں ودی بکن

اے کہ درد انت دردء دوا نہ انت

منی باند و مرچیء- ذی بکن

تمہید ! بلوچ قوم کی محکومیت و محرومیت تو سب کو عیاں ہیں۔اس سے درکنار میں تذبذب کا شکار ہوں کہ اس قوم کو بدقسمت کہوں یا کاہل؟

کیونکہ یہ وہ واحد قوم ہے جسے اپنے بلوچ ہونے پہ تو فخر ہے لیکن اپنی زبان،علم و ابرو اور وطن کی محبت سے کوئی سروکار نہیں۔

حالانکہ زبان اک ماں کی اولاد کو دی ہوئی آخری نشانی اور اگلی نسل تک پہنچانے کی امانت ہوتی ہے،علم و ابرو بھی مخلوقات اور اشرف المخلوقات کے سرحد کی لکیریں ہیں اور وطن ایمان و ماں ہے۔

دنیا بھر میں کسی پیغام رسانی کے لیے تو انتخابی زبانیں بولی یا لکھی جاتی ہیں۔پر ہم وہ قوم ہیں اپنے ہی شہر کے بازار میں یا ہم زبان سے بھی ٹیکسٹ پر سیکنڈ یا تھرڈ لینگویج بولتے اور لکھتے ہیں۔

ہمارے علم و دانش گاہوں میں شادیاں رچتی ہیں،ہمارے دانش ور اور علم کے طالب سر راہ خون میں لتھ پت ملتے ہیں۔ہماری ماوں بہنوں کو رات کی تاریکی میں ہمیشہ کی نیند سلا دیا جاتا ہے یا پھر سر عام سڑکوں پہ گھسیٹ کے سر سے ابرو کی چادریں گرائی جاتی ہیں

ہم وہ ہیں اپنے ہی گھر میں مالکن سے رزق اور حیات کا بھیک مانگتے ہیں اور ہم وہ مطلب پرست ہیں اپنے لیے تو گٹر اور بجلی کی بندش پر احتجاج پہ اتر آتے ہیں جبکہ کسی بے گناہ کے قتل پہ مذمتی بیان تک دینا گوارہ نہیں کرتے۔

بتاو نا زرا تمھیں فخر کس بات پہ ہے؟

اپنی دلیر ی،بہادری اور ابرو کےلیے مر مٹنے پہ؟

بس کرو! تم بہادر ہو تو صرف اپنوں کو گرانے کے لیے

عورت کے حق کو غاصب کرنے کے لیے

غریب کو بےعزت کرنے کے لیے

طاقتور کو تھاپنے کے لیے

اور قاتل کے لہو سے رنگے ہاتھوں کو دھونے کے لیے

زیرنظر یہ تصویر کسی عام شہری کی نہیں بلکہ اس قوم کے ایک عظیم ترین شاعر کی ہے۔ شاعر اور وہ بھی دائیں بازو کا یقینا” یہ سوال ان لوگوں کے ذہن میں اٹھتا ہوگا جو ان محترم اور مقتدر شاعر سے ناشناسا ہیں۔

اففف! یہ مرجھائے گال اور بےبسی کا سا جھلک

بے شک یہ فرشتہ صفت انسان اگر کسی باشعور قوم کا اثاثہ ہوتا تو کسی تعارف کا محتاج بھی نہ ہوتا۔خیر میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں کہ میں بلوچی ادب کی دنیا کے اس بےتاج بادشاہ کی تعریفیں اور قربانیاں لکھ سکوں۔

صرف اتنا زیرے نظر لاوٴں گا کہ یہ انسان قید و بند کی تکالیف سہنے کے ساتھ ساتھ اپنے بےگناہ نوجوان لخت جگر کے جنازے کو کندھا بھی دے چکے ہیں۔اتنے مشکلات سہنے کے باوجود آج بھی یہ ادیب ڈوبتی ناوٴ کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔اج بھی جہاں حق کے لیے بلوچ ادیب و دانشوروں کے سر خم رہے وہیں یہ ادھیڑ عمر شاعر صف اول میں نظر اے۔ یاد رکھیں مورخ ضرور لکھے گا

"There was no trustworthy & revolutionary contemporary poet in balochi literature in the era of great Qazi”.

ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close