بلوچستانپہلا صفحہ

بلوچستان کا نوجوان آرٹسٹ کریم زیب

جمیل بزدار

حب چوکی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان آرٹسٹ کریم زیب سے میں بہت مثاثر ہوا ہوں
ستائیس سالہ اس نوجوان نے بلوچستان کے نامور ادیب، شعراء، سیاست دان، انسانی حقوق کے ایکٹوسٹس سمیت دنیا بھر کے انقلابی اور ٹیلنٹڈ لوگوں کے سکیچ بنا کر ان کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس کیپٹلسٹ دور میں کسی کے پاس دوسروں کے لیے ایک سیکنڈ نہیں ہوتا وہیں یہ نوجوان اب تک پانچ سو سے زائد لوگوں کے نقوش اپنے پنسل سے کاغذ پر اتار چکے ہیں ۔ قلم کاغذ اور وطن سے جب دوستی ابھر کر آتی ہو تو پھر انسان امر ہوجایا کرتے ہیں ۔


یاد رہے کریم زیب کو مصوری کا پچپن ہی سے شوق تھا اسکول کے دور سے ہی آرٹ کے مقابلوں میں حصہ لیتا رہا لیکن یونیورسٹی میں آکر اس شخص نے خود کو تنقیدی عمل سےگزارا ، اساتذہ اور دوستوں سے مدد لیتا رہا اور آرٹ کو پڑھتا اور سمجھتا رہا۔ یوں تنقیدی عمل سے ہی گزرکر کریم نے اپنے آرٹ کو جان بخشا جسے دیکھ کر ہر دیکھنے والا داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

البتہ ہمارے معاشرے میں اچھے کام کی تعریف تو دور کی بات اس میں نقص نکال کر بلاوجہ منفی تنقید کی جاتی ہے ۔ یہاں لوگ ہر چیز کو اپنی اینگل سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا یہ اینگل کبھی سیدھا ہوا اور نہ کبھی ہوگا۔ لیکن جو انسان اپنا وقت اس قوم اور اس کے ہیروز کےلیے وقف کرتا ہے تو اس کےلیے کم از کم انسان دوست لوگوں کو لکھنا اور آواز اٹھانا چاہیے ، ایسے انسان دوست لوگوں کی ہر پلیٹ فارم سے حوصلہ افزائی ہونا اشد ضروری ہے کیونکہ ایسے لوگ ہی ہمارے اثاثہ ہیں اور ہمارے ہیرو ہیں۔


 نوجوان کریم زیب حب چوکی میں ایک پاور پلانٹ میں کام کرتے ہیں اور ان کے کام کی نوعیت انتہائی کٹھن اور مشکل ہوتی ہے مسلسل آٹھ گھنٹے کام کرنے کے بعد جب یہ واپس آتا ہے تو اس کی دنیا انہی رنگوں سے بھری پڑی ہوتی ہے  یہ پینسل اور قلم اٹھا کر انسان دوست لوگوں کو امر کرنے بیٹھ جاتے ہیں ، پینسل گھوماتے جاتے ہیں اور کاغذ پر کبھی ڈاکٹر شاہ محمد مری ، کبھی اماں نوشین کمبرانی ، کبھی میر محمد تالپور کے چہرے ابھر کر سامنے آنے لگتے ہیں ۔

کہا جاتا ہے کہ وین سیٹ وین گو سورج کے آرٹ بنانے کا شوقین تھا وہ دوپہر تپتی دھوپ میں ٹھہر کر سورج کو دیکھتا اور اس کی تصویر بنانے لگتا اور جس دن اس نے سورج کی وہ تصویر بنا ڈالی جو وہ بنانا چاہتا تھا اسی دن اس نے کھیت میں خود کشی کر لی اور امر ہو گیا۔ کریم زیب نے بھی ایسے ہی لوگوں کی تصویریں بنائی ہیں جو سورج کی طرح چمکتے ہیں اور دنیا کو علم و دانش ، سوچ و فکر اور عمل سے روشن کرتے ہیں

خوبصورت لوگوں کی خوبصورت تصاویر تو خوبصورت لوگ ہی بنایا کرتے ہیں۔ میر محمد علی تالپور، ڈاکٹر شاہ محمد مری، اماں نوشین قمبرانی اور عمران ثاقب وہ لوگ ہیں جنہوں نے نوجوان کریم زیب میں ہمت پیدا کی ان کے جذبات کو ایک ڈائریکشن دی، جن کے بارے میں کریم کہتے ہیں ” کہ میری زندگی ایک بے رنگ ڈرائنگ کی طرح تھی ان لوگوں نے کلر بھر کر میری زندگی کو رنگین بنا دیا”


بلوچستان جہاں تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ہے وہیں نوجوان ٹیلینٹ سے بھرے ہوئے ہیں افسوس اس بات کا ہے کہ بلوچستان لاوارث ہے بلوچستان کے نوجوان لاوارث ہیں ۔ ہمارے اس دیس میں منشیات اور اسلحہ فروشوں کو تو تمغوں سے نوازا جاتا ہے مگرقلم اور کتاب سے دوستی رکھنے والے گمنام و مایوس ہو چکے ہیں۔
دنیا بھر میں جہاں سائنسی ایجادات، مشینوں ، سافٹ وئیروں نے آرٹ سیمت ادب کے اکثر پہلووں کو مدہم کر دیا اور انسان کو آرٹیفشل بنا کر اس کے احساسات کا ملیہ میٹ کر دیا لیکن وہی کریم زیب جیسے لوگ آج بھی اپنے ہنر پر نازاں ہیں یہ آج بھی انسانی جبلی فطرت کا کھل کر اظہار کرتے آرہے ہیں ۔ پکاسو ، وین سیٹ وین گو جیسے آرٹسٹ کا مقابلہ بھلا اڈوب و کورل سافٹ وئیر کہاں کر سکتے ہیں انسانی تخلیلقات کا مقابلہ بے جان مشینیں کے بس میں کہاں ۔۔؟
کریم زیب کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ کسی بھی انسان کے آرٹ بنانے سے پہلے اس کو مکمل اسٹڈی کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اسٹڈی کو بھی اپنے آرٹ کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاں ڈیجیٹل دور نے دنیا کے امیر لوگوں کو ہائی لائیٹ کیا وہی غریب صوبے کے لوگ گمنامی میں پڑے ہوئے ہیں کیونکہ یہی لوگ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہیں اور غریب و مجبور لوگوں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں اس لیے انہیں نہ تو سرکار پسند کرتا ہے نہ ہی سرمایہ دار کا ملٹی نیشنل میڈیا ! یہ سوچ کر کریم نے اپنے پینسل سے ان لوگوں کے نام کو زندہ رکھنے کا ٹھان لیا ۔ یہ نوجوان ڈھونڈ ڈھونڈ کر بلوچستان کے چھپے ہوئے ہیروں کو تلاش کرتا ہے کہ جن کے کام اور شخصیت کو آج تک کسی نے نہ جانا اور پھر ان کے بارے میں لڑیچر جمع کرکے اسٹڈی کرتا ہے اور پھر سکیج تیار کرکے سوشل میڈیا پر بھیج دیتا ہے ۔
بلوچ ہو اور انسانیت کی خاطر رسٹینٹ کرنے والے چے گویر ا کو بھول جائے یہ ہو نہیں سکتا ۔ نوجوان کریم زیب چے گویرا کے اسکیچ کو خود سے قریب پاتے ہیں اور چے کے آرٹ کو اپنے بیڈ کے کنار ے رکھ کر سویا کرتے ہیں۔ آخر اتنی محبت کیوں نہ ہو چے نے اپنی جوانی اور اپنی پوری زندگی انسانی فلاح کےلیے عملی جدوجہد میں گزاردی۔ انسانیت کے وقار کےلیے اپنی زندگی قربان کرنے والے محبت جیسی پرکیف احساس سمیٹ لیتے ہیں اور چے سے کریم زیب کی محبت اسی احساس کےتسلسل کا نام ہے
اچھے لوگوں کے دوست بھی اچھے ہوا کرتے ہیں کریم اپنے دوستوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کے دوستوں نے زندگی کے ہر موڑ پر ان کو قبول کیا ، ان کے آرٹ کی تعریف کی اور حوصلہ دیا اور یوں یہ سفر جاری رہا ۔ لیکن وہ آج بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ ان کی ابھی بہت دور ہے وہ ابھی راستے میں ہیں ابھی تھوڑا ہی چلے ہیں ۔ سچ ہے کہ عشاق کے قافلے چلتے ہی رہتے ہیں اور انسانیت کےلیے آواز بلند کرتے کرتے یہ سفر میں محو رہتے ہیں تادم آخر۔۔۔!!!

جمیل بزدار کا تعلق تونسہ کوہ سلیمان سے ہے۔لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل میں ڈی وی ایم فائنل ائیر کے طالب علم ہیں۔بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اوتھل زون کے موجودہ انفارمیشن سیکریٹری کی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔فلسفہ ،سیاست، ادب میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مختلف سیاسی و سماجی مضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔
ٹیگز
Show More

متعلقہ خریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close